Loading video...

Video Failed to Load

Go Home

ایٹمی دھماکےجیسا ایک اور بڑادھماکہ: اب FBR نےامپورٹرز کیلئےفیس لیس سسٹم بنادیا ہے. اس سےوقت 107 گھنٹوں سے19 گھنٹوں میں سمٹ آیا ہے. ائکسائز کی کالی بھیڑوں سےبھی نجات مل گئی ہےاور ریونیوایک ہفتےمیں 2فیصد بڑھ گیا. ٹیم نوازشریف پاکستان کوآسمان کی بلندیوں پہ پہنچائےگی ان شاءاللّہ.🇵🇰

108,895 views • 1 year ago •via X (Twitter)

11 Comments

Aleey's profile picture
Aleey1 year ago

ایکسائز کی کالی بھیڑوں سے نجات کیسے ملے گی یہ سسٹم کیا ہے اس سے کیا فائدہ ہو گا کیسے فائدہ ہو گا کتنا فائدہ مند ہے میڈیا نے بتایا ؟ مسلم لیگ ن کی سوشل میڈیا نے بتایا؟ اگر نہیں بتاو گے عوام کو تو صحت کارڈ کی طرح اس کا فائدہ بھی کوئی اور لے جائے گا

Abdullah's profile picture
Abdullah1 year ago

Ye patwari phuddu samajhtay apni tarha sab ko

Faisal Allana's profile picture
Faisal Allana1 year ago

محترم بڑی معصومیت سے اس بات پر یقین کر رہے ہیں ، او بھائی سب جھوٹ ہے ۔ کسٹم کے پراسیس کو ہم سے زیادہ کوئی نہیں جانتا ۔ جہاں تک بات ہے فیس لیس کی یہ تو پچھلے بیس سال سے ٹیکنیکلی فیس لیس ہی ہے ۔

Neha's profile picture
Neha1 year ago

Wonderful 👍🔥

Dr Shad Katuu 🌐's profile picture
Dr Shad Katuu 🌐6 years ago

Open access ~> "Using Web Analytics to Assess Traffic to the Mandela Portal: The Case of African Countries" in New Review of Information Networking #BigData #DataTrustworthiness #Ghana #GoogleAnalytics #Kenya #NelsonMandela #Nigeria #SouthAfrica #Tanzania

UmemaSubhan 🇵🇸 🇵🇰's profile picture
UmemaSubhan 🇵🇸 🇵🇰1 year ago

Amazing 😍

Haider Qalandar's profile picture
Haider Qalandar1 year ago

اپ بہت دور کی بات کر رہے ہیں پہلے قریب کی اور اپنے گھر کو تو ٹھیک کر لیں ادھے سے زیادہ دکاندار ریٹیلر اور ڈریس ڈیزائنر اج کی تاریخ میں بھی کیش وصول کرتے ہیں اور پی او ایس والا بل بھی نہیں دیتے ڈھٹائی کے ساتھ

RamtaJogi's profile picture
RamtaJogi1 year ago

اگر صرف دو فیصد روینیو بڑھا ہے تو پھر اس کا مقصد یہ ہے کہ یہ سسٹم بھی فیل ہے

Kamran Ahsan's profile picture
Kamran Ahsan1 year ago

بھائی ابھی صرف پہلے ہفتے میں یہ ریونیو بڑھا ہے. مستقبل میں حالات مزید بہتر ہوجائیں گے.

Rizwan's profile picture
Rizwan1 year ago

Fantastic progress. From 107 hours (4 days +) to 19 hours thats less than a day n next target to squeeze it to 12 hours. There's room to bring it even lower to same day or may be few hours. With Allah SWT's grace & @CMShehbaz speed, its very much, POSSIBLE👏

Waقas Baloch 🇵🇰's profile picture
Waقas Baloch 🇵🇰1 year ago

کیا فضول میں جھوٹ بول رہا ہے لگتا کسٹم کا پتہ ہی نہیں کیسے وہ مل کر گھپلے کرتے ہیں یہ سسٹم تو بس ایک دکھاوا ہے

Related Videos

🚨بریکنگ نیوز اٹلی کی وزیراعظم Giorgia Meloni کا پاکستانی لیڈرشپ کے بارے میں دھماکہ خیز بیان آ گیا!😱🇵🇰🔥 پاکستانی بھائیو اور بہنو اٹلی کی وزیراعظم Giorgia Meloni نے پریس کانفرنس میں صاف لفظوں میں کہا: میں نہیں جانتی کہ عمران خان کون ہے؟ مجھے نہیں پتا عمران خان کون ہے اور کیا کرتا ہے لیکن پھر انہوں نے دوٹوک انداز میں یہ بھی کہا مجھے شہباز شریف اور جنرل سید عاصم منیر بخوبی معلوم ہیں پوری دنیا ان دونوں کو جانتی ہے میں ان دونوں کو سلام پیش کرتی ہوں انہوں نے جو کام کیا ہے، وہ ناقابل یقین ہے ان کی قیادت میں پاکستان نے دنیا میں امن کے لیے جو کردار ادا کیا، وہ تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھا جائے گا یہ بیان سن کر پاکستانیوں کے سینوں میں فخر بھر گیا ہے کارکردگی خود بولتی ہے، وعدے نہیں جو کہا، کر کے دکھایا۔ شہباز شریف اور جنرل عاصم منیر کی جوڑی نے پاکستان کو ایک نئی بلندی پر پہنچا دیا ہے عالمی سطح پر پاکستان کی اہمیت بڑھ رہی ہے، اور دنیا کے لیڈرز اس کا اعتراف کر رہے ہیں اب عمران خان والے نعرے لگانے والوں کے پاس کیا جواب ہے؟ دنیا اصل لیڈرز کو پہچانتی ہے یہ وہ وقت ہے جب پاکستان ترقی، امن اور استحکام کی طرف بڑھ رہا ہے شہباز شریف کی سفارتکاری اور جنرل عاصم منیر کی قیادت نے ملک کو ایک نئی شناخت دی ہے۔ پاکستان زندہ باد! شہباز شریف زندہ باد! جنرل سید عاصم منیر زندہ باد!

