Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

ایک جیل میں چلا گیا دوسرا جہنم واصل ہو گیا پی ٹی آئی نے اپنے کارکن کو اپنا ماننے سے ہی انکار کر دیا یہ ان تمام کارکنان کے لئے پیغام ہے جو جہالت کے قطب مینار بنے ہوئے ہیں سبق ہے اب چاہے حاصل کرو یا جاہل بنے...

11,277 Aufrufe • vor 22 Tagen •via X (Twitter)

0 Kommentare

Keine Kommentare verfügbar

Kommentare vom Original-Post werden hier angezeigt

Ähnliche Videos

حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے اس نوٹ میں کہا گیا ہے کہ عمران خان کو ایک ایسے احاطے میں رکھا گیا ہے جس میں سات کمرے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ یہ سات کمرے کس مقصد کے لیے ہیں؟ یہ سات کمرے انہیں جیل کے دیگر قیدیوں سے الگ تھلگ رکھنے کے لیے ہیں۔ یعنی بنیادی طور پر ان کے اردگرد خالی کمروں کا ایک حصار بنا دیا گیا ہے تاکہ وہ جیل کے اندر کسی دوسرے شخص سے رابطہ نہ کر سکیں۔ وہ خود صرف ایک کمرے میں رہ رہے ہیں، جس کا سائز آٹھ فٹ ضرب دس فٹ ہے، اور ان کے پاس بس یہی جگہ ہے۔ اب انہوں نے سلمان صفدر اور ان لوگوں کو، جنہوں نے حال ہی میں ان سے ملاقات کی ہے، بتایا ہے کہ ان کی قید کے حالات مزید خراب کر دیے گئے ہیں۔ 18 اگست 2026 کے بعد بہنوں کے ساتھ ہونے والی تین ملاقاتوں کے دوران بھی یہی بات سامنے آئی۔ جیل میں ایک قیدی کو عام طور پر طلوعِ آفتاب سے غروبِ آفتاب تک اپنی کوٹھڑی سے باہر رہنے کی اجازت ہوتی ہے،عمران خان کو یہ اجازت نہیں دی جاتی۔ انہیں جیل کے احاطے میں چلنے پھرنے کا وہ معمول کا حق بھی نہیں دیا جاتا جو ایک قیدی کو حاصل ہوتا ہے۔ لہٰذا انہیں ان سات کمروں تک محدود کر دیا گیا ہے، اور یہ سات کمرے درحقیقت ان کے لیے ایک بڑی کوٹھڑی کا کام کر رہے ہیں، جس کا مقصد انہیں اڈیالہ جیل کے دیگر قیدیوں سے الگ تھلگ رکھنا ہے۔ اس سے ان کی تنہائی مزید گہری ہو جاتی ہے۔یہ انہیں دی جانے والی کوئی سہولت نہیں ہے۔حقیقت میں یہ ان پر عائد کی جانے والی ایک مزید غیر قانونی سزا ہے۔ سلمان اکرم راجہ

