Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

بلوچ مائیں اور بچیاں جُرأت و استقامت کی علامت ہیں۔ آج اسلام آباد میں احتجاج کو آٹھ دن مکمل ہو چکے ہیں۔ اسلام آباد پولیس کی بدسلوکیاں اور جبر بدستور جاری ہے، لیکن وہ نہ ان ماؤں کے حوصلے کو توڑ سکی ہے اور نہ ہی انہیں پسپا کرنے...

33,974 Aufrufe • vor 1 Jahr •via X (Twitter)

13 Kommentare

Profilbild von Abdul Musawir
Abdul Musawirvor 1 Jahr

پی ٹی آئ اور بلوچستان کے لوگ اغواء ہوۓ ہے اور ہو رہیں ہے۔ دونوں کے ساتھ ایک جیسا سلوک ہو رہا ہے۔ دونوں اتحاد کر کے 5 اگست کو مُلک بہر احتجاج کریں خان رہا ہوگا پاکستان رہا ہوگا۔ #StopTorturingImranKhan

Profilbild von AB Man
AB Manvor 1 Jahr

This was also the student Soo called peaceful student 🤫.

Profilbild von Mr Baloch💫
Mr Baloch💫vor 1 Jahr

ظالم جتنا مرضی طاقتور ہو انجام عبرتناک ہی ہوتا ہے یہی نظام قدرت ہے #ReleaseBYCLeaders #ReleaseMahrangBaloch

Profilbild von Ameer Baloch
Ameer Balochvor 1 Jahr

بلوچ 💞 بھنوں کو سلام

Profilbild von 🇵🇰ProPunjabi
🇵🇰ProPunjabivor 1 Jahr

دہشت گرد گروہ

Profilbild von Siyasi Meme
Siyasi Memevor 1 Jahr

ریاست خاموش نہیں، ذمے دار ہے۔ تحقیقات قانون کے مطابق چل رہی ہیں — نہ جذبات سے، نہ دباؤ سے۔ احتجاج حق ہے، لیکن قانون شکنی کی اجازت کسی کو نہیں۔ امن سب سے بڑا فرض ہے۔

Profilbild von RealWorld
RealWorldvor 1 Jahr

We have seen your condemnation on Major Kakar Shaheed, wasn't he son of any mother, brother and father🤔

Profilbild von Fatima Alizay
Fatima Alizayvor 1 Jahr

Stay strong

Profilbild von Vijay poola
Vijay poolavor 1 Jahr

Free Balochistan ✊️ ✊️ ✊️

Profilbild von Raja Shery Janjua
Raja Shery Janjuavor 1 Jahr

شرم کرو تم بی ایل اے کی چمچی ہو تم

Profilbild von Ali BAJWA
Ali BAJWAvor 1 Jahr

یہ عورتیں اب ماں بن کر ہی واپس جائے گی۔

Profilbild von AHMAD ULLAH AFRIDI
AHMAD ULLAH AFRIDIvor 1 Jahr

👉👉

Profilbild von Rasool Marri
Rasool Marrivor 1 Jahr

اللہ پاک کامیابی عطا فرمائے

Ähnliche Videos

پیغام وردی میں موجود یہ انسان نہیں، ان کے جذبات نہیں، ایک پرامن مارچ کو روکنے کیلئے نامعلوم افراد کی حکومت نے اسلام آباد کی تمام فورسز لانگ مارچ شرکا کے سامنے کھڑا کر دیا ہے۔ ان کیلئے یہ مائیں اور بہنیں انسان نہیں بلکہ وہ ان پر ہنستے ہیں جن کے بچے کئی کئی سالوں سے ان کے زیر حراست قید ہیں۔ اسلام آباد بعد کے غیور لوگوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ہزاروں کی تعداد میں یہیں پر آ جائیں جہاں ہمیں پولیس نے روک دی ہے اور آگے جانے نہیں دیا جا رہا ہے۔ اسلام آباد میں موجود صحافی حضرات سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ہماری آواز سنیں جبکہ دھرنا اب یہی روڈ پر جاری رہے گا۔ ہم روڈ بلاک کرنا نہیں چاہتے لیکن یہ ہم پر تشدد کرکے ہمیں جیلوں میں قید کرنا چاہتے ہیں اگر ان کی خواہش یہی ہے کہ ان ماؤں اور بہنوں کو جیل میں ڈال کر وہ بلوچستان کو فتح کر سکتے ہٰیں تو اپنی کوشش کر لیں۔ تمام اسلام آباد کو دھرنا گاہ میں شامل ہونے کی دعوت دیتے ہیں۔ یہ تحریک گزشتہ 26 دنوں سے ایسے ہی جاری رہی ہے اور آگے بھی ایسے ہی جاری رہے گی۔ بلوچ اب مزید اپنی نسل کشی برداشت نہیں کرے گی، بلوچ مائیں اب مزید اپنے بچوں کی لاشیں نہیں اٹھائیں گے۔ بلوچ قوم فیصلہ کر چکی ہے کہ اب وہ ہر جبر اور تشدد کے خلاف سیاسی مزاحمت کا راستہ اختیار کرے گی۔ #MarchAgainstBalochGenocide

