Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

برادر جواداحمد نے مجھے اپنا نیا قومی نغمہ پاک سر زمین واٹس ایپ کیا تو یقین کیجئے مجھے اندازہ ہی نہیں تھا کہ انہوں نے کیا کمال کر دیا ہے۔ جواد احمد کا 'پاک سر زمین' ایک ایسا نغمہ ہے جس میں پاکستانی قوم کو ایک پر ہمت، بہادر...

19,337 Aufrufe • vor 1 Jahr •via X (Twitter)

0 Kommentare

Keine Kommentare verfügbar

Kommentare vom Original-Post werden hier angezeigt

Ähnliche Videos

احمد رضا ڈار پر آپ نے ریپ کا کیس نہیں ڈالا، اسے بچا لیا گیا ہے، اور اسے ریپ کے الزام سے بچایا گیا ہے؟ میری تمام انویسٹیگیٹو جرنلسٹس سے گزارش ہے کہ ہمارے پاس ان خواتین کے رابطہ نمبرز موجود ہیں۔ آپ ان خواتین سے بھی بات کر سکتے ہیں اور ان کے والدین سے بھی بات کر سکتے ہیں۔ اگر آپ کو پاکستان کے اداروں پر یقین نہیں ہے، تو شاید آپ کو بیرونِ ملک موجود ان افراد کی بات پر زیادہ یقین ہو۔ آپ ان سے بھی بات کر لیں۔ہم نے ان خواتین کو ایک ایک ملزم کی تصویر دکھائی تھی، اور انہوں نے جو بیان جج کے سامنے دیا، اس میں ایک خاتون کا چار صفحات پر مشتمل بیان ہے جبکہ دوسری خاتون کا بیان تین صفحات پر مشتمل ہے۔ 164 کا بیان اور میڈیکل کسی کی مرضی کے بغیر نہیں ہو سکتا۔ جب جج 164 کے تحت بیان ریکارڈ کر رہا ہوتا ہے تو وہ بار بار یہ پوچھتا ہے اور سرٹیفکیٹ پر دستخط بھی کرواتا ہے کہ آپ جو بیان دے رہے ہیں، وہ بعد میں آپ کے خلاف بھی استعمال ہو سکتا ہے۔ Muzamal Suharwardy Lahore Police Official

Muzamal Suharwardy Team

28,871 Aufrufe • vor 2 Monaten

آج ان چار صوبوں کو توڑ کر ٹکڑوں میں تقسیم کیا جا رہا ہے،جب فوج کی حکومت تھی انہی چار صوبوں کو ایک صوبہ مغربی پاکستان بنا کر ون یونٹ لگا دیا تھا،وہ بھی ہماری فوج کی سوچ تھی اور آج صوبوں کو توڑ کر تقسیم کرنا بھی اسی فوج کی سوچ ہے،خواہ مخواہ ایک "کاکے" کو آگے کردیا ہے۔ جب چاہیں پورے مغربی پاکستان کو ایک صوبہ بنا دیں اور جب چاہیں چار صوبوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیں، جہاں ہر فیصلے کے پیچھے اسٹیبلشمنٹ کے اپنے عزائم ہوں وہاں کوئی قومی مفاد نہیں ہوتا۔ ہم نے اس ملک میں رہنا ہے تو خیرخواہی کی بنیاد پر اپنے ضمیر کی بات کرتے ہیں،ہم اپنی بھلائی اسی میں دیکھتے ہیں اور آپ کی بھی خیرخواہی اسی میں دیکھتے ہیں،مگر ان کا مزاج بن گیا ہے کہ ان کو خوشامدگروں کی زبان اچھی لگتی ہے۔ لیکن ہم ملک کو اسٹیبلشمنٹ کی ملکیت نہیں مانتے،یہ ملک ہمارا ہے،ہم اس کے شہری ہیں،اور ریاست عوام کے بغیر کچھ نہیں ہے۔ ہم اصولاً کسی یونٹ بنانے کے خلاف نہیں،دوسرے ملکوں میں بھی یونٹس بنتے ہیں لیکن وقت اور ماحول کو بھی دیکھنا چاہئے۔ ہم نے فاٹا کو صوبے میں انضمام کے وقت بھی کہا تھا یہ فاٹا کے عوام کے سیاسی مستقبل کا مسئلہ ہے، لہٰذا فاٹا کے عوام سے پوچھ لیا جائے لیکن آپ نے ان پر انضمام تھوپ دیا، آج اس کا کیا حشر ہے؟ اس وقت باجوہ صاحب تھے، جو مجھے کہتے تھے کہ آپ کیوں اس کی مخالفت کرتے ہیں؟ یہ تو ہمارے لیے ضروری ہے اور جب میں نے ان کو جوابات دئے تو چند روز کے بعد مجھے ایک امریکی افسر گھر آ کر ملا، اور اس نے کہا کہ آپ کیوں فاٹا انضمام کی مخالفت کرتے ہیں؟ یہ تو ضروری اور لازمی ہے۔ آج ہمارا جنرل خود مجھے کہتا ہے کہ فاٹا انضمام کا فیصلہ غلط تھا۔ جب چاہو لوگوں کے سیاسی مستقبل کو داؤ پر لگا دو اور پھر جب چاہو طریقہ بدل دو، آپ کا فیصلہ جو آج ناگزیر ہے،کل آپ کا وہ فیصلہ غلط ثابت ہوتا ہے،کسی ایک فیصلے کی مثال بھی نہیں ملتی جس کے نتائج قوم کی حفاظت میں سامنے آئے ہوں۔ یہ وہ ساری چیزیں ہیں جس پر ڈیبیٹ ہونی چاہئے یک طرفہ فیصلہ مسلط نہ کریں،یہ عوام کا ملک ہے، یہاں عوام نے رہنا ہے،عوام کا مستقبل اس سے وابستہ ہے۔ صوبوں کی تقسیم کے پیچھے کیا مفادات ہیں؟ نمبر ایک، صوبوں کے اندر جو معدنی ذخائر ہیں، آئین کی اٹھارویں ترمیم کے تحت صوبے اس کے مالک ہیں، صوبوں کے بچے اس کے مالک ہیں، اور یہ چیز انہیں مرکز میں ہضم نہیں ہو رہی ہے۔ دوسری چیز کہ این ایف سی ایوارڈ، قومی محصولات کا جو حصہ صوبوں کو ملتا ہے، وہ اب ستاون فیصد تک پہنچ گیا ہے، اور آئین کہتا ہے کہ اضافہ ہو سکتا ہے، کم ہی نہیں ہو سکتا،یہ بھی ان کو ہضم نہیں ہو رہا۔ اب صوبے تقسیم کرو تاکہ یہ لوگ ازسرِنو معدنیات اور این ایف سی ایوارڈ کے فیصلے پھر سے کریں۔ ہم صوبوں کو طاقتور دیکھنا چاہتے ہیں اور یہ لوگ سب کو کمزور کرنا چاہتے ہیں اس حوالے سے سیاسی جماعتوں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ پیپلز پارٹی بات تو کرتی ہے، لیکن وہ صرف سندھ کی حد تک کرتی ہے۔اصولی طور پر بات کریں۔ مسلم لیگ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے، مرکز میں حکومت مسلم لیگ نون کی ہے، اور اتنے بڑے قومی سطح کے معاملات کاکے کے حوالے ہیں جس کی حیثیت ایک ذاتی ملازم سے ذیادہ اہم نہیں ہے،وہ کابینہ کا ممبر ہے۔ اسلام آباد ٹیریٹری کے لیے دو کمیٹیاں بنی ہوئی ہیں۔ ایک کمیٹی میں بھی کاکا جی، دوسرے میں بھی کاکا جی، ایک کی رپورٹ کچھ، دوسری کی رپورٹ کچھ اس میں تضادات ہیں تو پاکستان ہم ان کے حوالے نہیں کرسکتے، یہ قوم کی چیز ہے، قوم کی امانت ہے اسکا فیصلہ بھی عوام نے کرنا ہے۔

