正在加载视频...

视频加载失败

بریکنگ 🚨 کراچی میں سیلاب آگیا ۔ کئی علاقے زیرآب آگئے ۔ ملیر ندی اور لیاری ندی دریا بن گئیں۔ ناردرن بائی پاس کے قریبی علاقوں میں پانی داخل ہونے کی وڈیو #FloodInKarachi

10,560 次观看 • 1 年前 •via X (Twitter)

0 条评论

暂无评论

原始帖子的评论将显示在这里

相关视频

🔔🔔 کسی کی دل آزاری مقصود نہیں لیکن کراچی میں بارش اور “اربن فلڈنگ” کے دعوؤں کی رپورٹنگ بہت ہی دلچسپ ہے۔ صُبح ایک خاتون رپورٹر کی پانچ منٹ کی لائیو رپورٹنگ دیکھی وہ ملیر کینٹ کو جانے والی سڑک پر چھتری لیے موجود تھیں اور اُن کے عقب میں سڑک بالکل صاف تھی لیکن وہ منظر کشی ایسی کررہی تھیں جیسے بارش سب بہا کر لے گئی ہو، یہاں تک کہ اینکرز نے پوچھ لیا آپ ہمیں سڑک پر پانی دکھا سکتی ہیں؟ تو انہوں نے کیمرہ مین کو کہا آپ دوسری طرف کیمرہ گُھما کر دکھائیں اور جب کیمرہ گھوما تو سڑک کے آدھے حصہ پر تقریباْ ایک سے آدھا انچ پانی کھڑا تھا جبکہ باقی آدھی سڑک پر وہ آدھا انچ پانی بھی نہیں تھا اور ٹریفک کے ساتھ ساتھ لوگ پیدل بھی جارہے تھے صرف شلوار ٹخنوں سے تھوڑی اوپر کر رکھی تھی تاکہ شلوار پر “چھینٹے” نہ پڑ جائیں۔ ابھی یہ وڈیو بھی دیکھیے کار کے ٹائر کا ایک چوتھائی حصہ تک بھی پانی میں نہیں ڈوب رہا یعنی کہ یہاں بھی پانی دو یا تین انچ سے زیادہ نہیں کھڑا لیکن بتایا یوں جارہا ہے جیسے حیدرآباد سے پانی نہیں راوی چناب سے سیلاب بند توڑ کر کراچی میں داخل ہوگیا ہے۔

