Loading video...

Video Failed to Load

Go Home

ایچ پی وی ویکسینیشن کے بارے میں جو پروپیگنڈا پھیلایا جا رہا ہے، وہ دیکھ کر واقعی سر پکڑنے کو دل چاہتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ ویکسین صرف اور صرف خواتین کو ایک خطرناک بیماری، یعنی سروائیکل کینسر (بچہ دانی کے نچلے حصے کا کینسر) سے بچانے...

24,841 views • 11 months ago •via X (Twitter)

0 Comments

No comments available

Comments from the original post will appear here

Related Videos

یہ صاحب اس وی لاگ میں جس معدے کے ڈاکٹر کا ذکر کر رہے ہیں وہ میں ہوں جس نے ان پر پی ٹی وی پر کینسر کے بارے میں اس جھوٹ کو کہ "کرایو تھراپی کیموھراپی کا متبادل ہے " غلط ثابت کیا تھا کیوں کہ یہ کینسر کے علاج کے بنیادی اصول کے ہی منافی ہے کیوں کہ کیوتھراپی اس وقت لگتی ہے جب لیمف نوڈ (lymph node) تک کینسر پھیل چکا ہے یعنی سٹیج تھری - اور اس وقت کوئی کرایو تھراپی کوئی کوبلیشن مشین اس کا علاج نہی کرسکتی - میری اس بات پر یہ مجھے بلاک کر کے بھاگ گیے اور آج اس وی لاگ میں کہ رہے ہیں کہ معدے کا ڈاکٹر کینسر پر کیسے بات کرسکتا ہے - ان کی یہ جہالت چیک کریں کہ معدے کا ڈاکٹر کینسر کے بنیادی اصولوں جو سب ڈاکٹروں کو پتا ہوتے ہیں ' ان پر بات نہیں کرسکتا لیکن ایک نام نہاد صحافی جس کا میڈیسن سے دور دور تک لینا دینا نہی وہ یہ بات پورے اعتماد سے کرسکتا ہے - اس بارے میں میں صحافی شفا یوسفزئی Shiffa Z. Yousafzai کے ساتھ ایک تفصیلی پروگرام بھی کر چکا ہوں جس میں میرے ساتھ ڈاکٹر فیضان ملک جو ایک انکالوجسٹ ہیں وہ بھی موجود تھے اور اس بات کو ہم نے تفصیل سے غلط ثابت کیا تھا کہ کرایو تھراپی یا کوبلیشن مشین کسی طرح بھی کیموتھراپی کا متبادل نہیں ہے - اسی جہالت کی وجہ سے اس وقت بھی پی ٹی وی نے ان کو شو کاز نٹس اشو کیا تھا کہ آپ نے کینسر سے متعلق غلط بات کی ہے اور یہ بات آج بھی اپنی جگہ قائم ہے - اس شخص کا عمران خان اور شوکت خانم کینسر ہسپتال سے بغض اس قدر زیادہ ہے کہ یہ اس کی آگ میں کینسر کے مریضوں کو بھی جھونک سکتا ہے -