Maulana Fazl-ur-Rehman

33,788 Aufrufe • vor 17 Tagen

ارب پتی جاگیردار مزاریوں کا یہ غریب چیلا اور اسد نام کا یہ چوٹھے درجے کا صحافی پھر اپنی اوقات بھول گیا ہے۔ یہ اب ایک ایسے آدمی کے بارے میں جھوٹی بک بک کر رہا ہے جسے پورا پاکستان اسکی شکل، آواز، نام اور اس کے گانوں کی وجہ سے جانتا ہے۔ Asad Ali Toor آج اسے سٹپٹایا ہئوا دیکھ کر مجھے یہ اچھی طرح سمجھ آ گئی ہےکہ اسے ریاست نے کیوں سبق سکھایا تھا اور کیوں لوگ اس غلیظ فطرت آدمی سے اتنی نفرت کرتے ہیں۔ اس لیے کہ ایسے جھوٹے اور منافق لوگ اپنی کرتوتوں کی وجہ سے ہی نقصان اٹھاتے ہیں۔ اپنے طبقے کا غدار یہ وہ بے غیرت ہے جو مڈل کلاس کا ایک صحافی ہو کر بھی مزاریوں جیسے جاگیرداروں کی چمچہ گیری کرتا ہے اور ان کی شہہ پرخود کو ایک گھٹیا سا باغی سمجھتا ہے۔ میں تو اس فراڈیے کو صرف ترس کے قابل سمجھتا ہوں جو میرے جیسے پاکستان کی تاریخ کے سب سے مقبول سنگرز میں سے ایک کے بارے میں مکمل غلط بکواس کر رہا ہے۔ اسے چاہیے کہ یہ سوشل میڈیا پر لائیو مائیک لے کر سب سے پہلے اپنے دادکے اور نانکے خاندان میں ہی چلا جائے اور ہر ایک سے یہ پوچھے کہ وہ جواد احمد کو جانتے ہیں یا نہیں۔ مگر یہ ایسا کبھی نہیں کرے گا کیونکہ جھوٹ کے پائوں نہیں ہوتے پر میں اس کے بارے میں یہ ضرور بتا سکتا ہوں کہ جس جگہ یہ رہتا ہے وہاں دو گلیاں چھوڑکر اس کے محلے والے بھی اسے نہیں جانتے۔ کم ظرفی اورجھوٹ بولنے کی بھی کوئی حد ہوتی ہے۔ میں نے اپنا کیریر 26 سال پہلے شروع کیا تھا مگر میں نے 2003 کے بعد سوشل ورک اور فلاحی کاموں اور پھر سیاست کی وجہ سے پاکستان میں کوئی البم نہیں نکالا پھر بھی میرے بہت سے طاقتور گانے اس وقت سے لے کر اب تک پوری دو نسلوں کو یاد ہیں۔ پھر بھی 2026 میں آج بھی جب پاکستان میں 18 سال بعد بسنت ہوئی تو میرا گانا "اچیاں مجاجاں والی" ہی انسٹاگرام، فیس بک اور ٹک ٹاک وغیرہ کی ٹرینڈنگ میں نمبر 1 پر تھا اور ہر چھت پر وہی بج رہا تھا۔ یہ تو میڈیا کا آدمی ہے مگر کیا اس جاہل کو اتنا بھی پتا نہیں؟ کیا اسے پتا نہیں کہ میں ایک نہیں بلکہ تین صدارتی ایوارڈز پانے والا پاکستان کا واحد آرٹسٹ ہوں؟ یہ یو ٹیوب پر پیسے بنانے کے لیے کس حد تک گر سکتا ہے وہ اس وڈیو میں صاف دکھائی دے رہا ہے کہ یہ میرے جیسے ایک سوشلسٹ انقلابی آدمی کی سیاست کو نقصان پہنچانے کی ناکام کوشش کر رہا ہے جو اس ملک کے مڈل کلاس اور غریب لوگوں کو اس ملک کا حاکم بنانا چاہتا ہے اور اس کئے لیے ہر قسم کی ذاتی قربانی کر رہا ہے۔ میں اپنی ذات پر کچھ بھی برداشت کر لیتا ہوں مگر صرف پاکستان نہیں بلکہ دنیا کے تمام مڈل کلاس اور غریب عام لوگوں کے لیے اپنی صاف شفاف سوشلسٹ سیاست پر جھوٹ بول کر اسے نقصان پہنچانے کو برداشت نہیں کر سکتا۔ جو بھی اس پر بات کرے گا وہ میرے سے اپنی اصل اوقات کے بارے میں سنے گا تاکہ آئندہ اسے ایسا جھوٹا گھٹیا پن کرنے کی ہمت نہ ہو۔ مگر مجھے پتا ہے کہ یہ بیچارہ مجبور ہے۔ اگر عمران کی طرفداری کرنے پر PTI والے اسے ویوز نہ دیں تو یوٹیوب پر اس کی روزی روٹی بند ہو جائے۔