Asad Ali Toor

104,103 次观看 • 1 年前

اہل کراچی ! زرا سنیں کہ مسلم لیگ ن کے رہنما خرم دستگیر کیا فرمارہے ہیں، ” کراچی شہر اگر آج پرامن ہے تو اس کا کریڈٹ مسلم لیگ ن کو جاتا ہے “ اب زرا ہمت کرکے چند تاریخی حوالوں پر مشتمل میرا جواب بھی ضرور ملاحظہ کیجئے۔ کراچی کےنام نہاد '' امن '' کاکریڈٹ لینے والے خرم دستگیر صاحب ! آپ اورآپ کےاحباب چاہے مانیں یا نہ مانیں لیکن ہم نہیں بھول سکتے کہ میاں نوازشریف کے پہلے دورحکومت میں 18 جون 1992ء تک کراچی میں مثالی امن تھا، ترقی تھی ،خوشحالی تھی لیکن یہ میاں نوازشریف ہی تھے جنہوں نے اس وقت کے آرمی چیف جنرل آصف نواز کے ایم کیوایم کوکرش کرنے کے منصوبے کے تحت کراچی میں فوجی آپریشن شروع کیا۔ایم کیوایم سے خارج کردہ افرادپر مشتمل حقیقی بناکرانہیں کراچی میں دہشت گردی، قتل ،اغوا، لوٹ مار، گھروں، دفاترپر حملوں اورہر طرح کی دہشت گردی کالائسنس دیا اور کراچی کے امن کوایک منصوبے کے تحت ایساتباہ کیاکہ اس تباہی وبربادی کاسلسلہ آج بھی جاری ہے۔ نوازشریف کےفوجی آپریشن کے دوران جون 1992ء میں ایم کیوایم کے سینکڑوں کارکنوں کوقتل کرکے ان کی مسخ شدہ لاشیں پھینکی گئیں۔ اس حوالے سے جولائی 1992ء میں ایدھی ٹرسٹ کے بانی مولانا عبدالستار ایدھی مرحوم کی جاری کردہ رپورٹ آج بھی اخبارات کے ریکارڈپر موجود ہے۔ ہم نہیں بھول سکتےکہ میاں نوازشریف نے1997ء میں اپنے دوسرے دورِحکومت میں انکے امیرالمومنین بننے کے مجوزہ بل کی مخالفت کرنے پر ایم کیو ایم کو سزادینےکے لئے اس وقت کے ISI چیف جنرل ضیاء الدین بٹ کے تیارکردہ منصوبےکے تحت حکیم سعیدکوقتل کرایااورپھرگورنرراج نافذ کرکے کراچی میں ایم کیوایم کےخلاف ایک نیا آپریشن شروع کیا، پنجاب سے رانامقبول اوراس جیسے کئی مہاجردشمن پولیس افسران کو کراچی میں تعینات کرکے ان کے ذریعے ایم کیوایم کےکئی بے گناہ کارکنوں کو ماورائے عدالت قتل کرایا۔ ہم نہیں بھول سکتے کہ مہاجروں کی سیاسی آواز اوران کی قوت MQM کوختم کرنے کے منصوبے پر عمل کرنے کےلئے نوازشریف کے تیسرے دورمیں 2013ء میں ایک بارپھر کراچی میں آپریشن کیاگیا ۔ اس آپریشن کاجوازپیدا کرنےکےلئے پیپلزپارٹی سےملکر گینگ وار جیسے جرائم پیشہ گروہوں کی مکمل سرپرستی کی گئی۔کراچی کے شہری، تاجر، دکاندار اورایم کیوایم دہائیاں دیتے رہے کہ ان جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائی کی جائے لیکن نوازشریف حکومت ان عناصر کی حمایت کرتی رہی اوران جرائم پیشہ عناصر سے مجرمانہ کارورائیاں کرائیں اور اسےجوازبناکر کراچی میں پھرایک نیا آپریشن شروع کیاگیا۔ ایم کیوایم کےسینکڑوں بےگناہ کارکنوں کولاپتہ کیاگیا، ان کی لاشیں مسخ کرکے پھینکی گئیں۔ ہم نہیں بھول سکتے کہ نوازشریف کےدورحکومت میں 3 مئی 2016ء کوایم کیوایم کےکارکن آفتاب احمدکو گھر سےگرفتارکرنے کے بعد کس طرح اس نوجوان کو رینجرزکی حراست میں سفاکانہ تشدد کرکے ماورائے عدالت قتل کردیا گیا۔ ہم نہیں بھول سکتے کہ مہاجروں کوکچلنے کے ریاستی منصوبے کے تحت 1992ء میں نوازشریف کاشروع کرایا گیاآپریشن آج تک جاری ہے جس نے 25 ہزار سے زائد مہاجروں کی جانیں لے لیں ہم نہیں بھول سکتے کہ نوازشریف اس جنرل ضیاء الحق کے ساتھی تھےجس نے مہاجروں کوایم کیوایم کے پلیٹ فارم پر متحد ہونے اوراپنے حقوق کی آواز اٹھانے کی سزادینے کے لئے دسمبر 1986 میں کراچی کی مہاجربستیوں علی گڑھ کالونی اورقصبہ کالونی پراپنے تشکیل کردہ مسلح لشکروں کے ذریعے حملے کرائے جس کے دوران سینکڑوں مہاجروں کاقتل عام کیاگیا، گھروں میں لوٹ مارکی گئی ، گھروں کوآگ لگائی گئی اورمہاجربہنوں بیٹیوں کی عصمت دری کی گئی۔اسی جنرل ضیاء الحق نے ''پنجابی پختون اتحاد'' نامی جرائم پیشہ گروہ تشکیل دیےجن کے ذریعے کراچی میں شاہ فیصل کالونی، گرین ٹاؤن، ملیر، جلال آباد ناظم آباد، خواجہ اجمیرنگری اوردیگر مہاجر بستیوں پر حملے کرائے گئے، کراچی کاامن تباہ کیا گیا اورنوازشریف اس امن کی تباہی میں جنرل ضیاء کے ساتھی تھے۔ 1/2