Hussnain Fahad

21,669 views • 5 months ago

بریکنگ نیوز 🚨معید پیرزادہ کا شاندار، زبردست تجزیہ۔ ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی بڑی گیم ایکسپوز کردی۔ سپریم کورٹ کی طرف سے خان کی ہسپتال منتقلی دو دنوں میں کرنے کے پیچھے چھپی اصل سٹوری بریک کر ڈالی 🔥🔥 سپریم کورٹ نے دو دن کیوں دیے؟ کیونکہ اگر یہ فیصلہ سپریم کورٹ کر رہی ہے پیشِ نظر عمران خان کی صحت اور ان کی کریٹیکل کنڈیشن اور میڈیکل سچوئیشن پہ۔ پھر سپریم کورٹ یہ کیوں کہتی ہے کہ ان کو دو دن کے اندر اندر آپ اڈیالہ جیل سے شفا ہسپتال میں منتقل کریں؟ سپریم کورٹ کو تو فیصلہ یہ کرنا چاہیے تھا کہ فوری طور پہ فارمر پرائم منسٹر آف پاکستان، in view of his Health Conditions اور جو ہم نے صورتحال دیکھی ہے، انکی زندگی کو خطرہ ہے۔ فوری طور پہ ہر قسم کے ٹیسٹ کرنے کے لیے میڈیکل بورڈ بنایا جائے اور فوری طور پہ عمران خان کو اڈیالہ جیل سے شفا ہسپتال کے اندر منتقل کیا جائے۔ اور یہ دو دن دینے جو ہیں، اب مجھے یہ سمجھ آتی ہے کہ دو دن دینا جو ہے وہ بہت سسپیشس (مشکوک) تھے، جیسا کہ میں بارہا کہہ چکا ہوں اور ہر دفعہ بہت سے لوگوں کو غصہ آتا ہوگا جب میں کہتا ہوں کہ پاکستان میں عدالت نام کی کوئی چیز نہیں ہے، یہ فیصلے سارے کے سارے ملٹری آفیسرز کرتے ہیں، جنرل عاصم منیر صاحب یہ فیصلے کر رہے ہیں۔ تو اس کا مطلب ہے کہ اس فیصلے کے اندر ہی ایک لوجک اور ایک سپیس رکھی گئی کھیلنے کے لیے۔ یہ وقت یہاں دیا گیا دو دن کا تاکہ ن لیگ (PML-N) اور پیپلز پارٹی (PPP) کے ساتھ اگر کوئی معاملے پھنسے ہوئے ہیں، کیونکہ اس وقت ایک پارلیمنٹ کا سیشن شروع ہے، خبر ہے نئے پروونسز (صوبوں) کے بننے کی بات ہونی ہے، 28 ویں ترمیم کی بات ہونی ہے، تو ایک خبر ان کو نکالی گئی سپریم کورٹ آف پاکستان سے۔ یہ دو دن کا وقت دینا جو ہے نا اس کی کوئی سینس نہیں بنتی تھی سپریم کورٹ کی طرف سے۔ دو دن کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے وقت دیا ن لیگ کو، پیپلز پارٹی کو سوچنے کے لیے، اگر ان کی کوئی ریزرویشنز (تحفظات) تھیں اس اسٹیج پہ جنرل عاصم منیر کے ساتھ، ان کی اس حوالے سے ہو سکتا ہے وہاں پہ کوئی ان کی بات چیت ہو گئی ہو، کوئی انہوں نے سرنڈر کر دیا ہو۔ کیونکہ ن لیگ والے بڑے سیانے ہیں، یہ جو ریویو انہوں نے فائل کیا ہے سپریم کورٹ آف پاکستان میں، اس کے پیچھے پوری ایک گیم ہے۔ یہ کبھی بھی اتنے کچے کھلاڑی نہیں ہیں کہ یہ ہوا میں ایک تیر ماریں گے۔ اس کا مطلب ہے کہ ان کی پہلے کوئی بات ہو گئی ہے اور اب انہوں نے ایک ریویو فائل کر دیا ہے۔

‏زہـــرہ لیــاقت

148,877 views • 1 month ago

آج سوشل میڈیا پر ایک ایسی ویڈیو وائرل ہو رہی ہے جس نے ہر محبِ وطن پاکستانی کی آنکھیں نم کر دی ہیں۔ یہ مناظر جاپان کے ہیں، جہاں "اسپیشل بچوں" کی معصوم آوازوں میں جب “دل دل پاکستان، جان جان پاکستان” کے بول گونجے، تو وقت جیسے تھم گیا۔ یہ صرف ایک نغمہ نہیں ہے، بلکہ یہ اس عالمی عزت اور محبت کا ثبوت ہے جو آج پاکستان کو دنیا کے ہر کونے میں مل رہی ہے۔ جاپانی بچوں کی یہ آوازیں ثابت کرتی ہیں کہ پاکستان کا بیانیہ اب "خوف" کا نہیں بلکہ "محبت اور امن" کا بن چکا ہے۔ جب جاپان جیسے ترقی یافتہ ملک میں بچے ہمارا قومی نغمہ گاتے ہیں، تو یہ ہماری ثقافتی سفارت کاری کی سب سے بڑی جیت ہے۔ دل دل پاکستان" ہماری وہ شناخت ہے جو نسل در نسل اور ملک در ملک منتقل ہو رہی ہے۔ یہ ویڈیو ان دشمنوں کے منہ پر طمانچہ ہے جو پاکستان کو تنہا کرنے کے خواب دیکھ رہے تھے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دور میں پاکستان نے جس طرح عالمی سطح پر امن کے لیے کردار ادا کیا ہے، اس نے عام عالمی شہری کے دل میں پاکستان کی جگہ بنا دی ہے۔ آج دنیا ہمیں ایک "مددگار اور ذمہ دار" قوم کے طور پر دیکھ رہی ہے 🇵🇰🇵🇰😍💝😍🇵🇰🇵🇰