Dr Waqas Nawaz

45,473 views • 11 months ago

ہم جس حال میں خیبر پختونخوا میں حکومت کر رہے ہیں، کوئی ہمیں حکومت کرنے کے لیے چھوڑ بھی نہیں رہا . صوبے کے چیف منسٹر کو اپنے لیڈر سے ملاقات نہیں کرنے دیا جا رہا۔ جیل مینوئل کے مطابق کسی بھی قیدی سے ملاقات کو نہیں روکا جا سکتا۔ جیل مینوئل کے مطابق کسی بھی قیدی سے ملاقات کی جا سکتی ہے۔ عمران خان اس ملک کے وزیر اعظم رہے ہیں اور ایک منتخب چیف منسٹر اس سے ملاقات نہیں کر سکتا۔ کیا پاکستان کسی ضابطے اور اصول پر چلتا ہے نہیں، یہ صرف ڈھنڈے سے چلتا ہے۔ ظلم اور ڈھنڈے کا یہ نظام ہمیں کسی صورت منظور نہیں ہے۔ اس ملک میں اگر ہم نے رہنا ہے تو قانون اور آئین کے تحت رہنا ہے۔ یہ جو ظلم ہو رہا ہے، یہ صرف عمران خان کے ساتھ نہیں ہو رہا، عوام کے ساتھ ہو رہا ہے۔ عوام سے ان کے ووٹ کا حق چھینا گیا، یہ فیصلہ عوام نے نہیں کرنا ہے کہ ہم نے کس کو ووٹ دینا ہے۔ ووٹ ڈالنے والے سے ووٹ گننے والا اہم ہے۔ اگر کسی ممبر عوامی نمائندے کو معلوم ہو کہ اس کے ووٹ کی کوئی اہمیت نہیں، تو کیا وہ آپ کی بات مانے گا۔ عوام کے پاس ووٹ کا حق ہے تو آپ کا نمائندہ آپ کی قدر کرتا ہے۔ ابھی جو ہری پور ضمنی انتخابات میں ہوا ہے، ووٹ کسی اور کو پڑا اور رکن کوئی بن گیا۔ فارم 45 کے مطابق سب کچھ ٹھیک ہے، لیکن کمپیوٹر پر بیٹھا آدمی اپنی مرضی کا ڈیٹا فیڈ کر رہا ہے۔ کس قسم کی عدالت، کس قسم کی الیکشن کمیشن، عدالتوں کو انتظامیہ کے ماتحت کیا گیا ۔

Asad Qaiser

16,009 views • 8 months ago

شعور کوئی مادہ نہیں جسے قید کیا جا سکے، نہ ہی یہ کوئی خیال ہے جو جذبات کی نذر ہو جائے۔ شعور ایک طاقت ہے، یہ وہ سرچشمہ جو ظلم کو چیلنج کرتا ہے اور ناانصافی کے ایوانوں کو ہلا کر رکھ دیتا ہے۔ یہ صرف ایک انفرادی احساس نہیں بلکہ ایک اجتماعی آگاہی ہے، ایک ایسی جدوجہد جو قوموں کی تقدیر بدل دیتی ہے۔ آج بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) اسی شعور کا استعارہ بن چکی ہے ۔ایک ایسی امید کی کرن جو ہر بلوچ کے دل میں روشن ہے۔ بی وائی سی کی قیادت کو خاموش کرنے کی کوششیں، جو ریاست کی جانب سے کی جا رہی ہیں، ایک دن خود ریاستی اداروں کے لیے پچھتاوے کا باعث بنیں گی۔ کیونکہ وہ ماہرنگ شاہ جی، بیبرگ، بیبو، گلزادی اور دیگر قائدین کو محض افراد سمجھ کر قید کر رہے ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ اب ایک نظریہ بن چکے ہیں ، وہ خود تحریک کی صورت اختیار کرچکے ہیں بلوچستان آج بول رہا ہے۔ ظلم کے خلاف ہر بلوچ، چاہے وہ عمر رسیدہ ہو یا نوجوان، اپنی آواز بلند کر چکا ہے۔ وہ لوگ جن کے گھرانے اس جبر کا براہ راست شکار نہ تھے، صرف بی وائی سی کی قیادت کو سڑکوں پر دیکھ کر متحرک ہوئے، آج وہ خود اس حقیقت سے آشنا ہو چکے ہیں کہ سب سے بڑا قانون شکن خود ریاست ہے۔ جو کچھ عوام کے ساتھ ہو رہا ہے، وہ محض سیکیورٹی کے نام پر نہیں، بلکہ ایک منظم دہشتگردی ہے ۔ ایک خوف پھیلانے کی کوشش۔ بلوچستان نہ کبھی خاموش تھا، نہ کبھی ہوگا۔ ہر نئے جبر کے ساتھ ہمارے حوصلے مزید بلند ہوں گے، ہمارے اعصاب مزید مضبوط ہوں گے، اور ہم اپنی جدوجہد کو نئے زاویوں سے جاری رکھیں گے۔ #NoToPakistanTyranny

Sabiha Baloch

22,164 views • 1 year ago