Video yükleniyor...

Video Yüklenemedi

Ana Sayfaya Dön

بریکنگ نیوز 🚨غیرت مند، حلالی ماں کا حلالی بیٹا، جسٹس انوارالحق پنوں چھا گیا۔ شہباز گل نے اپنے ویلاگ میں مکمل کلپ چلا دی۔ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے کچھ پلے نہ چھوڑا، پچھلے اگلے ریکارڈ توڑ ڈالے۔ آج تک آپ نے اپنی پوری زندگی میں کسی جج کی ایسی دبنگ، باکمال،...

14,172 görüntüleme • 17 gün önce •via X (Twitter)

0 Yorum

Yorum bulunmuyor

Orijinal gönderinin yorumları burada görünecek

Benzer Videolar

ریٹائر جسٹس انوارلحق پنوں نے جیسے ہی یہ بات کی کہ: “اس ملک کو ججزز، بیوروکریٹس،فوجی انہوں نے تباہ کیا ہے اور وہ اس ڈگر پر پوری قوت سے چل رہے ہیں۔“ غریدہ فاروقی نے فوراً روک دیا۔ یہ ہیں اس ملک کے نام نہاد صحافی جنکا کام سچائی دیکھنا اور بتانا ہوتا ہے وہی اس چھپاتے ہیں تاکہ معاشرہ حقیقت سے بے خبر رہے۔ جس ملک میں آزادی سے سوچنے بات کرنے کی اجازت نہ ہو وہ ملک کسی قیمت پہ ترقی نہیں کر سکتا۔ حکمران خاندان، مقتدرہ جمہوریت میں یہ بتائیں نہیں ہوتیں ۔ جب تک یہ لوگ اپنے اپنے دائرے میں نہیں جاتے، کوئی چانس بہتری کا نہیں ہے۔ اس ملک کے وسائل کم ہوتے جا رہے ہیں اور انکی خواہشات بڑھتی جا رہی ہیں ۔ نظام فیل ہو چکا ہے یہ بات کر کون رہا ہے ؟ وہ خود کس نظام کی پیداوار ہیں؟! اسمبلیوں میں آئینی ترامیم وزیرقانون کو بتائے بغیر کی جاتی ہیں پاکستان کی عدالتوں کو دبایا جاتا ہے ۔ اسمبلیوں میں ہاف فرائی اور فل فرائی کی ٹرم استعمال ہو یہ گڈ گورننس ہے؟ یہ کیا ہو رہا ہے اس ملک کے ساتھ ؟ کیا آپ سمجھتے ہیں اسطرح آپ بہت دیر وقت گذار لیں گے سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ تمام قوتوں کو اپنے برے دنوں کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ یہ کوئی خوشی کی بات نہیں ہے یہ ایک بھیانک سین ہے جو نظر آرہا ہے۔ ہم اپنے لوگوں کو کاکروچ ماننے کو بھی تیار نہیں ہیں ۔ وہاں جمہوریت تھی تو انکی بات مان لی گئی ۔یہاں تو آزادی سے سوچنے کسی سے شئیر کرنے کی اجازت نہیں ہے ۔یہ آفاقی اصول ہیں ۔ آپ دنیا بھر کے ملک دیکھ لیں جس ملک نے ترقی کی انہوں نے کسی اصول پر ترقی کی۔ ہمیں بھی اصول اپنانے پڑیں گے ۔

Rodium-A

285,439 görüntüleme • 19 gün önce

نئے صوبوں سے متعلق سوال پر امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کا جواب: ایک بات میں پہلے آپ صحافیوں سے کرنا چاہوں گا جی، ذرا مہربانی کریں، آپ میڈیا کی دنیا میں حمایت اور مخالفت کی لکیر نہ کھینچیں۔ یہ ایک ڈیبیٹیبل ایشو ہے اور اس پر مختلف پہلوؤں سے بات ہو سکتی ہے۔ اصولی طور پر ایک مسئلے کی پوزیشن اور ہوتی ہے، عملی طور پر جب آپ آتے ہیں تو پھر اس کی صورت اور ہوتی ہے۔ اصولی طور پر آپ کو حق ہے کہ آپ اپنا گھر بنائیں، لیکن کیا آپ کے پاس وسائل ہیں کہ آپ بنا سکیں؟ وسائل نہیں ہیں، جیب خالی ہے اور آپ جا کر وہاں اینٹیں رکھنا شروع کر دیں تو لوگ کہیں گے کہ یہ کیا کر رہا ہے؟ تو وہ ایک خامخواہ ضائع ہونے والی بات ہو جاتی ہے۔ میری اپنی ذاتی رائے یہ ہے کہ اصولی طور پر تو ہم یونٹس کے خلاف نہیں ہیں۔ ہم نے اس سے پہلے بہاولپور صوبے کی بھی حمایت کی تھی، ہم نے اس سے پہلے سرائیکی صوبے کی بھی حمایت کی تھی، ہم نے اس سے پہلے ہزارہ صوبے کی بھی حمایت کی تھی، ہم نے خود فاٹا کو صوبہ بنانے کا مطالبہ کیا تھا۔ تاہم سندھ ذرا اس سے مختلف تھا کہ سندھ کے عوام صوبے کی تقسیم کے لیے آمادہ نہیں تھے، اس وقت بھی نہیں تھے اور اب بھی نہیں ہیں۔ لیکن جو میری معلومات ہیں، جب اس وقت صوبہ، صوبہ ہو رہا تھا تو اسٹیبلشمنٹ بھی اس کی مخالف تھی۔ چنانچہ ان عناصر کی حوصلہ شکنی کی گئی جو صوبہ، صوبہ کر رہے تھے اور حکومتوں اور اسمبلیوں میں وہ لوگ نہیں آ سکے، کمزور پوزیشن میں آئے اور بالآخر ان کو وہ ایشوز چھوڑنے پڑ گئے۔ آج پھر کون سی ایسی وحی آ گئی ہے ان کے اوپر کہ آؤ، ان کو پتا نہیں کتنے اور کوئی نقشہ بھی نہیں ہے۔ کبھی آپ سولہ یونٹس میں تقسیم کر رہے ہیں، کبھی آپ بتیس یونٹس میں تقسیم کر رہے ہیں، کبھی ہر ڈویژن کو صوبے کا درجہ دے رہے ہیں۔ کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا کہ نقشہ کیا ہے۔ تو ایک بات کہہ دینا اور پھر لوگوں کو چھوڑ دینا کہ وہ اس پر بحث کرتے رہیں، میرے خیال میں ملک کے اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے یہ ایشو پھینکا گیا ہے۔ اس میں کوئی سنجیدگی ہے، نہ اس کے لیے اس وقت کوئی ماحول موجود ہے اور نہ ہی اس کے لیے کوئی تیاری موجود ہے۔ جب ماحول بھی نہیں ہے، اس وقت تیاری بھی نہیں ہے، تو خامخواہ ایک غیر سنجیدہ گفتگو، جس کا پاکستان متحمل نہیں ہو سکتا۔ ہمارے حکمران اس وقت باہر کی دنیا کے ریڈ کارپٹس کو انجوائے کر رہے ہیں اور ان کو یہ اندازہ نہیں ہے کہ پاکستان کی سرزمین جو خون سے سرخ ہے، اس کو بھی تو ہمیں سنبھالنا ہے۔ تو جہاں خون بہہ رہا ہو، جہاں ملکی زمین جو ہے وہ خون سے سرخ ہو اور آپ باہر دنیا میں جا کر وہاں پر ریڈ کارپٹ سے لطف اندوز ہو رہے ہوں، تو ذرا گھر کو تو ٹھیک کریں۔ ہم نہیں کہتے کہ آپ باہر کی دنیا سے اچھے تعلقات نہ رکھیں۔ ہم نے تو امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کو سپورٹ کیا ہے۔ ہم نے سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان دفاعی معاہدے کو سپورٹ کیا ہے۔ ترکی کی شمولیت کو ہم نے سپورٹ کیا ہے۔ مصر اس میں آتا ہے، ایران اس میں آتا ہے۔ خیر، مقدم کریں گے ایک اسلامی بلاک کے قیام کا۔ یہ خود جمعیت علماء اسلام کے منشور کا حصہ ہے۔ تو جو چیزیں دنیا میں ہمارے اپنے فکر اور ہمارے نظریے کے مطابق آگے بڑھیں گی، ہم اس کو سپورٹ کریں گے۔