BYC - Kech Zone

102,317 Aufrufe • vor 2 Jahren

میری ماہ رنگ بلوچ کی جو بہن ہے، نادیہ بلوچ، ان سے اور وہ باقی جو ان کی سینئر رہنما ہے، سمی دین بلوچ، ان سے تفصیلی بات ہوئی ہے۔ اور میں آپ کو بتاؤں کہ پچھلے دس دن سے وہ بل... جو جیل میں ہیں وہاں پہ انہوں نے دھرنا دے رکھا ہے۔ اور اس بنیاد پہ انہوں نے دھرنا دیا ہے کہ ان کو، اب عدالت یہ کہہ رہی ہے، پراسیکیوشن یہ کہہ رہی ہے کہ ان کو ہم عدالت نہیں لا سکتے، ان کا جو ہے نہ وہ موبائل پہ جو فیس ٹرائل ہے وہ، اس طرح کا ٹرائل کریں۔ تو اس کے خ... خلاف انہوں نے دھرنا دے رکھا ہے۔ یہ ان کا، یہ سیاسی قیدی ہیں۔ ​یہ سیاسی قیدی ہیں اور سیاسی قیدیوں کو سیاسی قیدیوں کی طرح ہی ٹریٹ کیا جائے۔ یہ خدانخواستہ کوئی ملک دشمن عناصر نہیں ہیں۔ بلوچستان آگے اس میں جو ہے نہ آپ کو سب کو پتا ہے کہ بلوچستان کے اس وقت حالات کیا ہیں؟ بلوچستان کے اندر لاء اینڈ آرڈر کی سچویشن کیا ہے؟ اور آپ اس میں پھر جمہوری آوازوں کے ساتھ اس طرح کا رویہ رکھ رہے ہیں۔ ​پرسوں اختر مینگل صاحب کی پارٹی کے ایک سینئر رہنما کو ان کے گھر کے دہلیز پہ شہید کیا گیا اور کلاشنکوف کے بٹ سے مار کر شہید کیا گیا۔ پھر لواحقین کو ان کی لاش حوالے نہیں کی گئی۔ پھر اختر مینگل صاحب اور ان کی پارٹی کے باقی لوگ ان کے گھر جانا چاہتے تھے، ان کی رسائی روک دی گئی۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے اسیران کے ساتھ آپ کا یہ رویہ ہے، تو ہم آپ سے پھر یہی پوچھنا چاہتے ہیں کہ آپ خدارا اس ملک کو کس طرف لے کے جانا چاہ رہے ہیں؟ ​تو ہمارا یہ مطالبہ ہے کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جتنے بھی اسیران ہیں، ان کا آئینی اور قانونی حق ہے کہ ان کا عدالتی ٹرائل اسی طرح ہو جس طرح باقی ملزمان کے ساتھ ہوتے ہیں