PTI

136,775 Aufrufe • vor 3 Tagen

چئیرمین پی ٹی آئی کا اکاؤنٹ ان کی گرفتاری کے بعد بھی مسلسل استعمال میں ہے، یہ بات قابل تشویش ہے کہ ان کی غیر موجودگی میں کون ان کے ٹویٹر اکاؤنٹ کو چلا رہا ہے، چئیرمین پی ٹی آئی کے اکاؤنٹ سے ملک دشمن پروپیگنڈے کا کام جاری ہے۔ چئیرمین پی ٹی آئی کا ٹویٹر اکاؤنٹ مسلسل ایک منظم منفی پروپیگنڈے کے تحت جعلی خبریں پھیلانے میں مصروف ہے جبکہ ان جعلی خبروں کا ٹارگٹ فوج اور اداروں کو بدنام کرنا اور چئیرمین پی ٹی آئی کی رہائی ہے۔ چئیرمین پی ٹی آئی کے اکاؤنٹ سے کی جانے والی جعلی خبروں مثالیں متعدد خبریں ہیں جیسا کہ چئیرمین پی ٹی آئی نے متعدد بار 9 مئی کے واقعات کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے لکھا کہ 9 مئی دراصل چئیرمین پی ٹی آئی اور ان کی پارٹی کو ختم کرنے کے لئے منظم کریک ڈاؤن ہے جو انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ٹویٹ میں ایک جعلی ویڈیو دکھائی گئی جس میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی کہ 9 مئی دراصل پی ٹی آئی کے خلاف ایک پروپیگنڈا تھا جو ملکی اداروں نے پی ٹی آئی کو سبوتاژ کرنے کے لئے کیا۔ 9 مئی کے واقعات کی پوری مانیٹرینگ اور ہدایات چئیرمین پی ٹی آئی کے ٹویٹر اکاؤنٹ سے جاری تھیں جبکہ دوسری جانب چئیرمین پی ٹی آئی نے بارہا 9 مئی کے واقعات میں آئی ایس آئی اور بیرونی قوتوں کے ملوث کونے کا کھلا الزام لگایا ہے اور اس بات کی تردید کی کہ پی ٹی آئی کے کارکنان ملوث ہیں۔ جناح ہاؤس لاہور پر حملے کے دوران بھی ویڈیوز میں یہ دیکھا گیا کہ ایک شخض بڑھ چڑھ کر فوج اور اداروں کے خلاف بکواس کرتے ہوئے انہیں دہشتگردی پر اکساتا رہا، چیئرمین پی ٹی آئی کے اکاؤنٹ سے دعویٰ کیا گیا کہ یہ بندہ آئی ایس آئی کا ایجنٹ ہے جو بعد ازاں عمران محبوب کے نام سے ظاہر ہوا اور پی ٹی آئی کا سرگرم کارکن نکلا۔ چئیرمین پی ٹی آئی ایک طرف نہایت دیدہ دلیری سے یہ دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ ان کا 9 مئی کی دہشتگردی سے کوئی تعلق نہیں، ان کی جماعت ہمیشہ پرامن احتجاج کرتی ہے، جبکہ دوسری جانب ویڈیو آڈیو شواہد سامنے آنے کے بعد یہ واضح ہو گیا کہ یہ سب پلاننگ زمان پارک میں چئیرمین پی ٹی آئی کی زیر نگرانی ہوئی اور سب غنڈے چئیرمین پی ٹی آئی کے تیار کردہ تھے، اداروں بالخصوص آئی ایس آئی پر چئیرمین پی ٹی آئی کی جانب سے لگائے گئے الزامات سراسر غلط اور منفی پروپیگنڈگ کی عکاسی کرتے ہیں۔ تشویش ناک امر یہ ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی کے ٹویٹر اکاؤنٹ سے روزانہ کی بنیاد پر جھوٹے اور بے بنیاد پروپیگنڈوں کا سلسلہ جاری ہے، ایک بندہ جیل میں ہے تو اس کا اکاؤنٹ کون چلا رہا ہے، ایف آئی اے کو چائیے کہ وہ فوری تحقیقات عمل میں لاتے ہوئے چئیرمین پی ٹی آئی کے ٹویٹر اکاؤنٹ کا محاسبہ کرے اور ملک میں انارکی کی فضا کو ہوا دینے والوں کے خلاف سخت ایکشن لے۔