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

11,199 görüntüleme • 8 gün önce

ہم جس حال میں خیبر پختونخوا میں حکومت کر رہے ہیں، کوئی ہمیں حکومت کرنے کے لیے چھوڑ بھی نہیں رہا . صوبے کے چیف منسٹر کو اپنے لیڈر سے ملاقات نہیں کرنے دیا جا رہا۔ جیل مینوئل کے مطابق کسی بھی قیدی سے ملاقات کو نہیں روکا جا سکتا۔ جیل مینوئل کے مطابق کسی بھی قیدی سے ملاقات کی جا سکتی ہے۔ عمران خان اس ملک کے وزیر اعظم رہے ہیں اور ایک منتخب چیف منسٹر اس سے ملاقات نہیں کر سکتا۔ کیا پاکستان کسی ضابطے اور اصول پر چلتا ہے نہیں، یہ صرف ڈھنڈے سے چلتا ہے۔ ظلم اور ڈھنڈے کا یہ نظام ہمیں کسی صورت منظور نہیں ہے۔ اس ملک میں اگر ہم نے رہنا ہے تو قانون اور آئین کے تحت رہنا ہے۔ یہ جو ظلم ہو رہا ہے، یہ صرف عمران خان کے ساتھ نہیں ہو رہا، عوام کے ساتھ ہو رہا ہے۔ عوام سے ان کے ووٹ کا حق چھینا گیا، یہ فیصلہ عوام نے نہیں کرنا ہے کہ ہم نے کس کو ووٹ دینا ہے۔ ووٹ ڈالنے والے سے ووٹ گننے والا اہم ہے۔ اگر کسی ممبر عوامی نمائندے کو معلوم ہو کہ اس کے ووٹ کی کوئی اہمیت نہیں، تو کیا وہ آپ کی بات مانے گا۔ عوام کے پاس ووٹ کا حق ہے تو آپ کا نمائندہ آپ کی قدر کرتا ہے۔ ابھی جو ہری پور ضمنی انتخابات میں ہوا ہے، ووٹ کسی اور کو پڑا اور رکن کوئی بن گیا۔ فارم 45 کے مطابق سب کچھ ٹھیک ہے، لیکن کمپیوٹر پر بیٹھا آدمی اپنی مرضی کا ڈیٹا فیڈ کر رہا ہے۔ کس قسم کی عدالت، کس قسم کی الیکشن کمیشن، عدالتوں کو انتظامیہ کے ماتحت کیا گیا ۔

Asad Qaiser

16,009 görüntüleme • 7 ay önce

سوال: اچھا مولانا صاحب ملک کے بہتر مفاد میں آپ عمران خان سے بھی مل سکتے ہیں ان کو شامل ہونے کی دعوت دے سکتے ہیں؟ جواب: دیکھیے ہر چیز باوقار انداز سے ہو اس میں کوئی شک نہیں کہ دس بارہ سال ہم ایک دوسرے کے بڑے مد مقابل رہے ہیں اور ہمارے بڑے تحفظات ہیں اور ان کو اگر دور کیا جاتا ہے تو ہم سیاسی لوگ ہیں مذاکرات سے بھی انکار نہیں کریں گے اور مذاکرات کے لیے اگر ماحول بنتا ہے تو اس کی بھی حوصلہ افزائی کریں گے ہم کوئی مستقل جھگڑے اور جنگ اور تلخیاں اس کو باقی رکھنا نہ ملک کے مفاد میں سمجھتے ہیں نہ ہمارے سوسائٹی کے مفاد میں ہے۔ سوال: آپ کی طرف سے ویلکم ہے عمران خان کے لیے۔۔ تو یہ ذرا واضح کیجیے گا اگر آپ کو ضرورت پڑتی ہے یا۔۔۔۔ جواب: میرے پاس ان کے دو وفود آئے ہیں اس کے باوجود ان کے لوگ جو ہیں وہ مجھے مسلسل مل رہے ہیں چاہے آف دی ریکارڈ مل رہے ہیں یا میڈیا کے سامنے بھی مل رہے ہیں تو ملتے ہیں اور یہی گفتگو چل رہی ہے کہ آپس کے جو تحفظات ہیں کس طرح ان کو دور کرنے کے لیے ماحول بنایا جائے۔ سوال: مولانا صاحب ابھی آپ نے فرمایا کہ 10 12 سال کی تلخیاں تھی اب آپ سیاسی طور پر کہہ رہے ہیں کہ سیاسی لوگ دروازے کھلے رکھتے ہیں تو جو سب سے زیادہ پچھلے سات آٹھ سالوں میں آپ کی طرف سے الزام کہ یہ یہودی لابی ہے تو یہ سیاسی تلخیاں ختم ہوں گی تو آپ ان کو یہودی لابی سے مسلمان لابی میں کیسے دیکھیں گے؟ جواب: یہ بات ذہن میں رکھے اگر ہم نے برصغیر کی سیاست میں کسی کو انگریز کا ایجنٹ کہا ہے یا ہم نے عالمی سطح پر کسی کو امریکہ کا ایجنٹ کہا ہے تو یہ عنوان ہے یہ گالی نہیں ہے مطلب یہ ہے کہ جو عالمی سطح پر ایک ورلڈ وائڈ جو ایکنامک نیٹ ورک ہے اور اس کے اوپر جو جیوش کی ایک بالادستی ہے جب میں دیکھوں گا کہ میرے ملک کو بھی اس نیٹ ورک کے اندر ڈالا جا رہا ہے اور یہاں پر میں سود کے خاتمے کی بات کرتا ہوں اور میں مکمل طور پر عالمی سطح پر سودی نظام کے اندر جا رہا ہوں ان کی معیشت کے اصولوں کے مطابق چلوں گا تو اس سے میرا اختلاف ہوگا اب اس اختلاف کا عنوان اگر یہ ہے کہ یہودی ایجنٹ تو اس کو گالی کیوں کہا گیا اس کو سنجیدگی سے لینا چاہیے تھا مجھ سے پوچھنا چاہیے تھا کہ آپ یہ بات کیوں کہہ رہے ہیں اگر میں کہتا ہوں کہ قادیانیوں کو دوبارہ مسلم سٹیٹس پاکستان میں دینا یہ میرے تحفظات ہیں بجائے اس کے کہ آپ مجھے اس کے بدلے میں گالیاں دیں آپ مجھے مطمئن کریں میں پاکستان کا شہری ہوں میرے پیچھے کچھ لوگ ہیں ان کے ایک سوچ ہے ان کے تحفظات ہیں میں ان کے نمائندگی کر رہا ہوں اگر میں کہتا ہوں کہ پاکستان میں مغربی تہذیب کو فروغ دیا جا رہا ہے اور ہماری اسلامی اور مشرقی تہذیب جو ہے اس کا خاتمہ کیا جا رہا ہے اس کے بدلے میں گالی دینے کی بجائے مجھ سے پوچھا جائے مجھ سے بات کی جائے سیاستدان کا کام یہی ہوتا ہے اگر میں نے آپ کے اوپر کوئی اعتراض کیا ہے یا آپ کے ساتھ میں کوئی ایک تحفظات کا اظہار کیا ہے تو اپ کا فرض بنتا ہے کہ آپ یہ بات کہے کہ فضل الرحمان یہ بات آپ کیوں کر رہے ہیں مجھے تاکہ جب میں آپ کے ساتھ اپنی بات رکھوں تو آپ یا مجھے مطمئن کر سکیں اس بات پر کہ میں میرے ایجنڈا نہیں ہے یا یہ کہ یہ میرا ایجنڈا ہے اور آپ کے مفاد کے لیے ہے کچھ تو کرنا پڑے گا نا جی تو یہ چیزیں جو ہیں ان کو سیاسی طور پر ہم لے رہے ہیں اور آج جب ان کے لوگ آئے ہیں اگر یہ لوگ 12 سال پہلے بھی اتے تب بھی میرے یہی ایٹیٹیوڈ ہوتا اور اگر آج آئے ہیں تب بھی میرا وہی ایٹیٹیوڈ ہے

