Loading video...

Video Failed to Load

Go Home

ایڈوکیٹ بجارانی کا دھرنا جاری، کشمور کے عوام کو سرداروں نے جھکایا تو دوسرے اٹھ کھڑے ہوگئے۔ کندھ کوٹ پر شاہراہ بند ہے۔ بجارانی کہتے ہیں چاہے کچھ بھی ہو گولیاں چلائیں احتجاج ختم نہیں ہوگا۔ #kandhkotprotest

25,836 views • 3 years ago •via X (Twitter)

0 Comments

No comments available

Comments from the original post will appear here

Related Videos

اسلام آباد کی تیز بارشوں اور سیلابی ریلوں کے بیچ، شہرِ اقتدار کی سڑکوں پر بلوچ مائیں اور جبری گمشدہ افراد کے لواحقین مسلسل دھرنے پر بیٹھے ہیں۔ نہ انہیں خیمہ لگانے کی اجازت ہے، نہ سر پر کوئی چھت یا سائبان۔ اسلام آباد پریس کلب کی دیوار سے محض چند قدم کے فاصلے پر یہ احتجاج جاری ہے، مگر صحافیوں کو بھی قریب آنے اور ان کے درد کو دنیا تک پہنچانے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ یہ سب کچھ صرف امید اور حوصلے کے سہارے جاری ہے۔ تعداد میں یہ لواحقین چاہے کم ہیں، مگر ان کا وجود اور استقامت ہزاروں آوازوں سے زیادہ طاقتور ہے۔ گزشتہ48 دنوں سے وہ اسلام آباد کی سڑکوں پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ دھمکیوں، رکاوٹوں اور ہر طرح کی مشکلات کے باوجود ان کا احتجاج جاری ہے۔ ان ماؤں اور بہنوں کے حوصلے اس ریاست اور اس کے حکمرانوں کے لیے کھلا چیلنج اور شرم کا مقام ہیں۔ یہ اس حقیقت کا اعلان ہیں کہ طاقت، دھوپ، بارش اور ظلم بھی ان کے عزم کو شکست نہیں دے سکے۔ یہ وہ زوردار طمانچہ ہیں جو اس گمان کو توڑ دیتا ہے کہ ان ماؤں کے حوصلے جھکائے جا سکتے ہیں۔ #ReleaseBYCLeaders

Sammi Deen Baloch

145,168 views • 1 year ago

ہری پور میں بھی سہیل آفریدی کی سٹریٹ موومنٹ کا جنازہ نکل گیا! سہیل آفریدی نے وزارت اعلی کا عہدہ سنبھالنے کے بعد عوام کی خدمت کی بجائے زہنی مریض کی رہائی کیلئے سٹریٹ موومنٹ کا ڈرامہ شروع کیا پہلے پنجاب کا رُخ کیا تو عوام نے دھتکار دیا، پھر سندھ گیا تو وہاں کی عوام نے بھی مسترد کر دیا۔ دونوں صوبوں میں ذلالت سے بچنے کیلئے جھوٹا الزام لگایا کہ صوبائی حکومتوں نے لوگوں کو نکلنے نہیں دیا۔ اب سہیل آفریدی بتائے کہ کیا ہری پور بھی خیبرپختونخواہ سے باہر ہے؟ کیا وہاں کی عوام کو بھی پنجاب اور سندھ کی حکومتوں نے نہیں نکلنے دیا؟ حقیقت تو یہ ہے کہ تحریک انصاف اپنے انتشاری رویے کی وجہ سے دفن ہو چکی ہے، ناصرف پنجاب اور سندھ بلکہ خیبرپختونخواہ کی عوام بھی اب کارکردگی کی سیاست چاہتی ہے، انتشاری احتجاج اور فسادات کی سیاست کا خاتمہ ہو چکا۔ سہیل آفریدی تم خدا کو حاضر ناضر جان کر بتاؤ کہ کیا تمہارے لیے ہری پور کی عوام نکلی ہے؟ وہاں تو تل دھرنے کی جگہ نہیں ہونی چاہیے تھی مگر لوگ صرف 100 سے 150 تھے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ خیبرپختونخواہ کی عوام نے بھی تمہیں مسترد کر دیا ہے۔ خدارا شرم کرو اور سٹریٹ موومنٹ کے نام پر نکل کر مزید ذلیل و خوار ہونے کی بجائے عوام پر رحم کرو۔ صوبے میں کارکردگی دکھاؤ، کے پی کی عوام کو سہولیات دو #HaripurRejectsPTI

