Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

🔺ایمل ولی خان کی پولیس اور CCD پرتنقید🔺 پولیس سب سے بڑا ڈاکو ہے،عدالتیں کمائی کا ذریعہ بن چکی ہیں،CCDنیفے میں گولیان چلا رہی ہے، کس قانون میں یہ لکھا ہوا ہے نیفے میں گولی ماری جائی، ایک شخص کو گاڑی میں بیٹھا کر مار دیا گیا اور کہا...

23,003 просмотров • 21 дней назад •via X (Twitter)

Комментарии: 0

Нет доступных комментариев

Здесь появятся комментарии из оригинального поста

Похожие видео

9 مئی کا ماسٹر فساد، خون خرابہ اور ملک میں لاشیں چاہتا ہے عمران خان کے حکم پر ایک صوبے کی پولیس اور لشکر لے کر پنجاب پہ چڑھائی کا ہر ہفتے خطرناک کھیل کھیلا جاتا ہے جس کی اجازت نہیں دیں گے. یہ احتجاج نہیں دہشت گردی کہا جاتا ہے 9 مئی کے ماسٹر مائنڈ کی ہدایت پر خیبر پختون خوا کا وزیراعلی ہر ہفتے اسلام آباد اور پنجاب میں لشکر کشی، غنڈہ گردی اور فساد کرتا ہے. پنجاب پولیس پہ آنسو گیس ، پتھر اور گلیلوں سے شیشے پھنکیں جا رہے ہیں . خیبر پختونخوا کی پولیس، سرکاری ملازمین، سرکاری وسائل، کرینیں، کنٹینر، ٹریکٹر، ٹرک اور دیگر مشینری اور گاڑیاں اس فساد اور غنڈہ گردی کے لئے استعمال ہو رہی ہیں . عمران خان اور پی ٹی آئی ملک میں امن اور ترقی کے دشمن ہیں . عوام کا شکریہ جو روز اِس فتنہ مائینڈ سیٹ کو مسترد کر رہی ہے اور اپنی ترقی کا ساتھ دے رہی ہے. لاہور میں جلسہ لاہور کے لوگوں نے مسترد کر دیا راولپنڈی کا جلسہ راولپنڈی کے لوگوں نے مسترد کر دیا

Marriyum Aurangzeb

140,022 просмотров • 2 лет назад

پہلے زمانے میں والدین اپنی بیٹیوں کو بیچ دیتے تھے تو ایک ہی بار رقم ملتی تھی، رقم ختم ہوئی تو معاملہ بھی ختم۔ اب اس کا ایک نیا طریقہ آ گیا ہے: بچوں کو بچپن سے ہی TikTok کے لیے تیار کیا جاتا ہے تاکہ بڑے ہوتے ہوتے وہ مستقل کمائی کا ذریعہ بن جائیں۔ اس بچی کو یہ تک نہیں معلوم کہ لائک کیا ہے، گفٹ کیا ہے، گانا کیا ہے یا ویڈیو کیوں بنائی جا رہی ہے۔ اسے بس موومنٹ سکھائی جا رہی ہے کہ یہ کرو، ایسے کرو، تاکہ کل یہ ہمارے لیے کمائی کا ذریعہ بنے۔ اور اس میں بچوں سے زیادہ والدین شریک ہیں۔ جو لڑکے لڑکیاں کم عمری میں TikTok پر لائیو آتے ہیں یا ایسی ویڈیوز بناتے ہیں، ان کے پیچھے اکثر والدین کی رضامندی اور حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔ بچے نہ خود اتنے سمجھدار ہوتے ہیں کہ یہ سب فیصلہ کر سکیں، نہ اپنی مرضی سے موبائل اور یہ سب سہولیات خرید سکتے ہیں۔ انہیں اس وقت تک کوئی نہیں پوچھتا جب تک وہ مشہور ہو کر کمائی کا ذریعہ نہ بن جائیں۔