Tehreek-e-Tahafuz-e-Ayin-e-Pakistan

12,890 Aufrufe • vor 3 Monaten

ظہیر بلوچ کی اہل خانہ کی جانب سے اس کے بازیابی کے لئے گذشتہ 11 دن سے سریاب روڈ کوئٹہ میں دھرنا جاری ہے۔ آج ایک ریلی نکالی گئی مگر کوئٹہ پولیس کے جانب سے میں پر امن مظاہرین، عورتوں اور بچوں پر تشدد کیا گیا، اور پر امن مظاہرین کو گرفتار کیا گیا ۔ یہ ریاست اس بات پر مکمل ایمان رکھتی ہے کہ ہر مسئلے کا حل تشدد ہے، پہلے اپنے ہی آئین و قانون کو پاؤں تلے روند کر شہریوں کو جبری طور پر گمشدہ کرتی ہے جبکہ ان کے اہل خانہ ان غیر آئینی و غیر قانونی اقدامات کے خلاف پرامن طور پر احتجاج کرتے ہیں، آواز اٹھاتے ہے تو ریاست ڈائیلاگ کرنے اور مسئلے کو حل کرنے کے بجائے خواتین اور بچوں پر بدترین تشدد کرتی ہے، انہیں گرفتار کرتی ہے۔ اگر یہ ریاست سمجھتی ہے کہ وہ جبر اور بربریت سے عوامی آواز کو دبانا سکتی ہے تو وہ تاریخ کے انتہائی غلط مقام پر کھڑی ہے۔ میں بلوچ قوم سمیت تمام لوگوں سے اپیل کرتی ہوں کہ ظہیر بلوچ کے اہل خانہ اور عام مظاہرین پر اس تشدد اور گرفتاریوں کے خلاف بھر پور آواز اٹھائے اور ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہوجائے۔ #ReleaseZaheerAhmed

Mahrang Baloch

55,031 Aufrufe • vor 2 Jahren

” ذاکر جان، کہاں ہو تم؟ میں آپ کے بلوچستان کو چھوڑ آئی ہوں “ ذاکر مجید بلوچ کی جبری گمشدگی کو سولہ سال مکمل ہو چکے ہیں۔ سولہ برس ایک ماں کی آہوں، سسکیوں اور لرزتے ہونٹوں کا کربناک سفر۔ ذاکر کی والدہ، جو ہر دن اپنے بیٹے کے نام کی صداؤں میں گزارتی ہے، آج بھی “ذاکر جان، ذاکر جان” پکار رہی ہے۔ شاید الفاظ اس کے درد کا مکمل احاطہ نہ کر سکیں، مگر اس کی فریاد، اس کی خامشی، اس کی چیخیں، سب کچھ کہہ رہی ہیں۔ اس کی سب سے دل چیر دینے والی بات یہی ہے: “ذاکر جان، میں آپ کے گھر، آپ کے بلوچستان کو چھوڑ آئی ہوں، کیونکہ وہاں مجھے انصاف نہیں ملا۔ریاستِ پاکستان نے مجھے انصاف نہیں دیا” یہ جملہ صرف ایک ماں کی شکستگی نہیں، یہ ریاستی نظام پر ایک دھچکہ ہے۔ یہ اس ملک کے قانونی، آئینی اور اخلاقی نظام پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ جو لوگ کہتے ہیں کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیاں “پروپیگنڈا” ہیں، وہ اس ماں کی آنکھوں میں جھانکیں۔ ان کی بے بسی شاید اُن کے سوئے ضمیر کو جگا سکے۔ یہاں جو لوگ کشمیر اور فلسطین کی ماؤں کے ساتھ دکھ کا اظہار کرتے ہیں، جو کہ ہم سب کو کرنا بھی چاہیے۔ مگر جب بات بلوچستان کی ماؤں پر آتی ہے، تو کیوں ہمارے لب سل جاتے ہیں؟ کیا اس لیے کہ یہاں جبر ریاست پاکستان کے ہاتھوں ہو رہا ہے؟ کیا درد صرف سرحد پار کے مظلوموں کا ہی معتبر ہے؟ یہ ایک ماں کی فریاد ہے جو نہ صرف ذاکر مجید بلوچ کے لیے ہے، بلکہ اُن تمام جبری گمشدہ افراد کی درد کی عکاسی اور اجتماعی پکار ہے جو بلوچستان کی ماؤں، بہنوں اور خاندانوں کی زندگیوں کو سالوں سے ایک اذیت میں ڈالے ہوئے ہے۔

