Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

بریکنگ نیوز 🚨خان کا سچا کھلاڑی چھا گیا، شہباز گل صاحب نے اعلٰی ظرفی کی مثال قائم کردی۔ شفیع جان کو معاف کرتے ہوئے ساتھ ہی بڑا اعلان کردیا۔ کوئی بھی اب تنقید نہ کرے شفیع جان پر 🔥🔥 ایک دو دن پہلے شفیع جان صاحب جو مجھ سے...

12,770 Aufrufe • vor 12 Tagen •via X (Twitter)

0 Kommentare

Keine Kommentare verfügbar

Kommentare vom Original-Post werden hier angezeigt

Ähnliche Videos

اگر جنرل صاحب کہتے ہیں آپ مجھے بھی کچھ نہ کہیں میں جو کچھ کروں میری مرضی ہے نہ میری عقل کسی کی پابند ہے نہ میری محنت کسی کی پابند ہے میرے خیال میں یہ درست نہیں ہے اگر ہم سیاسی جماعتوں پر تنقید کر سکتے ہیں ہم صدر اور وزیراعظم پر تنقید کر سکتے ہیں یا تو پھر یہ کہیں کہ ہمارا ادارہ جو ہے وہ سیاست سے کوئی تعلق نہیں اور جنرل آ کر ٹی وی پر کبھی کہتے بھی ہیں کہ ہمارا سیاست سے کوئی تعلق نہیں لیکن اگر واقعتا ان کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے الیکشن میں کوئی دھاندلی نہیں کرتے الیکشن میں ان کا کوئی کردار نہیں ہوتا تو پھر تو ہم بھی کہیں گے کہ ہم نے غلط کیا لیکن اگر وہ الیکشن میں بھی اپنی دھاندلیاں کرتے رہے یعنی عجیب بات یہ ہے کہ اس 24 کے الیکشن میری معلومات کے مطابق 70 ارب روپیہ ایک صوبے سے انہوں نے نکالا کہتے ہیں کہ کس طرح ہم ان کو کہیں ابھی کہتے ہیں کہ اپ حافظ جی یا نابینہ کو نابینا نہ کہیں وہ بتائیں کہ اگر نابینے کو نابینا نہیں دیں گے تو کیا کہیں گے۔ مولانا عطاء الرحمن صاحب #سلیکشن_مافیا_نامنظور #آئین_شکن_مقدس_گائے #معافی_مائی_فٹ #لشکر_نہیں_خود_لڑو #شہداء_کو_ڈھال_نہ_بناؤ #پروپیگنڈہ_چھوڑو_امن_دو

Sadaqat Khan

19,539 Aufrufe • vor 1 Monat

بریکنگ نیوز 🚨شہباز گل اپنے موقف پر، اپنے کیے گئے انکشاف پر ڈٹ گئے، اور ساتھ ہی ایک اور بڑا تہلکہ خیز انکشاف کرکے سہیل آفریدی کو چیلنج کردیا 🔥🔥 کل کے جو آپ کے انٹرویوز آئے اُس میں آپ نے Deny کیا اُس خبر کو جو ہم نے دی تھی۔ خبر یہ تھی کہ آپ کی ایک بہت ہی اہم شخصیت کے ساتھ ملاقات ہوئی اور ہم نے کورکمانڈر کا نام لیا تھا۔ پہلے ہم نے جس دن خبر دی بتایا کہ دو سے چار بجے، اُسی دن ہمارے سورس نے کنفرم کیا کہ ٹائمنگ غلط تھی چار بجے کے بعد اور یہ بھی بتایا کہ وہ سنئیر ترین پولیس افسران کے ساتھ ملاقات میں تھے، آئی جی کے گھر کے قریب۔ کتنی گاڑیوں پر گئے، کون کون انکے ساتھ تھا کورکمانڈر کے، کیسے وہ چیف منسٹر ہاؤس تک پہنچے۔ وہ تمام چیزیں ہمارے علم میں ہیں، ہم ان Details میں نہیں جارہے۔ اور ہمارے Source نے بتایا کہ ملاقات چار ساڑھے چار بجے کے بعد ہوئی، اگلے ہی ویلاگ میں ہم نے وہ اپڈیٹ کیا۔ آپ نے کہا کہ وہ ملاقات نہیں ہوئی۔ میری پوری ذمہ داری کے ساتھ انفارمیشن شئیر کرتا ہوں، اگر خبر غلط ہو تو میں پہلے ہی کہے دیتا ہوں، یہ سنی سنائی ہے، ہم اسکے اوپر پہرہ نہیں دے سکتے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ آپ کے بہت قریبی شخصیت وہ اس کے سورس ہیں اور وہ ڈرتے بھی نہیں ہیں، اور وہ کہتے ہیں کہ آپ بتا دیں، میں پکڑا بھی گیا تو خیر ہے، لیکن یہ آفریدی صاحب کو پتہ ہونا چاہیے کہ سب کو پتہ ہے۔ اچھا اب کیا آپ پہلی مرتبہ کورکمانڈر سے ملے ہیں، کئی مرتبہ پہلے بھی ملے ہیں۔ اب آپ اس ملاقات کو Deny کر رہے ہیں۔ میں کہے رہا ہوں ایک ملاقات نہیں، آپ کی بہت ساری ملاقاتیں ہوئیں اور پہلے بھی ہوتی رہیں اور آئندہ بھی ہونگی اور ہمارے بہت ساری ملاقاتیں علم میں بھی ہیں اور ہم نے کبھی یہاں سے رپورٹ نہیں کیا کیونکہ وہ Importants نہیں ہیں۔ آپ چیف منسٹر کے عہدے پر ہیں کئی وجوہات کی بناہ پر آپ کو ان سے ملنا پڑ سکتا ہے۔ اب کیونکہ یہ جلسے سے ایک دن پہلے معاملہ تھا اور پھر 27 تاریخ کے اوپر ہماری Reservations ہیں۔ کورکمیٹی کے اندر یہ ڈسکس نہیں ہوا، پولیٹیکل کمیٹی کے اندر یہ ڈسکس نہیں ہوا۔ بہت سے سنئیر لوگوں سے میں نے پوچھا، انہوں نے کہا کہ ہمارے علم میں نہیں ہے کہ Date کیسے دی گئی ہے۔ اُسی پر میں نے بھی سوالات اُٹھائے، مراد سعید صاحب نے بھی اُٹھائے اور علیمہ خانم صاحبہ نے بھی اُٹھائے۔ اب آپ نے کہا کہ ملاقات نہیں ہوئی، میں ابھی بھی پوری ذمہ داری سے اور ایمانداری سے اپنی خبر کے اوپر کھڑا ہوں کہ ملاقات ہوئی۔ بلکہ آپ کو ایک اور Interesting بات بتا دوں۔ کل تین آپ کے انٹرویو چلے، تین ڈیفرنٹ چینل پر۔ حالانکہ پورے سال کے اندر کبھی آپ کا کوئی بھی ایسا انٹرویو چلنے کی اجازت نہیں تھی۔ میرے فون کے اندر میسج ہے کبھی اچھے دن آئیں گے تو یہ کیمرے میں ریکارڈ کر لیجیے تاکہ ثبوت رہے کہ جن تین لوگوں نے کل آپ کا انٹرویو لیا، انٹرویو کے فوراً بعد اُنہی کی ٹیم میں سے مجھے یہ میسج بھیجا گیا۔ وہ بہت ہی معتبر شخصیت جنہوں نے میسج بھیجا کہ آپ کو پتہ ہے آپ کے چیف منسٹر نے آپ کی خبر کو جھٹلا دیا ہے کہ اُنکی ملاقات نہیں ہوئی، میں نے آگے سے کہا مجھے پتہ ہے اور ان کا جھٹلانا ہی بنتا ہے، یہی انکی پوزیشن ٹھیک ہے۔ میں بار بار تو چیزیں Rep نہیں کروں گا، میں نے جو کہنا تھا کہے دیا۔ تو اُس شخصیت نے آگے سے کہا کہ میری بھی یہی خبر ہے کہ اُنکی ملاقات ہوئی ہے۔ یہ میں بالکل خدا کو گواہ بناکر آپ کو بات کہتا ہوں اور یہ انہوں نے کہا اور کبھی آپ کو دیکھا بھی دیں گے اُنکی اجازت سے ویسے نہیں۔ ان سے اجازت لے کے اور وہ اجازت دے بھی دیں گے کیونکہ وہ خان صاحب کے خیرخواہ ہیں اور وہ چاہیں گے کہ آپ کو بھی پتہ چلے کہ میرے پاس یہ خبر تھی۔ اور انہوں نے ایک جملہ بولا کہ ایسی ملاقاتیں چھپتی تھوڑی ہیں۔ اگر مجھے ساری Details پتہ ہے، ایک ایک بات پتہ ہے اور آپ کو بھی پتہ ہے، تو CM صاحب کو بھی چھپانی نہیں چاہیے تھی۔ میں اپنی خبر پر ابھی بھی قائم ہوں کیونکہ اگر یہ خبر غلط ہوتی تو میں خود مانتا اور آپ سے معذرت کرتا کیونکہ کوئی میرا یہ کوئی IQ لیول کا ٹیسٹ تو نہیں ہے ناں۔