scorpio♏#DJ 🧓🏻

11,763 views • 5 months ago

ایک زمانے میں زیادہ تر لوگ ٹی وی دیکھا کرتے تھے اور اس وقت ایک جھوٹا بیانیہ بنایا گیا کہ پی ٹی آئی کی شوشل میڈیا ٹیم پیڈ ہے اورصرف ٹرول کرتی ہے- پھر ہوا رجیم چینج اور سب کو پتہ چل گیا ٹی وی چینلز کی اصلیت کا اور لوگ اپنی خبریں سوشل میڈیا سے لینے لگے۔ اس دوران سب کو اندازہ ہوا کے پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا ٹیم دنیا کی سب سے زیادہ innovative ڈیجیٹل ٹیم ہے جو اپنے ملک سے اتنا پیار کرتی ہے کہ اپنی نوکری، کاروبار، پڑھائی اور فیملی ٹائم قربان کر کے عمران خان اور پاکستانی عوام کی عکاسی کرتی ہے اور ان کو بدلے میں کوئی عہدہ نہیں چاہیے ، صرف ایک آزاد اور بہتر پاکستان چاہیے تاکہ وہ دنیا میں سر اٹھا کر جییں! سسٹم نے سب کچھ قابو پا لیا مگر اس سوشل میڈیا کی طاقت کے آگے ہار گیا- بدترین فسطائیت اور بلا چھیننے کے باوجود ۸ فروری کو نا صرف ووٹرز کو موبیلائز کیا سوشل میڈیا نے بلکہ پورے پاکستان میں امیدواروں کے انتخابی نشان بھی یاد کروا دیے! اسی طاقت کو کم کرنے کے لیے مہرے استعمال کر رہے ہیں اب۔ نتیجہ وہی ہوگا جو ۸ فروری کو ہوا تھا، کیونکہ یہ ۹۰ کی دہائی نہیں ہے۔ لوگ بہت باشعور ہیں اور دنیا کے ہر کونے میں پی ٹی آئی کے جو سوشل میڈیا والنٹئیرز ہیں وہ عمران خان اور پاکستان کے لئے ہر ممکن کوشش کرتے رہیں گے۔ آپ سب اس جدوجہد کے ہیرو ہیں اور اس وڈیو میں پوری دنیا کے اخبارات اور ویب پورٹلز نے اعتراف کیا ہے اور وہ جھوٹا ٹرول والا بیانیہ ہمیشہ کے لیے دفنا دیا ہے۔ اب دنیا ہم سب کو اے آئی وڈیو ، فیس بک باٹ اور سسٹم کی censorship کو توڑنے کے experts کے تور پر جانتی ہے۔ اگلے کئی سالوں تک ایک case study ہوگا پی ٹی آئی سوشل میڈیا۔ یہ سب آپ کے آئڈیاز تھے۔ میرا تمام سوشل میڈیا کے ٹائیگرز اور ٹائیگریسس کو سلام ہے۔ شکریہ!

Jibran Ilyas

127,556 views • 2 years ago

امریکہ ایران امن معاہدہ ہوجائے تاریک سرنگ کے آخر میں رو شنی کی ایک کرن نظر آئی ہے فی الحال دو ماہ سے جاری کشیدگی میں کوئی بڑا بریک تھرو سامنے نہیں آیا، مگر پچھلے 72 گھنٹوں میں پاکستان کے ذریعے ہونے والے مذاکرات میں کچھ پیش رفت کے اشارے مل رہے ہیں۔ ماہرین کہتے ہیں ایران اب مزید دیر نہ کرے اب بھی موقع ہے ایران ایک اچھی ڈیل کرسکتا ہے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے 48 گھنٹوں میں اسلام آباد کے دو دورے، اعلیٰ پاکستانی قیادت سے ملاقاتیں، اور نئی امن تجاویز اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ دونوں فریق جنگ کے مستقل خاتمے کیلئے سنجیدہ ہیں۔ تاہم اب بھی Strait of Hormuz بدستور سب سے بڑا تنازع ہے، جہاں امریکی اور ایرانی اقدامات نے عالمی معیشت، تیل کی سپلائی اور خاص طور پر چین کو شدید متاثر کیا ہے۔امریکہ نے ایک تیر سے دو نشانے لگائے ایران کے ساتھ چین کی باراستہ ایران energy life line کی بھی ناکہ بند ہو چکی ہے دوسری جانب واشنگٹن میں صدر ٹرمپ پر تیسری قاتلانہ کوشش نے امریکی سیکیورٹی اور سیاسی استحکام پر بڑے سوالات اٹھا دیے ہیں، جبکہ ان کی عوامی مقبولیت بھی دباؤ میں ہے۔کیا یہ سب ایک بڑے عالمی ری سیٹ کی تیاری ہے یا کسی نئی چال کا آغاز؟ مکمل تجزیہ جاننے کیلئے آج کا On My Radar ضرور دیکھیں — لنک پر کلک کریں