Mustafa Azizabadi

16,744 次观看 • 3 年前

ایرانی بے بس۔۔ سعودی عرب نے"آبنائے ہرمز اور باب المندب"کو بائی پاس کر کے ڈائریکٹ"بحیرہ عرب"پہنچنے کا منصوبہ مکمل کرنا شروع کر دیا سعودی عرب اور عمان کا بارڈر آپس میں جڑا ہوا ہے، اور سعودی عرب اب عمان کے ذریعے آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) اور باب المندب کو بائی پاس کر کے جغرافیائی اور تزویراتی ایڈوانٹیج لے گا دونوں ممالک کے درمیان 741 کلومیٹر طویل مشترکہ سرحد واقع ہے، جو زیادہ تر مشہور صحرا"ربع الخالی"(The Empty Quarter) پر مشتمل ہے۔ دسمبر 2021 میں دونوں ممالک کے درمیان ربع الخالی کے ذریعے پہلی براہِ راست ہائی وے (سعودی-عمان ہائی وے) کھولی گئی۔ اس سے قبل دونوں ممالک کے درمیان زمینی سفر متحدہ عرب امارات (UAE) سے گزر کر ہوتا تھا، مگر اب یہ زمینی رابطہ بالکل براہِ راست ہو چکا ہے۔ عمان کی بندرگاہیں دقم (Duqm) اور صلالہ (Salalah) آبنائے ہرمز سے مکمل طور پر باہر، خلیجِ عمان اور بحیرہ عرب (انڈین اوشن) کے کھلے ساحلوں پر واقع ہیں۔ تیل اور لاجسٹکس کاریڈور کے لیے عمان اور سعودی عرب کے درمیان ایک مجوزہ ریلوے نیٹ ورک اور خام تیل کی پائپ لائنز بچھانے پر بات چیت اور معاہدے جاری ہیں۔ اگر سعودی عرب ربع الخالی کے راستے اپنی مشرقی آئل فیلڈز کو عمان کی بندرگاہ "دقم" (Duqm) سے پائپ لائن کے ذریعے جوڑ دیتا ہے، تو اس کا تیل آبنائے ہرمز میں داخل ہوئے بغیر براہِ راست عالمی منڈیوں میں جا سکے گا۔ موجودہ صورتحال میں فی الحال سعودی عرب آبنائے ہرمز کو بائی پاس کرنے کے لیے اپنی ملکی ایسٹ-ویسٹ پائپ لائن (East-West Pipeline) کا استعمال کر رہا ہے، جس کے ذریعے تیل کو بحیرہ احمر (Red Sea) کی بندرگاہ "ینبع" (Yanbu) تک پہنچایا جاتا ہے۔ تاہم، بحیرہ احمر میں حوثی باغیوں کے خطرات کی وجہ سے عمان کا راستہ (بحیرہ عرب کی طرف) سعودی عرب کے لیے مستقبل کا سب سے محفوظ ترین لائف لائن متبادل بن کر ابھر رہا ہے۔ عمان اور سعودی عرب نے "محفوظ گرین لینڈ کوریڈور" پر کام شروع کیا ہے جو عمان کی صحار بندرگاہ کو سعودی عرب کے SPARK ڈرائی پورٹ سے خالی کوارٹر ہائی وے کے ذریعے جوڑتا ہے۔ سعودی حصے کی لمبائی تقریباً 564 کلومیٹر ہے اور اس کی تعمیر پر تقریباً 533 ملین ڈالر لاگت آئی ہے۔ اس زمینی راستے کا مقصد مال برداری کے اخراجات کم کرنا، سامان کی ترسیل تیز کرنا اور سمندری راستوں کی اہم رکاوٹوں کو نظرانداز کرنا ہے۔ اس منصوبے کے مکمل ہونے کے بعد آبنائے ہرمز کی اہمیت کم ہو جائے گی۔ (اسد آر چوہدری)