‏زہـــرہ لیــاقت

64,969 Aufrufe • vor 10 Tagen

سوال: اچھا مولانا صاحب ملک کے بہتر مفاد میں آپ عمران خان سے بھی مل سکتے ہیں ان کو شامل ہونے کی دعوت دے سکتے ہیں؟ جواب: دیکھیے ہر چیز باوقار انداز سے ہو اس میں کوئی شک نہیں کہ دس بارہ سال ہم ایک دوسرے کے بڑے مد مقابل رہے ہیں اور ہمارے بڑے تحفظات ہیں اور ان کو اگر دور کیا جاتا ہے تو ہم سیاسی لوگ ہیں مذاکرات سے بھی انکار نہیں کریں گے اور مذاکرات کے لیے اگر ماحول بنتا ہے تو اس کی بھی حوصلہ افزائی کریں گے ہم کوئی مستقل جھگڑے اور جنگ اور تلخیاں اس کو باقی رکھنا نہ ملک کے مفاد میں سمجھتے ہیں نہ ہمارے سوسائٹی کے مفاد میں ہے۔ سوال: آپ کی طرف سے ویلکم ہے عمران خان کے لیے۔۔ تو یہ ذرا واضح کیجیے گا اگر آپ کو ضرورت پڑتی ہے یا۔۔۔۔ جواب: میرے پاس ان کے دو وفود آئے ہیں اس کے باوجود ان کے لوگ جو ہیں وہ مجھے مسلسل مل رہے ہیں چاہے آف دی ریکارڈ مل رہے ہیں یا میڈیا کے سامنے بھی مل رہے ہیں تو ملتے ہیں اور یہی گفتگو چل رہی ہے کہ آپس کے جو تحفظات ہیں کس طرح ان کو دور کرنے کے لیے ماحول بنایا جائے۔ سوال: مولانا صاحب ابھی آپ نے فرمایا کہ 10 12 سال کی تلخیاں تھی اب آپ سیاسی طور پر کہہ رہے ہیں کہ سیاسی لوگ دروازے کھلے رکھتے ہیں تو جو سب سے زیادہ پچھلے سات آٹھ سالوں میں آپ کی طرف سے الزام کہ یہ یہودی لابی ہے تو یہ سیاسی تلخیاں ختم ہوں گی تو آپ ان کو یہودی لابی سے مسلمان لابی میں کیسے دیکھیں گے؟ جواب: یہ بات ذہن میں رکھے اگر ہم نے برصغیر کی سیاست میں کسی کو انگریز کا ایجنٹ کہا ہے یا ہم نے عالمی سطح پر کسی کو امریکہ کا ایجنٹ کہا ہے تو یہ عنوان ہے یہ گالی نہیں ہے مطلب یہ ہے کہ جو عالمی سطح پر ایک ورلڈ وائڈ جو ایکنامک نیٹ ورک ہے اور اس کے اوپر جو جیوش کی ایک بالادستی ہے جب میں دیکھوں گا کہ میرے ملک کو بھی اس نیٹ ورک کے اندر ڈالا جا رہا ہے اور یہاں پر میں سود کے خاتمے کی بات کرتا ہوں اور میں مکمل طور پر عالمی سطح پر سودی نظام کے اندر جا رہا ہوں ان کی معیشت کے اصولوں کے مطابق چلوں گا تو اس سے میرا اختلاف ہوگا اب اس اختلاف کا عنوان اگر یہ ہے کہ یہودی ایجنٹ تو اس کو گالی کیوں کہا گیا اس کو سنجیدگی سے لینا چاہیے تھا مجھ سے پوچھنا چاہیے تھا کہ آپ یہ بات کیوں کہہ رہے ہیں اگر میں کہتا ہوں کہ قادیانیوں کو دوبارہ مسلم سٹیٹس پاکستان میں دینا یہ میرے تحفظات ہیں بجائے اس کے کہ آپ مجھے اس کے بدلے میں گالیاں دیں آپ مجھے مطمئن کریں میں پاکستان کا شہری ہوں میرے پیچھے کچھ لوگ ہیں ان کے ایک سوچ ہے ان کے تحفظات ہیں میں ان کے نمائندگی کر رہا ہوں اگر میں کہتا ہوں کہ پاکستان میں مغربی تہذیب کو فروغ دیا جا رہا ہے اور ہماری اسلامی اور مشرقی تہذیب جو ہے اس کا خاتمہ کیا جا رہا ہے اس کے بدلے میں گالی دینے کی بجائے مجھ سے پوچھا جائے مجھ سے بات کی جائے سیاستدان کا کام یہی ہوتا ہے اگر میں نے آپ کے اوپر کوئی اعتراض کیا ہے یا آپ کے ساتھ میں کوئی ایک تحفظات کا اظہار کیا ہے تو اپ کا فرض بنتا ہے کہ آپ یہ بات کہے کہ فضل الرحمان یہ بات آپ کیوں کر رہے ہیں مجھے تاکہ جب میں آپ کے ساتھ اپنی بات رکھوں تو آپ یا مجھے مطمئن کر سکیں اس بات پر کہ میں میرے ایجنڈا نہیں ہے یا یہ کہ یہ میرا ایجنڈا ہے اور آپ کے مفاد کے لیے ہے کچھ تو کرنا پڑے گا نا جی تو یہ چیزیں جو ہیں ان کو سیاسی طور پر ہم لے رہے ہیں اور آج جب ان کے لوگ آئے ہیں اگر یہ لوگ 12 سال پہلے بھی اتے تب بھی میرے یہی ایٹیٹیوڈ ہوتا اور اگر آج آئے ہیں تب بھی میرا وہی ایٹیٹیوڈ ہے

