Sensitive content
This media may contain sensitive content.
Loading video...
Video Failed to Load
بل کا مقصد عورت کو لذت دینا ہوتا ہے درد یا تکلیف دینا نہیں اکثر لل سمجھتے ہیں کہ موٹے اور لمبے سائز سے عورت خوش ہوتی ہے یہ خیال صرف مٹھ لگانے کیلئے کافی ہے حقیقت میں عورت وہ سائز پسند کرتی ہے جو تکلیف اور درد کا... show more
0 Comments
No comments available
Comments from the original post will appear here
Related Videos
0:20
Sensitive content
ہمارے معاشرے میں طلاق کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ یہاں عورت غیر مرد کو اپنا ہمدرد اور اپنے مرد کو سر کا درد سمجھتی ہے باقی ویڈیو آپ خود دیکھ لیں کس کا قصور ہے
Umm e Fari
25,876 views • 3 months ago
1:01
Sensitive content
یہ حقیقت ہے یہ عورت اپنا جسم بیچتی ہے اسی کو فیم ملتا ہے وہی کمائی کر سکتی ہے جو شریف ہے چادر چار دیواری کا خیال رکھتی ہے وہ اگے نہیں بڑھ سکتی فاطمہ جتوئی نے بھی یہی کیا ہے اپنا جسم بیچا ہے اپنے جسم کی کمائی کھا رہی ہے ابھی کچی کلی ہے اور لوگ اس چیز کو پسند کرتے ہیں
Nadia Malik
78,351 views • 1 month ago
13:25
Sensitive content
عورت کا بانجھ ہونا اللہ کی طرف سے ہے، لیکن اس کی سزا معاشرہ دیتا ہے۔ شوہر جب اپنی بیوی کے فطری حسد کو گناہ بنا کر اس کی محبت کو نظرانداز کرتا ہے، تو ایک ادھوری عورت کی چاہت جنون میں بدل جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مرد کو چار شادیوں کی اجازت تو دی ہے، مگر ساتھ ہی یہ بھی واضح فرمایا کہ تم ان کے درمیان انصاف نہیں کرسکو گے، اس لئے ایک بیوی ہی کافی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بیوی یہ کبھی برداشت نہیں کر سکتی کہ شوہر کی زندگی میں کسی دوسری عورت کی شراکت داری ہو۔ ماہم جیسی نہ جانے کتنی عورتیں صرف بانجھ پن کے باعث نظرانداز کی جاتی ہیں، یہاں تک کہ انہیں پاگل پن کے دہانے تک پہنچا دیا جاتا ہے۔ کیوں؟ صرف اس لئے کہ وہ اولاد نہیں جن سکتیں، حالانکہ وہ اپنے شوہر سے جنون کی حد تک محبت کرتی ہیں۔ دنیا میں لاکھوں یتیم بچے ہیں جنہیں ماں باپ کی محبت اور پرورش کی ضرورت ہے۔ پھر کیوں نہ کسی عورت کو اذیت دینے کے بجائے ایک یتیم کو گود لیا جائے؟ اس طرح ایک معصوم بچے کو خاندان کا سہارا اور والدین کا پیار ملے گا، اور عورت کو تحفظ اور سکون۔ #sharakat
Najiba Faiz
88,130 views • 11 months ago
2:23
Sensitive content
یہ گیارہ سال سے جبری گمشدگی کا شکار زاہد بلوچ کا بیٹا ہے۔ یہ معصوم بچہ بچپن سے اپنے والد کے سائے سے محروم رہا ہے۔ اس کی پرورش اس کے چچا، شاہ جہان بلوچ نے کی، جو ایک مقامی تاجر تھے، اور اب ریاست نے اس آخری سائے، شاہ جہان بلوچ، کو بھی گزشتہ روز قتل کر دیا۔ اب یہ معصوم بچہ اپنی درد اور تکلیف سے بھری زندگی کی کہانی بیان کر رہا ہے، ریاست سے سوال کر رہا ہے کہ اس کے تکلیف دہ اور درد بھرے بچپن کا ذمہ دار کون ہے؟ ریاست نے بلوچ بچوں کو ایسی تکلیف اور درد بھری زندگی دی ہے کہ جن کے دکھ اور مصائب کے قصے سن کر کلیجہ پھٹ جاتا ہے اور دل سے ایسی بددعا نکلتی ہے جسے الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ #SaveZahidAndAsadBaloch #StopBalochGenocide #ReleaseBalochMissingPersons
Mahrang Baloch
69,764 views • 1 year ago
