Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

ایک نومولود کو صوبے کے سب سے بڑے ہسپتال لیڈی ریڈنگ میں "نیبولائزر" تک میسر نہیں شہری نے اپنا مقدمہ اللہ پر چھوڑ دیا ہنگامہ آرائی کے بعد انتظامیہ جاگی اور بچے کا علاج کیا لیکن سوال یہ بنتا ہے کہ کیا علاج کی بنیادی سہولت کیلئے ہنگامہ آرائی...

27,762 Aufrufe • vor 9 Monaten •via X (Twitter)

0 Kommentare

Keine Kommentare verfügbar

Kommentare vom Original-Post werden hier angezeigt

Ähnliche Videos

وزیرِ قانون کو واضح جواب ہے کہ عدالت کے حکم پر عملدرآمد کروائیں۔ اب یہ کہا جا رہا ہے کہ علاج صرف سرکاری ہسپتال میں ہونا چاہیے اور پرائیویٹ ہسپتال میں نہیں ہو سکتا۔ تو پھر لندن میں نواز شریف کا علاج جس ہسپتال میں ہوا، کیا وہ سرکاری ہسپتال تھا؟ ، ان کی مرضی کے ڈاکٹرز نے علاج کیا، کیا وہ سب کچھ اس وقت جائز تھا؟ ہم نہ کوئی ڈیل مانگ رہے ہیں، نہ ڈھیل مانگ رہے ہیں، نہ کسی قسم کا این آر او چاہتے ہیں اور نہ ہی ملک سے بھاگنے والے ہیں،یہ ان کا بنیادی حق ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ عدالت کا حکم جاری ہو چکا ہے۔ آج سپریم کورٹ نے عمران خان صاحب کو شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کی ہدایت کی ہے۔ جو فیصلہ آپ کے حق میں آئے، وہ آپ کو درست لگتا ہے، لیکن جو فیصلہ انصاف پر مبنی ہو اور آپ کے خلاف ہو، اسے ماننے سے انکار کر دیا جائے—یہ طرزِ عمل قابلِ قبول نہیں۔ میں معزز عدلیہ سے مؤدبانہ گزارش کرتا ہوں کہ اپنے فیصلے پر فوری اور مکمل عملدرآمد یقینی بنائیں۔ اگر متعلقہ حکام عدالتی حکم پر عملدرآمد نہیں کرتے تو عدالت اپنے احکامات کی خلاف ورزی کا نوٹس لے اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی کرے۔ یہ کوئی سیاسی معاملہ نہیں، یہ ایک انسان کی صحت اور زندگی کا معاملہ ہے۔ عمران خان صاحب کو عدالتی حکم کے مطابق فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور انہیں وہ طبی سہولیات فراہم کی جائیں جن کا عدالت نے حکم دیا ہے۔

Naeem Haider Panjutha

40,946 Aufrufe • vor 1 Monat

انسانی ہمدردی کی بنیاد پر 10 روزہ افغان بچے کو والدین کے ہمراہ طورخم کے راستے پاکستان میں داخلے کی اجازت کے مثبت نتائج، کامیاب علاج کے بعد بچے کی صحت بحال بچے کا علاج فرنٹیئر کور خیبر پختونخوا نارتھ کے ہسپتال میں جاری ہے 2 اگست 2026 کو افغانستان کے شہر جلال آباد سے تعلق رکھنے والے ایک خاندان کے 10 روزہ بیمار بچے کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر علاج کی غرض سے والدین کے ہمراہ طورخم بارڈر کے ذریعے پاکستان میں داخلے کی اجازت دی گئی۔ پاکستان پہنچنے پر بچے کا علاج اور خصوصی نگہداشت ایف سی ہسپتال حیات آباد میں کیا گیا ۔ ماہر ڈاکٹرز کی مسلسل نگرانی میں بچے کا علاج کیا گیا، جس کے نتیجے میں اس کی صحت بحال ہوگئی۔ یہ اقدام خالصتاً انسانی ہمدردی کے جذبے کے تحت کیا گیا تاکہ نومولود بچے کو بروقت اور معیاری طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں اور اس کی جان بچائی جا سکے۔ پاکستان نے ہمیشہ انسانی جانوں کے تحفظ اور مشکل حالات میں انسانیت کی خدمت کی روایت کو برقرار رکھا ہے، اور بلاامتیاز ضرورت مند افراد کو طبی امداد اور دیگر ضروری سہولیات فراہم کرنے کے اپنے عزم کا ایک بار پھر اعادہ کیا ہے۔