Kamran Khan

10,969 views • 5 months ago

جو جھوٹ بول رہے ہیں کہ قاسم خان/سلیمان خان نے پاکستان کے GSP+ سٹیٹس کو ختم کرنے کی بات نہیں کی، ان پاکستان کے دشمنوں کو پتہ ہونا چاہئیے کہ جس فورم پر گفتگو کی گئی وہاں کوئی بچے نہیں بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ بلاواسطہ بھی ذکر کریں پاکستان کے GSP+ سٹیٹس کا اور آپ کی اشاروں کنایوں میں کی گئی پاکستان مخالف بات کو کوئی سمجھ نہ سکے۔ پاکستان کے سٹیٹس کو mention کرنے کا مقصد ہی اس بات کی طرف اشارہ کرنا تھا۔ یہ backhanded approach ہوتی ہے جس میں براہ راست نہ کہہ کر بھی اپنا مدعا بیان کر دیا جائے۔ افسوس کہ وہ بچے جو آج تک غیرمتنازعہ تھے، اب متنازعہ اور سیاسی بن چکے ہیں۔ کسی کے سیاسی اور پاکستان مخالف مقاصد کے ہاتھوں استعمال ہو گئے۔ والد سے گفتگو میں تو عمران خان نے بتایا کہ ان کی صحت بہتر ہو رہی ہے آنکھ ٹھیک ہو رہی ہے سو یہ تو اس بات کا ثبوت ہے کہ عمران خان کو جیل میں ہر قسم کے انسانی حقوق عام قیدیوں سے بڑھ کر میسر ہیں۔ میں یہ بھی سمجھتی ہوں کہ وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ Attaullah Tarar کو ان 20/25 سال کے "چھوکروں" کی اس پاکستان مخالف حرکت بارے پریس کانفرنس کرنے کی ضرورت نہیں تھی، یہ اتنے اھم نہیں کہ ریاست کا مرکزی وزیر ان کو جواب دے؛ پاکستان الحمدللہ ان 20/25 سال کے "چھوکروں" کی اس حرکت سے بہت زیادہ بلند،مضبوط اور باوقار ہے۔ یہ کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ ہاں اپنا ہی تشخص ضرور بگاڑ لیا۔ پاکستان مخالف دشمنوں کو تکلیف ہی اس بات کی ہے کہ اس ملک کو اس قدر عزت، پذیرائی اور عالمی وقار کیوں حاصل ہو رہا ہے اور وہ بھی فیلڈ مارشل حافظ سید عاصم منیر کے دور میں ۔۔۔۔۔ لیکن ایک پلان ان کا ہے اور ایک پلان اللہ کا ہے ۔۔۔ اور غالب پلان تو اللہ ہی کا ہے ✌️💯💥🇵🇰 آج صبح جی ٹی وی GTV پر میرا تجزیہ ۔۔۔ 👇 👇 👇

Gharidah Farooqi (T.I.)