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

17,018 Aufrufe • vor 2 Jahren

"میں سب سے پہلے اپنے وزیراعلی سے ایک شکوہ ضرور کروں گا کہ وہ کل میرے علاقے دیر تشریف لائے حالانکہ سوات میں ان کا کوئی معمولی سا دورہ تھا جس کے لیے وہ گئے تھے لیکن پھر شاید کوئی یہ بات ان کے علم میں لایا ہو گا کہ دیر میں اس طرح کا واقعہ ہوا ہے۔ ہم مہمان نواز لوگ ہیں، ہماری دہلیز پر اگر کوئی دشمن بھی چل کر آئے تو ہم اسے خوش آمدید کہتے ہیں، یہ تو ہمارے اپنے وزیراعلیٰ ہیں۔ لیکن جس طریقے سے وہ آئے اور جس طریقے سے وہ گئے، میرے خیال میں یہ دیر کے ان غیرت مند لوگوں کی ایک قسم کی توہین ہے۔ اور توہین اس بنیاد پر ہے کہ اس وقت ہسپتالوں میں تین شہداء اور دیگر لوگ پڑے تھے۔ میڈیا نے بھی دیکھا، کچھ لوگوں اور ان پولیس والوں نے جو وزیراعلیٰ سے فریاد اور شکایتیں کر رہے تھے، آپ نے بھی سنا ہو گا۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ چونکہ وہ صوبے کے چیف ایگزیکٹو ہیں۔ آپ دیر آ رہے ہیں، سیکیورٹی کی اتنی بڑی خلاف ورزی ہوئی ہے۔ آپ کور کمانڈر کو، آئی جی خیبر پختونخوا کو، یہاں کے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور تمام متعلقہ انتظامیہ کو بلاتے اور میٹنگ کرتے۔ میٹنگ میں دیر کے عمائدین کو بلاتے، سیاسی پارٹیوں کو بلاتے، اور سوال کرتے، کسی کو جوابدہ بناتے۔ یہ کس طرح کا دورہ تھا کہ آپ آئے اور واپس چلے گئے اور نہ کسی سے سوال ہوا نہ کسی سے جواب طلب کیا گیا؟ کیا دیر کی ماؤں نے بیٹے اس لیے جنم دیئے ہیں کہ وہ اس طرح کی ایک سنسان جنگ میں مارے جائیں گے اور کوئی اس پر سوال بھی نہیں اٹھائے گا، کوئی اعتراض بھی نہیں کرے گا؟ اور مجھے تحریک انصاف کے اپنے کارکنوں سے بھی گلہ ہے کہ وزیراعلیٰ کا جس طرح انہوں نے استقبال کیا اور ہسپتال کے اندر نعرے بازی کر رہے تھے، کیا وہ ادھر کوئی فتح کا جشن منانے آئے تھے؟ ہمیں ان رویوں کو تبدیل کرنا ہو گا۔ دیر ہمارا وطن ہے، یہ سیاست پیچھے ہے، دیر کی غیرت اور ناموس آگے ہے۔ ترجمان تحریک تحفظ آئین پاکستان اخونزادہ حسین احمد یوسفزئی

Tehreek-e-Tahafuz-e-Ayin-e-Pakistan

12,370 Aufrufe • vor 1 Monat

مجھے اکثر کہتے ہیں کہ آپ انسانی حقوق کی تنظیموں سے کیوں نہیں رابطہ کرتے تو میں یہ کہتی ہوں کہ وہ سب کچھ دیکھ رہے ہیں جتنا ظلم پاکستان میں ہوا ہے وہ چھپا نہیں ہے، جہاں پہ یہ 26 نومبر ہوا وہاں پر ایمبیسیز تھیں ان کو سب پتہ ہے لیکن وہ ان کو سپورٹ کرتے ہیں، اوورسیز پاکستانی بہت بڑی طاقت ہیں جو عمران خان کے ساتھ ہیں، عمران خان ہمیشہ کہتے ہیں کہ یہ وہ لوگ ہیں جو پاکستان کو ہر مشکل سے نکالیں گے کیونکہ ان کے پاس آزادی بھی ہے اور ان کے پاس طاقت بھی ہے، پاکستان میں لوگ اتنے مجبور ہو چکے ہیں کہ اگر کوئی عمران خان کے لیے کاروبار والا انسان ساتھ دیتا ہے تو اس کا کاروبار بند ہو جاتا ہے، اوورسیز اس لحاظ سے بہت آزاد ہیں وہ پاکستان کے لیے بھی آواز اٹھائیں عمران خان کے لیے بھی بتائیں کہ ان کے ساتھ کیا ظلم ہو رہا ہے جیل کے اندر کتنا برا سلوک ہو رہا ہے اور یہ لوگ کتنے بڑے مجرم ہیں جو اس وقت وہاں پہ کھڑے ہیں، یہ سمجھ رہے ہیں کہ یہ امریکہ ہمیں بچا لے گا ان کو کوئی بھی نہیں بچا سکے گا یہ ان کا آخری وقت چل رہے اور میرا خیال ہے اس کے بعد شاید پاکستان ظلم سے آزاد ہو جائے گا کیونکہ یہ ظلم بہت سالوں سے کرتے رہے ہیں تو مجھے امید ہے انشاءاللہ یہ آخری وقت ان کا چل رہا ہے۔ نورین نیازی #AllowAccessToImranKhan #ImranKhanHealthEmergency