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

17,018 görüntüleme • 2 yıl önce

کیا دہشتگردی ختم ہوگئی؟آپ اور ہم جس صوبے سے تعلق رکھتے ہیں، پورے طول و عرض پر آپ نظر ڈال لیں، کہیں پر امن ہے؟ اور صرف بدامنی کی بات نہیں کر رہا، بدامنی اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ حکومتی رِٹ ختم ہو رہی ہے، پولیس کا چین آف کمانڈ ٹوٹ گیا ہے۔ لکی مروت میں، بنوں میں، ٹانک میں پولیس جو ہے، وہ آزاد ہو گئی ہے اور اس نے اپنی امن کمیٹیاں بنا لی ہیں، اور وہ وردی بھی نہیں پہن رہے، اور کانسٹیبل جو ہے، وہ خود اپنا نظام اپنے ہاتھ میں لیے ہوئے ہیں۔ نہ کوئی ڈی پی او کا آرڈر چلتا ہے، نہ کوئی ڈی آئی جی کا آرڈر چلتا ہے، نہ کوئی آئی جی کا آرڈر چلتا ہے۔ پرسوں ترسوں ہمارے بنوں کے ڈی آئی جی کی جو سیکیورٹی ہے، وہ ایک کانسٹیبل نے کِلوز کی ہے۔ ایک کانسٹیبل نے آرڈر دیا کہ سب یہ ڈیوٹی چھوڑ دو، آ جاؤ واپس۔ یہ حالت ہے! اب اس حالت میں ہم زندگی گزار رہے ہیں۔ کب تک ہم یہ زندگی اس طرح گزارتے رہیں گے؟ اور کہہ رہے ہیں کہ ہم ٹھیک کریں گے، ہم لڑیں گے۔ وہ ایک چڑیا ہے، وہ کہتا ہے: بلوچستان کےلئے تو ایک تھانیدار کی مار ہے۔ بس ،، تمہارے تھانیداروں کا کیا حشر کر دیا۔ تمہارے تھانوں کا کیا حشر کر دیا؟ کچھ تو حقائق کی طرف جاؤ۔ تو جب ہم حقائق کی طرف جائیں گے تو پھر ہم اس کے بعد مشاورت تو ہونا ہے۔ اب شہباز شریف بیچارہ وزیر اعظم ہے، پوری دنیا میں جاتا ہے، اور اگر وہ قابلِ قبول ہوگا تو آرمی چیف کو ساتھ لے کر جائے گا، ورنہ پھر اس کو کوئی ہاتھ بھی نہیں ملائے گا۔ بھئی، تم باہر جاؤ، تمہیں کوئی عزت دے، ہم اس کو پاکستان کی عزت کہیں گے، لیکن آپ کے ملک کے اندر کی سرزمین خون سے سرخ ہے اور تم باہر دنیا میں ریڈ کارپٹس کو انجوائے کر رہے ہو، کوئی احساس نہیں آپ کو؟ اسی سے گزارہ کر رہے ہو، کہ فلاں ملک پر آپ اتر رہے ہیں، ریڈ کارپٹس پر جا رہے ہیں، آپ کا استقبال ہو رہا ہے، بادشاہ آپ کا استقبال کر رہے ہیں۔ یہ ساری چیزیں ہیں۔ ہاں، کوئی جائز کام ہے، اگر آپ نے سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ کیا، جمعیت اس کو سپورٹ کرتی ہے۔ اگر اس پر ترکی شامل ہو گیا، ہم سپورٹ کرتے ہیں۔ جمعیت علماء اسلام کا منشور ہے: ایک اسلامی بلاک کا قیام۔ اگر اور اسلامی ممالک اس میں شامل ہوتے ہیں، اور یہ درحقیقت اس طرف ایک قدم ہے کہ اسلامی دنیا امریکہ پر اپنا انحصار ختم کرے، اور باہم یہ اپنی قوت کو مجتمع کرے، تو اگر کوئی ایسی بات ہوتی ہے تو ہم نے تو اختلاف نہیں کیا۔ اختلاف برائے اختلاف نہیں ہو رہا، ورنہ ہم یہاں بھی اختلاف کرتے ہیں۔ تو آپ کیوں جا رہے ہیں؟ آپ تو نمائندے نہیں ہیں پاکستان کے، آپ کی حکومت تو جعلی ہے اور واقعی جعلی ہے، اس میں بھی کوئی شک نہیں۔ اور پھر اقلیت حکومت کر رہی ہے۔ پیپلز پارٹی حکومت کا حصہ نہیں ہے، صرف آئینی عہدے لئے ہوئے ہیں ۔ گلگت میں الیکشن ہے، ایک دوسرے کے خلاف بول رہے ہیں، مقابلہ ہے ان کا۔ کشمیر میں الیکشن ہے، ایک دوسرے کے خلاف بول رہے ہیں، بھرپور بول رہے ہیں۔ اور اسمبلی میں آ کر بیٹھتے ہیں تو پہلے اختلاف کرتے ہیں، پھر جب ووٹ کا وقت آتا ہے،،،،،،،،،،،،،،، اس قسم کی ایک سیاست ہے جو ملک کے اندر چل رہی ہے۔ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن کا پشاور میں خطاب

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

13,807 görüntüleme • 3 gün önce

میری ماہ رنگ بلوچ کی جو بہن ہے، نادیہ بلوچ، ان سے اور وہ باقی جو ان کی سینئر رہنما ہے، سمی دین بلوچ، ان سے تفصیلی بات ہوئی ہے۔ اور میں آپ کو بتاؤں کہ پچھلے دس دن سے وہ بل... جو جیل میں ہیں وہاں پہ انہوں نے دھرنا دے رکھا ہے۔ اور اس بنیاد پہ انہوں نے دھرنا دیا ہے کہ ان کو، اب عدالت یہ کہہ رہی ہے، پراسیکیوشن یہ کہہ رہی ہے کہ ان کو ہم عدالت نہیں لا سکتے، ان کا جو ہے نہ وہ موبائل پہ جو فیس ٹرائل ہے وہ، اس طرح کا ٹرائل کریں۔ تو اس کے خ... خلاف انہوں نے دھرنا دے رکھا ہے۔ یہ ان کا، یہ سیاسی قیدی ہیں۔ ​یہ سیاسی قیدی ہیں اور سیاسی قیدیوں کو سیاسی قیدیوں کی طرح ہی ٹریٹ کیا جائے۔ یہ خدانخواستہ کوئی ملک دشمن عناصر نہیں ہیں۔ بلوچستان آگے اس میں جو ہے نہ آپ کو سب کو پتا ہے کہ بلوچستان کے اس وقت حالات کیا ہیں؟ بلوچستان کے اندر لاء اینڈ آرڈر کی سچویشن کیا ہے؟ اور آپ اس میں پھر جمہوری آوازوں کے ساتھ اس طرح کا رویہ رکھ رہے ہیں۔ ​پرسوں اختر مینگل صاحب کی پارٹی کے ایک سینئر رہنما کو ان کے گھر کے دہلیز پہ شہید کیا گیا اور کلاشنکوف کے بٹ سے مار کر شہید کیا گیا۔ پھر لواحقین کو ان کی لاش حوالے نہیں کی گئی۔ پھر اختر مینگل صاحب اور ان کی پارٹی کے باقی لوگ ان کے گھر جانا چاہتے تھے، ان کی رسائی روک دی گئی۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے اسیران کے ساتھ آپ کا یہ رویہ ہے، تو ہم آپ سے پھر یہی پوچھنا چاہتے ہیں کہ آپ خدارا اس ملک کو کس طرف لے کے جانا چاہ رہے ہیں؟ ​تو ہمارا یہ مطالبہ ہے کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جتنے بھی اسیران ہیں، ان کا آئینی اور قانونی حق ہے کہ ان کا عدالتی ٹرائل اسی طرح ہو جس طرح باقی ملزمان کے ساتھ ہوتے ہیں