Jawad Ahmad

28,733 Aufrufe • vor 6 Monaten

ٹرمپ کون ہوتے ہیں کہ وہ کسی آزاد قوم اور ان کی سرزمین پر قبضہ کرنےکی بات کررہے ہیں ؟ ایک آزاد قوم کو دوسرے ملکوں میں مہاجر بنانے کی بات کررہے ہیں، ٹرمپ کا کا کٹھ پتلی پندرہ مہینے سے فلسطینیوں کا قتل عام کر کے انسانی جرم کا مرتکب ہوا ہے،اگر صرف دو تین شہروں میں فوجی کاروائی کے نتیجے میں قتل ہونے والوں کے پاداش میں صدام حسین کو لٹکایا جا سکتا ہے تو اس پاداش میں جہاں نیتن یاہو کو سرعام پھانسی ملنی چاہیے تھی اس کو آج امریکہ فلسطینیوں کے خون پر ان کو سپورٹ کر رہا ہے۔ جنگ عظیم اول کے بعد جب دنیا میں یہودی در بدر ہو گئے اور جرمنوں کے ہاتھوں پٹ گئے تو اس زمانے میں لیگ آف نیشنز اقوام متحدہ میں قرارداد پاس کی کہ ان دربدر شدہ یہود یوں کو جگہ دینا ان کو از سرِ نو بسانا یہ بین الاقوامی ذمہ داری ہے، بین الاقوامی ذمہ داری قرار دے کر صرف فلسطین کی سرزمین کو اس کے لیے کیوں خاص کیا گیا؟ کسی ملک نے ان کو جگہ نہیں دی اور سب کو اکٹھا کر کے فلسطین کی سرزمین میں لایا گیا، قرارداد میں کہا گیا ہے کہ کسی شہری کو، کسی یہودی کو جبراً کہیں آباد نہیں کیا جائے گا، قرارداد میں کہا گیا ہے کہ کسی سرزمین پر سرزمین والوں سے پوچھے بغیر جبرا ان کو آباد نہیں کیا جا سکتا، یہودیوں کو بھی جبراً لا کر آباد کیا گیا، فلسطین سے بھی جبراً زمین لی گئی اور وہاں ان کو آباد کیا گیا۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ فلسطین Over Populated Area ہے یہاں مزید کسی کو آباد کرنے کی گنجائش نہیں ہے، اس کے باوجود Over Populated Area پر ان کو آباد کیا گیا، قرارداد میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ فلسطین معاشی لحاظ سے انتہائی کمزور ہے اس پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، اس معاشی لحاظ سے کمزور ترین ملک پر اتنی بڑی یہودی آبادی کا بوجھ ڈال دیا گیا، اور آج تک یہ صرف بوجھ ہی نہیں بلکہ ان کی پیٹھ میں گھونپا ہوا چھرا ہے، خنجر ہے جو آج بھی ہمارے جسم کو چھو رہا ہے اور ہمارے جسم سے لہو بہہ رہا ہے۔

Maulana Fazl-ur-Rehman

33,921 Aufrufe • vor 1 Jahr

یہ مشرک ایسے ہی دھمکی نہیں دے رہے۔۔انہوں نے تیاری پوری کر لی ہے دوبارہ سے کسی بھی وقت جنگ شروع کرنے کی۔۔۔ پاکستانی قوم اور حکومت تو اپنی مستیوں میں لگے ہوئے ہیں، دشمن کی فوج اور اس کے سیاستدان اور حکمران پوری طرح سنجیدہ ہیں اور ان کے بیانات سے یہ اندازہ ہو رہا ہے کہ وہ بہت سخت بپھرے ہوئے ہیں اپنی پہلی ذلت کی وجہ سے اور انتقام لینا چاہتے ہیں۔ یہ ہم نے اپ کو بتایا تھا کہ مودی کو ایک چانس اور دیا جا رہا ہے اپنی عزت بچانے کا ورنہ اسے تبدیل کر کے یوگی کو لایا جائے گا۔ اس لیے مودی کو بھی جلدی ہے کہ پاکستان کے خلاف دوبارہ جنگ شروع کرے۔ ظاہر ہے اس مرتبہ اسرائیل دوبارہ اس کے ساتھ شامل ہوگا۔ پاکستانی قوم غیر معمولی غیر سنجیدہ مزاج اور موڈ میں ہے۔۔۔ اللہ نہ کرے ہم کو نقصان ہو جائے گا۔۔ اب کی دفعہ جنگ بہت بڑے پیمانے پر ہوگی اور ہمارے شہروں میں ہوگی۔ کراچی سے لے کر ازاد کشمیر گلگت بلتستان تک۔ یہ سارا فساد جو کشمیر میں کیا جا رہا ہے اسی حملے کی تیاری ہے ۔ کسی بھی دن شروع ہو سکتی ہے۔

