Loading video...

Video Failed to Load

Go Home

اے بادل بھیّا دھیرے برسنا ۔۔۔ بلوچ گلوکار میر گل جمالی کا درد بھرا نغمہ

129,843 views • 2 years ago •via X (Twitter)

10 Comments

Rana Ajmal's profile picture
Rana Ajmal2 years ago

یہ اپنی مرضی سے گاتا ہے اسے اٹھا لو یہ عمران خان کے حق میں گاتا ہے اسے اٹھا لو

Mariam Malik (ڈکٹیٹر)'s profile picture
Mariam Malik (ڈکٹیٹر)2 years ago

ارے ارے ارے میر صاحب آپ تو باقاعدہ رونے لگے۔ ابھی چوہدری صاحب نے تو آپکا نام بھی نہیں لیا تھا😂🔥

Atta Sagar's profile picture
Atta Sagar2 years ago

حامد۔ میر۔ نہ صرف۔ آپ کو۔ سلام۔ بلکہ۔ آپ کے والد محترم۔ کو بھی۔ سلام۔ کہ آپ ہمیشہ مظلوم و لاپتہ۔ آفراد کی آواز بن چکے ہیں سر سلوٹ یو باقی آپ کی شان والے بڑے۔ الفاظ ہے نہی میرے پاس @HamidMirPAK

Rana Ajmal's profile picture
Rana Ajmal2 years ago

مرشد کا فرمان ہے تم بھی بے غیرت ہو تمہارے ہینڈلرز بھی بے غیرت ہیں

Rana Ajmal's profile picture
Rana Ajmal2 years ago

12 پنجابیوں کی شہادت کا ویلا کرنے کے بعد بھی اسٹیبلشمنٹ کامیاب نہیں ہوئی ہمیں اب بلوچوں سے ہمدردی ہو رہی ہے بلوچوں سے پیار ہو رہا ہے بلوچوں کے ساتھ ہماری محبت گہری ہو رہی ہے وہ ہمارے بھائی ہیں ہمیں توڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے

Noor Yaar's profile picture
Noor Yaar2 years ago

آواز پیاری ہے... لیکن ایکٹنگ اپ کی طرح سستی کر رہا ہے... ویسے مونچھوں سے بھی بالکل آپ کے بھائی کی طرح دکھتا ہے

kaleem🇵🇰's profile picture
kaleem🇵🇰2 years ago

Soo sad 😭

Muhammad Asim's profile picture
Muhammad Asim2 years ago

Zabardast Mir Saab

Najib Ahmed's profile picture
Najib Ahmed2 years ago

بلوچی عوام اپنے سرداروں نوابوں کو کیوں نہیں کوستے جنہوں نے ان بلوچوں کو اپنا غلام بنا رکھا ھے۔ نہ سڑک بننے دیتے ھیں نہ سکول ۔ نہ ھسپتال نہ روزگار نہ صنعت نہ کارخانے ۔ جو صوبہ کماتا ھے سب مل کر کھاجاتے ھیں پنجاب جہاں ترقی ھوتی ھے وھاں کےنمائندے جواب دہ ھیں ۔۔۔۔

Rida Nazir's profile picture
Rida Nazir2 years ago

کیا حامد میر صاحب نے بی ایل اے اور مجید برگیڈیئر کی دہشت گرد کاروائیوں کی کھل کر اور نا م لے کر مذمت کی پہلے ان دشت گردوں نے بیلہ ڈگری کالج کو اگ لگائی اور اج یو فون کے ٹاور کو جلا دیا جب ریاست کے خلاف بغاوت کرو گے تو بغاوت کچلنی پڑتی ہے اور پھر گنا ہ گا ر اور بے گناہ دونوں مارے جاتے ہیں

Related Videos

بہن کی فرمائش پر فیضان نے مسکراتے ہوئے کہا کہ سرائیکی گانا تو سناؤں گا، مگر شرط یہ ہے کہ میرا پورا چہرہ نہ آئے۔ شاید اُس لمحے اس کی بہن کو اندازہ بھی نہ تھا کہ وہ اپنے بھائی کی آواز کو ان جدائی کے دنوں کے لیے ہمیشہ کے لیے محفوظ کر رہی ہے۔ گھر کا ماحول ہنسی مذاق سے بھرپور تھا، سب کچھ معمول کے مطابق لگ رہا تھا۔ لیکن اپنی آزادی کے دنوں میں سرائیکی نغمہ گنگناتا ہوا فیضان، جیسے اس گانے کے بول جبری گمشدگی کے درد کو پیاروں کی زبان حال سے بیان کر رہے ہوں۔ یہ وہ لمحے تھے جنہیں اب یاد کرنے پر دل بوجھل ہو جاتا ہے، "اے میرے پُنل، اے میرے پُنل" (پُنل، سرائیکی لوک داستان میں محبوب کا نام) "میری آنکھیں تیری جدائی میں ٹھاٹھیں مارتے دریا کی طرح آنسو بہا رہی ہیں۔ اے میرے پُنل، اے میرے پُنل جب تم مجھے ملو گے، تب ہی میں اپنی آنکھوں میں کاجل لگاؤں گی۔ اے میرے پُنل، اے میرے پُنل اس تھل (سرائیکی خشک علاقے کا صحرا) کے کونے کونے سے پوچھ لو، کہاں کہاں نہیں ڈھونڈھا تمہیں۔ ٹیلوں پر چڑھ کر میں تمہیں پکارتا رہا۔ اے میرے پُنل، اے میرے پُنل" 💔 #releasefaizan #releasefaizanusman