Sammi Deen Baloch

14,908 Aufrufe • vor 1 Jahr

یہ بلوچ عورت، جس کے ہاتھوں پر نیل اور زخم اب بھی موجود ہیں، اس وقت ریاستی تشدد کا نشانہ بنی جب سی ٹی ڈی (کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ) کے اہلکاروں نے اس کے بھائی صادق بلوچ کو زبردستی کراچی کی ایک گلی سے اٹھا کر طور پر جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا جا رہا تھا۔ بہن نے اپنے بھائی کو بچانے کے لیے اہلکاروں کے سامنے کھڑے ہو کر مزاحمت کی، چیخ و پکار کی اور انہیں روکا کہ وہ اس کے بھائی کو غیرقانونی طور پر نہ لے جائیں۔ لیکن اس کے جواب میں ان اہلکاروں نے، لاٹھیاں اور ڈنڈے برسائے اور ایک نہتی عورت کو زخمی کر دیا۔ یہ منظر بلوچستان کے ان سینکڑوں گھروں کی ہے جہاں مائیں، بہنیں اور بیٹیاں اپنے پیاروں کو بچانے کے لیے ریاستی طاقت کے سامنے ڈٹ جاتی ہیں، مگر بدلے میں صرف تشدد اور زخم پاتی ہیں۔ صادق بلوچ کی بہن پر کیا جانے والا یہ تشدد اس وسیع تر ریاستی جبر کی نمائندگی کرتا ہے جو بلوچوں پر روزانہ ڈھایا جا رہا ہے۔ ہزاروں نوجوانوں کو بغیر کسی مقدمے کے اغوا کر کے غائب کر دیا جاتا ہے۔ اکثر تو ان کی واپسی کی کوئی خبر بھی نہیں آتی، اور اگر آتی ہے تو وہ مسخ شدہ لاشوں کی صورت میں۔ اس واقعے کی ایک اور سنگین پہلو یہ ہے کہ کیمروں کے سامنے ہونے والی یہ بربریت ریکارڈ بھی ہو گئی ورنہ بلوچستان کی پہاڑیوں اور دور دراز دیہاتوں میں ہونے والا تشدد تو دنیا کی آنکھ سے بالکل اوجھل رہتا ہے۔ انہی چند ریکارڈ ہونے والے واقعات کی بنیاد پر ہم یہ سوال اٹھاتے ہیں: جب ریاست خود اپنے شہریوں کے ساتھ وحشیانہ سلوک کرے، ان کے خاندانوں کو یرغمال بنائے اور ان کی عورتوں کو سڑکوں پر پیٹے، تو آخر بلوچ اپنے زخم کہاں لے کر جائیں؟ ریاست الزام لگاتی ہے کہ بلوچ ریاست مخالف ہیں، لیکن یہ سوال کوئی اٹھائے کہ ایک قوم جو نسلوں سے لاشیں دفناتی آئی ہو، جس کے نوجوان مسلسل اٹھائے جا رہے ہوں، جس کی عورتیں لاٹھیوں سے پیٹی جا رہی ہوں، وہ آخر کیسے خاموش رہ سکتی ہے؟

Sammi Deen Baloch

28,896 Aufrufe • vor 1 Jahr

بلوچ یکجہتی کمیٹی نے آج مورخہ 23 دسمبر، 2023 نیشنل پریس کلب اسلام آباد سے پریس کانفرنس کے توسط سے ریاست کو بلوچ طلبا و مظاہرین کی رہائی اور پر امن مظاہرین پر مختلف شہروں میں ہونے والے جعلی ایف۔آئی۔آرز ختم کرنے کے لئے تین دن تک الٹی میٹم دیا ہے۔ اور اس دوران بلوچستان میں جتنی جگہوں پر بلوچ نسل کشی اور بلوچ فرزندوں کی جبری گمشدگی کے خلاف جاری لانگ مارچ پر اسلام آباد پولیس کے تشدد کے خلاف دھرنے اور مظاہرے چل رہے ہیں، ہم ان سب کا بہت بہت شکریہ ادا کرتے ہیں اور ان کو یہ پیغام دیتے ہیں، کہ تین دن تک اپنے مظاہرے اور دھرنے معطل کردیں۔ اگر تین دن کے اندر اندر ریاست مظاہرین کو چھوڑ کر ان پر لگائی گئی جعلی ایف۔آئی۔آر ختم نہیں کرتی، تو ہم سخت اقدام لینے پر مجبور ہوں گے، اور اس کی ذمہ دار ریاست اور اس کی انتظامیہ ہوگی۔ اس حوالے تمام بلوچستان اور مظلوم اقوام سے کمک اور تعاون کی اپیل کرتے ہیں۔ #MarchAgainstBalochGenocide #ReleaseBalochProtestors

