Video yükleniyor...

Video Yüklenemedi

Ana Sayfaya Dön

ایران نے اپنے جرنل کو گرفتار کیا ہے اس جرنل کے لیے یہ کہا جا رہا ہے نو بڑے ایونٹ جن میں امریکہ نے سٹرائک کیے یہ وہاں موجود تھا لیکن یہ ہر سٹرائک سے دو سے تین منٹ پہلا نکل جاتا تھا۔۔

47,111 görüntüleme • 5 ay önce •via X (Twitter)

0 Yorum

Yorum bulunmuyor

Orijinal gönderinin yorumları burada görünecek

Benzer Videolar

تیسری جماعت کے طالب علم، جو میناب کے پرائمری اسکول پر امریکی فضائی حملے میں شہید ہوا، کی والدہ نے کہا: ’’میں نے اس کے لیے رات کا کھانا تیار کیا اور جب وہ کھا رہا تھا تو اس نے کہا: ’امی، آپ کے بنائے ہوئے کھانے کا ذائقہ جنت جیسا ہے۔‘ میں نے کہا: ’بیٹے، یہ کیوں کہہ رہے ہو؟ تم نے پہلے کبھی ایسا نہیں کہا۔‘ تقریباً آدھی رات کے قریب اس نے اپنے اردگرد تکیے لگائے اور اپنے بھائی کے ساتھ بیٹھ گیا۔ اس نے کہا: ’بھائی، کھیلیں۔ میں ایران ہوں اور تم امریکہ۔ بندوقوں اور ٹینکوں کے ساتھ کھیلیں۔‘ وہ دونوں کھیلنے لگے۔ اس نے کہا: ’دیکھو، ایران جیت گیا؟ بھائی، ایران جیت گیا۔ میں ایران تھا اور جیت گیا۔‘ میرا بیٹا کہہ رہا تھا کہ ایران فاتح ہوا۔ یہ سب کچھ اس رات اسے کسی اندرونی جذبے سے ملا تھا۔ اس نے یہ سب اپنے شہادت سے ایک رات پہلے کیا۔ اس رات اس نے نماز بھی پڑھی اور قرآن بھی پڑھا۔ صبح میں اس نے کہا: ’امی، میری تصویر لے لو۔‘ یہ بچہ ایک فرشتہ تھا۔ وہ کہا کرتا تھا: ’میرا نام میکائیل ہے۔ میکائیل کا مطلب ہے خدا کا فرشتہ۔ اگر کسی کی کوئی خواہش ہو تو مجھے بتاؤ تاکہ میں پوری کر سکوں۔‘ خدا نے بھی اسے پسند کیا اور اپنے پاس بلا لیا۔ یہ بالکل سچ ہے، جیسا میں نے بیان کیا۔ یہ بے رحم امریکہ ہی تھا جس نے اس اسکول پر میزائل داغا، جہاں کچھ مشتبہ نہیں تھا۔ میں نے خود میناب میں چار سال گزارے ہیں۔ وہ صرف ہمارے بچوں کو مارنا چاہتے تھے۔

Mehwish Qamas Khan

32,682 görüntüleme • 5 ay önce

مظہر برلاس نے ان الفاظ کے ساتھ سسٹم کیلئے خطرے کی گھنٹی بجا دی 🔥✊☠️ وہ جو جیل میں بیٹھا ہوا ہے وہ سسٹم کیلئے خطرہ ہے لوئر لیول پہ جن ججوں نے سزائیں دی تھیں اُسکو (عمران خان) اُن میں سے کسی جج نے اپنے دوست کو کہا کہ یار میں حیران ہوں ساری زندگی میں نے فیصلے سنائے ہیں قتل کے فیصلے بھی سنائے ہیں سزائے موت بھی دی ہے لوگوں کو بڑے بڑے تُورم خان دیکھے کسی کو پسینہ آجاتا ہے کسی کی ٹانگیں کانپتی ہیں کوئی بے ہوش ہو جاتا ہے کوئی کچھ ہو جاتا ہے لیکن میں حیران تھا میری زندگی میں یہ واقعہ پہلا ہو رہا تھا کہ میں اِس شخص کو سزا سنا رہا تھا اور اُس شخص کے چہرے پر لمحے بھر کیلئے بھی پریشانی نہیں آئی وہ خوش تھا مطمئن تھا اب یہ ڈسکس ہو رہا ہے کہ بھائی وہ پورے سسٹم کیلئے خطرہ ہے اس لیے یہ کہتے ہیں ناں رانا ثناءاللّٰه ٹائپ کہ اگر وہ آگیا تو ہم کدھر جائیں گے لیکن فضا بدلنے والی ہے یہ تین چار مہینے جو ہیں جون جولائی اگست اور ستمبر بڑے خطرناک ہیں

‏زہـــرہ لیــاقت

14,708 görüntüleme • 3 ay önce

میں ٹرمپ انتظامیہ کی ان کیمیرابریفنگ سے نکلا ہوں جہاں بند دروازوں کے پیچھے بھی وہی باتیں ہو رہی ہیں جو باہر ہو رہی ہیں۔ ٹرمپ اپنے شوق کی جنگ میں پڑ تو گیا ہے لیکن آگے اس کو کچھ نہیں پتہ کہ کیا کرنا ہے۔ اسکا دعوی ہے کہ حملہ اسلئے کیاکہ ایران ایٹمی طاقت حاصل کرنے جا رہا تھا ۔ یہ جھوٹ ہے! اگر ایران ایٹمی طاقت حاصل کرنے جا رہا تھا تو پچھلے سال ٹرمپ نے یہ دعوی کیوں کیا کہ اس نے ایران کا ایٹمی پروگرام Obliterate کر دیا ہے؟ ٹرمپ نے بھی یہ نہیں بتایا کہ اس نے امریکی قوم سے پرائی جنگوں میں نہ پڑنے کا وعدہ کیوں توڑا؟ ٹرمپ کہتا ہے کہ اس نے خامنائی کو قتل کر کے ایران کو آزاد کر دیا لیکن سی آئی اے کی رپورٹ ہے کہ خامنائی کے بعد ایران اور زیادہ radical ہو جائے گا۔اصل میں وجہ یہ ہے کہ نیتن یاہو 40سال سے ایران سے جنگ چاہتا تھا اور اسے چالیس سالوں میں ٹرمپ جیسا عقل سے پیدل صدر نہیں ملا تھا جو امریکہ کو پرائی جنگ میں دھکیلنے میں کامیاب ہو جائے۔ اب اسے ٹرمپ کی صورت میں مل گیا ہے۔ جسے یہ بھی نہیں معلوم کہ اس جنگ کی End Gameکیا ہو گی۔امریکی سینیٹر نے ٹرمپ کی آتما رول دی

Harmeet Singh

12,373 görüntüleme • 6 ay önce