its me میٹھو

27,332 просмотров • 1 месяц назад

مخصوص خفیہ ایجنسی اورسی ٹی ڈی پر مشتعمل درجنوں اسلحہ بردار افراد نے مجھے اسلام آباد میں اپنے گھر سے گزشتہ جمعہ کی رات کو 12:10 منٹ پر اغوا کیا تھا۔ میں اپنے والدین کا ایک ہی بیٹا ہوں۔ اغوا کے لئے خفیہ ایجنسی کی کالی ویگو، سی ٹی ڈی کے دو ڈالے اور ایک ٹویوٹا فیلڈر گاڑی کو استعمال کیا گیا۔ گاڑی میں بٹھاتے ساتھ ہی میری آنکھوں پر پٹی اور کالا کپڑا باندھ دیا گیا تھا۔ متعلقہ جگہ پر پہنچے تو مجھ سے کہا گیا کہ آپ ہم سے تعاون کریں اور ہم آپ سے۔ وہ سوالات پوچھتے گئے کہ آپ نو مئی کو کہاں تھے وغیرہ وغیرہ اور میں جوابات دیتا گیا۔ پھر مجھ سے کہا گیا کہ ایک وڈیو بناؤ جس میں بتاؤ کہ میں احتجاج اور سوشل میڈیا پر ریاست پاکستان کے خلاف جو بھی کمپین کرتا ہوں اس کا حکم عمران خان اور پارٹی کی سینئر قیادت دیتی ہے اور معافی مانگو۔ میں نے یہ کام کرنے سے انکار کر دیا کہ عمران خان کے خلاف کوئی بیان نہیں دوں گا۔ پھر یہ سنتے ساتھ ہی انہوں نے مجھ پر بدترین تشدد کرنا شروع کر دیا۔ میرے سر اور جسم پر جوتوں، مُکوں اور مختلف اوزاروں سے کئی گھنٹوں تک تشدد کرتے گئے۔ تشدد کے نشانات ابھی تک میرے جسم پر موجود ہیں ہیں اور تصاویر بھی ریکارڈ کا حصہ بن گئی ہیں۔ میں عمران خان اور پارٹی کے خلاف بیان کے لئے نہیں مانا اور نا ہی وڈیو بنوائی۔ بدترین تشدد کے بعد جب میری حالت بے زار ہوگئی تو انہوں نے مجھے پانی پِلایا اور کہا کہ ہم آپ کو چھوڑنے لگے ہیں اور مجھے امادہ کیا گیا کہ میں اپنے اغوا کی تفصیلات کسی کو نہیں بتاؤں گا۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ میری اتنی جلدی رہائی جسٹس محسن اختر کیانی کی وجہ سے ہوئی۔ اگر مجھے رہا نا کیا جاتا تو میرے والدین ہائی کورٹ میں پیٹیشن دائر کرتے جس کے لئے میں نے پہلے سے ہی ایک بیان حلفی لِکھ کر اپنے دوست کو دیا ہوا ہے جس میں لکھا ہوا ہے کہ مجھے اغوا کر کے غائب کر دیا جائے تو ذمہ داران کے نام لکھے ہوئے ہیں جس کا ڈائرکٹ الزام خفیہ اداروں پر جاتا ہے۔ جسٹس محسن اختر کیانی جس طرح سے احمد فرحاد کا کیس چلا رہے ہیں اس سے حساس اداروں پر سخت ترین دباؤ ہے۔ میرا موبائل فون آج دن تک واپس نہیں کیا گیا جس میں میری ذاتی زندگی کی بہت معلومات ہیں۔ نا تو میں بلیک میل ہوں گا اور نا ہی میں کبھی عمران خان اور اپنی پارٹی کی خلاف جاؤں گا بے شک مجھے قتل کر دیا جائے۔ میں اپنے خون کے آخری قطرے تک عمران خان کا وفادار رہوں گا، انشاءاللہ۔ اس کے علاوہ میں تمام پی ٹی آئی ورکرز، سوشل میڈیا وارئرز اور دوستوں کا شکر گزار ہوں جنہوں نے وقت ضائع کئے بغیر میری رہائی کے لئے آواز اٹھائی اور دعایئں کی۔ میں ساری زندگی آپ لوگوں کا احسان مند رہوں گا۔ PTI

Wajahat Sami

673,530 просмотров • 2 лет назад