Qasim Khan Suri

40,639 Aufrufe • vor 5 Monaten

27 ستمبر کی کال دیے ہوئے 2 دن ہوئے ہیں۔۔۔۔ انتظامیہ کی تیاری پہلے سے مکمل تھی۔۔۔ اسلام اباد میں چادر اور چار دیواری کے تقدس کو پامال کیا جا رہا ہے۔۔۔۔ ورکرز کو گرفتار کیا جا رہا ہے یہ سب کچھ سہیل آفریدی کی سہولت کاری کی بدولت ہو رہا ہے تاریخ اٹھا کر دیکھیں کبھی کسی کو اتنے غدار نہیں ملے ہوں گے جتنے عمران احمد خان نیازی کو ملے ہیں خان صاحب نے جن کو کچرے سے اٹھا کر عہدہ دیا وہی خان صاحب کے ساتھ غداری کر رہے ہیں شفیع جان نے مجھے کہا کہ جو بھی احتجاج کا ہوگا وہ علامہ راجہ ناصر اور محمود خان اچکزئی کریں گے اور نو سے دس مہینے اس ٹرک کے بتی کے پیچھے ہمیں لگائے رکھا لیکن اب جو کال دی ہے اس میں ان کا ذکر تک نہیں تھا سہیل افریدی کی گینگ مجھے کہتی ہے کہ میں فلانے کا نام لوں کیا صوبے کا چیف ایگزیکٹو جس کے پاس عہدہ ہے پاور ہے اس نے فرد واحد کا نام لیا ہے. ؟ ڈرون حملوں کے حوالے سے ان کا موقف اپ کے سامنے ہے نہ انہوں نے پنجاب کی قیادت کا نام لیا ہے جو قید میں ہے خان صاحب کو ہسپتال منتقل کرنے کے حوالے سے بھی کوئی ذکر نہیں کیا گیا خان صاحب پر بھی مزید سختیاں بڑھا دی گئی ہوں گی ان کو 13 14 اگست کی تاریخ دینی چاہیے تھی اس بات کا فائدہ اٹھا کر وہ ورکرز کو پکڑ رہے ہیں میں بھی کسی جگہ پر ہوں مشکل وقت ہے گزر جائے گا خان صاحب کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے تھے کھڑے ہیں کھڑے رہیں گے ان سے میں نے سوالات کیے اسی وجہ سے مجھے پہلے بھی گرفتار کیا میں ابھی بھی حلفاً کہتا ہوں کہ 27 تاریخ کی کال کامیاب نہیں ہونے والی۔۔۔۔ کچھ نہیں ہونے والا۔۔۔۔ ہو سکتا ہے کال ملتوی ہو جائے جو کرنا ہے اسی مہینے کرنا ہے نہیں تو اپ بھول جائیں خان صاحب کی رہائی کو......

Haider Saeed

17,439 Aufrufe • vor 14 Tagen

نواب اکبر بگٹی کی شہادت کے بعد ملتان سروسز کلب میں—اس زمانے میں سروسز تھا، پھر ایم جی ایم بنایا انہوں نے—ایک فل کرنل کے ساتھ میرا مذاکرہ ہوا، جو حاضر سروس تھا اور تازہ تازہ ڈیفر (defer) ہوا تھا کہ ترقی نہیں ہوئی تھی۔ بلوچستان پر گفتگو ہوئی تو میں نے اسے کہا کہ، ”یہ اکبر بگٹی کو آپ لوگوں نے اس حالت میں مار کے بہت بڑا نقصان کیا ہے، اپنا بھی اور ہمارے ملک کا بھی۔“ کہنے لگا کہ، ”نہیں، آپ کو نہیں پتا۔“ میں نے پوچھا کہ، ”کیا نہیں پتا؟ خیر بخش مری سے زیادہ نیشنلسٹ تو کوئی بھی نہیں ہے بلوچستان میں، نہ کوئی تھا۔ وہ تو کہتا ہے کہ اکبر بگٹی کبھی بھی ان کے ساتھ نہیں تھا، کاش کہ ان کے ساتھ ہوتا!“ پھر کہتا ہے کہ، ”نہیں، آپ لوگوں کو نہیں پتا۔“ میں نے کہا کہ، ”بتاؤ پھر۔“ وہی ٹپیکل منجن کہ وہ پاکستان دشمن ہو چکا تھا، نواب اکبر بگٹی۔ وہ ڈاکٹر کے ریپسٹ کو پکڑوانا—اگر وہ فوجی ہے—تو وہ پاکستان دشمن ہو گیا؟ جب ذوالفقار علی بھٹو نے فوج کشی کی، خیر بخش مری اور اس کے قبیلے کے خلاف، تو یہی نواب اکبر بگٹی اس وقت بھٹو کا گورنر تھا؛ اور ان کو بڑا پتا چلتا ہے کہ گورنر اسٹیٹ کا نمائندہ ہوتا ہے، حکومت کا نہیں۔ تھوڑی دیر تو میں نے اس کی بکواس برداشت کی، پھر میں نے کہا، ”کہاں کے رہنے والے ہو؟“ کہتا ہے، ”چکوال کا۔“ میں نے کہا، ”ریٹائرمنٹ کا کیا پلان بنایا ہے؟“ کہتا، ”یہ میری ذاتی زندگی ہے۔“ میں نے کہا، ”تمہاری ذاتی زندگی تمہارے باپ نے تمہیں دی ہے؟ تمہاری آبائی زمین کا نہیں پوچھ رہا، یہ پوچھ رہا ہوں کہ تم نے تنخواہ میرے سے لی ہے، ریٹائرمنٹ کی پینشن مجھ سے لو گے! دو تین ڈیفنسوں میں اور کنٹونمنٹ میں جو تمہیں پلاٹ مل رہے ہیں، یہ میری زمین ہے۔ تم چکوال میں جا کے استنجا کرو گے اور میں کوہِ سلیمان میں بیٹھتا ہوں۔ مجھے دوسری سائیڈ والے بلوچ بے غیرت کہتے ہیں کہ میں پنجابیوں کے ساتھ ملا ہوا ہوں۔ تم ریٹائرمنٹ کے بعد چکوال میں جا کے بیٹھو گے اور میں وہیں بیٹھوں گا، ڈائریکٹ ان کی ہٹ (hit) میں!“ یہ ہیں جی ہمارے فیصلے کرنے والے، اور ان کا والد ان کے ورثے میں وہ ٹکسال بھی چھوڑ کے گیا تھا، جس میں یہ غدار اور غیر مسلم کا سرٹیفیکیٹ جاری کرتے ہیں! آخری بات بھی تم لوگوں نے کہ اب سخت فیصلے کیے جائیں گے، مجھے اپنے تین سالہ دور میں نرم فیصلے بتاؤ ؟ پنجاب پہ کوئی نرم فیصلہ کیا ہے ؟ فاٹا کشمیر اور بلوچستان میں کوئی نرم فیصلہ کیا ہے ؟ سندھ زرداری کو دے کہ تو کوئی سندھ پہ نرم فیصلہ کیا ہے ؟ سب سے بڑی پولیٹیکل پارٹی کو اس حد تک دیوار سے لگا کے تو تم نے ملک پہ کوئی نرم فیصلہ کیا ہے ؟ ڈروز وقت سے کہ یہ سب مل کے جب تم پہ ایک سخت فیصلہ مسلط کریں گے !