Tehreek-e-Tahafuz-e-Ayin-e-Pakistan

12,890 görüntüleme • 2 ay önce

نئے صوبے بنانا، نئے ڈویژن بنانا، نئے ضلعے بنانا، نئی تحصیلیں بنانا اور نئے ٹاؤن بنانا، یہ انتظامی معاملات ہیں۔ بھارت میں بھی نئے صوبے بنے ہیں، لیکن ہمیں اپنے ملک کی انتظامی ساخت کو پہلے دیکھنا چاہیے، اس کا پورا مطالعہ کرنا چاہیے۔ نقوی صاحب ہمارے برخوردار ہیں، لیکن کچھ وقت سے پہلے بالغ ہوگئے ہیں۔ اب یہ معلوم نہیں کہ انہوں نے یہ بات اپنی ذاتی حیثیت میں کی ہے یا نہیں۔ لیکن اپنی ذاتی حیثیت میں بات کرنا کیسے ممکن ہے، جبکہ وہ اس وقت وفاقی کابینہ کے رکن ہیں۔کیا وہ یہ کہہ سکتے ہیں؟ یا وزیراعظم پاکستان یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ میری آشیرباد پر ہوا ہے، یا میری اجازت سے ہوا ہے؟ یا وفاقی کابینہ یہ کہہ سکتی ہے کہ یہ ہماری اجازت سے ہوا ہے؟ یا اگر کسی اور طرف سے کوئی بات ہوئی ہے تو وہ بھی واضح کر دی جائے۔ کیا ملک اس بات کے لیے تیار ہے کہ نئے صوبے بنائے جائیں؟ صوبے بنانا کوئی بری بات نہیں، میں ایک سال سے زیادہ عرصہ چیختا رہا کہ فاٹا ابھی انضمام کے قابل نہیں بنا۔ مگر ہمارے سر پر یہ تھوپ دیا گیا کہ تم تو انضمام کے مخالف ہو۔ ہم نے کہا، نہیں، ہم انضمام کے خلاف نہیں ہیں۔ یہ فاٹا کے عوام اور ان کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ ہے، لہٰذا اس میں کئی آپشنز ہو سکتے ہیں۔ ذرا وہاں کے عوام سے بھی پوچھ لیا جائے کہ وہ صوبے میں انضمام چاہتے ہیں، ایک الگ صوبہ چاہتے ہیں، یا اپنی سابقہ حیثیت برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ لیکن ان سے نہیں پوچھا گیا۔ آج وہ خود کہہ رہے ہیں کہ ہم سے غلطی ہو گئی۔ وہاں کے عوام کی زندگی اب ایسی ہو گئی ہے کہ وہ خود نہیں سمجھ رہے کہ ہم اب فاٹا ہیں یا صوبے کا حصہ ہیں۔ وہاں کوئی نظام موجود نہیں ہے، باقی نظام تو دور کی بات ہے۔ یہ کوئی کیک تو نہیں کہ آپ آرام سے چھری لے کر جس طرح چاہیں اسے کاٹ دیں۔ صوبہ بنانے کی بات کے لیے کیا ملک تیار ہے؟ آپ مجھے بتائیں، اگر چار یا پانچ بھائیوں کا مشترکہ مکان ہو اور اس کے بعض حصوں میں آگ لگ جائے، تو اس وقت وہ آگ بجھائیں گے یا کہیں گے کہ آئیے بھائی، پہلے اس کی تقسیم کر لیتے ہیں؟ ہر چیز کے لیے ایک مناسب ماحول بنانا پڑتا ہے۔ سوائے اس کے کہ عوام کو جو مسائل درپیش ہیں، جو مشکلات ہیں، جو بدامنی ہے، جس نے زندگی اجیرن بنا دی ہے، ان سے لوگوں کی توجہ ہٹانے کے لیے آپ ہم سب کو ایک نئی بحث میں لگا دیتے ہیں۔ روز نئے ایشو اٹھاتے ہیں، پھر اس پر بحث ہوتی ہے۔ یہ صوبوں والی بحث پہلے بھی کئی بار ہو چکی ہے۔ ہم اصولی طور پر صوبوں کے خلاف نہیں ہیں، لیکن اگر قومیتوں کی بنیاد پر بنیں گے تو پھر ان کی شکل کیا ہوگی؟ اور اگر محض انتظامی بنیادوں پر بنیں گے تو پھر ان کی شکل کیا ہوگی؟ اس پر ہر صوبے کے عوام کا ردِعمل آئے گا۔ وہ کہیں گے کہ یہ ہونا چاہیے یا نہیں ہونا چاہیے، مجھے اس صوبے میں شامل کرو یا نہ شامل کرو۔ یہ سارے معاملات ابھی باقی ہیں۔ ایک مشکل مسئلے میں اتنی آسانی کے ساتھ ہاتھ ڈال دیا گیا ہے کہ شاید یہ ان کے بس میں نہ ہو، بلکہ اس سے مشکلات اور پیچیدگیوں میں مزید اضافہ ہو جائے۔ یہی میرے خدشات ہیں۔ ہر چیز مشاورت سے ہونی چاہیے تھی۔ یہ پورے ملک کا مسئلہ ہے، ملک کے ہر شہری کا مسئلہ ہے۔ یہاں مختلف قومیتیں رہتی ہیں، ان کی اپنی ایک شناخت ہے۔ آپ اس شناخت کو نظرانداز کریں گے یا اسے سامنے رکھ کر فیصلے کریں گے؟ یہ سارے معاملات غور و فکر کی ضرورت ہیں۔ میں ایک عرصے سے کہہ رہا ہوں کہ یہاں جمہوریت نہیں ہے، یہاں پارلیمنٹ کی اہمیت ختم ہو گئی ہے۔ لیکن اب کیا کرنا ہے؟ ہم تو کہتے ہیں کہ اس کا حل آج بھی ہے اور کل بھی تھا، وہ ہے ملک کا آئین۔ آئین کے مطابق ملک کو چلاؤ، جمہوریت بھی ٹھیک ہو جائے گی، اور اللہ کے دین اور اس کے احکامات کے مطابق قانون سازی بھی شروع ہو جائے گی۔اور عوام میں خود اعتمادی بھی پیدا ہوگی کہ اصل میں ہماری مرضی کی حکومتیں ہونی چاہئیں، ہم پر جبراً کوئی حکومتی مسلط نہ کی جائے۔ لیکن وہ دھاندلیوں کے ذریعے دھوکہ دیتے ہیں، جیسے واقعی یہ عوام کی حکومتیں ہوں، جبکہ یہ بھی انہی کی حکومتیں ہوتی ہیں اور ان کی لگام بھی انہی کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ اس حوالے سے عوام پریشان ہیں، عوام کی کوئی حکومت نہیں ہے۔ میں یہ سوچتا ہوں کہ پہلے یہ بتایا جائے کہ انہوں نے یہ باتیں کس حیثیت میں کی ہیں؟ وہ کابینہ کے رکن ہیں۔ اگر نظام ناکام ہو چکا ہے تو یا تو اپنی حکومت سے کہیں کہ وہ مستعفی ہو جائے، یا پھر کم از کم خود مستعفی ہو کر میدان میں آ جائیں۔ نہیں، نوکری بھی اسی تنخواہ پہ کرنی ہے اور باتیں بھی بڑی بڑی کرنی ہیں، تو میں اب کیا کہہ سکتا ہوں۔ 'چھوٹے لوگوں کو بڑا کہنا پڑا ہے مجھ کو اکثر، ایسی تکلیف کئی بار اٹھائی میں نے۔' امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمٰن کی کوئٹہ میں صحافیوں سے گفتگو

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

43,119 görüntüleme • 22 gün önce

آپ نے جن افغانوں کو یہ کہہ کر کریڈٹ لیتے رہے کہ ہم نے ان کی اتنے سال مہمان نوازی کی اور پھر جس ذلالت اور انسانیت سے گرے ہوئے انداز میں آپ نے ان کو نکالا اور پھر اب آپ حملہ آور ہوئے اور کس کے کہنے پر حملہ آور ہوئے جس طرح زبیر بھائی نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ جو ایران کے معصوم 136 بچوں کے خون کا قاتل ہے وہ سکول پر بمباری کر رہا تھا اور اس وقت بھی سکول پر بمباری ہو رہی تھی میناب میں جہاں پر کلاس روم میں بچے بیٹھے ہوئے تھے اس ڈونلڈ ٹرمپ کا ساتھی آپ کو افغانستان کی جنگ میں کہہ رہا ہے کہ پاکستان ایز ڈوئنگ اے گریٹ جاب کس کو آپ الو بنا رہے ہیں ہم یہ 25 کروڑ عوام کوئی بھیڑ بکریاں نہیں ہیں آپ کو بتانا پڑے گا کہ آپ یہی جو آج کابل کے اوپر لوگ بیٹھے ہیں کل آپ کہہ رہے تھے کہ غلامی کی زنجیریں آزاد ہو گئی ہیں پوری قوم کو پتہ ہے آج ایسا کیا ہو گیا کہ آپ بمباریاں کر رہے ہیں سویلینز کو مار رہے ہیں ادھر بھی کیجولٹیز ہو رہی ہیں ہم تو نہیں چاہتے تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان امن کی داعی ہے تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان ہمیشہ امن کا ایجنڈا لے کر چلتی ہے اور ہم نے بارہا کہا ہے کہ اگر آپ اس مسئلے میں سیریس ہیں تو ہم آپ کو فیسلیٹیٹ کر سکتے ہیں کیوں کہ اس میں سب سے بڑی سٹیک ہولڈر خیبر پختونخواہ کی حکومت ہے وہاں کے قبائلی عوام ہیں آپ نے کس سے پوچھا ہے کیا خیبر پختونخواہ کی حکومت کو اس معاملے میں آن بورڈ لیا گیا ہے یقیناً ہرگز نہیں مجھے پتہ ہے تو کس طرح یہ معاملہ لے کر جا رہے ہیں دوسری بات ایران کے حوالے سے ابھی تک پاکستان کی خارجہ پالیسی اور پاکستان کی ریاستی بیانیہ ایران کے حوالے سے بالکل بھی کلیئر نہیں ہے کہ ہم اس جنگ میں کس طرف کھڑے ہیں خالی بیانوں سے کام نہیں چلتا میں آج یہاں سے کہہ رہا ہوں کہ حکومت جوائنٹ سیشن بلائے جس کا ہم نے مطالبہ کیا ہے اس جوائنٹ سیشن میں قرارداد لے کر آئیں مذمت کریں جو اسماعیل ہنیہ صاحب کو شہید کیا گیا جو رہبرِ معظم تھے جن کا ہمارے دلوں میں ان کے لیے بہت احترام ہے مذمت کریں ان 136 بچوں کی جن کو امریکیوں نے مارا ہے اسرائیلیوں نے صیہونیوں نے مارا ہے 170 سے اوپر ہیں پہلے جب وہ تو 136 رپورٹ ہوئے تھے تو ہم اس میں ساتھ دیں گے آپ تگڑے ہو جائیں۔ ترجمان تحریک تحفظ آئین پاکستان اخونزادہ حسین احمد یوسفزئی