Muhammad Hanzala

30,466 views • 7 months ago

آپ میرے بڑے بھائیوں جیسے ہیں۔ اور ہمارے حسان کے والد محترم بھی۔ اس لئے آپ کا بے حد احترام۔ اب کیوں کہ آپ کے نزدیک عاصم منیر صاحب تقریبا اولیا اللہ سے بھی اوپر کا درجہ رکھتے ہیں تو ظاہر ہے وہ آپکی بات بھی سنتے ہوں گے۔ تو جیسے ہی میں پاکستان اتروں گا ان ولی اللہ صاحب کے احکامات پر جہاز کے زینے سے سیدھا زندان میں بند کر دیا جاؤں گا۔ اس کا عمران خان کو تو کوئی فاہدہ نہیں ہو سکے گا۔ ہاں جو میں آپکے ولی اللہ کی خدمت میں روز گستاخی کرتا ہوں۔ وہ سلسلہ ختم ہو جائے گا۔ جو حسان نیازی کو ملٹری کورٹس کے سپرد کرنے کا فیصلہ کرنے والے مسرت حلالی جیسے گھٹیا ججوں کا میں منہ کالا کرتا ہوں وہ ختم ہو جائے گا۔ عمران خان کا ارشد شریف کا بشری بی بی یاسمین راشد کا حسان نیازی کا ایک اور ہمدرد خاموش کروا دیا جائے گا۔ آپ جیسے دوست ہوں تو دشمن کی تلاش پھر کیوں۔ اور آخری بات کاش آپ نے ایسا ہی مشورہ اپنے پیارے نواز شریف کو بھی دیا ہوتا۔ مجھے لگا تھا آپ کا غصہ ختم ہو چکا ہو گا۔ لیکن ابھی بھی جوبن پر ہے۔ اللہ آپکے دل میں نرمی پیدا کرے۔ وسلام