Jack~The~Ripper

19,361 Aufrufe • vor 1 Monat

آپ میں سے یہاں موجود تمام خواتین و حضرات بغیر سفارش کے بھرتی ہوئے ہیں، میرٹ ہی ہمارا اصل سرمایہ ہے، اور انشاءاللہ تعالیٰ، اسی میرٹ کی بنیاد پر ہم نے خیبر پختونخوا کی تاریخ بدل دی ہے۔ جو تصویر آپ سامنے کرسی دیکھ رہے ہیں، یہ میرے پرنسپل رہ چکے ہیں۔ اس سے بھی بڑھ کر، یہ میرے والد صاحب کے استاد بھی رہ چکے ہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ جب یہ پرنسپل تھے، تو کینٹ نمبر ون گورنمنٹ اسکول میں انہوں نے میرٹ کی بنیاد پر داخلے دیے۔ انہوں نے اس اسکول کو اس معیار تک پہنچایا کہ لوگ سفارش سے بھی داخلہ لینے پر مجبور تھے۔ جب یہ ریٹائر ہوئے، تو ایک پرائیویٹ اسکول مسلم پبلک اسکول میں چلے گئے، جہاں میں بھی پڑھتا تھا۔ یہ مسلم اسکول میں میرے پرنسپل رہے، اور میری کردار سازی اور آج یہاں تک پہنچنے میں ان کا بنیادی کردار ہے۔ میں نے اپنی پوری زندگی میں کبھی کسی استاد کے سامنے بدتمیزی نہیں کی، اور انشاءاللہ تعالیٰ آئندہ بھی نہیں کروں گا، کیونکہ معاشرے میں استاد کو روحانی باپ اور روحانی ماں کا درجہ دیا گیا ہے۔ اس لیے ہم سب پر فرض ہے کہ ہم اپنے اساتذہ کی عزت اور احترام کریں۔ جب ہم میٹرک سے فارغ ہو رہے تھے تو سر ہمارے سامنے کھڑے ہوئے اور انہوں نے ہم سے کہا آپ یہاں سے جا رہے ہیں۔ ہو سکتا ہے آپ کے ذہن میں یہ خیال ہو کہ آپ میں سے کئی ڈاکٹر بنیں گے یا انجینیئر بنیں گے، لیکن ایسا ضروری نہیں۔ ہو سکتا ہے آپ میں سے کوئی بھی ڈاکٹر نہ بنے یا کوئی بھی انجینیئر نہ بنے۔ لیکن میری ایک نصیحت یاد رکھنا: جو بھی کام کرو، کمال کا کرو، کیونکہ معاشرے میں عزت ہمیشہ کمال کے انسان کی ہوتی ہے۔ #CMKP #SohailAfridi #TeacherTribute #KPEducation

Yar Muhammad Khan Niazi

14,010 Aufrufe • vor 8 Monaten

خان صاحب کو جب ایک مہینے کے لیے مکمل آئسولیشن میں رکھا گیا تھا اور یہ خبر چلا دی گئی تھی کہ خان صاحب کو کچھ کر دیا گیا ہے تب میں بولتا رہا کہ خان صاحب ٹھیک ہیں لیکن یہ سب کچھ عوام کی پلس چیک کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے یہ بات میں نے لاکھوں لوگوں کے سامنے لائیو سٹریمنگ میں بھی کی تھی اس کے علاوہ میں نے سپیس میں بھی یہ باتیں کیں ٹویٹس پہ بھی کی اپنے ولاگ میں بھی کیں تھیں کہ یہ سب کچھ عوام کی پلس چیک کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے اور اگر ہم خاموش رہیں گے تو یہ لوگ اس چیز کو حقیقت میں کر دیں گے اب دوبارہ سے ہماری پلس چیک کی جا رہی ہے خان صاحب کو دوبارہ سے مکمل طور پر آئیسولیشن میں رکھ دیا گیا ہے جس طرح پریس کانفرنسز کی گئی اور بولا گیا کہ خان صاحب نیشنل سکیورٹی کے لیے خطرہ ہیں میرے پاکستانیوں جب جب ان لوگوں نے کسی عوامی لیڈر کے لیے یہ الفاظ بولے ہیں تو ان لوگوں نے ایسے تمام عوامی لیڈر کو راستے سے ہٹایا ہے اب باری مرشد عمران احمد خان نیازی کی ہے اگر ہم لوگ سڑکوں پہ نکل اتے ہیں تو یہ کام حقیقی طور پر نہیں ہو پائے گا اب ہمیں منگل کو بھرپور طریقے سے باہر نکل کے خان صاحب سے ان کی بہنوں کی ملاقات کو یقینی بنانا ہے پلس چیک کرنے والی بات جو میں نے سب سے پہلے کی تھی وہی بات اب سب کر رہے ہیں میری وہ بات بالکل ٹھیک ثابت ہوئی تھی اب جو بات میں کر رہا ہوں یہ بھی ٹھیک ثابت ہوگی اگر ہم باہر نہیں نکلتے تو خدانخواستہ ہم اپنے خان کو اپنے انکھوں کے سامنے سے اس دنیا سے جاتے ہوئے دیکھیں گے اگر ہم باہر نکل ائیں گے تو یہ لوگ اس شیطانی عمل کو کرتے ہوئے ڈریں گے کیونکہ عوام کا خوف ان کو ابھی بھی ڈراتا ہے۔۔۔۔

Haider Saeed

20,345 Aufrufe • vor 8 Monaten

میں آج آپ سے کچھ شکایات کرنے آیا ہوں۔ سیاست میں ایسا ہوتا ہے پریس کے لوگ باتیں کرتے ہیں ان کا حق ہے اور پریس کی آزادی ہونی چاہیے۔ لیکن اونٹ پٹانگ قسم کی باتیں بے بنیاد باتیں اور بغیر ثبوت کے باتیں (مناسب نہیں)۔ ​میں گاؤں گیا ہوا تھا وہاں میں سن رہا تھا کہ میڈیا پر آ رہا ہے کہ 'لیڈر آف دی اپوزیشن' صاحب نے پتا نہیں اپنے خاندان کے لوگوں کو کہاں کہاں لگایا ہے بہت بڑی مراعات کا مطالبہ کیا ہے اور اسپیکر کو پتا نہیں کیا کیا خطوط لکھے ہیں۔ ​میں چاہتا تو اس پر 'پریولج موشن' (تحریکِ استحقاق) لا سکتا تھا، لیکن میں ان باتوں میں پڑتا نہیں۔ آج میں نے مختصر بات کی جو ان حالات میں ضروری باتیں تھیں، میں نے اس کا (مراعات کا) ذکر نہیں کیا۔ ​صرف وضاحت کے لیے عرض ہے کہ جب سے میں اپوزیشن لیڈر بنا ہوں، شاید میرا صرف ایک خط گیا ہو اسپیکر کے پاس اور وہ بھی بہت معمولی بات کے لیے تھا۔ ​لیڈر آف دی اپوزیشن کے لیے وہی مراعات ہوتی ہیں جو ایک وفاقی وزیر (Federal Minister) کی ہوتی ہیں۔ لیڈر آف دی اپوزیشن کو رہنے کے لیے گھر دیا جاتا ہے، پتا نہیں کتنی گاڑیاں دی جاتی ہیں۔ میں جب سے اپوزیشن لیڈر بنا ہوں، میں نے اپنے پولیس اسکاٹ (محافظ دستے) کو بھی کہہ دیا ہے کہ میرے ساتھ مت جاؤ۔ ​ مجھے تو جو گھر سرکاری ملا ہوا ہے وہ گھر پر تو رانا ثنا اللہ خان رہتا ہے میں نے تو اس کو بھی وہاں سے جانے کو نہیں کہا میں کرائے پہ بھی حکومت پاکستان کی طرف سے گھر لے سکتا تھا میں نے وہ بھی نہیں لیا. نہ ہی میں نے کوئی ذاتی لوگوں کو قومی اسمبلی میں بھرتی کروایا ہے نہ ہی ایسا ہو سکتا ہے دوسرا نہ ہی میں نے کوئی مرات لی ہے نہ ہی مجھے ضرورت ہے قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی کا کچھ صحافیوں کی جانب سے کیے جانے والے نامناسب پروپیگنڈے پر جواب

