Loading video...

Video Failed to Load

Go Home

بلوچ خواتین، بچوں اور بزرگوں کو پولیس گھسیٹ کر لیکر جا رہے ہیں وہ پوچھنا تھا کیا یہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی میں آتا ہے؟

540,549 views • 2 years ago •via X (Twitter)

8 Comments

Raja Saad's profile picture
Raja Saad2 years ago

یہ ظلم اخر کب ختم ہو گا پاکستان تو اس ٹائم مقبوضہ کشمیر سے بھی ذیادہ پاکستانی عوام پہ ظلم کیا جا رہا ہے

Raja Muhammad Shahzad Safdar's profile picture
Raja Muhammad Shahzad Safdar2 years ago

کیا اسی لئیے تمھیں ٹیکس دے کر پالتے ہیں کہ معصوموں پر ظلم کرو اور ظالموں کیلئے سیلوٹ مارو تف تف تف

Raja Muhammad Shahzad Safdar's profile picture
Raja Muhammad Shahzad Safdar2 years ago

یہ کیسی وردی جس کو پہن کر انسانیت مردہ اور حیوانیت بھی شرما جائے

Sultan's profile picture
Sultan2 years ago

بنگالیوں سے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگنے کو دل کر رہا ہے 😣😞

Ch Arshad ipians's profile picture
Ch Arshad ipians2 years ago

پاکستانیوں کے ساتھ تو فلسطین سے بھی بدتر ظلم ہو رہا ہے لیکن افسوس یہ ہے کہ وہاں پہ تو اسلام کے دشمن قابض فوج کر رہی ہے لیکن یہاں پہ اپنے ہی ملک کے لوگ ظلم کر رہے ہیں انشاءاللہ یہ ظلم مٹ کر رے گا

Abdal سلیمان زئی's profile picture
Abdal سلیمان زئی2 years ago

@dtnoorkhan دہشت گرد زانی شرابی دجالی فسادی

Irum Zia's profile picture
Irum Zia2 years ago

کونسے جانور ہمارے ملک کی پولیس میں بھرتی ہیں؟😳😡

Ahsan Mumtaz's profile picture
Ahsan Mumtaz2 years ago

پاکستان کی قومی سلامتی اپنے زوال کے عروج پر پہنچ چکی ہے. یہاں پر دو راستے ہیں. اِک قبرستان سے ہوتا ہوا تاریخ کا کوڑادان ہو گا- دوسرا زوال سے طلوع کی طرف جا سکتا ہے. عوام کو فیصلہ کرنا ہے کہ مولانا ابوالکلام کے خیال کو درست ثابت کرنا چاہتے ہیں یا عروجِ کی طرف سفر کرنا چاہتے ہیں.

Related Videos

اگر مقصد واقعی بلوچ حقوق ہیں تو راستہ تعلیم، شعور، سیاست اور ترقی ہونا چاہیے نہ کہ کم عمر بچیوں کو مختلف حربوں سے ورغلا کر، دھمکا کر بارود اور شدت پسندی کی طرف دھکیلنا۔ بلوچ نوجوانوں کے ہاتھ میں کتاب ہونی چاہیے بندوق نہیں۔ بلوچ بیٹیوں کو یونیورسٹیوں میں ہونا چاہیے پہاڑوں کے عسکری کیمپوں میں نہیں۔ کیونکہ جو اسپانسرڈ عناصر بلوچ نسل کو جنگ کی آگ میں جھونک رہے ہیں وہ بلوچ قوم کے مستقبل اور تشخص کو تباہ کر رہے ہیں۔ آج سامنے آنے والی ویڈیو نے ایک تلخ حقیقت واضح کر دی۔ شہناز بلوچ یہ دعویٰ کر رہی ہیں کہ بلوچ قوم شعوری طور پر ایک مخصوص عسکری جدوجہد کا فیصلہ کر چکی ہے مگر دوسری طرف ان کے کیمپ میں جن چہروں کو تربیت دی جا رہی ہے ان میں تمام تر لڑکیاں کم عمر اور نابالغ ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر یہ واقعی ایک شعوری سیاسی فیصلہ ہے تو پھر معصوم بچیوں کو ورغلا کر ان کے ذریعے جنگ اور خودکش تربیت کی طرف کیوں دھکیلا جا رہا ہے؟ کیا معصوم ذہنوں کو جنگی نفسیات دینا انسانی حقوق کے اصولوں کے خلاف نہیں؟ بلوچ اور اسلامی روایت میں خواتین کے احترام کو بنیادی حیثیت حاصل ہے مگر آج آزادی کے نام پر بلوچ بیٹیوں کو پہاڑوں پر عسکری تربیت دینا بلوچ ننگ، ثقافت اور تشخص کے سراسر خلاف ہے۔ یہی عناصر روز ریاستی اداروں پر بلوچوں کو اٹھانے کے الزامات لگاتے ہیں مگر جب درجنوں خواتین اور نابالغ لڑکیاں عسکری کیمپوں میں موجود ہوں تو ایک منطقی سوال پیدا ہوتا ہے کیونکہ یہ خود چاہتے ہیں کہ ریاستی ادارے کل ان کے خاندان والوں سے تحقیقات کریں ۔تاکہ یہی عناصر دوبارہ لاپتہ بلوچ” کا بیانیہ بنائیں ؟ خواتین کی اس حد تک بے حرمتی اور نسل کشی ہر بلوچ خاتون کی راہ میں منفی اثرات اور مشکلات چھوڑتی ہیں۔

Meena Majeed Baloch, MPA

38,539 views • 3 months ago

بلوچستان ہاتھ سے نکلتا جا رہا ہے، ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ جمہوریت، آئین اور قانون کی بالا دستی کے لیے آواز اٹھا رہی تھیں، بلوچستان میں جو ظلم اور زیادتیاں ہوتی ہیں لوگوں کو جبری لاپتہ کر دیا جاتا ہے اس کے خلاف پُرامن جمہوری جدو جہد کر رہی تھیں ان کو بھی جیل میں بند کیا ہوا ہے، یہ خواتین سے بھی ڈرتے ہیں خواتین نے ان چار سالوں میں پاکستان کے لیے، آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور حقیقی آزادی کے لیے بڑا کردار ادا کیا ہے اور آج تک جبر اور ظلم کے سامنے ڈٹی ہوئی ہیں عاصم منیر کی فرعونیت اور یزیدیت کو نہیں مان رہیں اور حسینیت کا پرچم بلند کر کے جیلوں میں بند ہیں، ڈاکٹر یاسمین راشد، صنم جاوید، عالیہ حمزہ، ایمان مزاری، ماہرنگ بلوچ وہ خواتین ہیں جنہوں نے یزید وقت کے سامنے جھکنے سے انکار کر دیا، یہ خواتین نہیں مان رہی ہیں اور وہ کہہ رہی ہیں کہ ہم حق اور سچ کے راستے پر چلیں گی چاہے ہمیں جیلوں میں ہی بند کر دیا جائے۔ #FascismUnderAsimLaw #PakistanUnderMartialLaw

Qasim Khan Suri

12,266 views • 3 months ago