BYC - Kech Zone

40,249 Aufrufe • vor 2 Jahren

پریس کانفرنس معزز صحافی حضرات، انسانی حقوق کے نمائندے، سول سوسائٹی کے اراکین اور تمام باشعور شہریو! اسلام علیکیم آج ہم پھر ایک بار آپ کے سامنے اپنے دکھ اور مطالبات لے کر کھڑے ہیں۔ پچھلے چالیس دنوں سے ہم اسلام آباد کی سڑکوں پر انصاف کے لیے بیٹھے ہیں۔ ہم کسی ذاتی مفاد یا ذاتی مراعات کے لیے یہاں موجود نہیں ہیں۔ بلکہ ہم اپنے پیاروں کی بازیابی کے لیے، آئین و قانون کی بالادستی کے لیے اور اس ریاست میں انصاف کی بحالی کے لیے بیٹھے ہیں۔ ہم سب جانتے ہیں کہ یہ احتجاج کسی وقتی واقعے یا کسی ایک شخص کی گرفتاری کے نتیجے میں شروع نہیں ہوا تھا۔ یہ ایک طویل سلسلہ ہے جس کی جڑیں بلوچستان کی کئی دہائیوں پر پھیلی ہوئی محرومیوں، جبر اور جبری گمشدگیوں میں ہیں۔ یہ احتجاج ان تمام ماؤں کی جدوجہد کا تسلسل ہے جن کے بیٹے برسوں سے لاپتہ ہیں۔ یہ احتجاج ان بہنوں کے آنسوؤں کا جواب ہے جو ہر دن اپنے بھائیوں کی راہ تکتی ہیں۔ اور یہ احتجاج ان بچوں کی فریاد ہے جو اپنے والد کی واپسی کے منتظر ہیں۔ ہمارے مطالبات نہ تو اتنے مشکل ہیں کہ مانے نا جاسکے اور نہ ہی غیر آئینی۔ یہ دو انتہائی سادہ مطالبات ہیں۔ پہلا یہ کہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، بیبرگ بلوچ، شاجی بلوچ، گلزادی بلوچ، بیبو بلوچ اور عمران بلوچ سمیت بلوچ یکجہتی کمیٹی کے تمام رہنماؤں کو رہا کیا جائے۔ دوسرا یہ کہ بلوچستان کے تمام جبری گمشدہ افراد کو بازیاب کیا جائے۔ یہ مطالبات کسی مخصوص گروہ کی خواہش نہیں بلکہ پورے معاشرے کے اجتماعی ضمیر کی آواز ہیں۔ پانچ مہینے گزر جانے کے باوجود عدالتیں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنماؤں کے خلاف کوئی ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہیں ہے۔ اس کے باوجود انہیں بار بار ریمانڈ پر بھیج دیا گیا۔ یہ سب کچھ صرف اس لیے کیا جا رہا ہے کیونکہ یہ رہنما خاموش نہیں رہے ہیں۔ وہ بلوچ نسل کشی اور جبری گمشدگیوں جیسے سنگین مظالم کے خلاف آواز بلند کر رہے ہے۔ یہ ان کا جرم ہے کہ وہ ریاستی جبر کے سامنے جھکنے پر آمادہ نہیں۔ معزز صحافی حضرات! افسوسناک پہلو یہ ہے کہ آج میڈیا اور عدالتیں بھی اپنی بنیادی ذمہ داریاں ادا کرنے سے قاصر ہیں۔ میڈیا ہمارے جائز اور سیدھے سادھے مطالبات کو توڑ مروڑ کر پیش کرتا ہے۔ وہی میڈیا جو آزاد ہونا چاہیے تھا، وہی میڈیا جو کمزور اور محکوم عوام کی آواز بننا چاہیے تھا، آج وہ حکومتی اداروں کے ایما پر کام کر رہا ہے۔ عدالتوں سے امید تھی کہ وہ مظلوم کو انصاف دیں گی، مگر وہ بار بار ریمانڈ میں توسیع کر کے صرف جبر کو مضبوط کر رہی ہیں۔ یہ صورتحال انتہائی تکلیف دہ ہے کہ وہ ادارے جنہوں نے پورے ملک کو یرغمال بنایا ہے، جو ہر روز آئین اور قانون کو روندتے ہیں، وہ آزاد ہیں۔ مگر وہ لوگ جو آئین اور قانون کی بالادستی کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں، وہ قید میں ڈال دیے گئے ہیں۔ یہ رویہ نہ صرف افسوسناک بلکہ شرمناک بھی ہے۔ کل ایک بار پھر بلوچ یکجہتی کمیٹی کے اسیران کی پیشی تھی۔ یہ تین ماہ کے تھری ایم پی او اور 10,15 اور 20 روز کے تین ریمانڈز کے بعد کی پیشی تھی۔ ہمیں امید تھی کہ عدالت اب انصاف کرے گی اور مزید ریمانڈ نہیں دے گی، لیکن ایک بار پھر ہماری امیدوں کو توڑ دیا گیا اور مزید 15 دن کی ریمانڈ میں توسیع کر دی گئی۔ یہ عمل صرف ہمارے نہیں بلکہ پورے ملک کے عوام کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔ اگر عدالتیں انصاف فراہم نہیں کریں گی، اگر میڈیا حقائق نہیں دکھائے گا، تو پھر اس ملک کے شہری کہاں جائیں گے؟ وہ کس سے رجوع کریں گے؟ بی وائی سی کے لیڈران کو سب سے پہلے تھری ایم پی او کے تحت گرفتار کیا گیا۔ تین ماہ اور پندرہ دن کی غیر قانونی گرفتاری کے بعد انہیں اے ٹی سی کورٹ میں پیش کیا گیا، جہاں تین ایف آئی آرز میں گرفتار کر کے ریمانڈ پر بھیج دیا گیا۔ مجموعی طور پر 45 دن کے ریمانڈ کے بعد، جب 22 اگست کو ان کی پیشی تھی تو دوبارہ انہی ایف آئی آرز پر ریمانڈ مانگا گیا۔ لیکن ہمارے وکلا نے ریمانڈ نہ دینے پر زور دیا، جس پر عدالت نے ان ایف آئی آرز میں ریمانڈ مسترد کر کے انہیں جوڈیشل کر دیا۔ تاہم پانچ نئی اور بے بنیاد ایف آئی آرز سامنے لاکر بی وائی سی کے لیڈران کو مزید 15 دن کے لیے ریمانڈ پر بھیج دیا گیا ہے۔ ہم یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ان پانچ میں سے دو ایف آئی آرز بالکل عام نوعیت کی ہیں، جن کے لیے ہم نے پچھلے دو مہینوں سے ضمانت کی درخواست دی ہوئی تھی۔ لیکن انہی تھانوں کے افسران گزشتہ دو ماہ سے عدالت میں آکر مختلف بہانے بناتے رہے، اور عدالت کے احکامات کے باوجود تفتیش نہیں کی گئی۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ پولیس افسران اور سی ٹی ڈی نے نہ صرف ہمیں دھوکے میں رکھا بلکہ عدالت کے ساتھ بھی کھلا مذاق (Abuse of Court) کیا ہے۔