Dr Usman Khan

24,447 views • 2 years ago

صادق عمرانی اچانک انقلابی کیوں بن گئے؟حکومتی وزیر ہوتے ہوئے انہیں بی ایل اے اور بی وائے سی کے بیانیے پر کیوں چلنا پڑا؟ آپ کو یاد ہوگا چند ہفتے قبل صادق عمرانی کے بیٹے بلال عمرانی نے پاکستان کی شان،عالمی شہرت یافتہ بلوچ گلوکار وہاب بگٹی پر شدید تشدد کیا تھا۔ جب یہ معاملہ عوامی سطح پر آیا تو صادق عمرانی نے اپنے بیٹے کے خلاف کارروائی نہیں ہونے دی۔ وزارت کا دھونس جمایا،دباؤ ڈالا،بہرحال بیٹے کو بچانے میں کامیاب ہوگیا۔ لیکن صادق عمرانی کو بلوچستان حکومت کی جانب سے حکم دیا گیا کہ اپنے بیٹے سے معافی منگوائے۔بہرحال صادق عمرانی کو اپنے قبیلے کے کچھ معززین کو وہاب بگٹی کے پاس بھجوانا پڑا۔ صادق عمرانی پر اُسی روز سے ایک نگرانی کا سلسلہ شروع ہوچکا تھا،صادق عمرانی کو حکومت کا وہاب بگٹی سے معافی منگوانے کا حکم پسند نہیں آیا۔ اُسی رنجش کے باعث بی وائے سی اور بی ایل اے کے بیانیے کا سہارا لیا گیا تاکہ ریاست کو بلیک میل کرسکے۔ کیوں کہ صادق عمرانی کی وزارت آبپاشی میں کروڑوں کی خردبرد،بے ضابطگیاں اور کرپشن پکڑی گئی ہے جس کی تفصیل اگلے ٹوئٹ میں۔ ایک روایت چل پڑی ہے کہ اختر مینگل اور ماہرنگ لانگو کا راستہ اختیار کرو،ریاست کو بلیک میل کرو اور اپنے سفید ہاتھی بن کر بلوچ عوام کے وسائل نوچتے رہو۔

Balochistan Insight

25,002 views • 1 month ago

افغانستان کے صوبہ بدخشاں کے گلوکار میر مفتون کی آواز میں فارسی اور دری زبان کا یہ گیت اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ موسیقی کی واقعی کوئی زبان نہیں ہوتی اکثریت کو زبان سے شناسائی نہیں ، لیکن گانے نے اپنی طرف سب کو کھینچا !!! گانے کے چند بولوں کا اردو ترجمہ !! کوئی بے چارہ اور تنہا ہے کوئی صحرا میں خشک ہونٹوں کے ساتھ بھٹک رہا اہے واقعی عجب دنیا ہے یہ دنیا کوئی بے درد اور بے پرواہ ہے "إكيا عجب دنیا ہے، یہ دنیا کوئی مچھلی کی طرح تڑپتا کوئی ہے مفلس کوئی دولت میں مست کوئی ہے بے پا کوئی بے دست عجب دنیا ہے یہ دنیا ور کوئی وطن سے دور ربت جیسی گل چمن ها سے بچھڑا۔ کوئی آدمیت سے ہے دور غرور میں ہے، دولت سے ہے چور۔ اسے خدا سے بھی زور کا گمان عجب دنیا ہے یہ جہان۔ کوئی قید خانے میں دلگیر اپنے اعمال یہ ہے دلگیر۔ دل میں ارمانوں کی بھرمار عجب دنیا ہے یہ کردار کوئی بچوں سے نفرت کرتا کوئی ناخن پر بھی مرتا کسی کو بیمار بچہ یاد عجب دنیا ہے بے داد جیسی جان بدن سے جدا عجب دنیا ہے یہ صدا۔ کوئی بے دین شیطان کا ساتھی انسانوں کا دشمن ذاتی۔ ہمیشہ تکلیف کا خواہاں عجب دنیا ہے یہ جہاں۔ کوئی عشق میں پاگل کہانی ہے وہ لوگوں کی کوئی بے گھر بے منزل عجب دنیا ہے بے دخل کوئی بیوی کا ہے امیدوار کوئی وطن کے پانی کا طلبگار کوئی کفن کا بے فکر مند!! عجب دنیا ہے یہ دنیا

ⷶMαι∂αн Mυнαммα∂

70,078 views • 1 year ago