Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

بریکنگ 🚨 اسرائیلی میئر رو پڑا گلیلی اسرائیل مارگلیوٹ کا میئر لائیو ٹیلی ویژن پر رو پڑا مسگاوام، تیشوبا اور گیدر کی بستیاں تباہ ہو چکی ہیں۔ "تم نے سب کچھ تباہ کر دیا ہے!!" "یا تو تسلیم کریں کہ آپ اس سے نمٹنے کے قابل نہیں ہیں یا...

33,965 Aufrufe • vor 4 Monaten •via X (Twitter)

0 Kommentare

Keine Kommentare verfügbar

Kommentare vom Original-Post werden hier angezeigt

Ähnliche Videos

صحافی: مولانا صاحب آپ نے تقریر میں غزہ کا ذکر کیا فلسطین کا ذکر بھی کیا اور آپ نے کہا کہ یہ جو بالائے طاق رکھ کے آواز ہونی چاہیے، آپ سمجھتے ہیں کہ جو بڑے ممالک ہیں اسلامی ممالک ہیں سعودی عرب ہے پاکستان ہے ترکی ہے ان سب کو بڑی توانا طریقے سے آواز اٹھانی چاہیے پلیٹ فارم کی شکل میں تاکہ یہ ظلم و بربریت کا خاتمہ ہوسکے مولانا: ہم نے تو یہاں تک تجویز دی ہے کہ اسلامی امت کی اسی حوالے سے ایک تنظیم ہونی چاہیے اور اس تنظیم کی قیادت سعودی عرب کرے کہ مرکز اسلام کی نگرانی وہ کر رہے ہیں مرکز اسلام کی خدمت وہ کر رہے ہیں تو مکہ اور مدینہ دونوں مسلمانوں کے مراکز ہیں اسلام کے مراکز ہیں اور جن کی خدمت کی ذمہ داری جو ہے اس وقت خادم الحرمین الشریفین کے ذمے ہے تو یہ مقام ان کا ہے کہ وہ اسلامی دنیا کی قیادت کریں اس حوالے سے اور اس کو منظم کریں، اسی نظم کے ساتھ اور اسی وحدت کے ساتھ ہم دشمن سے دفاع کر سکیں گے مسلمانوں کا دفاع کر سکیں گے ان سے ان کے بشر حقوق کا دفاع کر سکیں گے ورنہ اسی طریقے سے دنیا ہمارا کھیلے گی کیا ہوا کیا گزرے افغانستان کے اوپر، کیا گزری عراق کے اوپر، کیا گزری لیبیا کے اوپر، کیا گزری شام کے اوپر اور اس وقت سعودی عرب اور یمن کے درمیان جو صورتحال ہے اس پر بھی اسلامی دنیا یقیناً پریشان ہے اور یہ حق ہے اس کا اور اس وقت جو فلسطینیوں پہ گزر رہی ہے حد کر دی ہے کہ کس طریقے سے یہ لوگ آئندہ انسان کی بات کریں گے یا انسانی حق کی بات کریں گے، تو یہ ضروری ہے کہ اسلامی دنیا کی طرف انہوں نے متوجہ کیا ہے اور ہم رابطہ عالمی اسلامی کے اور خادم الحرمین الشریفین کے اور ان کے ولی عہد کے شکر گزار ہیں جنہوں نے اس اقدام سے امت کو اس اہم مقصد کی طرف متوجہ کیا۔ صحافی: مولانا صاحب کچھ ممالک نے اسرائیل کو اسلامی ممالک نے اسرائیل کو تسلیم کیا ہوا ہے تو آپ سمجھتے ہیں پاکستان پر بھی دباؤ ہو رہا ہے تو اس ساری صورتحال میں کیا لائحہ عمل ہو سکتا ہے کہ یو این تو اس پہ خاموش ہے امریکہ اس کا ساتھ دے رہا ہے تو کس طرح اسلامی ممالک اسرائیل کو روک سکیں گے؟ مولانا: اسلامی ممالک کی وحدت اور ایک موقف کے اوپر مجتمع ہونا، آج ایک موقف ہے سب کا کہ اسرائیل جو ہے وہ قابض ہے اور اس کا تسلط ہے اور فلسطینی جو ہے وہ آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں لہذا اسرائیل کو تسلیم کرنا یہ مسئلہ نہیں ہے بلکہ فلسطین کی آزادی یہ مسئلہ ہے مسلمانوں کا اور مسلمانوں کو اصل مسئلے کی طرف متوجہ ہونا چاہیے، ہمیں ایک غیر ضروری موقف کی طرف لے جایا جا رہا ہے جس میں خالصتاً یا اسرائیل کا مفاد ہے یا مغربی دنیا اور امریکہ کا مفاد ہے مسلمان کا مفاد کہاں گیا امت مسلمہ کا مفاد کہا گیا اور مسجد اقصیٰ کا حق کہاں چلا گیا جس پر مسلمانوں کا حق ہے پھر فلسطین جو ہے وہ ارض فلسطین مسلمانوں کی سرزمین ہے فلسطینیوں کی سرزمین ہے ان کی آزادی کا جو بنیادی سوال ہے جو 75 سال سے زندہ ہے کیا اس مقصد کو بھی ہم حاصل کریں گے یا نہیں کریں گے یہ بڑا بنیادی سوال ہے جی۔