Nadia Baloch

14,457 Aufrufe • vor 1 Jahr

بلوچ قوم! جیسے کہ آپ دیکھ رہے ہیں کہ دشمن بڑی “بہادری” سے بلوچ نسل کشی کو جاری رکھے ہوئے ہے۔ وہ “بہادری” سے رات کے اندھیرے میں اور دن کی روشنی میں ہمارے نوجوانوں کو جبری طور پر گمشدہ کر رہا ہے۔ آج وہ چھوٹے بچوں کو بھی جبری طور پر گمشدہ کر رہا ہے، اور خواتین کو بھی جبری طور پر لاپتہ کر رہا ہے۔ اس سب کی وجہ ہماری خاموشی ہے۔جب دشمن یہ دیکھتا ہے کہ ہم خوف کا شکار ہو چکے ہیں، تو وہ اور زیادہ بہادر بن جاتا ہے۔ ہمیں یہ سمجھ لینا چاہئے کہ ہماری مدد کے لیے کوئی اور نہیں آئے گا۔اپنی نسلوں کی حفاظت اور اپنے لوگوں کو بچانے کا ہمارے سوا کوئی آسرا نہیں۔ہمیں خود آگے آنا ہوگا، اور اپنے لوگوں کے لیے آواز بلند کرنا ہوگی۔ ہم تمام لوگوں سے درخواست کرتے ہیں کہ جب ان کے عزیز جبری طور پر لاپتہ کیے جائیں تو وہ خاموش نہ رہیں۔ وہ آگے آئیں، اور ظلم کے خلاف بولیں۔اور ہم پورے بلوچ قوم سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ان متاثرہ خاندانوں کا ساتھ دیں۔ کل بیسیمہ میں ماہ جبین بلوچ کی رہائی کے لیے ایک احتجاجی ریلی نکالی جائے گی۔ہم بیسیمہ کے عوام سے گزارش کرتے ہیں کہ وہ اس ریلی میں بھرپور شرکت کریں۔اور ہم اپنے بلوچ قوم سے اپیل کرتے ہیں کہ لاپتہ افراد کے لواحقین کو تنہا نہ چھوڑیں۔ یہ ظلم صرف ایک گھر تک محدود نہیں،، یہ ظلم ہم سب کو ختم کر دے گی لیکن خاموشی کا جو داغ ہم پر لگ جائے گا، وہ ہماری آنے والی نسلیں بھی نہیں مٹا سکیں گی۔ آگے آئیں… اور اس ظلم کے خلاف آواز بلند کریں! #ReleaseMahjabeenAndYounusBaloch #StopBalochGenocide

