Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

ایبٹ آباد اسلام آباد پی ٹی آئی احتجاج 26 نمبر پر فائرنگ، ایبٹ آباد صوبن گلی کا رہائشی ویلج کونسلر عبدالقدر جان کی بازی ہار گیا، نمازجنازہ میں ایم این اے علی خان جدون کے کزن عادل خان جدون، تحصیل چیرمین لوئر تناول جنید تنولی ، نعیم خان لودھی،...

83,767 Aufrufe • vor 1 Jahr •via X (Twitter)

7 Kommentare

Profilbild von Shoaib Ahmad
Shoaib Ahmadvor 1 Jahr

@PTIofficial اب یہ بچے پارٹی کی ذمہ داری ہے

Profilbild von UKیوسفزئی
UKیوسفزئیvor 1 Jahr

@Sumaira545 @AliAminKhanPTI @PTIofficial احتجاج کنسل نا کرو کیونکہ بہت سے لوگ بے گناہ شہید ہوگیا اب اس بدلہ لینا ہے اگر احتجاج کنسل کردیا تو ان بچوں سمت سب پاکستانیوں کا دوشمن اپ ہوں گے

Profilbild von sabahat usmanⁱᴾⁱᵃⁿ
sabahat usmanⁱᴾⁱᵃⁿvor 1 Jahr

عا صئم منیر تیری اولاد بھی ایسے یتیم ہو گی ایک دن

Profilbild von Amina rana
Amina ranavor 1 Jahr

Pakistan #Islamabad_Massacre🤐 @BBCNews @MarioNawfal @washingtonpost @cnni @AlJazeeraWorld @trtworld @amnesty @France24_en @foxnewspolitics @steve_hanke @MALHACHIMI @ashoswai @nytimes @TheEconomist @VOANews @elonmusk @realDonaldTrump @ashoswai @realZalmayMK @antonioguterres