Eagle Eye

11,053 Aufrufe • vor 1 Monat

لاڑکانہ: پیپلزپارٹی کا گھر ۔ دعووں کی ترقی اور سسکتی انسانیت لاڑکانہ میں مبینہ طور پر ایمبولینس کی سہولت میسر نہ آنے پر ایک زخمی خاتون کو جس انداز میں گاڑی میں بھینس کے ساتھ لایا گیا، وہ محض ایک تصویر نہیں بلکہ سندھ کے صحت کے نظام پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ اربوں روپے کے بجٹ، بلند و بانگ دعوے اور سالہا سال سے اقتدار میں موجود حکومت کے باوجود اگر ایک زخمی انسان کو بروقت طبی امداد تک پہنچانے کے لیے بنیادی سہولت بھی میسر نہ ہو تو سوال صرف انتظامیہ سے نہیں، پورے نظامِ حکمرانی سے بنتا ہے۔ یہ منظر سندھ کے اُن عام شہریوں کی سسکیاں بیان کرتا ہے جو ٹیکس دیتے ہیں، ووٹ دیتے ہیں، مگر بدلے میں علاج، ایمبولینس اور عزتِ نفس جیسی بنیادی سہولیات کے لیے بھی دربدر ہوتے ہیں۔ کرپشن کے الزامات اپنی جگہ، مگر سب سے بڑا احتساب یہ ہے کہ عوام کے لیے مختص وسائل آخر عوام تک کیوں نہیں پہنچتے؟ لاڑکانہ صرف ایک شہر نہیں، ایک سیاسی تاریخ کا مرکز ہے۔ پھر بھی اگر یہاں ایک زخمی خاتون کو اس حالت میں ہسپتال پہنچانا پڑے تو یہ سوال ضرور پوچھا جانا چاہیے: آخر سندھ کے عوام کو مزید کتنی سسکیاں، کتنے حادثات اور کتنے ایسے مناظر دیکھنے ہوں گے، تب حکمرانوں کو صحت کے نظام کی حقیقی حالت نظر آئے گی؟ — ایک کالم نگار و دانشور کی نظر میں

Muhammad Arif

11,316 Aufrufe • vor 16 Tagen

اس وقت ہم پارلیمنٹ کے سامنے کھڑے ہیں۔ کل سے ہم نے یہاں دھرنا دیا ہوا ہے۔ ہمارے ساتھ سینیٹرز اور ایم این ایز ہیں، خاص طور پر قائدِ حزبِ اختلاف سینیٹ اور قومی اسمبلی موجود ہیں، اور میں خود اس ہاؤس کا اسپیکر رہا ہوں۔ عمران خان کو علاج معالجے کے لیے ہسپتال منتقل کرنا کوئی بڑی بات نہیں ہے۔ ہمارا مطالبہ بہت سادہ ہے کہ عمران خان کو علاج معالجے کی سہولت دی جائے اور اسے ہسپتال منتقل کیا جائے۔ یہ اس کا قانونی حق ہے اور جیل مینول اور رولز کے مطابق ہے۔عمران خان اس ملک کے سابق وزیرِ اعظم اور قومی ہیرو ہیں، اس سب کے باوجود ان کے ساتھ یہ رویہ رکھا جا رہا ہے۔ ہم نے پُرامن طریقے سے یہاں دھرنا دیا ہوا ہے۔ یہ پارلیمنٹ ہے، 25 کروڑ عوام کا نمائندہ ہاؤس ہے، اور اسے تالے لگائے گئے ہیں۔ یہاں کھانا پینا بند کیا گیا ہے، کربلا کا سماں پیدا کیا گیا ہے۔ اگر ان کا خیال ہے کہ اس سے ہم ڈر جائیں گے تو ہم واضح کرتے ہیں کہ جب تک عمران خان کو ہسپتال منتقل نہیں کیا جاتا اور ہمیں تسلی نہیں دی جاتی، ہم دھرنا ختم نہیں کریں گے۔ یہ ہمارا قانونی حق ہے۔ ہم سیاسی درجۂ حرارت کو کم کرنا چاہتے ہیں، یہ حکومت کی ذمہ داری ہے۔ بلوچستان اور ہمارے صوبے میں جو صورتِ حال ہے، اسلام آباد میں جو ہوا، لیکن اس سب کے باوجود حکومت ہوش کے ناخن نہیں لے رہی ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ جلد از جلد عمران خان کو ہسپتال منتقل کیا جائے۔