30,993 views • 6 months ago

اب نئی بحث چھڑ گئی کہ ہم نئے صوبے بنائیں گے۔ میں نے کہا، کوئی عقل بھی ہے تمہارے اندر، کم بختو! سوچو تو سہی، ایک گھر ہے، اس کے ایک حصے میں آگ لگی ہوئی ہے، دوسرے حصے میں آگ لگی ہوئی ہے۔ کیا اس ماحول میں بھائی بیٹھ کر یہ کہہ سکتے ہیں کہ آئیے، ذرا مکان جو ہے، اس کو تقسیم کر لیں؟ ان شعلوں کے اندر آپ صوبوں کی بات کر رہے ہیں؟صوبے بنتے رہتے ہیں، دنیا میں بھی بنتے ہیں، انڈیا میں بھی بنتے ہیں، لیکن نہ ماحول اس وقت موجود ہے، نہ تیاری ہے۔ بس ایک ادارہ اور ایک ادارے کے سربراہ کی خواہش ہے اور وہ جبراً قوم پر مسلط کر رہا ہے۔ تو ہم نے اس کا مشاہدہ کیا ہے کہ فاٹا انضمام پر ہم چیخ رہے تھے کہ وقت نہیں ہے، ابھی تم تیار نہیں ہو، ماحول نہیں ہے۔ آپ نے کہا، نہیں، بن کے رہے گا۔ تو مجھے تو اس وقت بھی پتا ہے کہ اس کے پیچھے امریکہ تھا۔ تو میں کیسے نہیں کہوں گا کہ آج صوبوں کی تقسیم اور ملک کے اندر یہ افراتفری، اس کے لیے بیرونی دباؤ نہیں ہوگا؟ اور تم خود اتنے تگڑے ہو کہ ملک کے اندر یہ رسک لے رہے ہو اور صوبوں کو کیوں توڑا جا رہا ہے!اس لیے نہیں کہ اصولی طور پر یونٹ بنتے ہیں اور پوری دنیا میں ہو رہے ہیں اور انڈیا میں بھی ہو رہا ہے، اس لیے کہ اٹھارویں ترمیم میں این ایف سی ایوارڈ آئینی طور پر طے ہوا کہ محصولات میں صوبوں کے حصے میں اضافہ کیا جا سکے گا اور کمی نہیں کی جا سکے گی۔ اور اس وقت شاید انچاس فیصد محصولات کا صوبوں کے لیے تھا، بڑھتے بڑھتے شاید چھپن، ستاون فیصد تک ہو گیا ہے۔ یہ ہے وہ چیز جس کے لیے وہ صوبوں کو توڑنا چاہتے ہیں، تاکہ ازسرِنو ہم نیا این ایف سی ایوارڈ کریں گے۔ اور دوسرا یہ کہ جو صوبوں کے اندر معدنی ذخائر ہیں، ان پر صوبوں کے عوام کا حق ہے۔ اٹھارویں ترمیم کے تحت وہ صوبوں کی ملکیت ہے۔ ان معدنی ذخائر کے لیے وہ ہمارے قبائل کو، ہمارے صوبوں کے عوام کو، عام آدمی کو مالک تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ ان کو اپنے قبضے میں لینا چاہتے ہیں۔ ان دو مقاصد کے لیے صوبوں کو تقسیم کرنا بڑا ناگزیر ہو گیا ہے، بڑا ناگزیر ہو گیا ہے۔ تو ہم نہ ہی ایسی چیز کی حمایت کر سکتے اور نہ ہی آپ کی بس میں ہے کہ آپ جبراً قوم کے اوپر فیصلے مسلط کریں گے اور ہم اس کو مانتے رہیں گے۔ یہ کیسے ہوگا؟ بلوچستان میں آپ کی گرفت نہیں ہے۔ ہنہ اوڑک اور اس کے پہاڑ یہ چھاؤنی کے بالکل اوپر ہے اور وہاں لوگ چڑھ گئے اور لوگوں کو شہید کیا۔ زیارت میں یہی ہوا۔ آج جمعیۃ علماء اسلام کی مرکزی مجلسِ عمومی کا جو اجلاس کراچی میں ہو رہا تھا، بلوچستان کی جماعت کی درخواست پر پشاور میں لایا گیا ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ ہم کراچی نہیں پہنچ سکتے، ہمارے راستے نہیں ہیں اس قابل۔ کبھی ہم نے، آج سے، کسی جماعت نے اس حوالے سے کوئی عذر نہیں پیش کیا۔ میں خود پورے بلوچستان میں پھرا ہوں، ایک گاڑی کے اندر پھرتا رہا ہوں، مکران تک گیا ہوں، تربت تک گیا ہوں، پنجگور تک گیا ہوں، پسنی تک گیا ہوں، گوادر تک گیا ہوں۔ آج وہاں تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ کراچی، کوئٹہ شاہراہ غیر محفوظ ہے، ہمارے ہاں کی شاہراہوں پر گھنٹوں گھنٹوں کے ناکے لگے ہوتے ہیں۔ ہم کیا زندگی گزار رہے ہیں؟ ہمیں ٹھنڈی زمین تو دو، ہمیں امن تو دو۔ تو صوبوں کے حوالے سے بھی ہم ان کو خیرخواہانہ مشورہ دے رہے ہیں کہ اس وقت صوبوں کو توڑنا، اس کو نئے صوبوں میں تبدیل کرنا، اور پھر لوگوں کو لالچ دیتے ہیں، پھر آپ کی حکومت ہوگی، پھر آپ کی حکومت ہوگی، پھر آپ کی حکومت ہوگی۔ جیسے ہم حکومت کے بھوکے ہیں! تو ان مشکلات سے ہم گزر رہے ہیں۔ بلوچ علاقوں میں خون ریزی ہو رہی ہے، جنگ ہے، پشتون علاقوں میں جنگ ہے، خیبر پختونخوا میں جنگ ہے۔ کشمیر میں، راولاکوٹ میں، تین مہینے ہو گئے ہیں لوگ بیٹھے ہیں، یہ ان سے بات کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ کیا مقاصد ہیں؟ رفتہ رفتہ اس میں ان عناصر کو غلبہ مل رہا ہے جو خودمختار کشمیر کی بات کرتے ہیں۔ جذبات میں تبدیلی آ رہی ہے۔ کیا مقصد ہے؟ کیا اس ملک کو توڑنا ہے؟ امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمٰن کا پشاور میں خطاب