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

13,145 Aufrufe • vor 2 Jahren

میری اپیل ہے تمام مخلص اور نظریاتی گراؤنڈ ورکرز سے، جو عمران احمد خان نیازی سے حقیقی محبت کرتے ہیں، کہ اب وقت آ گیا ہے کہ آپ اپنی آواز بلند کریں۔ آپ سب سے گزارش ہے کہ اپنے اپنے علاقوں میں موجود MNA اور MPA کے گھروں یا دفاتر کے سامنے پرامن احتجاجی طور پر کھڑے ہوں۔ آپ کو ان سے کسی قسم کی بحث یا جھگڑے کی ضرورت نہیں — بس اپنے ضمیر کی آواز کو ویڈیو پیغام کی صورت میں ریکارڈ کریں۔ ویڈیو پیغام میں صرف اتنا کہنا ہے: "میں اپنے علاقے کے MNA/MPA کے گھر یا دفتر کے سامنے کھڑا ہوں۔ یہ ہمارے ووٹوں سے منتخب ہو کر آیا تھا، ہمیں امید تھی کہ یہ عمران خان کی رہائی کے لیے آواز اٹھائے گا، لیکن اس نے ہمیں مایوس کیا۔ یا تو یہ بزدل ہے، یا غدار ہے، یا پھر کسی مجبوری کا شکار ہے — جو بھی وجہ ہو، عمران خان آج جیل میں ہے تو اس کا ذمہ دار یہی MNA/MPA ہے۔" یہ ویڈیو پیغام پرامن ہو، باوقار ہو، اور سچ پر مبنی ہو۔ اسے سوشل میڈیا پر پھیلائیں، تاکہ ہر پاکستانی کو معلوم ہو کہ عوام جاگ چکی ہے، اور اب کسی بے وفا نمائندے کو خاموشی کا موقع نہیں دیا جائے گا۔ اگر آپ میں یہ حوصلہ نہیں کہ اپنے علاقے کے MNA یا MPA کے گھر یا دفتر کے سامنے جا کر ایک پرامن ویڈیو پیغام ریکارڈ کر سکیں… تو معذرت کے ساتھ، آپ حقیقی آزادی کی جنگ، عمران خان کی رہائی، یا پاکستان کی بقا کے دعوے صرف باتوں تک محدود رکھیں۔ لیکن مجھے یقین ہے! وہی مخلص، نظریاتی کارکن جو دل سے عمران خان سے محبت کرتے ہیں — وہ ضرور کھڑے ہوں گے، سچ بولیں گے، اور یہ پیغام سوشل میڈیا پر پھیلائیں گے۔ #مائنس_عمران_خان_نامنظور #رہائی_تک_مزاحمت #ReleaseImranKhan Aleema Khanum Mian Abbad Farooq Waqar Malik