Asad Qaiser

22,137 Aufrufe • vor 7 Monaten

بحریہ ٹاون فیز 7 میں واقع #WestMinisterSchool میں کل دو سے تین گھنٹے گزار کے آیا، اسکول میں 5 سالہ بچی سے مبینہ ہراسانی کے واقعہ پر اسکول انتظامیہ نے تمام والدین کو میٹنگ کیلئے بلایا تھا، اسکول انتظامیہ نے مخصوص بلاک کی CCTV فوٹیج دکھانے کا انتظام کیا تھا لیکن متاثرہ بچی کے والدین نے اعتراض کیا اور ساری فوٹیج کو Publicly دکھانے سے منع کیا، والدین کا موقف تھا یہ فوٹیج وہ انفرادی طور پر دیکھنا چاہتے ہیں، اسکول انتظامیہ اور موقع پر موجود والدین نے متاثرہ بچی کے والدین سے اتفاق کیا، جبکہ اسکول انتظامیہ کو موقف تھا فوٹیج میں کوئی قابل اعتراض مواد نہیں، خیر متاثرہ بچی کے والدین کو فوٹیج دکھانے کیلئے الگ انتظام کیا گیا، میٹنگ کے دوران اسکول انتظامیہ نے والدین کو بریفنگ دی اور اب تک کی انکوائری سے متعلق آگاہ کیا، والدین اسکول انتظامیہ کی بریفنگ سے مطمئن نہیں ہوئے، بلکہ متاثرہ بچی کی والدہ نے اسٹیج پر جاکر اسکول انتظامیہ کے رویہ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسکول انتظامیہ والدین کو آدھا سچ اور آدھا جھوٹ بتارہے ہیں، میٹنگ کے بعد والدین اور کچھ بچوں سے بات ہوئی سب کا اتفاق تھا کہ اسکول انتظامیہ ضرور کچھ چھپا رہی ہے، اسکول انتظامیہ کے ایک افسر سے بھی بات ہوئی انکے مطابق اسکول میں ایسا کوئی وقوعہ پیش ہی نہیں آیا ہے یہ سب اسکول کو بدنام کرنے کی کوشش ہے، تقریبا تمام والدین پریشان تھے اور اس واقعہ کی شفاف انکوائری تک بچوں کو اسکول بھیجنے کیلئے راضی نہیں تھے، کچھ والدین کا کہنا تھا یہ صورتحال انکے لئے مسلسل پریشانی کا باعث بن رہی ہے، اسکول انتظامیہ کی بریفنگ سے غیر مطمئن ہوکر اب والدین نے 20 رکنی کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا ہے، جس میں اسکول انتظامیہ کا کوئی بندہ شامل نہیں ہوگا، یہ کمیٹی اپنے طور اس معاملے کی تحقیقات کرائے گا، اسکول انتظامیہ کے خلاف قانونی راستہ اختیار کرنا پڑا تو وہ بھی کیا جائے گا، متاثرہ بچی کے والدین فی الحال میڈیا سے دور رہنا چاہتے ہیں اور قانونی کاروائی کیلئے بھی سوچ بچار کررہے ہیں، کچھ دوستوں کے بچے یہاں پڑھتے ہیں انہوں نے بتایا معاملہ serious ہے، والدین بچوں کو اب اس اسکول میں نہیں بھیجنا چاہتے۔

Shabbir Dar

44,569 Aufrufe • vor 8 Tagen

اللہ کا ماسٹر پلان کیا ہے؟ ہماری زندگی کا مقصد کیا ہے؟ کیا یہ سب کچھ اتفاقاً ہو رہا ہے؟ قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ یہ کائنات، یہ ستارے، یہ زمین کچھ بھی بیکار یا کھیل تماشے کے لیے پیدا نہیں کیا گیا،اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:اور ہم نے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے، کھیل تماشے کے لیے پیدا نہیں کیا اللہ کا ایک ماسٹر پلان ہے،جس کا مرکز آپ اور میں ہیں۔ ہم یہاں کیوں ہیں؟ ہم یہاں ایک بہت بڑے مقصد کے لیے ہیں،اللہ نے انسان کو زمین پر اپنا خلیفہ بنا کر بھیجا ہےیعنی ایک ایسا ذمہ دار، جسے اللہ نے عقل دی، شعور دیا اور سب سے بڑھ کر 'فری وِل' (اختیار) دیا تاکہ وہ اپنی مرضی سے سچ اور نیکی کا راستہ چن سکےہماری زندگی میں جو اتار چڑھاؤ آتے ہیں، جو دکھ اور تکلیفیں آتی ہیں، وہ اس ماسٹر پلان کا حصہ ہیں،یہ دنیا ایک ٹیسٹنگ گراؤنڈ (آزمائش گاہ) ہے،یہاں کا درد، یہاں کی خوشی، سب عارضی ہے،اصل مقصد یہ دیکھنا ہے کہ آپ ان حالات میں کیسا ردِعمل دیتے ہیں۔ قرآن کہتا ہے:اور میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا، یہاں عبادت کا مطلب صرف سجدہ کرنا نہیں، بلکہ اللہ کی معرفت حاصل کرنا اور اس کے بتائے ہوئے راستے پر چل کر اس دنیا کو بہتر بنانا ہے۔ تو جب بھی آپ کو لگے کہ زندگی بے مقصد ہے، تو یاد رکھیں کہ آپ اللہ کے ایک عظیم منصوبے کا حصہ ہیں، آپ کی تخلیق کوئی اتفاق نہیں ہے، آپ کو ایک مقصد کے لیے چنا گیا ہے

شبانہ شوکت

14,109 Aufrufe • vor 8 Monaten