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

10,972 views • 1 month ago

(پاکستان 🇵🇰 💪) یہ مولانا شیخ عمران حسین ہیں جنہوں نے 2004 میں ٹرینیڈاڈ میں دجال دی فالس مسیحا یا اینٹی کرائسٹ پر اپنے لیکچر کی وضاحت کی- (اس دلچسپ ویڈیو کے ٹرانسکرپٹ کا مکمّل اردو ترجمہ پیش کر رہا ہوں- اسے ضرور پڑھیں اور سنیں)- "اور میں آپ سے کہہ رہا ہوں، اگر آپ پیسوں کی دنیا کو دیکھیں تو آپ کو دیوار پر لکھا نظر آئے گا- بریٹن ووڈز معاہدہ ٹوٹ رہا ہے، یہ پہلے ہی ٹوٹ چکا ہے اور ایک نیا بین الاقوامی مالیاتی نظام قریب ہے، جس میں امریکی ڈالر غائب ہو جائے گا- اور جب امریکی ڈالر کریش ہو گا تو امریکی معیشت اس کے ساتھ کریش ہو جائے گی- میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ امریکہ پر 11 ستمبر کا حملہ 1914 کے موسم گرما کے دہشت گردانہ حملے سے غیر معمولی مماثلت رکھتا ہے- اور یہ کہ جو واقعات اب دنیا میں رونما ہو رہے ہیں، افغانستان پر حملہ، عراق پر حملہ، نئی امریکی سامراج جو دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے، ان سب کا مقصد ایک مشن ہے، اسرائیل کے ساتھ ایک بڑی جنگ کی راہ ہموار کرنا- اور اس بڑی جنگ کے نتیجے کے طور پر جو اسرائیل چھیڑنے جا رہا ہے، اسرائیل کی ریاست کا علاقہ ڈرامائی طور پر پھیلتا جا رہا ہے تاکہ اسرائیل کی مقدس سرزمین کی بائبل میں بتائی گئی سرحدوں کو گھیر لیا جا سکے- بائبل کہتی ہے، "مصر کے دریا سے لے کر دریائے فرات تک"، لیکن یہ سچ نہیں ہے۔ مصر کے دریا سے لے کر دریائے فرات تک مقدس سرزمین کا درحقیقت کوئی ذکر موجود نہیں ہے، یہ ایک گڑھا ہوا جھوٹ ہے- لیکن اب یہ بائبل میں موجود ہے، انہوں نے اسے زبردستی داخل کیا ہے۔ اور اس لیئے اسرائیل کو ایک بڑی جنگ چھیڑنی ہے، جس سے ریاست کے علاقے میں ڈرامائی طور پر توسیع ہو جائے گی، تاکہ اسرائیل نہر سویز کو کنٹرول کر لے- اور اسرائیل کل خلیج کے تیل کو کنٹرول کر لے گا- اور امریکی ڈالر پر ایک ساتھ حملہ آور ہو گا اور امریکی ڈالر گرتا جائے گا- اور جب یہ گرے گا تو کاغذی کرنسی کی پوری دنیا کو اپنے ساتھ لپیٹ لے گا- جب اسرائیل وہ بڑی جنگ چھیڑتا ہے، میں توقع کرتا ہوں کہ اسرائیل جنگ کے ایسے ہتھیار اتارے گا جو ہم نے پہلے کبھی نہیں دیکھے- اور اس کے اختتام پر اسرائیل دنیا میں ایک نئی حکمران ریاست کے طور پر امریکہ سے اقتدار سنبھال لے گا- لیکن، اسرائیل اس جنگ کو نہیں چھیڑ سکتا، کیوں کہ اب بھی راستے میں بہت خاص رکاوٹیں موجود ہیں- اور اب اپنی سوچ کی ٹوپی پہن لیجیئے- کہ وہ کونسی سب سے اہم رکاوٹ ہے، جو اب بھی اسرائیل کی ایک بڑی جنگ چھیڑنے کی راہ میں کھڑی ہے؟ اور یہ ہے پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کی صلاحیت- اور اس کے ساتھ ایران کی میزائل صلاحیت بھی ہے- اور اس طرح، ہم اس وقت جتنے بھی ہنگاموں سے گزر رہے ہیں، دنیا کی بساط پر وہ تمام تدبیریں، جب اسرائیل وہ بڑی جنگ چھیڑتا ہے اور امریکہ کی جگہ دنیا میں ایک حکمران ریاست کے طور پر آتا ہے، پہلی حکمران ریاست برطانیہ تھی، دوسری حکمران ریاست امریکہ تھی، تیسرا اور آخری یہ دھوکے باز، اسرائیل کی ریاست ہوگی- اس لیئے میں آپ کو یہ تجویز کر رہا ہوں کہ اینٹی کرایسٹ یا دجال اب مرحلہ دوم مکمل کر چکے ہوں گے، ایک دن جو ایک مہینے کے برابر ہے، اور تیسرے مرحلے کا آغاز ہو گا، ایک دن جو ایک ہفتے کے برابر ہے، یعنی بہت کم مدت- یہ وہ وقت ہے جب دہشت گردی اپنے عروج پر ہے- انہوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ ان تمام لوگوں کو قتل کرنا جاری رکھیں گے جو اسرائیل کی ریاست کے خلاف ہاتھ اٹھانے کی جرات کرتے ہیں۔ یہ دنیا کا سب سے بڑا دہشت گرد ہے- لیکن CNN آپ کو یہ کبھی نہیں بتائے گا۔ میری بات سننے کا شکریہ-

Amir H. Qureshi

13,333 views • 6 months ago

Must Read | Must Listen 🚨نہریں نکالنے کی فییزیبلٹی رپورٹ بنانے والے ماہر آبی امور حسن عباس کے انکشاف 🚨🚨🚨 "میں نے امریکی کنسلٹنٹس کے ساتھ مل کر فزیبیلٹی رپورٹ بنائی جو 2023 میں حکومت کے حوالے کی گئی، اس میں جن تمام چیزوں سے منع کیا گیا تھا اب وہ سب کی جا رہی ہے، رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ پانی موجود ہو تب بھی ریگستان میں نہریں نہیں چل سکتیں۔ راجھستان صحرا کے تجربے کی مثالیں دی گئیں، ناکامی کے 28 نکات بتائے گئے۔ ساتھ ہی بتا دیا تھا کہ اس منصوبے سے گرین پاکستان منصوبہ ناکام ہو جائے گا۔۔ پھر ہم نے امریکی لیبارٹریوں میں ٹیسٹ کے بعد صحرا کو سیراب کرنے کے جدید حل بتائے جن میں ایک طریقہ دریاؤں کے نیچے بیڈ کی ریت سے پانی نکالنے کا تھا۔۔ ہم نے بتایا کہ ستلج کی ریت کے نیچے 34 ملین ایکڑ پانی ہے، پنجند کے نیچے 110 ملین ایکڑ پانی ہے، اگر ان کا صرف ایک فیصد پانی لیا جائے تو چولستان کا ایک ملین ایکڑ فٹ سیراب ہو سکتا ہے۔ گرین پاکستان منصوبے میں لکھا گیا کہ جو طریقہ کار ہم نے بتایا ہے اس سے ایک سال میں انتہائی کم قیمت میں پانی چولستان لایا جا سکتا ہے اور اس پانی کی کوالٹی نہری پانی سے زیادہ اچھی ہے۔۔ میری اطلاع کے مطابق کیس فیصلہ ساز کے سامنے یہ رپورٹ اور حقائق نہیں رکھے گئے" حسن عباس ماہر آبی امور #FaislaAapKa Hum News