Tehreek-e-Tahafuz-e-Ayin-e-Pakistan

34,798 Aufrufe • vor 4 Monaten

آپ نے ہمارے نصاب کو بھی جائز تسلیم کیا، آپ نے ہمارے مدارس کے نظم و نسق کو بھی جائز تسلیم کیا، آپ نے ہمارے مالیاتی نظام کو بھی جائز تسلیم کیا، پھر اس وقت سے لے کر آج تک مدارس کی رجسٹریشن کیوں نہیں ہو رہی؟ مدارس کے اکاؤنٹس کیوں بند ہیں؟اس کا معنیٰ یہ ہے کہ آپ مسئلے کا حل نہیں چاہتے۔ آپ کسی طرح چاہتے ہیں کہ مدارس اشتعال میں آئیں، سڑکوں پر آئیں، نوجوان کو اشتعال ملے، وہ بندوق کی طرف جائے، اور پھر ریاست بندوق کی طاقت کو طاقت کے ساتھ مارنے کے لیے اپنے لیے ایک جواز مہیا کر سکے۔ سو، ہم نے آپ کو یہ جواز مہیا نہیں کیا۔ ہم نے اس ملک کو پُرامن ملک بنانے کی کوشش کی۔ تاہم ایک گروہ ضرور ہے جو پہاڑوں میں چلا گیا، جو بندوق لے کر کھڑا ہو گیا، لیکن وہ بندوق اٹھا کر جب افغان_ستان جا رہا تھا تو آپ نے افغانس_تان جانے کے لیے اس کا راستہ روکا؟ آپ امریکہ کے اتحادی بھی بنے، آپ نے ہوائی اڈے بھی دیے، فضائیں بھی ان کو دیں، یہاں سے جہاز بھی اڑتے تھے، ان فضاؤں سے گزر کر وہاں پر بمباری بھی کرتے تھے، اور دوسری طرف اس جنگ میں شریک ہونے کے لیے پاکستانی مجاہد بھی جا رہا تھا، اور تم بھی اس کو تھپکی دے رہے تھے کہ آپ مجاہد ہیں۔ پھر انہی حالات میں ان کے ساتھ مصالحت کرنے کے لیے میں نہیں گیا ہوں، ان کے ساتھ مفاہمت کرنے کے لیے میں نے افغانستان کا سفر نہیں کیا۔ میں نے دو ملکوں کے درمیان معاملات ٹھیک کرنے کے لیے سفر کیا، لیکن طال_بان کے ساتھ بات کرنے کے لیے میرے ملک کے آئی ایس آئی کے چیف گئے ہیں، اور اس نے وہاں پر ان سے کیا باتیں کی ہیں، کچھ مجھے معلوم بھی ہے۔ سو اگر ان دہشت گردوں کو کوئی حوصلہ دلانے کا عمل ہے، وہ بھی آپ کے صفوں میں مل رہا ہے، ہمارے صفوں میں تو وہ ہم سے ناراض ہیں۔ آپ اپنے شہداء کی بات کرتے ہیں، مجھے سکھاتے ہو کہ شہید کس کو کہتے ہیں؟ مجھے سکھاتے ہو کہ شہید کا مقام کیا ہے؟ میں قرآن و سنت کا ایک طالب علم ہوں، میں شہید کے مقام کو جانتا ہوں، شہید کیا ہوتا ہے؟ جو شہید اپنے وطن کے لیے قربانی دیتا ہے، اس کی قدر و منزلت کو میں جانتا ہوں۔ آپ مجھے اس کی قدر و منزلت نہ سمجھائیں۔ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن کا اسلام آباد میں وکلاء کنونشن سے خطاب #قائدانقلاب_مولانا #سیاسی_چوکیدار #مولانا_سے_معافی_مانگ #شہداء_صرف_بہانہ #لشکر_نہیں_امن