اللہ کے بندے۔۔۔

49,271 Aufrufe • vor 11 Monaten

اللہ کا ماسٹر پلان کیا ہے؟ ہماری زندگی کا مقصد کیا ہے؟ کیا یہ سب کچھ اتفاقاً ہو رہا ہے؟ قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ یہ کائنات، یہ ستارے، یہ زمین کچھ بھی بیکار یا کھیل تماشے کے لیے پیدا نہیں کیا گیا،اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:اور ہم نے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے، کھیل تماشے کے لیے پیدا نہیں کیا اللہ کا ایک ماسٹر پلان ہے،جس کا مرکز آپ اور میں ہیں۔ ہم یہاں کیوں ہیں؟ ہم یہاں ایک بہت بڑے مقصد کے لیے ہیں،اللہ نے انسان کو زمین پر اپنا خلیفہ بنا کر بھیجا ہےیعنی ایک ایسا ذمہ دار، جسے اللہ نے عقل دی، شعور دیا اور سب سے بڑھ کر 'فری وِل' (اختیار) دیا تاکہ وہ اپنی مرضی سے سچ اور نیکی کا راستہ چن سکےہماری زندگی میں جو اتار چڑھاؤ آتے ہیں، جو دکھ اور تکلیفیں آتی ہیں، وہ اس ماسٹر پلان کا حصہ ہیں،یہ دنیا ایک ٹیسٹنگ گراؤنڈ (آزمائش گاہ) ہے،یہاں کا درد، یہاں کی خوشی، سب عارضی ہے،اصل مقصد یہ دیکھنا ہے کہ آپ ان حالات میں کیسا ردِعمل دیتے ہیں۔ قرآن کہتا ہے:اور میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا، یہاں عبادت کا مطلب صرف سجدہ کرنا نہیں، بلکہ اللہ کی معرفت حاصل کرنا اور اس کے بتائے ہوئے راستے پر چل کر اس دنیا کو بہتر بنانا ہے۔ تو جب بھی آپ کو لگے کہ زندگی بے مقصد ہے، تو یاد رکھیں کہ آپ اللہ کے ایک عظیم منصوبے کا حصہ ہیں، آپ کی تخلیق کوئی اتفاق نہیں ہے، آپ کو ایک مقصد کے لیے چنا گیا ہے

شبانہ شوکت

14,109 Aufrufe • vor 8 Monaten

(پاکستان 🇵🇰 💪) یہ مولانا شیخ عمران حسین ہیں جنہوں نے 2004 میں ٹرینیڈاڈ میں دجال دی فالس مسیحا یا اینٹی کرائسٹ پر اپنے لیکچر کی وضاحت کی- (اس دلچسپ ویڈیو کے ٹرانسکرپٹ کا مکمّل اردو ترجمہ پیش کر رہا ہوں- اسے ضرور پڑھیں اور سنیں)- "اور میں آپ سے کہہ رہا ہوں، اگر آپ پیسوں کی دنیا کو دیکھیں تو آپ کو دیوار پر لکھا نظر آئے گا- بریٹن ووڈز معاہدہ ٹوٹ رہا ہے، یہ پہلے ہی ٹوٹ چکا ہے اور ایک نیا بین الاقوامی مالیاتی نظام قریب ہے، جس میں امریکی ڈالر غائب ہو جائے گا- اور جب امریکی ڈالر کریش ہو گا تو امریکی معیشت اس کے ساتھ کریش ہو جائے گی- میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ امریکہ پر 11 ستمبر کا حملہ 1914 کے موسم گرما کے دہشت گردانہ حملے سے غیر معمولی مماثلت رکھتا ہے- اور یہ کہ جو واقعات اب دنیا میں رونما ہو رہے ہیں، افغانستان پر حملہ، عراق پر حملہ، نئی امریکی سامراج جو دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے، ان سب کا مقصد ایک مشن ہے، اسرائیل کے ساتھ ایک بڑی جنگ کی راہ ہموار کرنا- اور اس بڑی جنگ کے نتیجے کے طور پر جو اسرائیل چھیڑنے جا رہا ہے، اسرائیل کی ریاست کا علاقہ ڈرامائی طور پر پھیلتا جا رہا ہے تاکہ اسرائیل کی مقدس سرزمین کی بائبل میں بتائی گئی سرحدوں کو گھیر لیا جا سکے- بائبل کہتی ہے، "مصر کے دریا سے لے کر دریائے فرات تک"، لیکن یہ سچ نہیں ہے۔ مصر کے دریا سے لے کر دریائے فرات تک مقدس سرزمین کا درحقیقت کوئی ذکر موجود نہیں ہے، یہ ایک گڑھا ہوا جھوٹ ہے- لیکن اب یہ بائبل میں موجود ہے، انہوں نے اسے زبردستی داخل کیا ہے۔ اور اس لیئے اسرائیل کو ایک بڑی جنگ چھیڑنی ہے، جس سے ریاست کے علاقے میں ڈرامائی طور پر توسیع ہو جائے گی، تاکہ اسرائیل نہر سویز کو کنٹرول کر لے- اور اسرائیل کل خلیج کے تیل کو کنٹرول کر لے گا- اور امریکی ڈالر پر ایک ساتھ حملہ آور ہو گا اور امریکی ڈالر گرتا جائے گا- اور جب یہ گرے گا تو کاغذی کرنسی کی پوری دنیا کو اپنے ساتھ لپیٹ لے گا- جب اسرائیل وہ بڑی جنگ چھیڑتا ہے، میں توقع کرتا ہوں کہ اسرائیل جنگ کے ایسے ہتھیار اتارے گا جو ہم نے پہلے کبھی نہیں دیکھے- اور اس کے اختتام پر اسرائیل دنیا میں ایک نئی حکمران ریاست کے طور پر امریکہ سے اقتدار سنبھال لے گا- لیکن، اسرائیل اس جنگ کو نہیں چھیڑ سکتا، کیوں کہ اب بھی راستے میں بہت خاص رکاوٹیں موجود ہیں- اور اب اپنی سوچ کی ٹوپی پہن لیجیئے- کہ وہ کونسی سب سے اہم رکاوٹ ہے، جو اب بھی اسرائیل کی ایک بڑی جنگ چھیڑنے کی راہ میں کھڑی ہے؟ اور یہ ہے پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کی صلاحیت- اور اس کے ساتھ ایران کی میزائل صلاحیت بھی ہے- اور اس طرح، ہم اس وقت جتنے بھی ہنگاموں سے گزر رہے ہیں، دنیا کی بساط پر وہ تمام تدبیریں، جب اسرائیل وہ بڑی جنگ چھیڑتا ہے اور امریکہ کی جگہ دنیا میں ایک حکمران ریاست کے طور پر آتا ہے، پہلی حکمران ریاست برطانیہ تھی، دوسری حکمران ریاست امریکہ تھی، تیسرا اور آخری یہ دھوکے باز، اسرائیل کی ریاست ہوگی- اس لیئے میں آپ کو یہ تجویز کر رہا ہوں کہ اینٹی کرایسٹ یا دجال اب مرحلہ دوم مکمل کر چکے ہوں گے، ایک دن جو ایک مہینے کے برابر ہے، اور تیسرے مرحلے کا آغاز ہو گا، ایک دن جو ایک ہفتے کے برابر ہے، یعنی بہت کم مدت- یہ وہ وقت ہے جب دہشت گردی اپنے عروج پر ہے- انہوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ ان تمام لوگوں کو قتل کرنا جاری رکھیں گے جو اسرائیل کی ریاست کے خلاف ہاتھ اٹھانے کی جرات کرتے ہیں۔ یہ دنیا کا سب سے بڑا دہشت گرد ہے- لیکن CNN آپ کو یہ کبھی نہیں بتائے گا۔ میری بات سننے کا شکریہ-