Profilbild von Brahui Rasheed Ahmed
Brahui Rasheed Ahmedvor 1 Jahr

رنگ لائیگا شہیدوں کا لہو 😭

Profilbild von afaq
afaqvor 1 Jahr

Intiqam

Profilbild von Shahid Gulzar
Shahid Gulzarvor 1 Jahr

Allah isko janat me alla mukam ata frma or ghr walo ko bacho ki sadr dy Ameen

Ähnliche Videos

عمران خان کے 24 نومبر کے احتجاج کو سبوتاژکرنے کی سازش کی جارہی ہے ..................................................................... #AltafSupportsKhanProtest #نومبر24_خان_کی_کال پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے پاکستان میں عدلیہ کی آزادی، پارلیمنٹ کی خودمختاری اور ملک کی حقیقی آزادی کےلئے 24نومبر کواسلام آباد میں بھرپوراحتجاج کی کال دی ہے۔ عمران خان کی کال کے بعد ملک بھرمیں پی ٹی آئی کے کارکنوں نے بھرپورتیاریاں شر وع کردی ہیں توعمران خان کی اس احتجاج کی کال کو سبوتاژکرنے کی سازش کی جارہی ہے۔ عمران خان پر اسٹیبلشمنٹ کےفیصلے مسلط کرکے انہیں سیاست سے علیحدہ کرنے کی سازش کی جارہی ہے، ان کے چاہنے والوں میں مایوسی پھیلانے کی سازش ہورہی ہے اوریہ سازش باہر سے نہیں بلکہ تحریک انصاف کے اندر سے کی جارہی ہے۔ ایک ایسے وقت میں جبکہ احتجاج کے لئے ملک بھرمیں تیاریاں جاری ہیں اورعوام میں جوش وخروش پیدا ہورہا تو وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور اور PTI کے چیرمین بیرسٹرگوہر نےکل اڈیالہ جیل میں تحریک انصاف کے بانی Imran Khan سے ملاقات کرکے انہیں فوج سے مذاکرات کا پیغام دیا اور آج پھر علی امین گنڈا پور اور بیرسٹر گوہرخان نے اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات کی اوراطلاعات کے مطابق انہوں نے عمران خان پر یہ دباؤ ڈالاکہ وہ 24، نومبر کااحتجاج ملتوی کردیں اوراس کے لئے یہ جوازپیش کیا کہ کارکنان تیار نہیں ہیں جو کہ سراسرجھوٹ ہے۔ علی امین گنڈا پور نے تو 9، نومبر2024ء کو صوابی میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھاکہ'' جب عمران خان کال دیں گے تو ہم سر پرکفن باندھ کرنکلیں گے اور تب تک واپس نہیں آئیں گے جب تک ہم عمران خان کو رہا نہیں کرائیں گے۔ علی امین گنڈا پور نے جلسہ عام میں خداکو حاضرناظر جان کر یہ حلف بھی اٹھایا تھا کہ ہم چاہے جیلوں میں جائیں، چاہے مرجائیں لیکن ہم لڑیں گے اور مقابلہ کریں گے، حقیقی آزادی لینے تک ہماری جنگ جاری رہے گی۔ توپھرعلی امین گنڈاپور آج عمران خان پر کیوں دباؤ ڈال رہے ہیں کہ 24، نومبر کااحتجاج ملتوی کردیا جائے؟ عمران خان توکارکنوں کو خود کہہ چکے ہیں کہ غلامی سے نجات اور حقیقی آزادی کے لئے سب کونکلنا ہوگااوراحتجاج کو کامیاب بنانا ہوگا۔کیونکہ 26، ویں آئینی ترمیم کرکے انصاف کا پورا نظام تباہ کردیا گیا ہے اور انصاف کو سپریم کورٹ میں دفن کردیا گیا ہے اورعدالت عظمیٰ کی آزادی چھین لی گئی ہے۔ اسی لئے عمران خان پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ سے لڑرہے ہیں اور 16مہینے سے جیل میں سختیاں برداشت کررہے ہیں لیکن ان کا حوصلہ نہیں ٹوٹا۔ پھر علی امین گنڈاپور اوربیرسٹر گوہر ان کا حوصلہ توڑنےکی کوشش کیوں کررہے ہیں؟ علی امین گنڈا پور اس سے پہلے دومرتبہ احتجاج کوناکام بنانے کےلئے پی ٹی آئی کے کارکنان کواحتجاج کے درمیان چھوڑ کر بھاگ گئے تھے اور عوام کے احتجاج کوناکام بنانے میں کردار ادا کرچکے ہیں اور اب ایک مرتبہ پھر وہ اسلام آبادمیں پرامن احتجاج کی کال کوسبوتاژ کرنے کی سازش کررہے ہیں۔ دیکھنا ہوگا کہ کیا عمران خان PTI کے رہنما علی امین گنڈا پور اور بیرسٹرگوہر خان کا دباؤ قبول کرکے احتجاج کی کال واپس لے لیں گے، اگرایسا ہوا تو یہ فوج، ایم آئی اور ISI کی سازش نہیں ہوگی بلکہ پی ٹی آئی کے اندرسے عمران خان کے خلاف سازش ہوگی جوکامیاب ہوجائےگی ۔مجھے افسوس ہے کہ آج پی ٹی آئی کے لیڈر ہی عمران خان کو جھکانا چاہتے ہیں اور ان کے حوصلے پست کرنا چاہتے ہیں۔ میں دعا گوہوں کہ عمران خان کے حوصلے قائم رہیں۔ 1/2