Tehreek-e-Tahafuz-e-Ayin-e-Pakistan

24,169 görüntüleme • 5 ay önce

اللہ کی فوج کے ساتھ لاکھ سپاہیوں سے دوسرا سوال: آپ کے ادارے کے سربراہ اس سدیوں میں پیدا ہونے والے لیڈر کو torture کر رہے ہیں۔ یہ وہ بندہ ہے جس سے آپ کے ملک کی پہچان ہے اور جب آپ یہ وڈیو دیکھیں گے تو مانیں گے کہ یہ سچ میں ہماری قوم کے غریبوں کے لیے درد رکھتا ہے! آپ سب فوج میں آکر شاید اپنے آپ کو عام پاکستانیوں سے الگ سمجھنے لگے ہیں، اس لیے شاید درد نہیں ہوتا آپ کے دل میں جب قوم کے لیڈر کو اس طرح ٹارچر کیا جارہا ہو ؛ آج آپ شاید محفوظ ہوں مگر یہ جو نانصافی اور ظلم ہے ، یہ آپ کے گھر تک بھی پہنچ سکتا ہے۔ بس پوچھنا یہ تھا کہ ادارے کے بڑوں کو خط یا WhatsApp بھیجنے کی اجازت ہے؟ اور اگر ہے تو کچھ گلہ کیا یا پھر یہ سمجھانے کی کوشش کی اتنا ظلم بےگناہوں پر نہیں کرنا چاہیے؟ اور اگر نہیں ہمت ہوئی یہ سب کہنے کی تو کس منہ سے اپنے بچوں کو بہادری اور حق بات کرنا سکھائیں گے؟ بندوق استعمال کرلینا بہادری نہیں ہوتی، وہ تو جنگ کے کچھ دنوں میں چلتی ہے، مگر روز مرہ زندگی میں تو اصولوں کی جنگ ہوتی ہے، کس منہ سے اصول سکھائیں گے؟ جب وہ بڑے ہو کر پچھلے تین سال کے واقعات پڑھ کر آپ سے پوچھیں گے کہ آپ کی ظالموں تک رسائی تھی مگر پھر بھی کچھ نہیں بولے ان کو! لوگوں کو بہت مان تھا آپ سب پر۔ ایک ظلم کو جھیلنے کا دکھ تو ہے ہی سب کو مگراس سے بڑا دکھ شاید مان ٹوٹنے کا ہے۔ کچھ کریں ناُ کریں، موقعہ ملے تو یہ ضرور پوچھیے گا اپنے بڑوں سے اور کچھ ساتھیوں سے کہ گولی کیوں چلائی اللہ کی فوج نے اللہ کے پر امن اور نہتے بندوں پر !

Jibran Ilyas

45,518 görüntüleme • 8 ay önce

آپ نے ہمارے نصاب کو بھی جائز تسلیم کیا، آپ نے ہمارے مدارس کے نظم و نسق کو بھی جائز تسلیم کیا، آپ نے ہمارے مالیاتی نظام کو بھی جائز تسلیم کیا، پھر اس وقت سے لے کر آج تک مدارس کی رجسٹریشن کیوں نہیں ہو رہی؟ مدارس کے اکاؤنٹس کیوں بند ہیں؟اس کا معنیٰ یہ ہے کہ آپ مسئلے کا حل نہیں چاہتے۔ آپ کسی طرح چاہتے ہیں کہ مدارس اشتعال میں آئیں، سڑکوں پر آئیں، نوجوان کو اشتعال ملے، وہ بندوق کی طرف جائے، اور پھر ریاست بندوق کی طاقت کو طاقت کے ساتھ مارنے کے لیے اپنے لیے ایک جواز مہیا کر سکے۔ سو، ہم نے آپ کو یہ جواز مہیا نہیں کیا۔ ہم نے اس ملک کو پُرامن ملک بنانے کی کوشش کی۔ تاہم ایک گروہ ضرور ہے جو پہاڑوں میں چلا گیا، جو بندوق لے کر کھڑا ہو گیا، لیکن وہ بندوق اٹھا کر جب افغان_ستان جا رہا تھا تو آپ نے افغانس_تان جانے کے لیے اس کا راستہ روکا؟ آپ امریکہ کے اتحادی بھی بنے، آپ نے ہوائی اڈے بھی دیے، فضائیں بھی ان کو دیں، یہاں سے جہاز بھی اڑتے تھے، ان فضاؤں سے گزر کر وہاں پر بمباری بھی کرتے تھے، اور دوسری طرف اس جنگ میں شریک ہونے کے لیے پاکستانی مجاہد بھی جا رہا تھا، اور تم بھی اس کو تھپکی دے رہے تھے کہ آپ مجاہد ہیں۔ پھر انہی حالات میں ان کے ساتھ مصالحت کرنے کے لیے میں نہیں گیا ہوں، ان کے ساتھ مفاہمت کرنے کے لیے میں نے افغانستان کا سفر نہیں کیا۔ میں نے دو ملکوں کے درمیان معاملات ٹھیک کرنے کے لیے سفر کیا، لیکن طال_بان کے ساتھ بات کرنے کے لیے میرے ملک کے آئی ایس آئی کے چیف گئے ہیں، اور اس نے وہاں پر ان سے کیا باتیں کی ہیں، کچھ مجھے معلوم بھی ہے۔ سو اگر ان دہشت گردوں کو کوئی حوصلہ دلانے کا عمل ہے، وہ بھی آپ کے صفوں میں مل رہا ہے، ہمارے صفوں میں تو وہ ہم سے ناراض ہیں۔ آپ اپنے شہداء کی بات کرتے ہیں، مجھے سکھاتے ہو کہ شہید کس کو کہتے ہیں؟ مجھے سکھاتے ہو کہ شہید کا مقام کیا ہے؟ میں قرآن و سنت کا ایک طالب علم ہوں، میں شہید کے مقام کو جانتا ہوں، شہید کیا ہوتا ہے؟ جو شہید اپنے وطن کے لیے قربانی دیتا ہے، اس کی قدر و منزلت کو میں جانتا ہوں۔ آپ مجھے اس کی قدر و منزلت نہ سمجھائیں۔ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن کا اسلام آباد میں وکلاء کنونشن سے خطاب #قائدانقلاب_مولانا #سیاسی_چوکیدار #مولانا_سے_معافی_مانگ #شہداء_صرف_بہانہ #لشکر_نہیں_امن

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

14,935 görüntüleme • 1 ay önce

دنیا میں کسی کے لیے، چاہے اس نے سینکڑوں قتل کیے ہوں، چاہے وہ دنیا کا سب سے بڑا اسمگلر ہو، چاہے اس نے دنیا کی بدکاریاں کی ہوں، آج تک کسی کے لیے یہ نہیں ہوا کہ اس کے گھر والوں سے ملاقات پر پابندی ہو۔ عمران خان کا کیا کام؟ ایک سابق وزیراعظم ہے، نہ سہی ایک اچھا کرکٹر رہ چکا ہے، نہ سہی پاکستان کا سٹیزن تو ہے۔ ان سے ملاقات پر پابندی کس بنیاد پر؟ حالات بغاوت کے بھی پکے ہیں، حالات مردہ باد زندہ باد کے بھی پکے ہیں، حالات خانہ جنگی کے پکے ہیں۔ ہمیں صرف یہ ڈر ہے کہ خدانخواستہ اگر ہم عوام کو سڑکوں پر لے آئے تو پاکستان اس کو سہہ سکے گا یا نہیں؟ اس کے نتیجے میں کیا ہوگا، اس کا ہم سب کو ڈر ہے۔ ہم مجرم سمجھتے ہیں شہباز شریف کو، ہم مجرم سمجھتے ہیں پیپلز پارٹی کو، ہم مجرم سمجھتے ہیں ہر اس پارٹی کو جس نے 24ویں، 25ویں ترامیم میں ووٹ دیا۔ آپ کے ووٹ کے بغیر یہ نہیں ہو سکتا تھا۔ اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے۔ آپ نے اپنے عدلیہ کے پر کاٹ دیے، آپ نے اپنی میڈیا پر پابندی لگائی، آپ نے اپنے پارلیمنٹ کو کمزور کیا۔ اس کا نتیجہ اب آپ کے خلاف جائے گا۔ زرداری صاحب ہو سکتا ہے آپ صدر نہ رہیں، شہباز صاحب ہو سکتا ہے آپ وزیراعظم نہ رہیں کیونکہ آپ نے ایک غلط تالاب میں پانی ڈال دیا ہے۔ یہ ابھی بھی وقت ہے، مہربانی کریں۔" اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی

Siddique Jan

20,224 görüntüleme • 3 ay önce

میں آج اس بات پر بہت افسوس کرتا ہوں کہ کل عمران خان کی بہن علیمہ خان کے گھر کی چادر و چار دیواری کے تقدس کی پامالی کی گئی۔علیمہ خان کے بیٹے، جس کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں، کو اغوا کیا گیا۔علیمہ خان کے بیٹے کی پی ٹی آئی کے کسی بھی ایونٹ میں کوئی تصویر تک نہیں ہے۔جس طرح اسے اغوا کیا گیا، اس سے پتہ چلتا ہے کہ اس ملک میں ریاست ماں کے جیسی نہیں ہے۔ظلم و جبر کا نظام ہے، اس ملک میں قانون کا کوئی احترام نہیں ہے۔عدالتوں میں وہ سکت نہیں رہی کہ شہریوں کو محفوظ رکھ سکیں۔آج علیمہ خان کے دوسرے بیٹے شیرشاہ کو اغوا کیا گیا۔میں مریم نواز سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ جس طرح پنجاب پولیس کر رہی ہے یہ آپ کی ذمہ داری ہے۔اتنا ظلم کریں، جتنا کل کو برداشت کر سکیں۔ہم نے تو ہمیشہ اصول کی سیاست کی ہے، ہم ہمیشہ قانون کے احترام کی بات کرتے ہیں۔اب تمام راستے اور حدود کراس کر دی گئی ہیں۔چیف جسٹس آف پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ عدلیہ ہمیں میرٹ کے مطابق انصاف دے۔جو 8 دنوں کا ریمانڈ دیا گیا ہے، کس بنیاد پر دیا گیا ہے۔واضح ہو گیا ہے کہ یہ سب کچھ حکومت کی ایما پر ہو رہا ہے۔حکومت نے عدالت پر اثر انداز ہو کر سب کچھ کیا ہے۔پنجاب کی فاشسٹ حکومت کے خلاف ہر فورم پر آواز اٹھائیں گے۔اسمبلی میں بھی آواز اٹھائیں گے، آپ کے حربوں سے ڈرنے والے نہیں ہیں۔ہم اپنی تحریک کو آگے بڑھائیں گے اور ظلم کی تاریک رات جلد ختم ہوگی۔

Asad Qaiser

36,456 görüntüleme • 1 yıl önce

میرے خیال میں اب صورت حال وہ نہیں ہے اب امریکہ سپر طاقت نہیں رہا ہے، وہ اپنا ایک بھرم رکھنے کے لئے یہ سارا کچھ کر رہا ہے، بلکہ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ شاید ٹرمپ اپنے ذاتی دفاع کیلئے یہ سب کچھ کر رہا ہے، امریکہ کی دفاع کیلئے بھی نہیں کر رہا اور وہاں پر اس وقت امریکہ کی عوامی تائید بھی اس وقت حاصل نہیں ہے، بڑا سوال یہ ہے کہ جس شخص نے الیکشن لڑا کہ دنیا سے جنگ ختم کروں گا اس نے اقتدار میں آ کر دنیا پر جنگ مسلط کر دی ہے یہ خود امریکیوں کے اور امریکی عوام کے نظر میں بھی ایک سوالیہ نشان ہے۔ سو اس وقت پوری دنیا ازسر نو سوچ رہی ہے اور ظاہر ہے سوویت یونین کی ٹوٹنے کے بعد ہم پہلے سے کہہ رہے ہیں کہ عالمی تبدیلی اور تغیرات آئیں گی سو اس وقت پوری دنیا امریکہ سے لے کر روس تک اور چین تک یہ عالمی تغیرات کی زد میں ہیں اور ہمیں خود بیٹھ کر خود اعتمادی کے ساتھ اپنے مستقبل کو خود تراشنا ہوگا۔ ہمیں یہی سوال ہے کہ اس وقت ثالثی کی باتیں بھی ہو رہی ہیں کیا پاکستان اس پوزیشن میں ہے کہ وہ ثالثی کر سکے اور شہباز شریف جیسے حکمران کے ٹویٹ پر ٹرمپ کا ٹویٹ آنا خود ٹرمپ کی کمزوری اور امریکی پالیسی کی کمزوری کی عکاس ہے۔ سو اس حوالے سے ہمیں سوچنا چاہیے۔ صحافی: کیا ہماری طاقت عکاس نہیں ہے؟ نہیں پاکستان بہرحال محاصرے میں ہے اور سوائے ثالثی کے کردار کے ہمارے پاس اور کون سا راستہ ہے؟ جب تک ہمارے دماغ سے یہ کیڑا نہیں نکلے گا کہ ہم نے افغانستان کو زیر نگیں رکھنا ہے اور افغانستان میں کوئی حکومت وہ ہماری مرضی کے بغیر نہیں چلے گی اس وقت تک معاملات ٹھیک نہیں ہو سکتے، ہمیں ایک آزاد افغانستان ایک صاحب استقلال افغانستان ایک خودمختار افغانستان اس پر توجہ رکھنی چاہیے اور ماضی کے جو ہمارے اس حوالے سے قربانیاں ہیں ان کو کسی ایک کامیاب نتائج تک ہمیں پہنچانا چاہیے۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ افغانستان میں سفارتی جو ہماری ستتر یا اٹھتر سالہ کوششیں ہیں وہ اب تک کیوں ناکام ہیں یہ مستقل ایک سوال ہے، یہ کافی نہیں ہے ہم نے بڑی کوشش کی اور افغانی نہیں مانتے اور ہم نے بڑی کوشش کی اور افغانی نہیں مانتے، مسئلہ یہ نہیں ہے، مسئلہ یہ ہے کہ کیوں نہیں مانتے، کیا ساری غلطیاں ستتر سال سے انہی کی طرف ہیں اور کیا ہمارے طرف بلکل کوئی غلطی نہیں ہے، یہ بھی ہمیں قومی سطح پر سوچنا چاہیے، افغانستان صرف حکومت کا نام نہیں ہے، افغانستان صرف وہاں امارت اسلامیہ کا نام نہیں ہے، افغانستان وہاں کے عوام کا بھی نام ہے، افغان قوم کا نام ہے، افغان قوم کے ہمارے ساتھ رشتے ہیں، ہمارے ساتھ ان کے تعلقات ہیں، ہمارے ساتھ ان کی برادریاں شریک ہیں اور ہمارے ساتھ ان کی معاشرت شریک ہے، ان تمام رشتوں کو سامنے رکھتے ہوئے ہمیں افغانستان کے حوالے سے سوچنا چاہیے، یہ ہر وقت رجیم چینج اور رجیم چینج کے باتیں یہ شاید نہ ختم ہونے والا سلسلہ بنے، ہم نے ظاہر شاہ کے خلاف انقلاب کی حمایت کی، پھر اس کے بعد کمیونسٹ انقلاب آیا پھر ہم نے ان کے خلاف جہاد اس وقت ہم امریکہ جب آیا تو ہم بھی شامل ہو گئے، پھر وہی امریکہ تھا اس نے طرف تبدیل کر دیا تو مشرف کے زمانے میں ہم پھر امریکہ کی جنگ لڑ رہے تھے، آج ہم پھر ایک دفعہ امریکہ کی خواہشات کی مطابق، یہ کیسا امریکہ ہے کہ پاکستان کی اگر انڈیا سے لڑائی ہو تو کریڈٹ لیتا ہے کہ میں نے جنگ بند کرا دی اور اگر افغانستان کے ساتھ لڑائی ہو جائے تو کہتے ہیں پاکستان ٹھیک جا رہا ہے اس کو اور کرنا چاہیے۔ تو یہ چیزیں ان کی بدنیتی پر دلالت کرتی ہے اور ہمیں کسی کے ٹریپ میں نہیں آنا چاہیے وہ اب خود ٹریپ میں آ چکے ہیں، پھنسے ہوئے ہیں، مشکلات کے شکار ہیں اور وہ کامیابیاں حاصل نہیں کر پا رہے ہیں، پاکستان کو ہر قدم احتیاط سے اٹھانا چاہیے اور پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینا چاہیے۔ دیکھیے سفارت کاریاں حکومتوں کا کام ہے، ریاستوں کا کام ہے، پارٹیوں کا کام نہیں ہوتا ہے، ہم پبلک ٹو پبلک ریلیشنز جو ہیں اس میں مدد دے سکتے ہیں، ہم سب مسلمان ہیں ہم سب بھائی بھائی ہیں ہم ایک دوسرے پر ڈیپنڈ کر رہے ہیں، لیکن عوام کی ضرورتوں اور خواہشات کو مد نظر رکھتے ہوئے ریاستیں فیصلہ کریں، بین الاقوامی قوتوں کے تابع فیصلہ نہ کریں، اپنے ملک کے عوام کے خواہشات اور ان کی ضرورتوں کے تابع فیصلے کریں۔ امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کی ڈیرہ اسماعیل خان میں گفتگو

