正在加载视频...

视频加载失败

بلوچستان، ثناءاللہ بلوچ اور پنجابی شناختی کارڈ ۔۔۔

101,001 次观看 • 3 天前 •via X (Twitter)

22 条评论

Reehana 的头像
Reehana2 天前

اور کہتے ہیں کینٹ میں بھی لوگوں نے کہا حالاتراب ہے کینٹ میں کون سے لوگ اگئے جو سویلین لوگ ہیں جو بلوچستان کے حق میں بات کرتے ہیں جو بلوچستان کے حق میں محرنگ بلوچ بات کرتی تھی اس کو تو زندان میں ڈالا ہوا ہے

Faiz M Baluch 🇻🇺 的头像
Faiz M Baluch 🇻🇺3 天前

These military touts meeting pimps of Pakistan army in military cantonment.

GUL 🌹 گل 的头像
GUL 🌹 گل3 天前

🤲🏻🌼❤️

GUL 🌹 گل 的头像
GUL 🌹 گل3 天前

حق فرمایا 🌼🤲🏻❤️

Mir Javed Ali Bugti 的头像
Mir Javed Ali Bugti3 天前

kis ne kaha k baloch mehmano ko martey hain

لئیق 的头像
لئیق2 天前

افصار عالم صاحب، آپ خود بتاتے ہیں کہ 1999/2000 میں ژوب سے کوئٹہ تک بلوچستان گھومتے رہے، مگر آج صحافیوں کا حکومتی وفد کوئٹہ کینٹ سے باہر نہیں جا سکتا۔ سوال سنااللہ بلوچ سے نہیں، اسلام آباد سے ہونا چاہیے کہ حالات یہاں تک پہنچے کیوں؟ بلوچستان کے لوگ روزگار کے لیے کراچی، پنجاب اور اسلام آباد آتے ہیں، مگر پنجابیوں کے بلوچستان جا کر آباد ہونے کی مثال دینے سے پہلے یہ بھی پوچھیے کہ 77 سال میں وہاں ایسی معاشی، تعلیمی اور روزگار کی opportunities کیوں پیدا نہیں ہوئیں کہ باقی پاکستان سے عام لوگ روزگار کی تلاش میں بلوچستان جائیں؟ سوئی سے دہائیوں سے گیس نکل رہی ہے، مگر مقامی آبادی کی محرومی آج بھی ایک سوال ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ بلوچستان میں سیاسی بے اختیاری، لاپتہ افراد، وسائل کی تقسیم، پسماندگی اور بار بار طاقت کے استعمال جیسے مسائل دہائیوں بعد بھی حل کیوں نہیں ہوئے؟ کینٹ کی محفوظ چار دیواری میں سرکاری وفد کے ساتھ بلوچستان دیکھ کر واپس آنا آسان ہے؛ اصل صحافت یہ ہے کہ عام بلوچ کی شکایات بھی سامنے لائی جائیں اور اسلام آباد کی ruling elite اور طاقتور اداروں سے بھی پوچھا جائے کہ بلوچستان آج یہاں تک پہنچا کیسے، اور اسے سیاسی طور پر mainstream کرنے کا قابلِ عمل منصوبہ کیا ہے؟

Moeed Rais 的头像
Moeed Rais3 天前

Ap Mehman nahi ap qabza geer ho… Ap qaatil ke saholat kaar ho…

Khalid khan 的头像
Khalid khan3 天前

اچھا اگر کینٹ سے باہر نہیں لے جایا گیا تو باتیں تو اسلام آباد سے بھی کر سکتے ہو جو کہ اب کر رہے ہو وہاں جانے کا کیا مطلب ہے پھر 🤣

Zoneerakhan45 Zoneer 的头像
Zoneerakhan45 Zoneer3 天前

فوجی دلال خود کو صحافی کہتے ہیں

محمد 的头像
محمد2 天前

بہت عُمدہ ابصار صاحب

امن، محبت اور خوشحالی سب کا حق 的头像
امن، محبت اور خوشحالی سب کا حق3 天前

ٹٹو صحافی۔ کینٹ میں عام بندہ جا بھی نہیں سکتا۔ تو لعنت پاکی میڈیا پر۔ فوجی ٹٹو۔

Rizi Khan 的头像
Rizi Khan2 天前

بلوچوں پختونوں نےقیام پاکستان کےبعدسےاگرامن دیکھا ہےتوخان کے3سال میں دیکھاہے۔کیونکہ خان کاجینامرناپاکستان میں ہے۔خان کی پہلی ترجیح پاکستان ہے۔جبکہ مقتدرہ کی پسندچورخاندانوں کاعلاج تعلیم اورسرمایہ کاری یہودکےسائےمیں ہے۔اسی لیےجب یہ آتےہیں تودہشتگردی بڑھتی ہے2022سےبڑھ چکی ہے۔

جنرل رانی 的头像
جنرل رانی3 天前

خاکی ٹٹے چوسنے گئے تھے

D-KHAN 的头像
D-KHAN3 天前

U tout

sunny Khan 的头像
sunny Khan2 天前

Rightly said 💯👍

Ilyas Anwar Baloch 的头像
Ilyas Anwar Baloch3 天前

He was briefed inside cantonment that if you step outside you will be killed, if this is the actual situation then why didn’t you questioned your master’s why after using all your mighty power a (government journalist) cant step outside of cantonment???

The Tech Talker 的头像
The Tech Talker3 天前

That picture looks like they have arrived to celebrate the famous 'ek SHO ka maar ' statement by Mohsin Naqli

Reehana 的头像
Reehana2 天前

اب سر سالم اپ سادے ہیں یا ہم لوگوں کو سادہ سمجھتے ہیں فوج کی کینٹ میں بیٹھ کے وہاں پہ لوگ ا کے کیا بات کریں گے کس حالات کے بارے میں بات کریں گے اور رہی بات شناس کارڈ کی تو اب تک اسمہ جہانگیر کی بات بھی یاد ہوگی تو بولان کے واقعے میں تمام سیولین نے کہا ہمیں ازاد کیوں چھوڑا گیا؟

kakar 的头像
kakar3 天前

😂

Shahbaz Khan 的头像
Shahbaz Khan3 天前

@LegiMian Well spoken

Baloch Activists 的头像
Baloch Activists3 天前

یہ صحافی نہیں پنجاب کے بھکاؤ لفافے جرنلسٹ تھے۔ قبضہ گیر کے ففت کالم تھے۔

Ehtesham uddin Khan 的头像
Ehtesham uddin Khan3 天前

Finally you are selling the same narrative with a new package 📦

相关视频