Asma Shirazi

35,099 views • 1 year ago

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کی مداخلت پر القادر ٹرسٹ کیس میں ہوئی۔ مجھے ہدایت دی گئی کہ میں عمران خان سے ملاقات کروں ،میں القادر ٹرسٹ کیس میں میاں بیوی دونوں کی نمائندگی کر رہا ہوں۔ میں آپ کو بتا دوں کہ اس فیصلے میں سزائے موت یا عمر قید شامل نہیں ہے۔ یہ 14 سال کی سزا ہے ایسے کیس میں جہاں ایک روپے کی بھی مالی بدعنوانی ثابت نہیں ہوئی۔۔ سوال یہ ہے کہ جرم کیا ہے؟سابق وزیراعظم ہیں، اور ایک روپے کی بھی کرپشن ثابت نہیں ہوئی۔میں نے فیصلہ پڑھا ہے۔ ہم قانون سے بخوبی واقف ہیں۔ پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 73 تنہائی قید کی اجازت دیتی ہے لیکن آپ حیران ہوں گے۔میرا 25 سال کا تجربہ ہے، میں نے ہزاروں قتل کے کیسز دیکھے ہیں، لیکن میں نے کبھی اس طرح کی تنہائی قید نہیں دیکھی، حتیٰ کہ دہشت گردی کے کیسز میں بھی نہیں۔جیلوں میں ایک نظام ہوتا ہے۔ کچھ قیدیوں کو وقتی طور پر الگ رکھا جاتا ہے، چند گھنٹوں یا دنوں کے لیے، لیکن ایسا سلوک 74 سالہ خاتون کے ساتھ نہیں کیا جاتا۔اس ملاقات میں عمران خان بار بار ایک ہی بات کرتے رہے کہ یہ تنہائی قید ان کے لیے اور ان کی اہلیہ کے لیے اذیت ناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں وکلاء تک رسائی نہیں، خاندان سے ملاقات نہیں، ایک دوسرے سے بات کرنے کی اجازت نہیں، ٹی وی نہیں، کتابیں نہیں، پڑھنے کی اجازت نہیں، حتیٰ کہ دیواریں دیکھنے تک کی آزادی نہیں۔وہ بار بار یہی بات دہراتے رہے کہ یہ قید کتنی تکلیف دہ ہے اور کس جرم کی سزا دی جا رہی ہے۔جب میں نے القادر ٹرسٹ کا فیصلہ پڑھا تو جیل سپرنٹنڈنٹ جو سزا دے رہا ہے وہ فیصلے میں درج ہی نہیں۔ کیا یہ حیران کن اور تشویشناک نہیں؟یہ انتہائی سخت سزا ہے، جو نہ صرف غیر ضروری بلکہ غیر منصفانہ اور قابل مذمت ہے۔مزید یہ کہ ان کی ضمانت بھی نہیں سنی جا رہی۔ ہم بار بار اسلام آباد ہائی کورٹ جا رہے ہیں۔ یہ صورتحال انتہائی سنگین اور پریشان کن ہے۔عمران خان اور ان کی اہلیہ کی تنہائی قید کو فوری طور پر ختم کیا جائے، یہی ہماری اولین ترجیح ہے۔ عمران خان اپنے کیسز لڑ رہے ہیں اور قانونی طریقہ کار کے مطابق انصاف چاہتے ہیں۔ہم آئین کے آرٹیکل 10A اور منصفانہ ٹرائل کی بات کرتے ہیں۔ اڈیالہ جیل کے حالات میں آپ کے سامنے رکھ چکا ہوں۔میں 9 مئی کے واقعات کی مذمت کرتا ہوں، لیکن یہ واقعہ اس وقت شروع ہوا جب عمران خان کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے بایومیٹرک روم سے گرفتار کیا گیا۔ اور اب انہیں مسلسل مختلف کیسز میں قید رکھا جا رہا ہے، نہ اپیل سنی جا رہی ہے نہ ضمانت، اور انہیں تنہائی قید میں رکھا گیا ہے۔عمران خان نے واضح طور پر کہا کہ یہ قید اذیت ناک ہے اور بار بار اس پر زور دیا۔سلمان صفدر