Baloch Yakjehti Committee

39,758 Aufrufe • vor 1 Jahr

ہوشیار 🚨 اسلام آباد اور لاہور میں مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والی لڑکیوں کو بلوچی زبان سکھائی جا رہی ہے۔ ان میں سے کچھ کو کوہ سلیمانی لہجہ اور کچھ کو مکرانی لہجہ سکھایا گیا ہے۔آپ کو بتاتا چلوں کہ کوئی بھی زبان کے بنیادی الفاظ، عام جملے یا رٹی رٹائی باتیں یاد رکھنا یا کیمرہ کے سامنے بولنا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ بہت سے لوگ روس، چین اور دیگر ممالک میں سکالرشپس پر پڑھنے جاتے ہیں اور وہاں کی زبان چھ ماہ سے ایک سال کے اندر آسانی سے سیکھ لیتے ہیں۔ اب جبکہ بلوچستان میں صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے اور بلوچ مسلح تنظیموں کی جنگی حکمت عملی بھی تبدیل ہو رہی ہے۔ اب خواتین نے بھی جنگ کا حصہ بننے کے لیے ہتھیار اٹھا لیے ہیں۔ پنجاب کے سو کالڈ تجزیہ کار جن میں مختلف ٹاؤٹسس، کچھ پشتون لڑکیاں بھی، استعمال کی گئیں لیکن بلوچ عوام نے ان کو مسترد کیا، براق ڈیجیٹل، آزاد ڈیجیٹل سمیت ہر فارمولا ناکام ہوا کیونکہ بلوچ ان کے اصل چہرے جانتے ہیں۔ پاکستان کو بیانیہ کی جنگ (narrative warfare) میں بلوچ خواتین کی ضرورت پڑی، لیکن بلوچستان کی مقامی خواتین اس قسم کے پروپیگنڈا کا حصہ بننے کے لیے تیار نہیں ہوئیں (سوائے چند ایک کے)۔ اس لیے ریاست نے پنجاب اور دیگر شہروں کی لڑکیوں کو بلوچی زبان سکھانا شروع کر دیا۔آج کل انسٹاگرام، ایکس (ٹویٹر)، فیس بک اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بلوچی زبان بولتی ہوئی خواتین ایک مخصوص بیانیہ چلانے کی کوشش کر رہی ہیں، جو مکمل طور پر سرکار کی سرپرستی اور حمایت میں ہو رہا ہے۔ واضح کرتا چلوں اگر ان کا بائیو ڈیٹا نکالا جاۓ تو ان میں سے ہر ایک کا تعلق پنجاب کے مختلف شہروں سے ہے۔ ان خواتین کا بلوچستان یا بلوچ کاز سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

