Loading video...

Video Failed to Load

Go Home

ایک ہی سوال سہیل آفریدی اور مریم سے کرنے پر ایک کو ہیرو بنایا جاتا ہے تمام میڈیا چینلز پر پرائم ٹائم میں بلایا جاتا ہے جبکہ اسی سوال پر دوسرے کو بدتمیز اور غدار کہہ کر اسکے گھر پولیس ریڈ کروائی جاتی ہے۔۔۔ یہ دوہرا معیار کیوں؟

44,467 views • 7 months ago •via X (Twitter)

0 Comments

No comments available

Comments from the original post will appear here

Related Videos

عموماً لوگوں کے ذہن میں اینجیوپلاسٹی اور اسٹنٹ کے حوالے سے بہت سے خدشات اور سوالات ہوتے ہیں۔ پتہ نہیں یہ پروسیجر کیسے ہوتا ہے، کتنی تکلیف ہوتی ہے، اسٹنٹ کیسا ہوتا ہے، کہاں لگتا ہے اور دل کی نالی میں کیسے پہنچایا جاتا ہے۔ چونکہ اب یہ پروسیجر بہت عام اور محفوظ ہو چکا ہے، اس لیے آج ہم نے اپنی ایک بزرگ مریضہ کی اجازت سے ایک مختصر ویڈیو ریکارڈ کی ہے تاکہ آپ اس پورے عمل کو آسان انداز میں سمجھ سکیں۔ اینجیوپلاسٹی کے آغاز میں مریض کے ہاتھ میں ایک کینولا لگایا جاتا ہے۔ اسی راستے سے ایک باریک ٹیوب، جسے کیتھیٹر کہا جاتا ہے، دل کی نالیوں کے دہانے تک پہنچائی جاتی ہے۔ اس کیتھیٹر کے ذریعے ہلکی سی ڈائی دی جاتی ہے تاکہ اسکرین پر دل کی نالیوں کی تصویریں واضح نظر آئیں اور معلوم ہو سکے کہ تنگی کہاں موجود ہے۔ اس کے بعد ایک نہایت باریک وائر نالی کے اندر سے گزارتے ہوئے تنگ حصے کو کراس کر کے آگے نارمل حصے تک پہنچائی جاتی ہے۔ پھر اسی وائر کے اوپر ایک چھوٹا سا بیلون لے جایا جاتا ہے جو تنگ جگہ پر راستہ بنانے میں مدد دیتا ہے۔ بعد ازاں اسی وائر کے ذریعے اسٹنٹ مطلوبہ مقام تک پہنچایا جاتا ہے۔ جب اسٹنٹ بالکل تنگی والی جگہ پر آ جاتا ہے تو بیلون کو پھلا کر اسٹنٹ کو نالی میں مکمل طور پر کھول دیا جاتا ہے۔ یوں اسٹنٹ نالی کی دیوار کا حصہ بن جاتا ہے اور خون کا بہاؤ بحال ہو جاتا ہے۔ پھر بیلون اور باقی آلات باہر نکال لیے جاتے ہیں اور پروسیجر مکمل ہو جاتا ہے۔ اسی تمام عمل کی مختصر مگر مکمل تفصیل اس ویڈیو میں دکھائی گئی ہے۔ امید ہے کہ اس سے آپ کو اینجیوپلاسٹی اور اسٹنٹ کے بارے میں بہتر آگاہی ملے گی اور آپ یہ پیغام دوسروں تک بھی پہنچا سکیں گے کہ یہ کوئی خوفناک یا پیچیدہ عمل نہیں بلکہ ایک محفوظ، مؤثر اور نسبتاً سادہ پروسیجر ہے جو روزانہ ہزاروں مریضوں میں کامیابی سے انجام دیا جاتا ہے۔

Yasir Bashir

14,282 views • 4 months ago

جیسے ہی مجھے اطلاع ملی کہ ہمارے صحافی ناطق ریحان کو گرفتار کر لیا گیا ہے، میں فوراً موقع پر موجود ایس پی بلال اور ایس پی عاطف کے پاس پہنچا اور ان سے سوال کیا کہ آخر صحافیوں کو اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں ادا کرنے اور کوریج کرنے سے کیوں روکا جا رہا ہے؟ انہیں کس بنیاد پر گرفتار کیا گیا؟ انہوں نے جواب دیا کہ یہ ایک غلطی تھی، جس کے بعد ناطق ریحان کو رہا کر دیا گیا۔ لیکن یہ واقعہ ہم سب صحافیوں کے لیے ایک سبق ہے۔ جب بھی کسی صحافی کو بلاجواز روکا جائے، تشدد کا نشانہ بنایا جائے یا گرفتار کیا جائے تو ہم سب کو فوری طور پر ایک آواز بن کر اس کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم اکثر تقسیم رہتے ہیں، اور اسی تقسیم کا فائدہ اٹھا کر ہمیں ایک ایک کرکے نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اگر آج ہم ایک دوسرے کے لیے نہیں بولیں گے، تو کل ہمارے لیے بولنے والا بھی کوئی نہیں ہوگا۔ صحافت کا تحفظ صرف اسی صورت ممکن ہے جب صحافی متحد ہو کر اپنے حق، اپنے ساتھیوں اور آزادیِ صحافت کے لیے کھڑے ہوں۔

Zaeem leghari

50,491 views • 1 month ago