Asad R Chaudhry

25,977 次观看 • 1 个月前

کراچی میں پیش آنے والے دو افسوسناک واقعات نے ایک بار پھر معاشرے کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا دونوں واقعات میں دو خواتین اپنی ہی زندگی کے ساتھیوں کے ہاتھوں قت_ل ہو گئیں، جو نہایت دردناک اور قابلِ مذمت ہے پہلے واقعے میں تین روز قبل سرجانی ٹاؤن کی رہائشی مصباح کو مبینہ طور پر اس کے شوہر شہریار نے والدین سے نئی موٹر سائیکل لانے کا مطالبہ کیا مطالبہ پورا نہ ہونے پر سلمان نے اسے مبینہ تشدد کا نشانہ بنایا ، جس کے باعث وہ دورانِ علاج اسپتال میں دم توڑ گئی آج دوسرے واقعے میں بھی سرجانی ہی میں ایک 22 سالہ مصباح کو اس کے شوہر سلمان نے گھریلو ناچاقی پر اپنے ساتھیوں کے ہمراہ والدین کے گھر، بہن بھائیوں کے سامنے گولیاں مار کر قت_ل کر دیا اور موقع سے فرار ہو گیا وڈیو ملزم سلمان کی ہے جب وہ فرار ہو رہا تھا ایسے سانحات صرف ایک خاندان نہیں بلکہ پورے معاشرے کے ضمیر کو زخمی کر دیتے ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ گھریلو تشدد، جہیز اور لالچ جیسے ناسوروں کے خلاف مؤثر اقدامات کیے جائیں اور مجرموں کو قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے۔ والدین بھی رشتہ طے کرتے وقت کردار، اخلاق اور مزاج کو اولین ترجیح دیں، کیونکہ بیٹیاں بوجھ نہیں بلکہ خاندان کی عزت، محبت اور رونق ہوتی ہیں، اور ان کی حفاظت و احترام ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے #Karachi #BudgetForPakistan

Samar Abbas

29,422 次观看 • 3 个月前

یہ 12 سیکنڈ کی ویڈیو ہے جس میں ایک بوڑھی ماں کا اپنے سپیشل بیٹے سے 15 سال کی دوری کا درد چھپا ہے۔ یہ ابراہیم نامی سپیشل شخص 2010 میں گمشدگی کے بعد اپنی والدہ کے پاس لوٹنے اور ملاقات کا منظر ہے- ابراہیم 2010 میں اپنے گھر اوکاڑہ سے نکلے اور واپس گھر نہ لوٹے۔ والد صاحب انتظار کرتے کرتے دنیا سے رخصت ہوگئے، جبکہ والدہ نے برسوں اپنے بیٹے کی راہ تکتے ہوئے اپنی امید کو زندہ رکھا، مگر ابراہیم کا کوئی سراغ نہ مل سکا۔ پنجاب سیف سٹی اتھارٹی کی میرا پیارا ٹیم نے لاہور سے کراچی کا سفر کیا اور کراچی ایدھی ہوم میں موجود بے سہارا اور لاوارث افراد کے انٹرویوز ریکارڈ کیے۔ انہی میں سے ایک ابراہیم صاحب بھی تھے، جو اپنے بارے میں بس اتنا بتا سکے کہ ہمارا گھر اوکاڑہ میں دریا کے کنارے پر ہے- انہیں گاؤں کا نام بھی یاد نہیں تھا۔ اللہ تعالیٰ کے خاص کرم سے جب ابراہیم کا انٹرویو میرا پیارا کے فیس بک پیج پر شیئر ہوا تو ان کے گاؤں کے ایک نوجوان نے انہیں پہچان لیا اور فوراً ہماری ٹیم سے رابطہ کیا۔ تصدیقی عمل مکمل ہونے کے بعد پندرہ سال بعد یہ بیٹا اپنی ماں سے مل گیا۔ماشااللہ لا قوۃ الا باللہ پنجاب سیف سٹی اتھارٹی کی میرا پیارا ٹیم کا مشن یہی ہے کہ پاکستان بھر میں کوئی بھی بچہ، کوئی بھی بزرگ یا کوئی بھی خصوصی فرد اپنے پیاروں سے جدا نہ رہے, انشااللہ۔ واللہ المستعان Mera Pyara Safe City