Ayesha Khan

28,126 Aufrufe • vor 1 Jahr

نئے صوبے بنانا، نئے ڈویژن بنانا، نئے ضلعے بنانا، نئی تحصیلیں بنانا اور نئے ٹاؤن بنانا، یہ انتظامی معاملات ہیں۔ بھارت میں بھی نئے صوبے بنے ہیں، لیکن ہمیں اپنے ملک کی انتظامی ساخت کو پہلے دیکھنا چاہیے، اس کا پورا مطالعہ کرنا چاہیے۔ نقوی صاحب ہمارے برخوردار ہیں، لیکن کچھ وقت سے پہلے بالغ ہوگئے ہیں۔ اب یہ معلوم نہیں کہ انہوں نے یہ بات اپنی ذاتی حیثیت میں کی ہے یا نہیں۔ لیکن اپنی ذاتی حیثیت میں بات کرنا کیسے ممکن ہے، جبکہ وہ اس وقت وفاقی کابینہ کے رکن ہیں۔کیا وہ یہ کہہ سکتے ہیں؟ یا وزیراعظم پاکستان یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ میری آشیرباد پر ہوا ہے، یا میری اجازت سے ہوا ہے؟ یا وفاقی کابینہ یہ کہہ سکتی ہے کہ یہ ہماری اجازت سے ہوا ہے؟ یا اگر کسی اور طرف سے کوئی بات ہوئی ہے تو وہ بھی واضح کر دی جائے۔ کیا ملک اس بات کے لیے تیار ہے کہ نئے صوبے بنائے جائیں؟ صوبے بنانا کوئی بری بات نہیں، میں ایک سال سے زیادہ عرصہ چیختا رہا کہ فاٹا ابھی انضمام کے قابل نہیں بنا۔ مگر ہمارے سر پر یہ تھوپ دیا گیا کہ تم تو انضمام کے مخالف ہو۔ ہم نے کہا، نہیں، ہم انضمام کے خلاف نہیں ہیں۔ یہ فاٹا کے عوام اور ان کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ ہے، لہٰذا اس میں کئی آپشنز ہو سکتے ہیں۔ ذرا وہاں کے عوام سے بھی پوچھ لیا جائے کہ وہ صوبے میں انضمام چاہتے ہیں، ایک الگ صوبہ چاہتے ہیں، یا اپنی سابقہ حیثیت برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ لیکن ان سے نہیں پوچھا گیا۔ آج وہ خود کہہ رہے ہیں کہ ہم سے غلطی ہو گئی۔ وہاں کے عوام کی زندگی اب ایسی ہو گئی ہے کہ وہ خود نہیں سمجھ رہے کہ ہم اب فاٹا ہیں یا صوبے کا حصہ ہیں۔ وہاں کوئی نظام موجود نہیں ہے، باقی نظام تو دور کی بات ہے۔ یہ کوئی کیک تو نہیں کہ آپ آرام سے چھری لے کر جس طرح چاہیں اسے کاٹ دیں۔ صوبہ بنانے کی بات کے لیے کیا ملک تیار ہے؟ آپ مجھے بتائیں، اگر چار یا پانچ بھائیوں کا مشترکہ مکان ہو اور اس کے بعض حصوں میں آگ لگ جائے، تو اس وقت وہ آگ بجھائیں گے یا کہیں گے کہ آئیے بھائی، پہلے اس کی تقسیم کر لیتے ہیں؟ ہر چیز کے لیے ایک مناسب ماحول بنانا پڑتا ہے۔ سوائے اس کے کہ عوام کو جو مسائل درپیش ہیں، جو مشکلات ہیں، جو بدامنی ہے، جس نے زندگی اجیرن بنا دی ہے، ان سے لوگوں کی توجہ ہٹانے کے لیے آپ ہم سب کو ایک نئی بحث میں لگا دیتے ہیں۔ روز نئے ایشو اٹھاتے ہیں، پھر اس پر بحث ہوتی ہے۔ یہ صوبوں والی بحث پہلے بھی کئی بار ہو چکی ہے۔ ہم اصولی طور پر صوبوں کے خلاف نہیں ہیں، لیکن اگر قومیتوں کی بنیاد پر بنیں گے تو پھر ان کی شکل کیا ہوگی؟ اور اگر محض انتظامی بنیادوں پر بنیں گے تو پھر ان کی شکل کیا ہوگی؟ اس پر ہر صوبے کے عوام کا ردِعمل آئے گا۔ وہ کہیں گے کہ یہ ہونا چاہیے یا نہیں ہونا چاہیے، مجھے اس صوبے میں شامل کرو یا نہ شامل کرو۔ یہ سارے معاملات ابھی باقی ہیں۔ ایک مشکل مسئلے میں اتنی آسانی کے ساتھ ہاتھ ڈال دیا گیا ہے کہ شاید یہ ان کے بس میں نہ ہو، بلکہ اس سے مشکلات اور پیچیدگیوں میں مزید اضافہ ہو جائے۔ یہی میرے خدشات ہیں۔ ہر چیز مشاورت سے ہونی چاہیے تھی۔ یہ پورے ملک کا مسئلہ ہے، ملک کے ہر شہری کا مسئلہ ہے۔ یہاں مختلف قومیتیں رہتی ہیں، ان کی اپنی ایک شناخت ہے۔ آپ اس شناخت کو نظرانداز کریں گے یا اسے سامنے رکھ کر فیصلے کریں گے؟ یہ سارے معاملات غور و فکر کی ضرورت ہیں۔ میں ایک عرصے سے کہہ رہا ہوں کہ یہاں جمہوریت نہیں ہے، یہاں پارلیمنٹ کی اہمیت ختم ہو گئی ہے۔ لیکن اب کیا کرنا ہے؟ ہم تو کہتے ہیں کہ اس کا حل آج بھی ہے اور کل بھی تھا، وہ ہے ملک کا آئین۔ آئین کے مطابق ملک کو چلاؤ، جمہوریت بھی ٹھیک ہو جائے گی، اور اللہ کے دین اور اس کے احکامات کے مطابق قانون سازی بھی شروع ہو جائے گی۔اور عوام میں خود اعتمادی بھی پیدا ہوگی کہ اصل میں ہماری مرضی کی حکومتیں ہونی چاہئیں، ہم پر جبراً کوئی حکومتی مسلط نہ کی جائے۔ لیکن وہ دھاندلیوں کے ذریعے دھوکہ دیتے ہیں، جیسے واقعی یہ عوام کی حکومتیں ہوں، جبکہ یہ بھی انہی کی حکومتیں ہوتی ہیں اور ان کی لگام بھی انہی کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ اس حوالے سے عوام پریشان ہیں، عوام کی کوئی حکومت نہیں ہے۔ میں یہ سوچتا ہوں کہ پہلے یہ بتایا جائے کہ انہوں نے یہ باتیں کس حیثیت میں کی ہیں؟ وہ کابینہ کے رکن ہیں۔ اگر نظام ناکام ہو چکا ہے تو یا تو اپنی حکومت سے کہیں کہ وہ مستعفی ہو جائے، یا پھر کم از کم خود مستعفی ہو کر میدان میں آ جائیں۔ نہیں، نوکری بھی اسی تنخواہ پہ کرنی ہے اور باتیں بھی بڑی بڑی کرنی ہیں، تو میں اب کیا کہہ سکتا ہوں۔ 'چھوٹے لوگوں کو بڑا کہنا پڑا ہے مجھ کو اکثر، ایسی تکلیف کئی بار اٹھائی میں نے۔' امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمٰن کی کوئٹہ میں صحافیوں سے گفتگو