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

17,437 görüntüleme • 5 ay önce

صحافی: مولانا صاحب آپ نے تقریر میں غزہ کا ذکر کیا فلسطین کا ذکر بھی کیا اور آپ نے کہا کہ یہ جو بالائے طاق رکھ کے آواز ہونی چاہیے، آپ سمجھتے ہیں کہ جو بڑے ممالک ہیں اسلامی ممالک ہیں سعودی عرب ہے پاکستان ہے ترکی ہے ان سب کو بڑی توانا طریقے سے آواز اٹھانی چاہیے پلیٹ فارم کی شکل میں تاکہ یہ ظلم و بربریت کا خاتمہ ہوسکے مولانا: ہم نے تو یہاں تک تجویز دی ہے کہ اسلامی امت کی اسی حوالے سے ایک تنظیم ہونی چاہیے اور اس تنظیم کی قیادت سعودی عرب کرے کہ مرکز اسلام کی نگرانی وہ کر رہے ہیں مرکز اسلام کی خدمت وہ کر رہے ہیں تو مکہ اور مدینہ دونوں مسلمانوں کے مراکز ہیں اسلام کے مراکز ہیں اور جن کی خدمت کی ذمہ داری جو ہے اس وقت خادم الحرمین الشریفین کے ذمے ہے تو یہ مقام ان کا ہے کہ وہ اسلامی دنیا کی قیادت کریں اس حوالے سے اور اس کو منظم کریں، اسی نظم کے ساتھ اور اسی وحدت کے ساتھ ہم دشمن سے دفاع کر سکیں گے مسلمانوں کا دفاع کر سکیں گے ان سے ان کے بشر حقوق کا دفاع کر سکیں گے ورنہ اسی طریقے سے دنیا ہمارا کھیلے گی کیا ہوا کیا گزرے افغانستان کے اوپر، کیا گزری عراق کے اوپر، کیا گزری لیبیا کے اوپر، کیا گزری شام کے اوپر اور اس وقت سعودی عرب اور یمن کے درمیان جو صورتحال ہے اس پر بھی اسلامی دنیا یقیناً پریشان ہے اور یہ حق ہے اس کا اور اس وقت جو فلسطینیوں پہ گزر رہی ہے حد کر دی ہے کہ کس طریقے سے یہ لوگ آئندہ انسان کی بات کریں گے یا انسانی حق کی بات کریں گے، تو یہ ضروری ہے کہ اسلامی دنیا کی طرف انہوں نے متوجہ کیا ہے اور ہم رابطہ عالمی اسلامی کے اور خادم الحرمین الشریفین کے اور ان کے ولی عہد کے شکر گزار ہیں جنہوں نے اس اقدام سے امت کو اس اہم مقصد کی طرف متوجہ کیا۔ صحافی: مولانا صاحب کچھ ممالک نے اسرائیل کو اسلامی ممالک نے اسرائیل کو تسلیم کیا ہوا ہے تو آپ سمجھتے ہیں پاکستان پر بھی دباؤ ہو رہا ہے تو اس ساری صورتحال میں کیا لائحہ عمل ہو سکتا ہے کہ یو این تو اس پہ خاموش ہے امریکہ اس کا ساتھ دے رہا ہے تو کس طرح اسلامی ممالک اسرائیل کو روک سکیں گے؟ مولانا: اسلامی ممالک کی وحدت اور ایک موقف کے اوپر مجتمع ہونا، آج ایک موقف ہے سب کا کہ اسرائیل جو ہے وہ قابض ہے اور اس کا تسلط ہے اور فلسطینی جو ہے وہ آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں لہذا اسرائیل کو تسلیم کرنا یہ مسئلہ نہیں ہے بلکہ فلسطین کی آزادی یہ مسئلہ ہے مسلمانوں کا اور مسلمانوں کو اصل مسئلے کی طرف متوجہ ہونا چاہیے، ہمیں ایک غیر ضروری موقف کی طرف لے جایا جا رہا ہے جس میں خالصتاً یا اسرائیل کا مفاد ہے یا مغربی دنیا اور امریکہ کا مفاد ہے مسلمان کا مفاد کہاں گیا امت مسلمہ کا مفاد کہا گیا اور مسجد اقصیٰ کا حق کہاں چلا گیا جس پر مسلمانوں کا حق ہے پھر فلسطین جو ہے وہ ارض فلسطین مسلمانوں کی سرزمین ہے فلسطینیوں کی سرزمین ہے ان کی آزادی کا جو بنیادی سوال ہے جو 75 سال سے زندہ ہے کیا اس مقصد کو بھی ہم حاصل کریں گے یا نہیں کریں گے یہ بڑا بنیادی سوال ہے جی۔

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

13,145 görüntüleme • 2 yıl önce

عجیب بات ہے جرم بھی کرتے ہیں اور چونچ بھی اونچی رکھتے ہیں اور کہتے ہیں ہمارے اوپر تنقید نہ کرو تم پاک ہو تو ہم آپ کو پاک کہیں گے۔ ہندوستان نے حملہ کیا، آپ نے جواب دیا، ہم نے آپ کو سراہا ہے، اگر آپ نے امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کی ہے ہم نے آپ کو سپورٹ کیا ہے ،ہم اپنے خطے میں جنگ نہیں چاہتے، لیکن یہ سوال ضرور اٹھاتے ہیں کہ ہماری پالیسیاں کون بناتے ہیں؟ ہمارے پالیسی ساز کون ہیں؟ ہمارے پالیسی ساز کیا پالیسیاں بنا رہے ہیں؟ یہ ہماری عقل ہے، یہ پاکستان کا مفاد ہے کہ ہندوستان کا بارڈر مکمل بند، افغانستان کا بارڈر مکمل بند، مغرب کی طرف بھی آپ تجارت نہیں کرسکتے، کاروبار نہیں کرسکتے، مشرق کی طرف بھی آپ کاروبار نہیں کرسکتے اور ایک چین کا چھوٹا سا کوریڈور ہے وہ بھی آپ نے بند کر رکھا ہوا ہے، اس پر بھی کوئی فعالیت ادھر نہیں آرہی، ایران جن حالات میں ہے وہ آپ کے نہ اچھے کا نہ برے کا، ہر طرف آپ نے پاکستان کو غیر محفوظ بنا دیا ہے، محصور کر دیا ہے، یہ کون سی عقل کی پالیسی ہے کہ آج پاکستان ایک محصور مملکت کی شکل اختیار کر گیا ہے؟ یہ کون سی سیاست ہے؟ یہ کون سی پالیسی ہے دہشتگردی کی خلاف ہم جنگ لڑ رہے ہیں تو دہشتگردی تو بڑھ رہی ہے، تو دہشتگردی کی خلاف تو تین چار دہائیوں سے آپ لڑ رہے ہیں، آپ نے سوات سے لے کر پورے خیبر پختونخوا میں کتنے آپریشنز کیے اور ہر آپریشنز کے نتیجے میں آپ ملک کے لئے لڑ رہے ہیں اور ہم شاید ملک کو نقصان پہنچا رہے ہیں، مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی، کس کس بات کو روئے ہم آپ کے؟ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ کا پشین میں خطاب

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

10,437 görüntüleme • 2 ay önce

یہ صاحب اس وی لاگ میں جس معدے کے ڈاکٹر کا ذکر کر رہے ہیں وہ میں ہوں جس نے ان پر پی ٹی وی پر کینسر کے بارے میں اس جھوٹ کو کہ "کرایو تھراپی کیموھراپی کا متبادل ہے " غلط ثابت کیا تھا کیوں کہ یہ کینسر کے علاج کے بنیادی اصول کے ہی منافی ہے کیوں کہ کیوتھراپی اس وقت لگتی ہے جب لیمف نوڈ (lymph node) تک کینسر پھیل چکا ہے یعنی سٹیج تھری - اور اس وقت کوئی کرایو تھراپی کوئی کوبلیشن مشین اس کا علاج نہی کرسکتی - میری اس بات پر یہ مجھے بلاک کر کے بھاگ گیے اور آج اس وی لاگ میں کہ رہے ہیں کہ معدے کا ڈاکٹر کینسر پر کیسے بات کرسکتا ہے - ان کی یہ جہالت چیک کریں کہ معدے کا ڈاکٹر کینسر کے بنیادی اصولوں جو سب ڈاکٹروں کو پتا ہوتے ہیں ' ان پر بات نہیں کرسکتا لیکن ایک نام نہاد صحافی جس کا میڈیسن سے دور دور تک لینا دینا نہی وہ یہ بات پورے اعتماد سے کرسکتا ہے - اس بارے میں میں صحافی شفا یوسفزئی Shiffa Z. Yousafzai کے ساتھ ایک تفصیلی پروگرام بھی کر چکا ہوں جس میں میرے ساتھ ڈاکٹر فیضان ملک جو ایک انکالوجسٹ ہیں وہ بھی موجود تھے اور اس بات کو ہم نے تفصیل سے غلط ثابت کیا تھا کہ کرایو تھراپی یا کوبلیشن مشین کسی طرح بھی کیموتھراپی کا متبادل نہیں ہے - اسی جہالت کی وجہ سے اس وقت بھی پی ٹی وی نے ان کو شو کاز نٹس اشو کیا تھا کہ آپ نے کینسر سے متعلق غلط بات کی ہے اور یہ بات آج بھی اپنی جگہ قائم ہے - اس شخص کا عمران خان اور شوکت خانم کینسر ہسپتال سے بغض اس قدر زیادہ ہے کہ یہ اس کی آگ میں کینسر کے مریضوں کو بھی جھونک سکتا ہے -