Altaf Hussain

11,119 Aufrufe • vor 1 Jahr

عمران خان کی صحت اورزندگی کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ PTI کے کارکنان اپنی لیڈرشپ کی جانب دیکھنے کے بجائےعمران خان کی زندگی بچانے کےلئے میدان عمل میں آجائیں اور معاملات اپنے ہاتھوں میں لے لیں #حق_کی_جیت_ہو_گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پی ٹی آئی کی موجودہ لیڈرشپ عمران خان صاحب کے ساتھ سنگین مذاق کررہی ہے ۔ اڈیالہ جیل میں اسیر تحریک انصاف کے بانی عمران خان سے 3، اکتوبر سے پی ٹی آئی کی لیڈرشپ ، وکلاء اور خاندان کے افراد کی ملاقات نہیں کرائی گئی اور گزشتہ کئی دنوں سے PTI کے کارکنان اورعوام عمران خان صاحب کی صحت اورزندگی کے بارے میں فکرمند ہیں ۔ عمران خان صاحب کی اپنی بہنوں علیمہ خان صاحبہ اور ڈاکٹر عظمیٰ خان صاحبہ سے جیل میں ملاقات ہوتی تھیں اور ان کی زبانی کارکنان کو Imran Khan کا صحیح پیغام مل جایاکرتا تھا لیکن ان کی گرفتاری کے بعد عمران خان صاحب سے نہ تو کسی کا رابطہ ہوا ہے اورنہ ہی کسی کوان سے ملاقات کی اجازت دی جارہی ہے ۔ اس سے پہلےPTI کے جو رہنماء جیل میں عمران خان سے ملاقات کے بعد الگ الگ بولیاں بولتے تھے اور ان کے بیانات میں تضاد پایا جاتا تھا جس سے کارکنان کنفیوژن کا شکارہوتے تھے۔ پی ٹی آئی نے 15، اکتوبر2024ء کو ڈی چوک اسلام آباد میں احتجاج کی کال دی تھی اور احتجاج میں شرکت کیلئے پی ٹی آئی کے کارکنان اپنے گھروں سے نکل گئے تھے لیکن 14، اکتوبرکو پی ٹی آئی کے موجودہ چیئرمین بیرسٹر گوہر خان نے ایک وڈیو بیان میں اعلان کیا کہ انہیں حکومت اوروفاقی وزیرداخلہ نے یقین دلایا ہےکہ کل ان کے وکلاء اور ڈاکٹروں کی عمران خان صاحب سے ملاقات کرادی جائے گی، انہوں نے حکومت کی اس یقین دہانی پرD چوک پر ہونے والے احتجاجی مظاہرے کو مؤخر کرنے کا اعلان کردیا۔لیکن منگل کوجب عمران خان سے ملاقات کیلئے انکے ذاتی معالج ڈاکٹر عاصم اڈیالہ جیل پہنچے تو انہیں کئی گھنٹے تک انتظارکرایا گیا اور ملاقات کی اجازت نہیں دی جس کے باعث انہیں واپس جانا پڑا۔ پی ٹی آئی کے رہنما اپنے کارکنان کو لولی پاپ دیتےرہے ہیں اوراحتجاج کااعلان کرنے پر کوئی نہ کوئی بہانہ بناکر خود غائب ہوجاتے ہیں۔میراسوال یہ ہےکہ جب Barrister Gohar Khan نے وڈیو لاگ جاری کرکے احتجاج مؤخر کرنے کااعلان کیا تھا تو اسی طرح وڈیو لاگ کے ذریعے اپنے کارکنان اورعوام کو یہ کیوں نہیں بتایا کہ عمران خان صاحب کے ذاتی معالج کو کئی گھنٹے تک اڈیالہ جیل میں انتظارکرایا گیا لیکن ملاقات نہیں کرائی گئی۔آخربیرسٹر گوہرخان نے PTI کے کارکنان سے جھوٹ بول کر D چوک پر ہونے والا احتجاج مؤخر کرنے کا اعلان کیوں کیا؟ کیا پی ٹی آئی کی لیڈرشپ عمران خان صاحب کی جان لینا چاہتی ہے ؟ میں اس سے پہلے بھی اپنے خطابات اور بیانات میں عمران خان کی زندگی کولاحق خطرات کے بارے میں اپنے خدشات اور تشویش کااظہارکرچکاہوں اورآج میں ایک بارپھر پی ٹی آئی کے کارکنوں اورعمران خان کے چاہنے والوں کوبتاناچاہتا ہوں کہ عمران خان کی صحت اورزندگی کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ حکومت کی جانب سے عمران خان کی ملاقاتوں پر عائد پابندی سے ان خدشات کوتقویت مل رہی ہے۔ عمران خان کی سابقہ اہلیہ محترمہ Jemima Goldsmith نے بھی اپنے ٹوئٹس میں عمران خان کی صحت اور زندگی کے حوالے سے اپنے سخت خدشات کااظہارکیا ہے اورعمران خان سے ان کے بیٹوں کی ملاقات کی اپیل کی ہے۔ اس تشویشناک صورتحال اورپی ٹی آئی کی لیڈرشپ کے موجودہ طرزعمل کی روشنی میں PTI کے کارکنوں کو میراپیغام ہے کہ وہ اپنی مصلحت پسند لیڈرشپ کو چھوڑیں، خدارا عمران خان کی خاطر اپنے گھروں سے باہر نکلیں، اگر انہیں عمران خان کی زندگی عزیز ہے تو وہ باہرنکل کراحتجاج کریں ۔حالات کاتقاضہ ہے کہ PTI کے کارکنان پارٹی کے معاملات اپنے ہاتھ میں لے لیں، خود لیڈر بن جائیں اورڈی چوک یااڈیالہ جیل پہنچ کر عمران خان کی رہائی کے لئے احتجاج کریں چاہےانہیں کوئی بھی قربانی کیوں نہ دینی پڑے کیونکہ حقوق کی جدوجہد کیلئے ہر قسم کی قربانیاں دینی پڑتی ہیں، ایم کیوایم کے 25 ہزار سے زائد کارکنان نے حق پرستی کی جدوجہد میں اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیےیہی وجہ ہےکہ تمام تر ریاستی مظالم، سازشوں اور غداریوں کے باوجود MQM کے کارکنان آج بھی میری قیادت میں متحد ومنظم ہیں۔ پی ٹی آئی کے کارکنان اپنی لیڈرشپ کی جانب دیکھنے کے بجائے پارٹی معاملات اپنے ہاتھوں میں لیکر میدان عمل میں آجائیں اورعمران خان کی زندگی بچانے، اپنے حقوق کےحصول اورملک کواس جبر سے نجات کے لئے عملی جدوجہد کریں۔ الطاف حسین ٹک ٹاک پر اسٹڈی سرکل سے خطاب 15، اکتوبر2024

