Loading video...

Video Failed to Load

Go Home

ایک دماغ جو عاصم منیر کے استاد تھے جن کا نواز شریف اور عاصم منیر کا گٹھ جوڑ بنانے میں بڑا کردار تھا لندن معاہدے میں بھی ان کا ہاتھ تھاعرفان صدیقی27ویں ترمیم کے لیے تگ و دو کر رہے تھے لیکن انہیں دیکھنا نصیب نہ ہوا فیلڈ مارشل...

48,904 views • 9 months ago •via X (Twitter)

0 Comments

No comments available

Comments from the original post will appear here

Related Videos

شفیع جان کے شہباز گل پر ایک مرتبہ پھر الزامات شفیع جان نے دعویٰ کیا کہ شہباز گل نے فیصل آباد سے دو حلقوں کے لیے ٹکٹ کا اپلائی کیا تھا اور ان دنوں عمران خان انٹرویوز بھی کر رہے تھے حقیقت یہ ہے جن دنوں عمران خان انٹرویوز کر رہے تھے شہباز گل ان دنوں امریکہ میں تھے انہوں نے کوئی انٹرویو نہیں دیا، جس دن اپریل 2023 کو ٹکٹ اناونس ہوئیں اس دن نیویارک میں خورشید بھلی جن کے بھائی کو سیالکوٹ سے ٹکٹ بھی ملی تھی اس دن ہم نیویارک میں ان کے گھر تھے میں بھی وہاں موجود تھا شفیع جان نے ایک مرتبہ پھر من گھڑت الزامات لگاۓ حالانکہ سہیل آفریدی نے لاہور کے ایک بہت معتبر صحافی کے زریعے پیغام رسائی کر کے اس سارے معاملے کو ختم کروانے کا کہا تھا اس کے علاوہ ایک اور PTI کے سنیر ترین لیڈر نے بھی اس معاملے میں اہم کردار ادا کیا اور تمام اطراف سے خاموشی کی درخواست کی تھی اور تھوڑی دیر پہلے جب ان سے بات ہوئی تو ان کا خیال تھا کہ اب یہ لوگ کوئی شیطانی نہیں کریں گے

Waqar khan

14,948 views • 13 days ago

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان بہترین ورکنگ ریلیشن شپ اور کوآرڈینیشن ہے، تاہم ملک کے مستقبل، انتظامی یونٹس، این ایف سی اور وفاق و صوبوں کے اختیارات جیسے معاملات پر اصلاحات زیرِ بحث ہیں۔ محسن نقوی کی تقریر میں نوجوانوں کی مایوسی، خصوصاً ووٹ کے درست استعمال کے احساس، کا ذکر ہے جبکہ رانا ثناء اللہ نے حکومت کا مؤقف پیش کرتے ہوئے الزام تراشی کے بجائے نظام کے اندر ذمہ داری لینے پر زور دیا۔ محسن نقوی ایک کامیاب کاروباری شخصیت، میڈیا سے وابستہ اور اسٹیبلشمنٹ، شہباز شریف، نواز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے قریب ہیں ،فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تعیناتی کے وقت وہ بھی متحرک تھے، جبکہ نواز شریف کو قائل کرنے میں مریم نواز کا اہم کردار تھا، اور مقتدرہ آج بھی سمجھتی ہے کہ نواز شریف کے ساتھ زیادتی ہوئی۔ حکومت گرانے کا کوئی فارمولا موجود نہیں، البتہ این ایف سی، انتظامی یونٹس اور دیگر نامکمل اصلاحاتی ایجنڈوں پر اتفاقِ رائے ہو چکا ہے، جنہیں مناسب وقت پر نافذ کرنے کی تیاری مکمل ہے۔ منیب فاروق

میاں عامر 🦁

36,299 views • 23 days ago