Dr Waqas Nawaz

45,473 görüntüleme • 11 ay önce

اقرار الحسن سے عوام نے جو سوالات پوچھے ہیں ان میں سے ایک کا بھی جواب نہیں دیا گیا۔ پہلا سوال آپ نے خود ایک انٹرویو میں کہا کہ جب آپ چھٹی جماعت میں تھے تو آپ کے والد نے دوسری شادی کی اور پھر جرمنی چلے گئے۔ آپ نے کہا کہ آپ کو نہیں معلوم وہ کہاں رہتے ہیں کیا کرتے ہیں یا انہوں نے کتنی شادیاں کی ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا صرف دوسری شادی کی وجہ سے کوئی ملک چھوڑ کر جرمنی میں پناہ لیتا ہے؟ ملک چھوڑنے کی اصل وجہ کیا تھی وہ آپ نے آج تک نہیں بتائی۔ دوسرا سوال آپ کے والد اسماعیل شاہ پر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کی شان میں گستاخی کے الزامات ہیں اور اس کی ویڈیو شواہد بھی موجود ہیں۔ آپ کے والد پر 295C کی دفعات بھی درج ہیں۔ اگر یہ سب جھوٹے الزامات تھے تو آپ کے والد نے عدالت کا دروازہ کیوں نہیں کھٹکھٹایا اور پاکستان چھوڑ کر بھاگنے کو ترجیح کیوں دی؟ تیسرا سوال آپ کی کمپنی Perfectum Pakistan کا واحد بیرون ملک دفتر جرمنی کے فرینکفرٹ میں ہے جہاں آپ کے والد مقیم ہیں۔ یہ محض اتفاق ہے یا آپ کے اور آپ کے والد کے درمیان کاروباری تعلق بھی ہے؟ اگر آپ کو اپنے والد کے بارے میں کچھ معلوم نہیں تو پھر جرمنی میں دفتر کیوں؟ چوتھا سوال آپ نے خود ایک انٹرویو میں اعتراف کیا کہ آپ نے اہم معاملات پر والد سے رابطہ کیا اور ان سے مشورہ لیا۔ جب آپ انہیں نہیں جانتے اور ان سے کوئی تعلق نہیں تو پھر مشورہ کس بات پر لیا گیا؟ یہ تضاد کیسے؟ پانچواں سوال آپ کہتے ہیں آپ کو فخر ہے مگر برسوں میں ایک بار بھی والد سے ملاقات کا کوئی ویڈیو ثبوت سامنے نہیں آیا۔ جس باپ پر فخر ہو اس کے ساتھ ایک تصویر ایک مشترکہ ویڈیو بھی نہیں؟ یہ کیسا فخر ہے جو چھپ کر ہو؟ چھٹا سوال آپ کے والد کا تعلق اہل تشیع مکتب فکر سے ہے اور وہ ایک مذہبی مقرر کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ اگر آپ واقعی ان کی سوچ اور عقائد سے الگ ہیں تو آپ نے کبھی عوامی سطح پر اپنے والد کے ان مبینہ بیانات سے لاتعلقی کا اظہار کیوں نہیں کیا؟ ساتواں سوال آپ نے پاسپورٹ شناختی کارڈ اور اسناد دکھا کر والد کا نام ثابت کیا مگر کسی نے آپ کی والدیت پر سوال نہیں اٹھایا۔ عوام آپ کے والد کے مبینہ کارناموں کے بارے میں حقائق جاننا چاہتی ہے جو زبان زد عام ہیں منقول

Aamir Gujjar

29,052 görüntüleme • 3 ay önce

اس وقت پاکستان میں طاقت حق بن چکی ہے، اور ماحول ایسا بنا دیا گیا ہے کہ جس کی لاٹھی، اس کی بھینس۔ طاقتور اسٹیبلشمنٹ جو چاہتی ہے وہی ہو رہا ہے۔ جج خود فیصلے نہیں لکھ رہے، فیصلے لکھوائے جا رہے ہیں، ڈکٹیٹ ہو رہے ہیں، اور عدلیہ اپنی ساکھ اور استقلال کھو چکی ہے۔ پارلیمنٹ کے ذریعے عوام پر ظلم ہو رہا ہے، عدلیہ کے ذریعے ظلم ہو رہا ہے، پولیس کے ذریعے ظلم ہو رہا ہے۔ بے گناہوں کو قتل کیا جا رہا ہے، مبینہ پولیس مقابلے ہو رہے ہیں، اور یہ سب کچھ واضح طور پر اخبارات میں آ رہا ہے۔ پاکستان کے عوام بھی غیر متعلق کر دیے گئے ہیں، اور پاکستان کی پارلیمنٹ بھی غیر متعلق ہو چکی ہے۔ اب کوئی چیز اپنی جگہ پر باقی نہیں رہی۔ پاکستان میں جو کچھ نظر آ رہا ہے وہ کھنڈر ہیں۔ عدلیہ کی جو عمارتیں ہمیں پیچھے نظر آتی ہیں، وہ بھی اس وقت کھنڈر بن چکی ہیں۔ یہاں عادل نہیں ملتا، یہاں عدل و انصاف کا قتل ہو رہا ہے۔ پارلیمنٹ کے اندر پاکستان کے عوام کے حق میں قانون سازی نہیں ہوتی، بلکہ عوام کے حق پر ڈاکہ ڈالنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔ پولیس کیا کر رہی ہے، عدالتیں کیا کر رہی ہیں، بیوروکریسی کیا کر رہی ہے—سب آپ کے سامنے ہے۔ ایک طرف پاکستان کی ریاست اور اس کی سالمیت پر یلغار ہے، اور دوسری طرف بدترین مہنگائی ہے۔ پھر ایسے فیصلے کیے جا رہے ہیں جن سے عوام کو مزید تکلیف پہنچے۔ عمران خان صاحب کے ساتھ اس وقت پاکستان کے عوام کی نوّے فیصد اکثریت کھڑی ہے۔ جو بھی آج ان کا مخالف ہے، وہ دراصل انتہاکت واروں کے ساتھ کھڑا ہے۔ ہم سب ایک ہیں، اسی لیے ان کی پوری کوشش ہے کہ ہمیں مایوس کریں، ناامید کریں، اور لوگوں سے کہیں کہ آپ کچھ نہیں کر سکتے۔ لیکن حقیقت میں یہ ان کی بزدلی اور پریشانی کی علامت ہے۔ یہ لوگ ہار چکے ہیں، اور جو اپنے عوام سے لڑتے ہیں وہ کبھی جیت نہیں سکتے۔ پاکستان کے نظام پر عوام کا اعتماد مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے، اور اس وقت پاکستان عوام کے بغیر چلایا جا رہا ہے۔ یہ لوگ دنیا میں جا کر جو فیصلے اور معاہدے کر رہے ہیں، ان کی دو ٹکے کی حیثیت بھی نہیں۔ پاکستان کے عوام انہیں قبول نہیں کرتے۔ ہم آج ہونے والے فیصلے کی سخت مذمت کرتے ہیں۔ یہ فیصلہ قابلِ مذمت ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ جس طرح کے ٹرائل ہو رہے ہیں، جس طرح کی صورتحال بنائی جا رہی ہے—جنوری سے عمران خان صاحب کے کیسز ہائی کورٹ میں زیرِ التوا ہیں، ان کی سماعت نہیں ہو رہی۔ یہ پک اینڈ چوز کی صورتحال ہے، اپنی مرضی کے فیصلے کیے جا رہے ہیں۔ یہ سمجھتے ہیں کہ ایسے فیصلے انہیں بچا لیں گے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ استثنا لینے کے باوجود ان کا خوف ختم نہیں ہو رہا۔ ڈر کے سائے میں ایسے فیصلے کیے جا رہے ہیں۔ خدا نہ کرے کسی ملک پر بزدل، حقیر اور چھوٹے لوگ مسلط ہو جائیں۔ یہ لوگ پست ترین سطح پر جا کر مخالفت کرتے ہیں۔ ہم خداوندِ عبدالمطلب کے بارگاہ میں دعا کرتے ہیں کہ ہمیں ان ظالموں، بونوں اور حقیر لوگوں سے نجات عطا فرمائے۔ یہاں آئین کی بالادستی ہو، قانون کی حکمرانی ہو، اور پاکستان کے عوام کو انصاف اور ان کا حق ملے۔

Senator Allama Raja Nasir

29,309 görüntüleme • 8 ay önce