Punjab Police Official

39,605 次观看 • 10 个月前

اہم ، سیالکوٹ بجوات سیکٹر میں تباہی کی تفصیلات مجھے مستند ذرائع نے سینڈ کیں ہیں پنجاب حکومت انتظامیہ فوری توجہ دے ، سیالکوٹ سے تقریباً 21 کلومیٹر شمال کی جانب علاقہ بجوات جو 84 دیہات پر مشتمل ہے جس کی آبادی تقریباً چھ 7 لاکھ ہے کل کے سیلاب میں سب سے پہلے یہ علاقہ متاثر ہوا ہے چاول کی فیصلیں مکمل طور پر تباہ ہو گئی ہے جو کھانے پینے کی اشیاء لوگوں نے گھروں میں رکھی ہوئی تھی جو پورا سال استعمال کرنی تھی جس میں گندم ، چاول وہ سب کچھ پانی بہا لے گیا ہے اور بہت زیادہ مال مویشی بھی ہلاک ہوئے ہیں سب سے اہم بات یہ کی ان سب 84 دیہات کا زمینی راستہ بھی سیالکوٹ اور دوسرے شہروں سے منقطع ہے انتظامیہ فوری طور پر بجوات سیکٹر کا واحد زمینی راستہ ، بجلی ، انٹرنیٹ بحال کرے اور امدادی کارروائیاں شروع کرے بجوات سیکٹر میں مشرق سے دریائے جموں توی اور شمال سے دریائے چناب پاکستان میں داخل ہوتا ہے جس کی وجہ سے زیادہ نقصان ہوا پل بجواں ، مرہال، پنڈی پتراڑہ ، چک کھوجہ ، گدپور و دیگر جگہوں سے گزرنے والا سیلابی ریلا میں بھی کافی نقصان پہنچا چکا ہے سات سے دس فٹ جو نچلے حصے تھے وہاں 10 فٹ تک بھی پانی تھا بجوات وہ سیکٹر جس میں پاکستان میں جب انڈیا کی طرف سے پانی آتا ہے تو سب سے پہلے متاثر ہوتا ہے اور اس علاقے کا سب سے بڑا گاؤں پل بجواں سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے کیونکہ یہ بلکل دریائے جموں توی کے کنارے پر ہے NDMA PAKISTAN Government of Punjab Sialkot Police

Saqib Bashir

96,196 次观看 • 1 年前

مخصوص خفیہ ایجنسی اورسی ٹی ڈی پر مشتعمل درجنوں اسلحہ بردار افراد نے مجھے اسلام آباد میں اپنے گھر سے گزشتہ جمعہ کی رات کو 12:10 منٹ پر اغوا کیا تھا۔ میں اپنے والدین کا ایک ہی بیٹا ہوں۔ اغوا کے لئے خفیہ ایجنسی کی کالی ویگو، سی ٹی ڈی کے دو ڈالے اور ایک ٹویوٹا فیلڈر گاڑی کو استعمال کیا گیا۔ گاڑی میں بٹھاتے ساتھ ہی میری آنکھوں پر پٹی اور کالا کپڑا باندھ دیا گیا تھا۔ متعلقہ جگہ پر پہنچے تو مجھ سے کہا گیا کہ آپ ہم سے تعاون کریں اور ہم آپ سے۔ وہ سوالات پوچھتے گئے کہ آپ نو مئی کو کہاں تھے وغیرہ وغیرہ اور میں جوابات دیتا گیا۔ پھر مجھ سے کہا گیا کہ ایک وڈیو بناؤ جس میں بتاؤ کہ میں احتجاج اور سوشل میڈیا پر ریاست پاکستان کے خلاف جو بھی کمپین کرتا ہوں اس کا حکم عمران خان اور پارٹی کی سینئر قیادت دیتی ہے اور معافی مانگو۔ میں نے یہ کام کرنے سے انکار کر دیا کہ عمران خان کے خلاف کوئی بیان نہیں دوں گا۔ پھر یہ سنتے ساتھ ہی انہوں نے مجھ پر بدترین تشدد کرنا شروع کر دیا۔ میرے سر اور جسم پر جوتوں، مُکوں اور مختلف اوزاروں سے کئی گھنٹوں تک تشدد کرتے گئے۔ تشدد کے نشانات ابھی تک میرے جسم پر موجود ہیں ہیں اور تصاویر بھی ریکارڈ کا حصہ بن گئی ہیں۔ میں عمران خان اور پارٹی کے خلاف بیان کے لئے نہیں مانا اور نا ہی وڈیو بنوائی۔ بدترین تشدد کے بعد جب میری حالت بے زار ہوگئی تو انہوں نے مجھے پانی پِلایا اور کہا کہ ہم آپ کو چھوڑنے لگے ہیں اور مجھے امادہ کیا گیا کہ میں اپنے اغوا کی تفصیلات کسی کو نہیں بتاؤں گا۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ میری اتنی جلدی رہائی جسٹس محسن اختر کیانی کی وجہ سے ہوئی۔ اگر مجھے رہا نا کیا جاتا تو میرے والدین ہائی کورٹ میں پیٹیشن دائر کرتے جس کے لئے میں نے پہلے سے ہی ایک بیان حلفی لِکھ کر اپنے دوست کو دیا ہوا ہے جس میں لکھا ہوا ہے کہ مجھے اغوا کر کے غائب کر دیا جائے تو ذمہ داران کے نام لکھے ہوئے ہیں جس کا ڈائرکٹ الزام خفیہ اداروں پر جاتا ہے۔ جسٹس محسن اختر کیانی جس طرح سے احمد فرحاد کا کیس چلا رہے ہیں اس سے حساس اداروں پر سخت ترین دباؤ ہے۔ میرا موبائل فون آج دن تک واپس نہیں کیا گیا جس میں میری ذاتی زندگی کی بہت معلومات ہیں۔ نا تو میں بلیک میل ہوں گا اور نا ہی میں کبھی عمران خان اور اپنی پارٹی کی خلاف جاؤں گا بے شک مجھے قتل کر دیا جائے۔ میں اپنے خون کے آخری قطرے تک عمران خان کا وفادار رہوں گا، انشاءاللہ۔ اس کے علاوہ میں تمام پی ٹی آئی ورکرز، سوشل میڈیا وارئرز اور دوستوں کا شکر گزار ہوں جنہوں نے وقت ضائع کئے بغیر میری رہائی کے لئے آواز اٹھائی اور دعایئں کی۔ میں ساری زندگی آپ لوگوں کا احسان مند رہوں گا۔ PTI