Amir H. Qureshi

13,333 Aufrufe • vor 6 Monaten

"کیا زخموں کی شماری بتآئیگی ملک سے یاری ؟" آج کی پریس کانفرنس کا سب سے نرالہ اور خطرناک مطلب یہ تھا کہ آج ڈی جی ای ایس پی آر کی طرف سے حب الوطنی کا ایک نیا معیار سیٹ کیا گیا ہے - ماضی میں کسی لیڈر کو ایجنٹ کہ دینا یا کسی کو غدار یا دشمن کا آلہ کار کہ دینا تو سنا تھا پر یہ معیار کہ جس جماعت کے زیادہ لوگ دہشت گردی کا شکار ہویے ہیں وہ زیادہ حب الوطن ہے جبکہ جس جماعت کے لوگ اس کا شکار نہیں ہوتے وہ دہشت گردوں کی سہولت کار اور ہمنوا ہے' بہت ہی خطرناک ہے - یہ بات نہ صرف حقائق کے منافی ہے بلکہ اس منصب اور ڈیوٹی کے بھی برعکس ہے جسکے تحت ملک کے اداروں کا کام یہاں سے دہشت گردی کا خاتمہ کرنا ہے نہ کہ دہشت گردوں کو نیے نیے ٹارگٹ دکھانا - 1. کی پی کے صوبے کے اسی ہزار سے زیادہ عوام دہشت گردی کا نشانہ بنے ہیں تو کیا اس کا یہ مطلب ہوگا کہ پنجاب یا سندھ کے لوگ کم حب الوطن اور دہشت گردوں کے سہولت کار ہیں ؟ 2. پیپلز پارٹی کی لیڈر بے نظیر کو شہید کیا گیا پر آج تک مسلم لیگ نواز کے کسی بڑے لیڈر کو یوں قتل نہی کیا گیا ' تو کیا یہ پیپلز پارٹی کو "محب الوطن " اور نواز لیگ کو ملک دشمن ثابت کرتا ہے ؟ 3. جہاں تک تحریک انصاف کا تعلق ہے تو یہ بات حقائق کے ہی برعکس ہے کہ ان کے لوگوں کو کبھی دہشت گردوں نے نشانہ نہیں بنایا - 2024الیکشن کے دوران اکرام الله گنڈا پور کا قتل ہو یا بونیر میں کی پی کے کے چیف منسٹر کے مشیر خاص سردار سوران سنگھ کا قتل ہو جس کی ذمے داری تحریک طالبان نے قبول کی تھی ' تحریک انصاف کے ممبر ملک لیاقت علی خان پر گولیاں چلنا ہو یا بلوچستان میں تحریک انصاف کی ریلی میں خود کش حملے کے نتیجے میں چار لوگوں کا ہلاک ہونا ہو ' یہ حب الوطنی کے سرٹیفکیٹ پر اپنے خون کی مہر ثبت کرنے کیلئے کیا کافی نہیں ہیں ؟ 4. نومبر 2022 میں عمران خان خود دہشت گردی کا نشانہ بن چکے ہیں - وزیر آباد میں ان پر جو گولیاں چلائی گئیں' کیا وہ دہشت گردی کے زمرے میں نہیں آتی ؟ اور اگر نہیں آتی تو پھر اس کا یہ مطلب کیوں نہ لیا جائے کہ وہ ان کی طرف سے ہی تھا جو آج ایک ادارے سے ایک سیاسی جماعت بن چکے ہیں ؟ 5. جہاں تک یہ بات کہ بس ایک جماعت ہی ملٹری آپریشن کے خلاف ہے ' حقائق کے منافی ہے - دہشت گردی کے خلاف ملٹری آپریشن کا فیصلہ محض تحریک انصاف کا نہیں بلکہ پورے صوبے کی تمام جماعتیں اور جرگے "امن جرگہ " میں اسی رایے کا اظہار کر چکے ہیں تو کیا اب ان سب کو بھی اپنے لاشے بچھانے پڑیں گے تب جا کر ان کی نیت پر اداروں کو یقین آئیگا ؟ 6. اور اگر اسی منطق پر چلنا ہے تو آج تک کسی تھری یا فور سٹار جرنیل کو بھی تحریک طالبان نے ڈائریکٹ ٹارگٹ نہی کیا ' تو کیا پھر ان کو بھی سہولت کار سمجھا جائے اور ان کی حب الوطنی پر بھی سوالیہ نشان لگایا جاسکتا ہے یا یہ پیشکش بس سیاسی جماعتوں کیلئے ہی ہے ؟ اب عوام جب یہ نکتہ اٹھائیگی تو کہا جائیگا کہ دہشتگردوں کو راستہ دکھایا جارہا ہے ' تو پھر سیاسی جماعت کو ٹارگٹ کرنے کے حوالے سے آج ڈی جی آئ ایس پی آر کے اس بیان کو دہشت گردوں کو تحریک انصاف کے لوگوں کو ٹارگٹ کرنے کا راستہ دکھانا کیوں نہ سمجھا جائے ؟ 7. آج کی پریس کانفرنس میں کسی طلال چوہدری کسی فیصل واوڈا اور کسی رانا ثنا الله کی طرح اپنی مرضی کے کلپس دکھاے گیے جس میں فقط تحریک انصاف کے لیڈروں کی تقریریں دکھا کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی کہ یہ طالبان اور دہشت گردوں کے سہولت کار ہیں ' تو لگے ہاتھوں ایک کلپ اس جلسے کا بھی چلا دیتے جس میں مریم نواز کی موجودگی میں "یہ جو دہشت گردی ہے " والے نعرے لگا کر اداروں کو بھی ان کا سہولت کار کہا گیا تھا ' جس پر مریم نواز محض مسکراتی رہی تھیں ' تو پھر ہمیں لگتا کہ واقعی اداروں کا کسی سیاسی جماعت سے بغض یا تعلق نہی ہوتا بلکہ وہ غیر سیاسی ہوتے ہیں - لیکن یہاں تو ایسا لگ رہا تھا کہ رانا ثنا الله وردی میں ملبوس چیخ چنگھاڑ رہے ہیں فیصل واوڈا جوش خطابت سے سرشار ہیں - 8. اس پریس کانفرنس میں یہ بھی کہا گیا کہ اگر طالبان کے خلاف آپریشن نہی کرنا تو کیا ان کے قدموں میں بیٹھ جانا ہے ' یہ ہیبت الله کو صوبے کا چیف منسٹر بنانا ہے ؟ یہ کہتے ہویے ہمارے ڈی جی آئ ایس پی آر ان طالبان کی ہسٹری ہی بھول گیے کہ آج سے پینتالیس سال قبل امریکا اور سی آئ اے کے ایماپر ان طالبان کو جنم دینے والی کوکھ بھی ہمارے اداروں کی ہی تھی - زیادہ دور نہیں جاتے 2022 میں تمام پارلیمانی جماعتوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ خیبر پختونخواہ میں دہشت گردی کا حل ان سے بات چیت ہے - اگر فوجی آپریشن مسلے کا حل ہے تو پچھلے بائیس بڑے اور چودہ ہزار کے قریب انٹیلجنس آپریشنز ' جن کی تفصیل ہر مہینے یہی ادارے آ کر بتاتے رہے ہیں ' تو یہ سب فوجی آپریشن بھی آج تک ان کو کیوں نہیں ختم کرسکے ؟ اور جو اگلا ملٹری آپریشن ہوگا اس میں ایسا کیا نیا ہوگا جو پچھلے بائیس میں نہیں تھا ؟ 9. کیا کبھی اس ملک کے میڈیا اور اداروں نے ایک عام پشتون بن کر بھی ان آپریشنز کے دوسرے پہلوؤں کے بارے میں سوچا ہے ؟ ان فوجی آپریشن میں کولیٹرل ڈیمیج جو ہوتا ہے وہ بھی اسی صوبے کے عوام کا ہوتا ہے جن کی حب الوطنی پر آج سوال اٹھاے گیے ہیں - طالبان کا جو ردعمل آتا ہے وہ بھی ان کے شہروں اور بستیوں میں آتا ہے کسی ڈی ایچ اے میں نہی - ڈرون سے لے کر فضائی حملوں میں بم کبھی بچوں اور مقامی پشتونوں اور طالبانوں میں فرق نہی کرتے اور اس بات کی ہسٹری گواہ رہی ہے - 10.لیکن سب سے اہم سوال یہ ہے کہ ملٹری آپریشن کی اجازت دینے کا مینڈیٹ کس کا ہے ؟ اگر اس ملک میں تھوڑا سا بھی آئین ' قانون اور ضابطہ بچ گیا ہے تو پھر ڈی جی آئ ایس پی آر کو یہ پڑھنا چاہیے کہ کسی بھی صوبے میں ملٹری آپریشن کا اختیار کسی ادارے کے گریڈ بائیس کے کسی افسر یا ملازم کے پاس نہی بلکہ اس صوبے کے چیف ایکزیکٹو کے پاس ہوتا ہے جس کو اس صوبے کے عوام نے منتخب کیا ہوتا ہے اور جو اس صوبے کی باقی جماعتوں ' جرگوں اور عوامی حلقوں کے باہمی مشورے سے یہ فیصلہ کرتا ہے کہ یہاں کیا کرنا ہے اور یہ مینڈیٹ کسی بھی عسکری ادارے کے پاس نہی ہے - یہ بہت بڑا لمحۂ فکریہ ہے کہ ملکہ کے دفاعی ادارے ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے لیڈروں کی دہشت گردوں کے ہاتھوں ہلاکتوں سے ہی اس جماعت کی ملک دوستی اور دہشت گردوں کے خلاف ان کی سنجیدگی کے بارے میں مطمین ہوں - پاسبانی والے اداروں کا مقتولین کی تعداد اور وکٹم کے زخموں کی بنیاد پر ان کے وفاداری کو جج کرنا میرے نزدیک ایسے ہی ہے کہ آپ ایک غازی اور ایک شہید فوجی میں آپس میں مقابلہ کروادیں کہ جو شہید ہوا ہے وہ زیادہ وفادار اور بہادر تھا اور جو جان بچانے میں کامیاب ہوگیا ہے ' اس کی بہادری اور جانثاری قابل سوال اور قابل اعتراض ہے - آپ کا کام زخموں کی گنتی سے وفاداری کی جانچ کرنا نہی بلکہ ان زخموں پر مرہم رکھنا ہے - باقی آپ ضرور ہر پریس کانفرنس میں عمران خان کے خلاف زہر اگلیں ' کیوں کہ اس سے آپ کا اپنا ہی بیانیہ کہ "آپ کا سیاست سے تعلق نہیں ہے " غلط اور جھوٹا ثابت ہوتا ہے لیکن جس بہادری اور جرات کا نشان آپ نے اپنے جسم پر ملبوس کیا ہوا ہے اس کا تو یہی تقاضہ ہے کہ ہر دوہفتے بعد ایک جیل میں بند انسان کے خلاف تین تین گھنٹے کی پریس کانفرنس کرنے کے بعد آپ کم سے کم دو مہینے میں ایک دفعہ ضرور اس کو جواب دینے کا موقع دیں کہ وہ اپنی فیملی سے مل کر آپ کے ان دعووں اور الزامات کا پوسٹ مارٹم تو کرسکے- شکریہ "قلم کی جسارت وقاص نواز " ---------------------------------------------------- Moeed Pirzada Imran Afzal Raja