Altaf Hussain

10,656 Aufrufe • vor 1 Jahr

جمعے کے روز اسلام آباد بم دھماکے نے پاکستان کو ہلا کر رکھ دیا، ذمہ داری داعش نے قبول کی جو نئے خطرات کی نشاندہی کر رہی ہے۔۔ داعش کی اسلام آباد تک رسائی کیسے ہوئی، حملہ آور امام بارگاہ تک کیسے پہنچ گیا، حملہ آور کی والدہ ایف ٹین سے گرفتار، نوشہرہ میں حملہ آور کے گھر پر چھاپے کے دوران ایک اور دہشت گرد بھی مارا گیا۔۔ نیشنل ایکشن پلان کہاں ہے؟ اسلام آباد کی سیکیورٹی کیسی ہونی چاہیے؟؟ دوسری جانب آٹھ فروری کی تحریک تحفظ آئین اور پی ٹی آئی کی سب بند اور پہیہ جام کی کال۔۔۔ محمود خان اچکزئی نے آٹھ فروری کو ٹیسٹ کیس بتایا تھا اور کہا تھا کہ اگر پی ٹی آئی کو عمران خان کی رہائی چاہیے تو آٹھ فروری کو سڑکوں پر عوام کا راج ہونا چاہیے۔۔۔ کیا ایسا ہوا؟ سہیل آفریدی نے کال کی ناکامی کی وجوھات مانگ لی ہیں۔۔۔ بیرسٹر گوہر کہتے ہیں ہم سب محمود خان اچکزئی کو فالو کریں گے۔۔ حکومت انتظار میں تھی کی آٹھ فروری کے احتجاج کا مرحلہ گزر جائے پھر بات چیت کے معاملات دیکھیں گے۔۔ تو اب مزاکرات کی شرائط کیا ہوں گی؟ #FaislaAapKa TEAM | Hum News

Asma Shirazi

11,241 Aufrufe • vor 7 Monaten