Wajahat Sami

673,530 次观看 • 2 年前

30 نومبر 2023 تاریخ ساز دن 30 نومبر کے دن پاکستان کی تاریخ کا اہم سنگ میل عبور ہونے جارہا ہے جب چلاس سے 40 کلومیٹر نیچے عظیم تر دریائے سندھ کا رُخ دیامیربھاشا ڈیم کی سائٹ سے موڑ دیا جائے گا ۔ دریا ایک کلومیٹر لمبی سرنگ اور 800 میٹر لمبی نہر سے ہوتا ہوا نیچے واپس اپنے اصلی روٹ سے دوبارہ جا ملے گا۔ یہ بڑی خوشی کی بات ہے کہ واپڈا یہ سنگِ میل وقت پر مکمل کررہا ہے۔ دیامیر بھاشا ڈیم نہ صرف 8.1 ملئین ایکڑ فٹ سیلابی پانی ذخیرہ کرے گا بلکہ 4500 میگاواٹ صلاحیت کے بجلی گھر سے سالانہ 18 ارب اضافی بجلی کے یونٹ بھی پیدا کرے گا اور ساتھ ہی ایک ملئین ایکڑ سے زیادہ اراضی سیراب کرے گا۔ اس وقت پاکستان کے بڑے ڈیموں (منگلا، تربیلا اور گومل زام کے آبی ذخائر) میں تقریباً 14.28 ملین ایکڑ فٹ پانی کی ذخیرہ کرنے گنجائش ہے جب کہ پاکستان دو بڑے آبی ذخائر, مہمند ڈیم (1.239 مین ایکڑ فٹ) اور دیامر بھاشا ڈیم (8.1 ملین ایکڑ فٹ) تعمیر کر رہا ہے جس کے بعد پاکستان کی پانی ذخیرہ کرنے کی کل گنجائش 23.58 ملین ایکڑ فٹ ہو جائے گی جو کہ پچھلے چالیس سال سے مسلسل کم ہورہی تھی۔ دریا کا رُخ موڑنے سے دیامیر بھاشا ڈیم کے تعمیراتی علاقے خشک ہو جائیں گے اور یہاں کام کرنا آسان ہوجائے گا۔ دیامیر بھاشا ڈیم انشااللہ 2028 میں مکمل ہوگا۔

Pakistan Tourism

239,831 次观看 • 2 年前