𝐼𝓂𝓇𝒶𝓃 𝐿𝒶𝓁𝒾𝓀𝒶

48,325 views • 5 months ago

کون سا ولٹ کیپر کھیلے گا ؟ کون سا وکٹ کیپر زیادہ اچھا ہے ؟ پاکستان کرکٹ میں یہ بحث نئ نہیں ہے۔ ماہرین ، مبصر اور شائقین کرکٹ سلیکٹرز یا کپتان کی جانب دیکھتے ہیں اور کبھی کبھار سوال بھی کرتے ہیں ۔ اس کرب سے اکثر ٹیم منیجمینٹ کو پہلے بھی گزرتے دیکھا ہے جب وسیم باری صاحب کی جگہ تسنیم عارف مرحوم کلکتہ ٹیسٹ کھیلے لیکن کچھ عرصہ بعد وسیم باری صاحب دوبارہ ٹیم میں شامل ہو گئے ۔ ذوالقرنین،سلیم یوسف اور اشرف علی بھی ایک دوسرے کے مدمقابل رہے ۔ میرے اور معین کے بعد کامران اکمل اور سرفراز کے درمیان مقابلہ رہا اور پھر ذوالقرنین اور کامران اکمل کے درمیان رہا لیکن عدنان اکمل نے جگہ بنا لی لیکن صرف ۲۱ ٹیسٹ کے بعد سرفراز ان کے ان فٹ ہونے کے بعد ٹیم میں شامل ہوئے اسکے بعد انہوں نے پیچھے مُڑ کر نہیں دیکھا ۔ وہ کپتان بھی بنے اور چیمپئنز ٹرافی بھی ُان کی قیادت میں ٹیم کے کھلاڑیوں نے جیتی ۔ ۲۰۱۹ کے ورلڈ کپ سے پہلے آسٹریلیا کے خلاف یو اے ای میں ایک روزہ سیریز کھیلی گئی جس میں کپتان کو آرام کرنے کا مشورہ دیا گیا اور محمد رضوان کھیلے اور دو سینچریاں بھی کی لیکن وہ ورلڈ کپ کی ٹیم میں اپنی جگہ نہ بنا سکے ۔ سرفراز اور رضوان پر دوبارہ آوں گا پہلے معین خان اور میرے درمیان جو مقابلہ رہا اسکا ایک واقعہ بیان کرتا چلوں۔ ۱۹۹۵ میں تقریباً دس ماہ کے بعد آسٹریلین دورہ میں میری پاکستان ٹیم میں واپسی ہوئ تھی۔ برسبین میں پہلا ٹیسٹ ہم ہار جاتے ہیں اور ہوبارٹ ٹیسٹ مسے پہلے ٹیم منیجر اور کپتان میرے پاس آئے اور کھیلنے کی پیشکش کی۔ میں نے یہ کہہ کر منع کر دیا کہ معین کو ایک چانس اور دیں کیونکہ اس سے پہلے سری لنکا ٹیسٹ میں معین نے سینچری بھی بنائی ہے اسکے ساتھ زیادتی ہو جائیگی ۔ اور ساتھ ساتھ اگر سڈنی ٹیسٹ کھیلنا ہے تو مجھے بتا دیں تاکہ اسکی تیاری اس ہی طرح سے کروں کیونکہ دس ماہ بعد میچ کھیلوں گا ۔ جب شان مسعود اور حفیظ کو مشکلات ہو رہی تھیں تو وہاں محمد رضوان کو آگے بڑھ کر آنا چاہیے تھا اور وہ ٹیم منیجمنٹ کو مشورہ دیتے کے سرفراز احمد کو پوری سریز نہیں تو میلبورن ٹیسٹ ضرور کھلائیں اس سے ٹیم میں یکجہتی بڑھ جاتی - ہاں اگر رضوان اپنی وکٹ کیپنگ سے پاکستان ٹیم کو میچ جتوا دیتے ہیں تو رضوان اور ٹیم منیجمینٹ کا فیصلہ سر آنکھوں پر ۔ ۱۹۹۵ ٹور میں پھر سڈنی ٹیسٹ میں مجھے ہی کھلایا گیا۔ یادگار ٹیسٹ ہوا اور اس میں اعجاز احمد نے بہت عمد سینچری بنائی اور مشتاق احمد ، وسیم اکرم ، ثقلین اور وقار یونس نے ٹیسٹ کلاس باؤلنگ کی اور وہ ٹیسٹ ہم جیت گئے۔ میں اپنی ویڈیو شئیر نہیں کرتا لیکن اس ٹیسٹ کی تیاری بہت کی تھی اس لیئے کچھ کیچز کی ویڈیو لگا رہا ہوں ضرور دیکھئیے گا ۔

Rashid Latif | 🇵🇰

132,062 views • 2 years ago

عمران نیازی کا ایک اور بین الاقوامی سکینڈل آنے کو ہے۔۔ ایپسٹن سکینڈل کیا ہے؟ جیفری ایپسٹن اور اسکی پارٹنر گیزلین میکسول پر ایک کیس چلا جس کے مطابق نوے کی دہائی میں ایپسٹن نے اپنے جزیرے پر ایک مکروہ دھندہ شروع کیا جس میں تیرہ سے سترہ سال کی بچیوں کو سیکس کے لیے انٹرنیشنل کلائنٹس کو پیش کیا جاتا ، جزیرے تک آنے کے لیے جہاز کا بندوبست بھی یہی لوگ کرتے اور کام مکمل ہونے کے بعد کلائنٹ کو واپس چھوڑا جاتا ، اس کیس کی شروعات انہی متاثرہ بچیوں میں سے ایک بچی کی شکایت پر شروع ہوئی اور دونوں کو مجرم قرار دے دیا گیا اب تک کی کارروائی کے مطابق لسٹ میں سے چند نام سامنے آ چکے ہیں جبکہ بہت سے نام سامنے آنا باقی ہیں جن لوگوں کے نام آئے ہیں ان میں مشہور سائنسدان سٹیفن ہاکنگ سابق امریکی صدر ٹرمپ عمران خان کے سسر گولڈ سمتھ کے علاوہ بہت سے ماڈل ایکٹرز اور بزنس مین شامل ہیں یہ سب وہ مکروہ کردار ہیں جنہوں نے جنسی خواہشات کے لیے بچیوں کے ساتھ زیادتی کی اس لسٹ میں ایک شخص کے بارے میں عدالت میں پیش کی گئی دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ وہ ایک وزیراعظم ہے یاد رہے یہ کیس 2020 میں چلا تھا اور اس وقت ایک ہی ایسا وزیراعظم تھا جس کے میکسول یا ایپسٹن کے ساتھ لنکس تھے اور وہ کوئی اور نہیں عمران خان ہے اب کہانی یہاں پہنچی ہے کہ اس وزیر اعظم کے وکیل نے اپنے کلائنٹ کے کوڈ نیم Doe 107 سے درخواست دائر کی ہے کہ اسکے کلائنٹ کا نام شائع نہ کیا جائے کیونکہ اسکا جس ملک سے تعلق ہے وہاں ایسی باتوں کو معیوب سمجھا جاتا ہے اور اسکا ملک کی روایات کی وجہ سےسوسائٹی میں بہت بڑا ردعمل آئے گا یہاں یہ بات بھی یاد رہے کہ وسیم اکرم نے ایک ٹی وی شو میں بتایا تھا کہ ایک دفعہ عمران خان ایک خاتون دوست کے ہمراہ ایک پرائیویٹ جہاز میں سوار ہو کے کسی جزیرے میں چلا گیا تھا اور اب وقت نے بتا دیا وہ جزیرہ کونسا تھا اور جہاز کسکا تھا لیکن ابھی تک نام کی باقاعدہ تشہیر نہ کرنے کا فیصلہ نہیں آیا اور نام شائع ہو رہے ہیں.. (اسد آر چوہدری)

Asad R Chaudhry

77,501 views • 2 years ago