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

14,914 Aufrufe • vor 1 Monat

نئے صوبے بنانا، نئے ڈویژن بنانا، نئے ضلعے بنانا، نئی تحصیلیں بنانا اور نئے ٹاؤن بنانا، یہ انتظامی معاملات ہیں۔ بھارت میں بھی نئے صوبے بنے ہیں، لیکن ہمیں اپنے ملک کی انتظامی ساخت کو پہلے دیکھنا چاہیے، اس کا پورا مطالعہ کرنا چاہیے۔ نقوی صاحب ہمارے برخوردار ہیں، لیکن کچھ وقت سے پہلے بالغ ہوگئے ہیں۔ اب یہ معلوم نہیں کہ انہوں نے یہ بات اپنی ذاتی حیثیت میں کی ہے یا نہیں۔ لیکن اپنی ذاتی حیثیت میں بات کرنا کیسے ممکن ہے، جبکہ وہ اس وقت وفاقی کابینہ کے رکن ہیں۔کیا وہ یہ کہہ سکتے ہیں؟ یا وزیراعظم پاکستان یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ میری آشیرباد پر ہوا ہے، یا میری اجازت سے ہوا ہے؟ یا وفاقی کابینہ یہ کہہ سکتی ہے کہ یہ ہماری اجازت سے ہوا ہے؟ یا اگر کسی اور طرف سے کوئی بات ہوئی ہے تو وہ بھی واضح کر دی جائے۔ کیا ملک اس بات کے لیے تیار ہے کہ نئے صوبے بنائے جائیں؟ صوبے بنانا کوئی بری بات نہیں، میں ایک سال سے زیادہ عرصہ چیختا رہا کہ فاٹا ابھی انضمام کے قابل نہیں بنا۔ مگر ہمارے سر پر یہ تھوپ دیا گیا کہ تم تو انضمام کے مخالف ہو۔ ہم نے کہا، نہیں، ہم انضمام کے خلاف نہیں ہیں۔ یہ فاٹا کے عوام اور ان کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ ہے، لہٰذا اس میں کئی آپشنز ہو سکتے ہیں۔ ذرا وہاں کے عوام سے بھی پوچھ لیا جائے کہ وہ صوبے میں انضمام چاہتے ہیں، ایک الگ صوبہ چاہتے ہیں، یا اپنی سابقہ حیثیت برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ لیکن ان سے نہیں پوچھا گیا۔ آج وہ خود کہہ رہے ہیں کہ ہم سے غلطی ہو گئی۔ وہاں کے عوام کی زندگی اب ایسی ہو گئی ہے کہ وہ خود نہیں سمجھ رہے کہ ہم اب فاٹا ہیں یا صوبے کا حصہ ہیں۔ وہاں کوئی نظام موجود نہیں ہے، باقی نظام تو دور کی بات ہے۔ یہ کوئی کیک تو نہیں کہ آپ آرام سے چھری لے کر جس طرح چاہیں اسے کاٹ دیں۔ صوبہ بنانے کی بات کے لیے کیا ملک تیار ہے؟ آپ مجھے بتائیں، اگر چار یا پانچ بھائیوں کا مشترکہ مکان ہو اور اس کے بعض حصوں میں آگ لگ جائے، تو اس وقت وہ آگ بجھائیں گے یا کہیں گے کہ آئیے بھائی، پہلے اس کی تقسیم کر لیتے ہیں؟ ہر چیز کے لیے ایک مناسب ماحول بنانا پڑتا ہے۔ سوائے اس کے کہ عوام کو جو مسائل درپیش ہیں، جو مشکلات ہیں، جو بدامنی ہے، جس نے زندگی اجیرن بنا دی ہے، ان سے لوگوں کی توجہ ہٹانے کے لیے آپ ہم سب کو ایک نئی بحث میں لگا دیتے ہیں۔ روز نئے ایشو اٹھاتے ہیں، پھر اس پر بحث ہوتی ہے۔ یہ صوبوں والی بحث پہلے بھی کئی بار ہو چکی ہے۔ ہم اصولی طور پر صوبوں کے خلاف نہیں ہیں، لیکن اگر قومیتوں کی بنیاد پر بنیں گے تو پھر ان کی شکل کیا ہوگی؟ اور اگر محض انتظامی بنیادوں پر بنیں گے تو پھر ان کی شکل کیا ہوگی؟ اس پر ہر صوبے کے عوام کا ردِعمل آئے گا۔ وہ کہیں گے کہ یہ ہونا چاہیے یا نہیں ہونا چاہیے، مجھے اس صوبے میں شامل کرو یا نہ شامل کرو۔ یہ سارے معاملات ابھی باقی ہیں۔ ایک مشکل مسئلے میں اتنی آسانی کے ساتھ ہاتھ ڈال دیا گیا ہے کہ شاید یہ ان کے بس میں نہ ہو، بلکہ اس سے مشکلات اور پیچیدگیوں میں مزید اضافہ ہو جائے۔ یہی میرے خدشات ہیں۔ ہر چیز مشاورت سے ہونی چاہیے تھی۔ یہ پورے ملک کا مسئلہ ہے، ملک کے ہر شہری کا مسئلہ ہے۔ یہاں مختلف قومیتیں رہتی ہیں، ان کی اپنی ایک شناخت ہے۔ آپ اس شناخت کو نظرانداز کریں گے یا اسے سامنے رکھ کر فیصلے کریں گے؟ یہ سارے معاملات غور و فکر کی ضرورت ہیں۔ میں ایک عرصے سے کہہ رہا ہوں کہ یہاں جمہوریت نہیں ہے، یہاں پارلیمنٹ کی اہمیت ختم ہو گئی ہے۔ لیکن اب کیا کرنا ہے؟ ہم تو کہتے ہیں کہ اس کا حل آج بھی ہے اور کل بھی تھا، وہ ہے ملک کا آئین۔ آئین کے مطابق ملک کو چلاؤ، جمہوریت بھی ٹھیک ہو جائے گی، اور اللہ کے دین اور اس کے احکامات کے مطابق قانون سازی بھی شروع ہو جائے گی۔اور عوام میں خود اعتمادی بھی پیدا ہوگی کہ اصل میں ہماری مرضی کی حکومتیں ہونی چاہئیں، ہم پر جبراً کوئی حکومتی مسلط نہ کی جائے۔ لیکن وہ دھاندلیوں کے ذریعے دھوکہ دیتے ہیں، جیسے واقعی یہ عوام کی حکومتیں ہوں، جبکہ یہ بھی انہی کی حکومتیں ہوتی ہیں اور ان کی لگام بھی انہی کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ اس حوالے سے عوام پریشان ہیں، عوام کی کوئی حکومت نہیں ہے۔ میں یہ سوچتا ہوں کہ پہلے یہ بتایا جائے کہ انہوں نے یہ باتیں کس حیثیت میں کی ہیں؟ وہ کابینہ کے رکن ہیں۔ اگر نظام ناکام ہو چکا ہے تو یا تو اپنی حکومت سے کہیں کہ وہ مستعفی ہو جائے، یا پھر کم از کم خود مستعفی ہو کر میدان میں آ جائیں۔ نہیں، نوکری بھی اسی تنخواہ پہ کرنی ہے اور باتیں بھی بڑی بڑی کرنی ہیں، تو میں اب کیا کہہ سکتا ہوں۔ 'چھوٹے لوگوں کو بڑا کہنا پڑا ہے مجھ کو اکثر، ایسی تکلیف کئی بار اٹھائی میں نے۔' امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمٰن کی کوئٹہ میں صحافیوں سے گفتگو

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

43,035 Aufrufe • vor 16 Tagen

میری ماہ رنگ بلوچ کی جو بہن ہے، نادیہ بلوچ، ان سے اور وہ باقی جو ان کی سینئر رہنما ہے، سمی دین بلوچ، ان سے تفصیلی بات ہوئی ہے۔ اور میں آپ کو بتاؤں کہ پچھلے دس دن سے وہ بل... جو جیل میں ہیں وہاں پہ انہوں نے دھرنا دے رکھا ہے۔ اور اس بنیاد پہ انہوں نے دھرنا دیا ہے کہ ان کو، اب عدالت یہ کہہ رہی ہے، پراسیکیوشن یہ کہہ رہی ہے کہ ان کو ہم عدالت نہیں لا سکتے، ان کا جو ہے نہ وہ موبائل پہ جو فیس ٹرائل ہے وہ، اس طرح کا ٹرائل کریں۔ تو اس کے خ... خلاف انہوں نے دھرنا دے رکھا ہے۔ یہ ان کا، یہ سیاسی قیدی ہیں۔ ​یہ سیاسی قیدی ہیں اور سیاسی قیدیوں کو سیاسی قیدیوں کی طرح ہی ٹریٹ کیا جائے۔ یہ خدانخواستہ کوئی ملک دشمن عناصر نہیں ہیں۔ بلوچستان آگے اس میں جو ہے نہ آپ کو سب کو پتا ہے کہ بلوچستان کے اس وقت حالات کیا ہیں؟ بلوچستان کے اندر لاء اینڈ آرڈر کی سچویشن کیا ہے؟ اور آپ اس میں پھر جمہوری آوازوں کے ساتھ اس طرح کا رویہ رکھ رہے ہیں۔ ​پرسوں اختر مینگل صاحب کی پارٹی کے ایک سینئر رہنما کو ان کے گھر کے دہلیز پہ شہید کیا گیا اور کلاشنکوف کے بٹ سے مار کر شہید کیا گیا۔ پھر لواحقین کو ان کی لاش حوالے نہیں کی گئی۔ پھر اختر مینگل صاحب اور ان کی پارٹی کے باقی لوگ ان کے گھر جانا چاہتے تھے، ان کی رسائی روک دی گئی۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے اسیران کے ساتھ آپ کا یہ رویہ ہے، تو ہم آپ سے پھر یہی پوچھنا چاہتے ہیں کہ آپ خدارا اس ملک کو کس طرف لے کے جانا چاہ رہے ہیں؟ ​تو ہمارا یہ مطالبہ ہے کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جتنے بھی اسیران ہیں، ان کا آئینی اور قانونی حق ہے کہ ان کا عدالتی ٹرائل اسی طرح ہو جس طرح باقی ملزمان کے ساتھ ہوتے ہیں

