Video yükleniyor...

Video Yüklenemedi

Ana Sayfaya Dön

ایک بہن کے سامنے اس کے بھائی پر بدترین تشدد کیا گیا۔ چیخیں تھیں، فریاد تھی،،لیکن سننے والا کوئی نہیں تھا۔تین دن تک اس بچی کو،،بغیر ایف آئی آر،مردوں کے تھانے میں رکھا گیا۔ یہ سوال ہے ہمارے نظام پر ہمارے انصاف پر اور ہماری انسانیت پر۔

58,835 görüntüleme • 4 ay önce •via X (Twitter)

0 Yorum

Yorum bulunmuyor

Orijinal gönderinin yorumları burada görünecek

Benzer Videolar

کل خواجہ آصف صاحب نے میرے حوالے سے ایک بات کی تھی۔ میں صرف خواجہ آصف سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ جب آپ کے ضمیر پر اتنا بوجھ تھا تو آپ صرف اتنا بتا دیں کہ 8 فروری کے الیکشن کے حوالے سے آپ کے ضمیر پر بوجھ نہیں ہے؟ کیا یہ الیکشن آپ جیت چکے ہیں؟ جس طرح 8 فروری کے الیکشن کو رِگ کیا گیا، جس طرح الیکشن لوٹا گیا، جس طرح ہمارے لوگوں کو بٹھایا گیا، یہاں اسمبلی میں ہمارے 100 تک اراکین تھے، انہیں نااہل کرکے دوسرے لوگوں کو لایا گیا، عدالتوں کو منیج کیا گیا، الیکشن کمیشن کو منیج کیا گیا۔ ہمارے لوگوں کو اسمبلی سے نکالا گیا اور جعلی لوگوں کو لایا گیا۔ کیا اس وقت آپ کے ضمیر پر بوجھ نہیں تھا؟ آپ کے اپنے ضلع کی ریحانہ ڈار کو پولیس نے سڑکوں پر گھسیٹا، اس وقت آپ کے ضمیر پر بوجھ نہیں تھا؟ گلگت بلتستان میں جو کچھ کیا گیا، کیا اس پر بھی آپ کے ضمیر پر بوجھ نہیں ہے؟ اگر ضمیر کا بوجھ ہلکا کرنا ہے تو استعفیٰ دیں اور الیکشن کروا دیں، پھر پتہ چل جائے گا کہ آپ کی کیا حیثیت ہے۔

Asad Qaiser

48,217 görüntüleme • 2 ay önce

ماورائے عدالت قتل۔۔۔ شہید حمدان کی بہن “یہ تصویر جو آپ میرے ہاتھ میں دیکھ رہے ہیں، یہ میرے بھائی شہید حمدان کی ہے، جسے 29 دسمبر 2025 کو گھر سے لاپتہ کیا گیا، اور تقریباً ایک ہفتے بعد اس پر جھوٹے الزامات لگا کر میڈیا میں پیش کیا گیا۔ اس کے بعد میرے بھائی کو تین مرتبہ عدالت میں بھی پیش کیا گیا، لیکن وہ ہر بار کوئی ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہے۔ اسی ناکامی کو چھپانے کے لیے، اگلی پیشی کی تاریخ سے ایک دن پہلے، میرے بھائی حمدان اور دیگر تین بلوچ نوجوانوں کو اپنی کسٹڈی میں تشدد کرکے ماورائے عدالت قتل کیا گیا، اور پھر اسے مقابلے کا نام دیا گیا۔ اگر یہ مقابلہ تھا تو اس میں صرف بلوچ نوجوان ہی کیوں مارے گئے؟ آپ کے اہلکاروں کا ایک بندہ تک کیوں نہیں مرا؟ اور پھر اسی طرح، بنا ثبوت اور ناانصافی پر مبنی فیصلے کے تحت ڈاکٹر ماہ رنگ اور ان کی دیگر ساتھیوں کو آپ کی عدالت نے عمر قید سنائی ہے۔ میرا یہ ویڈیو بنانے کا مقصد یہ ہے کہ سرفراز بگٹی صاحب کہتے ہیں کہ اہلکار شبیر بلوچ کے لواحقین کے ساتھ انصاف ہوا ہے۔ اگر ایک واقعے پر مکمل طور پر ردِعمل آ سکتا ہے، اگر لوگوں کو سزائیں سنائی جا سکتی ہیں، تو پھر ہمارے بھائی حمدان بلوچ کے معاملے میں خاموشی کیوں ہے؟ کیوں ہمارے بھائی کے کیس کو دبانے کی کوشش کی جاتی ہے؟ اگر آپ کی عدالت بے گناہ لوگوں کو عمر قید کی سزا سنا سکتی ہے، تو اُن سی ٹی ڈی اہلکاروں کی کیا سزا ہونی چاہیے جنہوں نے بلوچ نوجوانوں کو اپنی کسٹڈی میں تشدد کرکے انہیں ماورائے عدالت قتل کیا؟ اگر بقولِ آپ کے شبیر کے لواحقین کو انصاف ملا ہے، تو حمدان بلوچ کے لواحقین کا انصاف کہاں ہے؟ اگر آپ انصاف کی بات کر رہے ہیں، تو ہمارے لیے آپ لوگوں کے منہ اور عدالتوں کے دروازے کیوں بند ہو جاتے ہیں؟ ہم بھی یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ ہمارے اہلِ خانہ کو انصاف دیا جائے اور ان سی ٹی ڈی اہلکاروں کو سخت سے سخت سزا دی جائے۔ اگر ان کو سزا نہیں دی گئی تو یہ آنے والی نسلوں کے لیے خطرہ ہے۔ اسی لیے ہمارے خاندان کو انصاف دیا جائے۔”

Baloch Yakjehti Committee

13,648 görüntüleme • 1 ay önce

پرسوں وادی تیراہ کے متاثرین کی تقریباً سات سو گاڑیاں برف میں پھنس چکی تھیں۔ دو صوبائی وزراء شفیع جان اور مینا خان کے ہمراہ میں خود رات گیارہ بجے وادی تیراہ پہنچا، وہاں متاثرین کو کھانا فراہم کیا گیا اور فوری ریسکیو آپریشن کے ذریعے ان لوگوں کو بحفاظت وہاں سے نکالا گیا۔ یہ کوئی احسان نہیں تھا، یہ ہماری ذمہ داری ہے کیونکہ ہم اپنے لوگوں کو تنہا نہیں چھوڑ سکتے۔ لیکن آج ایک تلخ سوال ہمارے سامنے کھڑا ہے کہ وفاقی حکومت ہمارے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کیوں کر رہی ہے؟ کیا وادی تیراہ کے لوگوں نے اس ملک کے لیے قربانیاں نہیں دیں؟ کیا ہم نے برسوں تک بغیر کسی تنخواہ کے اس سرحد کی حفاظت نہیں کی؟ کیا ہم نے اپنے گھروں، اپنے سکون اور اپنی جانوں کی قربانی اس وطن پر نچھاور نہیں کی؟ پھر آخر کیوں آج ہمیں اس حال پر چھوڑ دیا گیا ہے؟ ہم صرف انصاف مانگتے ہیں، عزت مانگتے ہیں، اور وادی تیراہ کے عوام کے لیے وہ حق مانگتے ہیں جس کے وہ برسوں سے حقدار ہیں۔ ایم پی اے عبدالغنی آفریدی

Abdul Ghani Afridi

18,342 görüntüleme • 7 ay önce