Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

بابا بنارس کا اصل نام کیا ہونا چاہئے؟ را کے ایکس اکائونٹ بابا بنارس کی مضحکہ خیز خبروں پر بابر یوسفزئی کا دلچسپ تجزیہ

88,644 просмотров • 1 год назад •via X (Twitter)

Комментарии: 0

Нет доступных комментариев

Здесь появятся комментарии из оригинального поста

Похожие видео

عوامی نیشنل پارٹی کے نام نہاد دانشور ادریس خان کا یہ چیلنج کہ علامہ اقبال کی ساری اردو اور فارسی شاعری نکال لو اور اگر وہ خوشحال خان خٹک اور رحمان بابا کی چوری نہ ہو تو میں مجرم ہوں، علمی اور ادبی تاریخ کا سب سے بڑا مضحکہ خیز دعویٰ اور پرلے درجے کی جہالت ہے۔ موصوف شدید سیاسی و نظریاتی بغض کا شکار ہیں اور انہوں نے زندگی میں کبھی علم و ادب کی ہوا نہیں کھائی۔ رحمان بابا کا کلام خالصتاً صوفیانہ، درویشانہ، زہد و قناعت اور دنیا کی بے ثباتی پر مبنی ہے جبکہ خوشحال بابا کی شاعری قبائلی شجاعت، مغلوں کے خلاف جنگی ترانوں اور پختون قوم کی بیداری کے گرد گھومتی ہے۔ دوسری طرف علامہ اقبال کا شعری کینوس بالکل الگ، منفرد اور آفاقی ہے جس میں انہوں نے جرمن اور مغربی فلسفے کا رد کیا، کارل مارکس اور لینن کے اشتراکی نظریات پر بحث کی، جدید سائنسی دور میں اسلام کے اجتہادی تصور کو ابھارا اور جاوید نامہ جیسا عظیم افلاکی شاہکار لکھا۔ ادریس خان سے پوچھا جائے کہ کیا یہ مغربی فلسفے کا رد، اشتراکیت کے نظریات اور جدید دور کے سائنسی مسائل رحمان بابا یا خوشحال بابا کے ہاں موجود تھے جہاں سے اقبال نے چوری کیے؟ حقیقت یہ ہے کہ جسے یہ قوم پرست چوری کہہ رہے ہیں، وہ علم و ادب کی دنیا میں مشترکہ مآخذ کا فکری تسلسل کہلاتا ہے۔ پختونوں کے اپنے مایہ ناز محقق اور نقاد استاد جمیل یوسفزئی نے اپنی مستند تحقیق سرقہ جاتِ خوشحال خان خٹک میں یہ واضح کیا ہے کہ خوشحال بابا اور رحمان بابا کے اپنے سینکڑوں اشعار ایران کے اساتذہ جیسے حافظ شیرازی، شیخ سعدی، حکیم سنائی اور مولانا جلال الدین رومی کے افکار کا تسلسل اور ترجمانی ہیں۔ چونکہ علامہ اقبال بھی مولانا رومی کے فکری مرید تھے، اس لیے اگر اقبال اور خوشحال بابا کے چند اشعار میں باز، شاہین، غیرت یا شجاعت کی ہم خیالی پائی جاتی ہے تو وہ چوری نہیں بلکہ ایک ہی سرچشمے یعنی فارسی تصوف اور کلاسیکی ادب سے فیض یاب ہونے کا فطری نتیجہ ہے۔ علامہ اقبال کا کلام تقریباً ایک لاکھ اشعار پر مشتمل ہے جس میں قرآنی تصورات اور امتِ مسلمہ کے مسائل کا احاطہ کیا گیا ہے، اس لیے چند اشعار کی ہم خیالی پر پوری شاعری کو چوری قرار دینا علمی بددیانتی ہے۔ ادریس خان جیسے لوگ جہاں مغرب کے نوبل پرائز کا رونا روتے ہیں، وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ بین الاقوامی سطح پر اقبال کا قد کتنا کاٹھ دار ہے۔ ایران میں انہیں اقبالِ لاہور کہا جاتا ہے اور وہاں کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای اور ڈاکٹر علی شریعتی جیسے مفکرین اعتراف کرتے ہیں کہ ایران کا اسلامی انقلاب اقبال کے افکار کا مرہونِ منت ہے۔ ترکی میں مولانا رومی کے مزار کے احاطے میں علامہ اقبال کی علامتی قبر ان کی عظمت کا اعتراف ہے، جبکہ ازبکستان، تاجکستان اور وسطی ایشیا کی جامعات میں اقبال کے فلسفے پر باقاعدہ تحقیق ہوتی ہے۔ جرمنی میں دریائے نیکر کے کنارے ان کے نام پر "اقبال افر سڑک موجود ہے اور کیمبرج و آکسفورڈ میں ان کے نثری خطبات پڑھائے جاتے ہیں۔ ادریس خان جیسے رہنماؤں کو اصل تکلیف خوشحال بابا سے محبت نہیں، بلکہ ان کا اپنا سیاسی حسد ہے کیونکہ اقبال نے پشتونوں کی جس شجاعت کو اپنی شاعری میں ابھارا، اسے انہوں نے لسانی قوم پرستی کی تنگ نظری سے نکال کر پورے عالمِ اسلام کا ہیرو بنا دیا، جس کی وجہ سے ان قوم پرستوں کی محدود سیاسی دکان خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ ادریس خان صاحب، اقبال کا شاہین آپ جیسے چھوٹے سیاسی بونوں کی تصدیق یا تردید کا محتاج نہیں، وہ ہمیشہ فکری بلندیوں پر پرواز کرتا رہے گا اور آپ کی یہ علمی پستی تاریخ کے کوڑے دان کا حصہ بن جائے گی۔

Khadim Ali khan Yousaf zai

31,532 просмотров • 2 месяцев назад