Tehreek-e-Tahafuz-e-Ayin-e-Pakistan

12,890 Aufrufe • vor 2 Monaten

ذرا سوچیے! تعلقات کی جو نوعیت اور تعلقات میں کشیدگی کی جو نوعیت آج حکومتی پارٹیوں اور پی ٹی آئی کے درمیان نظر آ رہی ہے یہ کوئی میرے لیے آج پہلا منظر نہیں ہے، خواجہ آصف صاحب میرے محترم ہیں، میرے بڑے ہیں، مجھ سے عمر میں بھی بڑے ہیں، میں احترام کرتا ہوں یہ سب کچھ خوب جانتے ہیں، پرویز اشرف صاحب بیٹھے ہوئے ہیں، میرے لیے قابل احترام ہیں یہ سارے مناظر انہوں نے دیکھے ہیں، جو کشیدگی کی نوعیت اور ایک دوسرے کے خلاف روئیوں کی جو انتہا پسندی ہے یہ مناظر ہم نے مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کی بیچ میں نہیں دیکھے تھے، میاں نواز شریف اور بینظیر بھٹو کے درمیان ہم نے نہیں دیکھے تھے، آج ہم انہی مناظر کو دوبارہ دوسرے شکل میں دہرا رہے ہیں، میں ان روئیوں کے حق میں نہیں ہوں، میں حجم کے مطابق رد عمل دینے کے حق ہوں، اگر عمل چیونٹی کے برابر ہے تو رد عمل چیونٹی کے برابر ہونا چاہیے، لیکن ہم ہیں کہ عمل چیونٹی کے برابر اور رد عمل ہاتھی کے برابر ہوتا ہے۔ مسائل کو اس کے اپنے خاص حدود کے اندر ہمیں سوچنا چاہیے، اپوزیشن کی جماعتیں بیٹھی ہیں، محمود خان اچکزئی ہمارے لیڈر آف دی اپوزیشن ہے، مجھ سے انہیں ووٹ نہیں مانگا لیکن میں نے ان کو سپورٹ کیا ہے اور میں آج بھی یہ سوچتا ہوں کہ جس طرح پرائم منسٹر صاحب نے خطاب کیا اور اس میں انہوں نے میثاق جمہوریت کی بات کی، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ کے درمیان دوریاں اور تلخ رویوں کی ایک تاریخ وہ میثاق جمہوریت پر جا کر ختم ہوئی، میں اس کا سگنیچری نہیں ہوں، غالباً عمران خان بھی اس کے سگنیچری نہیں ہیں، لیکن بعد کے جو سیمینارز ہوئے، آل پارٹیز ہوئے، ان کے جو اعلامیے سامنے آئے اس پہ ہم سب کی تائید اس کو حاصل ہوئی اور آج ایک متفقہ دستاویز ہے، ہم نے جو عہد کیا تھا، ہم نے جو میثاق کیا تھا کہ ہم اختلاف رائے کریں گے، جو حکومت کر رہی ہے اُس کو حکومت کرنے دیجیے، ملکی معاملات میں ہم تعاون کی ضرورت ہوگی تو وہ بھی کریں گے، ایک دوسرے کے حکومتوں کو گرائیں گے نہیں، اور اگر میں بڑی وضاحت کے ساتھ اس سے بھی اچھے واضح الفاظ کے ساتھ عرض کروں کہ اپوزیشن اپوزیشن کرے گی لیکن وہ اسٹیبلشمنٹ کے لئے سہولت کار نہیں بنے گی، وہ اسٹیبلشمنٹ کے لئے حکومت پر پریشر نہیں ڈالے گی، وہ اس کے لئے ہنگامے نہیں کھڑا کرے گی تاکہ وہ پھر حکومت کو منیج کر سکے، آج وہ ساری چیزیں بگڑ گئی، دوبارہ معاملات خراب کر دئیے گئے۔ میں تو آج بھی کہتا ہوں کہ عمران خان کو باہر آنے دیں، سیاست میں اگر ان کی گرفتاری کی وجہ سے تلخی ہے ہمیں ملک کی بہتری کے لئے اور ملک کے اندر مجموعی طور پر ایک برادرانہ اور ہم آہنگی کی فضاء پیدا کرنے کے لئے ایک شخص کی قربانی کوئی مسئلہ نہیں ہے، آجائیں باہر میدان میں سیاست کرتے ہیں، مجھے لوگ پوچھتے ہیں آپ عمران خان پر بہت تنقید کرتے تھے آج کل کیوں نہیں کر رہے؟ میں نے کہا یہ میرا مزاج نہیں مانتا کہ میرا مخالف جیل میں ہو اس کے ہاتھ پاؤں بندھے ہو اور میں کھل کر ان پر تنقید کرتا رہوں، او وہ بھی باہر آئیں گے، وہ بھی بات کریں گے، ہم بھی بات کریں گے۔ کوئی ایسا مسئلہ نہیں ہے۔ آداب کے اندر کریں گے، یہی تعلقات میں حزب اختلاف اور حکومت کے بھی چاہتا ہوں، میثاق جمہوریت کی طرف آئیں ہم دوبارہ چلیں، اور اس کے لیے یقیناً اپوزیشن کو بھی مشورہ کرنا ہوگا وزیراعظم نے اگر کوئی بات کی ہے لیکن کچھ تو معاملات کے حل کے لیے ہمیں بتایا جائے کہ پاکستان کہاں کھڑا ہے؟ اور آپ لوگ کیا کر رہے ہیں؟ اگر آپ کو یہ خطرہ ہے کہ ان کیمرہ میٹنگ ہوگی اور پی ٹی آئی والے کوئی ہنگامہ کریں گے میں اس فلور پر پی ٹی آئی والوں کی زمہ داری خود لیتا ہوں وہ کوئی ہنگامہ نہیں کریں گے۔ اسپیکر کے سوال پر کہ مولانا صاحب آپ کتنے بولیں گے؟ مولانا صاحب کا جواب: بولنے پر تو حضرت اتنے درد ہیں کہ ہر درد کے لیے گھنٹہ چاہیے۔ اور اب جب آپ کے اوپر ایک بوجھ آگیا ہے، ایک دباؤ آگیا تو مجھے آپ کے درد کا بھی احساس ہے، مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ یہ درد آپ کا اکیلا نہیں ہے، یہ درد کہیں سے آ جاتا ہے۔ امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کا پارلیمنٹ میں خطاب #MaulanaInParliament

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

10,663 Aufrufe • vor 2 Monaten