Dr Waqas Nawaz

24,708 Aufrufe • vor 8 Monaten

"گفتار کا غازی " (ان کو اس ملک کا وزیر اعظم بننا ہے لیکن اس سے پہلے ان کو نارمل انسان بننے کے مرحلے سے گزرنا پڑیگا) مجھے جواد احمد کا یہ طرز گفتگو اور لہجہ دیکھ کر حیرت نہی ہوئی بلکہ مجھے تعجب ان لوگوں پر ہوا ہے جو نئی جنریشن سے مخاطب ہونے کیلئے ایسے لوگوں کو دعوت دیتے ہیں جن کو نہ یہ پتا ہے کہ اختلاف راےکو کیسے ہینڈل کرنا ہے ' نہ یہ پتا ہے کہ کسی بچے کے سوال کا جواب کیسے دینا ہے - "او تو بیٹھ جا !" "کتنے ٹک ٹاک دیکھے آج؟ " " اس کا موبائل چیک کرو " " تمہیں مسٹر چپس سے کیا پرابلم ہے - آگیا سوال کرنے" "او - تم جھوٹ بول رہی ہو - میں پولیٹکس کرتا ہوں ' مجھے پتا ہے ان کو کیسے ڈیل کرنا ہے " یہ لب و لہجہ ہے ایک پارٹی کے سربراہ کا جس کا نام ہے برابری پارٹی - "برابری " تو وہی گئی تیل لینے جب آپ کسی کے سوال پر اس قدر ججمنٹل ہوگیے کہ اس کا موبائل چیک کرنے کے درپے ہوگیے - مسٹر چپس کے ناول سے مجھے خود کوئی پرابلم نہی - ایک اچھی رومینٹک کہانی ہے جس میں مسٹر چپس کی اپنی بیوی سے محبت دکھائی گئی ہے لیکن بچے کی راے سے اگر آپ کو اختلاف بھی ہے اور اس کا سوال آپ کو ناگوار بھی گزرا ہے تو اس کا جوبہ دینے کا بھی کوئی تمیز کوئی طریقہ ہوتا ہے - ایسے لوگوں کو آپ سٹیج پر مائیک دے کر بس نئی نسل کو بدظن کرسکتے ہیں ' آگاہ اور آنلاٹین (enlighten ) بالکل نہی - یعنی ساتھ بیٹھے باقی مہمان اور اینکر بھی سمجھا رہے ہیں کہ "جواد بھائی ! اس طرح نہ کریں - بچے کا سوال ہے ' آپ اس کی ذات کو جج نہ کریں' ان کی راۓ ہے ' اس کا احترام کریں ---- پر تمیز ' شائستگی ' گفتار ' انداز' احترام راے اور اختلاف راے کیا ہوتا ہے ' ان صاحب کو یہ باتیں چھو کر بھی نہیں گزریں - سوچیں جب یہ بچے سے کہ رہے تھے کہ آج تم نے کتنی ریلیں دیکھیں ؟ تو جواب میں وہ بھی کہ دیتا کہ " آپ نے آج اپنی دوائی کھائی کے نہیں " تو یہاں لوگ کہتے کہ ذات پر بات کر دی - مجھے جواد احمد سے زیادہ برابری پارٹی کے ان تین چار اکاونٹس پر ترس آتا ہے جن کو جواد کا اب یہ لہجہ اور انداز بھی ڈیفنڈ کرنا پڑے گا - یہ بہت سخت ڈیوٹی ہے - اختلاف مجھے اقرار الحسن Iqrar ul Hassan Syed کی بھی بہت سی باتوں ہوتا ہے پر کم از کم یہ ماننا چاہیے کہ ان کا لب و لہجہ تمیز اور شائستگی والا ہوتا ہے اور بندہ گفتگو کو دلیل سے جاری رکھ سکتا ہے - پر ان صاحب سے بات کرنا ایسے ہی ہے جیسے آپ نے دھویں میں پھونکیں ماریں اور ہر پھونک کے ساتھ دھواں آپ کی سانس میں گھستا چلا جائے یا کیچڑ پر پتھر پھینکیں اور اس کے چھینٹیں آپ کے ہی کپڑوں کو مکدر کردیں - ویسے تو ان کو اس ملک کا وزیر اعظم بننا ہے لیکن وہاں تک پہنچنے کیلئے ان کو پہلے انسان بننے کے مرحلے سے گزرنا پڑیگا - "گفتار کے ایسے ہی کسی غازی " کے لب و لہجے سے عاجز ہو کر کسی شاعر نے یہ کہا تھا ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے تمہیں کہو کہ یہ انداز گفتگو کیا ہے (اب اس ٹویٹ کے جواب میں ان کا لب و لہجہ دیکھیے گا جو میری اوپر کی گئی ہر بات پر خود مہر ثبت کردیگا ) قلم کی جسارت وقاص نواز --------------------------------------------------- Jawad Ahmad