Architect Jalal Sherazi

35,531 Aufrufe • vor 2 Jahren

کے پی کے ہاؤس اسلام آباد عالمی میڈیا سے عمران خان کے عدالتی فیصلوں اور ان کی صحت سے متعلق گفتگو حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے اس نوٹ میں کہا گیا ہے کہ عمران خان کو ایک ایسے احاطے میں رکھا گیا ہے جس میں سات کمرے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ یہ سات کمرے کس مقصد کے لیے ہیں؟ یہ سات کمرے انہیں جیل کے دیگر قیدیوں سے الگ تھلگ رکھنے کے لیے ہیں۔ یعنی بنیادی طور پر ان کے اردگرد خالی کمروں کا ایک حصار بنا دیا گیا ہے تاکہ وہ جیل کے اندر کسی دوسرے شخص سے رابطہ نہ کر سکیں۔ وہ خود صرف ایک کمرے میں رہ رہے ہیں، جس کا سائز آٹھ فٹ ضرب دس فٹ ہے، اور ان کے پاس بس یہی جگہ ہے۔ اب انہوں نے سلمان صفدر اور ان لوگوں کو، جنہوں نے حال ہی میں ان سے ملاقات کی ہے، بتایا ہے کہ ان کی قید کے حالات مزید خراب کر دیے گئے ہیں۔ 18 اگست 2026 کے بعد بہنوں کے ساتھ ہونے والی تین ملاقاتوں کے دوران بھی یہی بات سامنے آئی۔ جیل میں ایک قیدی کو عام طور پر طلوعِ آفتاب سے غروبِ آفتاب تک اپنی کوٹھڑی سے باہر رہنے کی اجازت ہوتی ہے،عمران خان کو یہ اجازت نہیں دی جاتی۔ انہیں جیل کے احاطے میں چلنے پھرنے کا وہ معمول کا حق بھی نہیں دیا جاتا جو ایک قیدی کو حاصل ہوتا ہے۔ لہٰذا انہیں ان سات کمروں تک محدود کر دیا گیا ہے، اور یہ سات کمرے درحقیقت ان کے لیے ایک بڑی کوٹھڑی کا کام کر رہے ہیں، جس کا مقصد انہیں اڈیالہ جیل کے دیگر قیدیوں سے الگ تھلگ رکھنا ہے۔ اس سے ان کی تنہائی مزید گہری ہو جاتی ہے۔یہ انہیں دی جانے والی کوئی سہولت نہیں ہے۔حقیقت میں یہ ان پر عائد کی جانے والی ایک مزید غیر قانونی سزا ہے۔ سلمان اکرم راجہ

𝐼𝓂𝓇𝒶𝓃 𝐿𝒶𝓁𝒾𝓀𝒶

11,572 Aufrufe • vor 3 Tagen

"عمران خان نے کہا رہا ہونے کے بعد اکبر ایس بابر کے گھر جاؤں گا ایک تو یہ بات اب کی نہیں کچھ عرصہ قبل کی ہے پی ٹی آئی کے ایک بڑے مخلص ورکر ہیں جو اس وقت جیل میں تھے ان سے عمران خان نے یہ بات کی تھی وہ ضمانت پر رہا ہو کر باہر آئے تو مجھے بتائی وہ عمران کے بہت قریب ہیں ابھی بھی پی ٹی آئی میں ہیں " اکبر ایس بابر میرا سوال یہ ہے کہ 1. سیل میں کسی قیدی کی ملاقات عمران خان سے نہیں ہو سکتی 2. جیل عدالت میں شریک ملزمان اگر عمران خان کے ساتھ کسی کیس میں ہوں ان میں ہی ہو سکتی ہے وہ صرف ایک نو مئی کا کیس جہاں شریک ملزمان کی لسٹ طویل ہے 3. جی ایچ کیو کیس کی جیل سماعت ہوئے تقریبا ایک سال گزر چکا ہے 4. جی ایچ کیو جیل سماعتوں میں ملزمان پی ٹی آئی لیڈرز بہت زیادہ ہونے کی وجہ سے الگ تھلگ ملاقات کسی کی ممکن نہیں صرف بعض اوقات ایک آدھ لیڈر ہو سکتا ہے جس کو عمران خان الگ لے جا کر پارٹی کے لئے پیغام دیتے رہے ہیں بہرحال اس خبر کا ڈائریکٹ سورس اکبر ایس بابر خود ہیں باقی نام کسی کا آئے گا تو اس سے بھی تصدیق کرکے ہی مزید بات ہو سکتی ہے

Saqib Bashir

91,831 Aufrufe • vor 20 Tagen