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

42,957 Aufrufe • vor 14 Tagen

اللہ کی فوج کے ساتھ لاکھ سپاہیوں سے دوسرا سوال: آپ کے ادارے کے سربراہ اس سدیوں میں پیدا ہونے والے لیڈر کو torture کر رہے ہیں۔ یہ وہ بندہ ہے جس سے آپ کے ملک کی پہچان ہے اور جب آپ یہ وڈیو دیکھیں گے تو مانیں گے کہ یہ سچ میں ہماری قوم کے غریبوں کے لیے درد رکھتا ہے! آپ سب فوج میں آکر شاید اپنے آپ کو عام پاکستانیوں سے الگ سمجھنے لگے ہیں، اس لیے شاید درد نہیں ہوتا آپ کے دل میں جب قوم کے لیڈر کو اس طرح ٹارچر کیا جارہا ہو ؛ آج آپ شاید محفوظ ہوں مگر یہ جو نانصافی اور ظلم ہے ، یہ آپ کے گھر تک بھی پہنچ سکتا ہے۔ بس پوچھنا یہ تھا کہ ادارے کے بڑوں کو خط یا WhatsApp بھیجنے کی اجازت ہے؟ اور اگر ہے تو کچھ گلہ کیا یا پھر یہ سمجھانے کی کوشش کی اتنا ظلم بےگناہوں پر نہیں کرنا چاہیے؟ اور اگر نہیں ہمت ہوئی یہ سب کہنے کی تو کس منہ سے اپنے بچوں کو بہادری اور حق بات کرنا سکھائیں گے؟ بندوق استعمال کرلینا بہادری نہیں ہوتی، وہ تو جنگ کے کچھ دنوں میں چلتی ہے، مگر روز مرہ زندگی میں تو اصولوں کی جنگ ہوتی ہے، کس منہ سے اصول سکھائیں گے؟ جب وہ بڑے ہو کر پچھلے تین سال کے واقعات پڑھ کر آپ سے پوچھیں گے کہ آپ کی ظالموں تک رسائی تھی مگر پھر بھی کچھ نہیں بولے ان کو! لوگوں کو بہت مان تھا آپ سب پر۔ ایک ظلم کو جھیلنے کا دکھ تو ہے ہی سب کو مگراس سے بڑا دکھ شاید مان ٹوٹنے کا ہے۔ کچھ کریں ناُ کریں، موقعہ ملے تو یہ ضرور پوچھیے گا اپنے بڑوں سے اور کچھ ساتھیوں سے کہ گولی کیوں چلائی اللہ کی فوج نے اللہ کے پر امن اور نہتے بندوں پر !

Jibran Ilyas

45,518 Aufrufe • vor 8 Monaten

بریکنگ نیوز 🚨عمران خان کے ساتھی وقار یونس نے بھی خُوف کے بُت پاش پاش کردیے۔ عمران خان کی قائدانہ صلاحیتوں اور ایمانداری کی کھل کر تعریف کرڈالی، بڑی گواہی دے دی مخالفین کو تتے توے پر بیٹھا دیا 🔥🔥 عمران بھائی اگر مجھے کہتے نہ کہ اس چھت سے چھلانگ مارو، تو میں نے دوسری دفعہ پوچھنا نہیں تھا کہ کیوں؟ ٹانگ ٹوٹ سکتی ہے، یہ ہو سکتا ہے، وہ ہو سکتا ہے۔ کنسیکوئنسز (نتائج) ہم لوگوں نے نہیں دیکھے تھے۔ میرے خیال میں جو Success بھی تھی ہماری وہ اسی لیے تھی کہ ہم نے ایک ایسے قائد کی پیروی کی جو ایماندار تھا اور جو ہم سے بہترین کارکردگی چاہتا تھا اور I Think انہوں نے جو سکھایا ہے، یا جو انہوں نے کر کے دکھایا ہے، جو Attitude کے Issues ہوتے ہیں۔ بولرز یا کرکٹرز کے۔ آپ جانتے ہیں مہارت تو سب کے پاس ہوتے ہے talent بھی سب کے پاس ہوتا ہے، ایک ایٹی ٹیوڈ ہوتا ہے۔ میرا خیال ہے کہ وہ Attitude ان کی طرف سے آیا۔ میرے لیے، میرے والد کے بعد میری زندگی پر سب سے بڑا اثر عمران خان کا ہے۔ وہ ہمارا ہیرو ہے، ہمیں اُس پر فخر ہے۔

‏زہـــرہ لیــاقت

14,718 Aufrufe • vor 15 Tagen