Dr Waqas Nawaz

133,993 Aufrufe • vor 11 Tagen

آج سوشل میڈیا پر ایک ایسی ویڈیو وائرل ہو رہی ہے جس نے ہر محبِ وطن پاکستانی کی آنکھیں نم کر دی ہیں۔ یہ مناظر جاپان کے ہیں، جہاں "اسپیشل بچوں" کی معصوم آوازوں میں جب “دل دل پاکستان، جان جان پاکستان” کے بول گونجے، تو وقت جیسے تھم گیا۔ یہ صرف ایک نغمہ نہیں ہے، بلکہ یہ اس عالمی عزت اور محبت کا ثبوت ہے جو آج پاکستان کو دنیا کے ہر کونے میں مل رہی ہے۔ جاپانی بچوں کی یہ آوازیں ثابت کرتی ہیں کہ پاکستان کا بیانیہ اب "خوف" کا نہیں بلکہ "محبت اور امن" کا بن چکا ہے۔ جب جاپان جیسے ترقی یافتہ ملک میں بچے ہمارا قومی نغمہ گاتے ہیں، تو یہ ہماری ثقافتی سفارت کاری کی سب سے بڑی جیت ہے۔ دل دل پاکستان" ہماری وہ شناخت ہے جو نسل در نسل اور ملک در ملک منتقل ہو رہی ہے۔ یہ ویڈیو ان دشمنوں کے منہ پر طمانچہ ہے جو پاکستان کو تنہا کرنے کے خواب دیکھ رہے تھے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دور میں پاکستان نے جس طرح عالمی سطح پر امن کے لیے کردار ادا کیا ہے، اس نے عام عالمی شہری کے دل میں پاکستان کی جگہ بنا دی ہے۔ آج دنیا ہمیں ایک "مددگار اور ذمہ دار" قوم کے طور پر دیکھ رہی ہے 🇵🇰🇵🇰😍💝😍🇵🇰🇵🇰

scorpio♏#DJ 🧓🏻

11,763 Aufrufe • vor 5 Monaten

اللہ کی فوج کے ساتھ لاکھ سپاہیوں سے دوسرا سوال: آپ کے ادارے کے سربراہ اس سدیوں میں پیدا ہونے والے لیڈر کو torture کر رہے ہیں۔ یہ وہ بندہ ہے جس سے آپ کے ملک کی پہچان ہے اور جب آپ یہ وڈیو دیکھیں گے تو مانیں گے کہ یہ سچ میں ہماری قوم کے غریبوں کے لیے درد رکھتا ہے! آپ سب فوج میں آکر شاید اپنے آپ کو عام پاکستانیوں سے الگ سمجھنے لگے ہیں، اس لیے شاید درد نہیں ہوتا آپ کے دل میں جب قوم کے لیڈر کو اس طرح ٹارچر کیا جارہا ہو ؛ آج آپ شاید محفوظ ہوں مگر یہ جو نانصافی اور ظلم ہے ، یہ آپ کے گھر تک بھی پہنچ سکتا ہے۔ بس پوچھنا یہ تھا کہ ادارے کے بڑوں کو خط یا WhatsApp بھیجنے کی اجازت ہے؟ اور اگر ہے تو کچھ گلہ کیا یا پھر یہ سمجھانے کی کوشش کی اتنا ظلم بےگناہوں پر نہیں کرنا چاہیے؟ اور اگر نہیں ہمت ہوئی یہ سب کہنے کی تو کس منہ سے اپنے بچوں کو بہادری اور حق بات کرنا سکھائیں گے؟ بندوق استعمال کرلینا بہادری نہیں ہوتی، وہ تو جنگ کے کچھ دنوں میں چلتی ہے، مگر روز مرہ زندگی میں تو اصولوں کی جنگ ہوتی ہے، کس منہ سے اصول سکھائیں گے؟ جب وہ بڑے ہو کر پچھلے تین سال کے واقعات پڑھ کر آپ سے پوچھیں گے کہ آپ کی ظالموں تک رسائی تھی مگر پھر بھی کچھ نہیں بولے ان کو! لوگوں کو بہت مان تھا آپ سب پر۔ ایک ظلم کو جھیلنے کا دکھ تو ہے ہی سب کو مگراس سے بڑا دکھ شاید مان ٹوٹنے کا ہے۔ کچھ کریں ناُ کریں، موقعہ ملے تو یہ ضرور پوچھیے گا اپنے بڑوں سے اور کچھ ساتھیوں سے کہ گولی کیوں چلائی اللہ کی فوج نے اللہ کے پر امن اور نہتے بندوں پر !

Jibran Ilyas

45,535 Aufrufe • vor 9 Monaten