Loading video...

Video Failed to Load

Go Home

ایک وکیل کا اپنے موکل سے ملاقات کرنا اس کا بنیادی حق ہے،اس کی آئین و قانون اجازت دیتا ہے، یہاں تک کہ اگر کوئی اپیل فائل ہو اس کے حوالے سے ہدایات لینی ہوں تو جیل میں بھی ملاقات کرسکتے ہیں یہ جیل مینوئل میں بھی شامل ہے۔...

25,294 views • 5 months ago •via X (Twitter)

0 Comments

No comments available

Comments from the original post will appear here

Related Videos

سلمان اکرم راجہ کا عمران خان سے ملاقات کرائے بغیر اُنکے ٹویٹر اکاؤنٹ پر پابندی کے کیس میں حتمی دلائل طلب کرنے پر سخت ردعمل عمران خان کے ٹویٹر اکاؤنٹ پر پابندی کے کیس میں اسلام اباد ہائیکورٹ (جسٹس ارباب محمد طاہر) نے میری بطور وکیل عمران خان سے ملاقات کرانے کا حکم دیا، میری ملاقات نہیں کرائی گئی، میں نے توہین عدالت کی درخواست دائر کی اور کہا کہ عدالت کے حکم کے باوجود میری عمران خان سے ملاقات نہیں ہو رہی، کوئی وکیل کیسے اپنے موکل سے ہدایات لیے بغیر جواب داخل کر سکتا ہے؟ کل کیس لگا تو جج صاحب نے توہینِ عدالت کو چھوڑ کر کہا کہ عمران خان سے ہدایات نہیں لے سکے پھر بھی کیس میں دلائل دیں، یہ صرف پاکستان نہیں، پوری دنیا کی عدالتی تاریخ بلکہ انسانی تاریخ کا یہ پہلا موقع ہے کہ عدالت یہ کہے کہ ایک شخص ایک مقدمے میں فریق ہے اور جو حکومت کے کنٹرول اور تحویل میں ہے جس سے ملاقات کرانا بالکل حکومت کا جیل انتظامیہ کا اختیار ہے اُس سے ہدایات لیے بغیر ہی کیس چلایا جائے، دس ہزار سال پیچھے چلے جائیں تب بھی ایسا واقعہ نہیں ملے گا کہ ایک شخص جو کال کوٹھڑی میں پڑا ہے اُس کیلئے ایک وکیل مقرر کر کے کہا جائے کہ اس سے ہدایات نہیں لے سکتے لیکن اس کے خلاف مقدمہ میں جواب اور دلائل دو، سلمان اکرم راجہ

𝐼𝓂𝓇𝒶𝓃 𝐿𝒶𝓁𝒾𝓀𝒶

15,083 views • 7 months ago

"عمران خان نے کہا رہا ہونے کے بعد اکبر ایس بابر کے گھر جاؤں گا ایک تو یہ بات اب کی نہیں کچھ عرصہ قبل کی ہے پی ٹی آئی کے ایک بڑے مخلص ورکر ہیں جو اس وقت جیل میں تھے ان سے عمران خان نے یہ بات کی تھی وہ ضمانت پر رہا ہو کر باہر آئے تو مجھے بتائی وہ عمران کے بہت قریب ہیں ابھی بھی پی ٹی آئی میں ہیں " اکبر ایس بابر میرا سوال یہ ہے کہ 1. سیل میں کسی قیدی کی ملاقات عمران خان سے نہیں ہو سکتی 2. جیل عدالت میں شریک ملزمان اگر عمران خان کے ساتھ کسی کیس میں ہوں ان میں ہی ہو سکتی ہے وہ صرف ایک نو مئی کا کیس جہاں شریک ملزمان کی لسٹ طویل ہے 3. جی ایچ کیو کیس کی جیل سماعت ہوئے تقریبا ایک سال گزر چکا ہے 4. جی ایچ کیو جیل سماعتوں میں ملزمان پی ٹی آئی لیڈرز بہت زیادہ ہونے کی وجہ سے الگ تھلگ ملاقات کسی کی ممکن نہیں صرف بعض اوقات ایک آدھ لیڈر ہو سکتا ہے جس کو عمران خان الگ لے جا کر پارٹی کے لئے پیغام دیتے رہے ہیں بہرحال اس خبر کا ڈائریکٹ سورس اکبر ایس بابر خود ہیں باقی نام کسی کا آئے گا تو اس سے بھی تصدیق کرکے ہی مزید بات ہو سکتی ہے

Saqib Bashir

91,831 views • 1 month ago