Zorakh Baloch

18,916 Aufrufe • vor 3 Monaten

گزشتہ شب کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے خضدار کے رہائشی عقیل بلوچ کو ان کے گھر سے خفیہ ایجنسیوں کے اہلکاروں نے، سی ٹی ڈی کی موجودگی میں، زبردستی حراست میں لے کر جبری طور پر لاپتہ کردیا۔ سی سی ٹی وی فوٹیج میں اس واقعے کو باآسانی دیکھا جاسکتا ہے، مگر اس کے باوجود حکومتی نمائندے مسلسل جھوٹ بولتے ہیں کہ ملک میں کوئی جبری گمشدگیاں نہیں ہو رہیں، اور متاثرین ازخود ایران یا افغانستان چلے جاتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر ایسا ہے تو اس ویڈیو میں کیا دکھایا گیا ہے؟ اور عقیل بلوچ کہاں ہیں؟ عقیل کے پیچھے بھاگتی خواتین جب صبح احتجاج کے لیے سڑک پر نکلیں تو پولیس نے ان پر تشدد کیا اور زبردستی احتجاج ختم کرایا۔ فیملی جب ایف آئی آر درج کرانے پولیس اسٹیشن پہنچی تو وہاں بھی مقدمہ درج کرنے سے انکار کر دیا گیا۔ انصاف کی یہی بندش جب متاثرہ خاندانوں کو اسلام آباد اور دیگر بڑے شہروں تک لے جاتی ہے، تو وہاں انہیں کہا جاتا ہے کہ ان کے “سیاسی مقاصد” ہیں۔ سوال یہ ہے: کیا زندگی مانگنا کوئی سیاسی مقصد ہے؟ کیا سانس لینے کی اجازت طلب کرنا غداری یا ایجنسیوں کے خلاف سازش ہے؟ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ اس ویڈیو کو زیادہ سے زیادہ پھیلائیں اور بار بار سوال اٹھائیں: عقیل بلوچ کہاں ہیں؟ جبری گمشدہ افراد کہاں ہیں؟ اور کس نے ریاست کو یہ اختیار دیا ہے کہ وہ شہریوں کو ان کے گھروں سے اٹھا کر لاپتہ کرے؟ #EndEnforcedDisappearences #ReleaseAqeelBaloch

Sabiha Baloch

43,436 Aufrufe • vor 1 Jahr

اسلام آباد: خاتون صحافی روخانہ رحیم وزیر اور خاندان کی مبینہ بے دخلی، انسانی حقوق پر سنگین سوالات اسلام آباد سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق خاتون صحافی اور کالم نگار روخانہ رحیم وزیر اور ان کے خاندان کو مبینہ طور پر ڈی پورٹ کرنے کی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق انہیں فارن ایکٹ کی دفعہ 14-A کے تحت آج کیمپ میں زبردستی انگوٹھے لگوائے جا رہے ہیں اور براہِ راست طورخم بارڈر منتقل کیے جانے کا امکان ہے۔ روخانہ رحیم وزیر کا تعلق وزیرستان سے بتایا جاتا ہے اور وہ اسلام آباد میں قائم “نوے ژوند ادبی، ثقافتی و فلاحی تنظیم” کی پریس سیکرٹری بھی ہیں۔ وہ آئی بی سی اردو IBC URDU کی مستقل کالم نگار ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ان کا خاندان گزشتہ تین ماہ سے شناختی کارڈ بلاک ہونے کے باعث افغان مہاجر ہونے کے شبے میں سی ٹی ڈی اسلام آباد کی تحویل میں حاجی کیمپ میں رکھا گیا ہے۔ان کی باقی فیملی پاکستانی ہے ہے یہ افغانی ، عجیب صورتحال ہے ۔ اس پیش رفت نے انسانی حقوق کے حوالے سے کئی اہم سوالات کو جنم دیا ہے۔ قانونی و سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ کیا کسی پاکستانی شہری کو محض شبے کی بنیاد پر اپنے ہی ملک سے بے دخل کیا جا سکتا ہے؟ ناقدین کے مطابق اگر ایسا ہے تو یہ اقدام آئینِ پاکستان اور بنیادی انسانی حقوق کی واضح خلاف ورزی کے مترادف ہو سکتا ہے۔ سماجی و صحافتی حلقوں کی جانب سے اربابِ اختیار اور ریاستی اداروں سے فوری نوٹس لینے کی اپیل کی گئی ہے۔ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ اس کارروائی کو فی الفور روکا جائے، معاملے کی شفاف تحقیقات کی جائیں اور متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کرتے ہوئے انہیں باعزت شہری کے طور پر زندگی گزارنے کا حق دیا جائے۔

Sabookh Syed | Journalist

25,358 Aufrufe • vor 6 Monaten