Dr. Shahbaz GiLL

317,313 views • 18 days ago

آج اسلام آباد میں بلوچ خاندانوں کے احتجاجی دھرنے کو دو مہینے مکمل ہوگئے ہیں۔ بلوچستان میں بڑے پیمانے پر اور طویل احتجاجوں کی کئی مثالیں ملتی ہیں۔ چاہے وہ 2010 میں جبری گمشدہ افراد کے لواحقین کا کوئٹہ سے اسلام آباد تک مارچ ہو، 2013 کا پیدل لانگ مارچ جو کوئٹہ سے کراچی اور اسلام آباد تک تین مہینے اور آٹھ دن میں مکمل ہوا، 2021 میں اسلام آباد کا ڈی چوک دھرنا، 2022 میں کوئٹہ ریڈ زون کا 55 دن طویل دھرنا، یا 2023 کی لانگ مارچ جو ایک مہینے سے زائد عرصہ اسلام آباد میں جاری رہی یا وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کا بھوک ہڑتالی کیمپ بھی ہے جسے آج5938 دن مکمل ہوچکے ہیں۔ بلوچوں نے پرامن احتجاج اور سیاسی جدوجہد کے ذریعے اپنے مطالبات اٹھائے ہیں۔ شاید ہی پاکستان کی کسی اور قوم نے اتنی مسلسل اور وسیع پیمانے پر اپنے احتجاجات کو ریکارڈ کرایا ہو۔اس کے باوجود ہم پر الزام لگایا جاتا ہے کہ ہم سیاسی لوگ نہیں، ہمارے مسائل حقیقی نہیں، یا ہم بات چیت اور مذاکرات پر یقین نہیں رکھتے۔ ان احتجاجوں کے دوران مظاہرین نے رکاوٹیں، اذیتیں، بارشیں، سردیاں، گرمیاں، کھلے آسمان تلے دن رات بیٹھنے کی مشقت، کریک ڈاؤن، شیلنگ اور گرفتاریوں سمیت ہر طرح کی مشکلات برداشت کیں، لیکن اپنے مطالبات پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔ کئی بار چند حکومتی نمائندے بھیج کر جھوٹے مذاکرات اور وعدے کیے گئے جو کبھی پورے نہ ہوئے، اور کبھی کریک ڈاؤن کیا یا پھر یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ ہمارے احتجاج اور مطالبات کسی کے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتے، یہ پالیسی اختیار کی گئی کہ مظاہرین کو سنا ہی نہ جائے تاکہ وہ تھک کر مایوس ہو کر واپس لوٹ جائیں، گویا اس رویے سے اس احساس کو مزید گہرا کیا جائے کہ بلوچ کا ریاست پاکستان سے انصاف کا مطالبہ کرنا محض فضول ہے۔ لیکن جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ مظاہرین، جن میں لاپتہ افراد کی مائیں اور عزیز شامل ہیں، آخرکار تھک جائیں گے مایوس ہونگے ، وہ جہالت اور denial دونوں میں مبتلا ہیں کیونکہ وہ یہ نہیں جانتے کہ یہ وہ لواحقین ہیں جو پچھلے بیس پچیس برس سے اپنے گمشدہ پیاروں کی جبری گمشدگی انتہائی اذیت ناک درد کو جھیل رہے ہیں، وہ قوم جو مستقل ریاستی جبر کا سامنا کررہی ہے، جو روزانہ اس کرب کو اس جبر کو محسوس کرتے ہیں۔وہ کیسے تھکیں گے مایوس ہونگے یا احتجاج کرنا چھوڑ دینگے؟ یہ احتجاج صرف سیاسی مطالبہ نہیں بلکہ اُس مسلسل درد کا زندہ ثبوت ہیں جو بلوچ قوم اور گمشدہ افراد کے خاندان ہر روز سہتے ہیں۔ اسلام آباد میں دو مہینے سے جاری موجودہ احتجاج کے بارے میں بھی ریاست نے یہی حکمت عملی اپنائی ہے کہ یہ خاندان تھک جائیں گے، مایوس ہو کر واپس لوٹ جائیں گے، یا ان کے وجود کو نظرانداز کر کے انہیں Invisible اور Non existent بنا دیا جائے گا، لیکن یہ سوچ خام خیالی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ حکومتی رویہ ہر دور میں ہمیشہ سے انتہائی مایوس کن رہا ہے۔ اگر ریاست کے بار بار مایوس کرانے کی پاکیسیوں کے باوجود ہر بار یہ خاندان احتجاج پر ڈٹے ہیں، تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ ریاست سے پرامید ہیں بلکہ یہ احتجاج اُس درد، اُس ناانصافی اور اُس جبر کو دنیا کے سامنے لانے کا ذریعہ ہیں۔ یہ احتجاج دکھ و تکلیف کے اظہار کا وسیلہ ہیں۔ ان خاندانوں کے لیے یہ احتجاج امید کا نہیں بلکہ مزاحمت کا عمل ہے، ریاستی جبر کے انکار کا عمل، اس جبر کو تسلیم نہ کرنے کا اعلان ہیں کہ جب تک ریاستی جبر جاری رہے گا، یہ مزاحمت احتجاجوں کی شکل میں بھی جاری رہیں گے۔ یہ احتجاج صرف مظاہرے نہیں ہیں یہ مزاحمت ہیں۔ #ReleaseBYCLeaders

Sammi Deen Baloch

17,667 views • 11 months ago