Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

بلوچستان میں بدھ کے دن ایک نرگس نامی خاتون کو گھر سے اٹھایا جاتا ہے خاتون کا شوہر گھر پہ نہیں تھا جب وہ واپس آیا اور گاڑی کی تلاش میں نکلا تو جس گاڑی میں اس کی بیوی تھی وہاں دو اور موٹرسائیکل والے آئے اور اسے بٹ...

41,477 Aufrufe • vor 6 Monaten •via X (Twitter)

0 Kommentare

Keine Kommentare verfügbar

Kommentare vom Original-Post werden hier angezeigt

Ähnliche Videos

کئی فالورز نے کمنٹس میں سوال اٹھایا ہے کہ ایک بشو سکردو میں ایک گاڑی ٹھیک کرنے کے ستر ہزار روپے کیوں لگے؟ ایسے لوگوں کو چاہیے تھا کہ مکینک کی تعریف کرتے، اس کی حوصلہ افزائی کرتے۔ اُس نے ایک اجنبی سیاح کی مدد کی، وقت دیا، بار بار لمبا سفر کیا۔یہ معمولی بات نہیں۔ تو آئیے، خود سنیے کہ وہ مکینک کیا کہہ رہا ہے۔۔ آپ لوگوں کو یہ اندازہ نہیں کہ بشو ویلی سکردو سے کتنی دور ہے۔ وہ لڑکا پہلے سکردو سے بشو ویلی گیا، پھر وہاں گاڑی بک کر کے دوبارہ سکردو آیا کیونکہ وہاں ضروری سامان دستیاب نہیں تھا۔ سکردو سے واپس بشو ویلی گیا، اور پھر دوبارہ آیا۔ اب آپ خود کسی سے پوچھ لیں، بشو ویلی ایک چکر لگا کے آنا کتنا خرچ پڑتا ہے؟ اوپر سے اُس کی مزدوری، گاڑی کی مرمت کے پرزے، اور دن بھر کی محنت — ان سب کو ملا کر ستر ہزار روپے کچھ زیادہ نہیں بنتے۔ آج کے دور میں جب فیول، سپیئر پارٹس اور سروس سب مہنگے ہو چکے ہیں، تو یہ رقم بالکل مناسب ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ اس نے ایک اجنبی سیاح کی مدد کی۔ اللہ نہ کرے اگر وہ سیاح کسی مشکل میں پڑتا اور فیملی ساتھ ہوتی تو ہم سب کتنا کچھ سوچتے۔ تو ایسے وقت میں یہ نہیں پوچھنا چاہیے کہ خرچہ کتنا ہوا، بلکہ اس شخص کی نیت، خلوص اور مدد کو سراہنا چاہیے۔ اس نے انسانیت کا ثبوت دیا، اب ہماری باری ہے کہ ہم بھی اُسے اپریشیٹ کریں، نہ کہ اس پر سوال اٹھائیں۔

Gilgit Baltistan Tourism.

24,720 Aufrufe • vor 1 Jahr

سسر کی بہو سے زیادتی کی کوشش، متاثرہ خاتون کی انصاف کی اپیل میاں چنوں: ایک افسوسناک واقعہ سامنے آیا ہے جہاں ایک خاتون نے اپنے سسر پر زیادتی کی کوشش کا الزام عائد کیا ہے۔ متاثرہ خاتون کے مطابق اس کی شادی آٹھ سال قبل ملتان میں ہوئی تھی، اور اس دوران اللہ تعالیٰ نے اسے ایک بیٹے سے نوازا۔ خاتون کا کہنا ہے کہ اس کا شوہر اکثر اس پر تشدد کرتا تھا، اور ایک بار شدید تشدد کے بعد وہ اپنے میکے میاں چنوں آ گئی، جہاں وہ کچھ عرصہ مقیم رہی۔ متاثرہ خاتون کے مطابق بعد ازاں اس کا سسر اسے لینے کے لیے میاں چنوں کے علاقے چک 44/15-L پہنچا اور کہا کہ اس کے شوہر نے اسے واپس لانے کے لیے بھیجا ہے۔ خاتون نے بتایا کہ وہ سسر کے ساتھ ملتان واپس چلی گئی، تاہم گھر پہنچنے پر وہاں کوئی اور موجود نہیں تھا۔ اس کے مطابق اسی دوران سسر نے اس کے ساتھ زیادتی کی کوشش کی، تاہم وہ موقع سے فرار ہو کر دوبارہ اپنے میکے پہنچنے میں کامیاب ہو گئی۔ متاثرہ خاتون نے وزیرِ اعظم شہباز شریف، وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز، ڈی پی او خانیوال اور دیگر متعلقہ حکام سے اپیل کی ہے کہ اسے انصاف فراہم کیا جائے اور ملزم کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ پولیس اور متعلقہ اداروں کی جانب سے واقعے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، جبکہ شہریوں نے بھی اس واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انصاف کی فراہمی کی ضرورت پر زور دیا ہے
2:07

Sensitive content

سسر کی بہو سے زیادتی کی کوشش، متاثرہ خاتون کی انصاف کی اپیل میاں چنوں: ایک افسوسناک واقعہ سامنے آیا ہے جہاں ایک خاتون نے اپنے سسر پر زیادتی کی کوشش کا الزام عائد کیا ہے۔ متاثرہ خاتون کے مطابق اس کی شادی آٹھ سال قبل ملتان میں ہوئی تھی، اور اس دوران اللہ تعالیٰ نے اسے ایک بیٹے سے نوازا۔ خاتون کا کہنا ہے کہ اس کا شوہر اکثر اس پر تشدد کرتا تھا، اور ایک بار شدید تشدد کے بعد وہ اپنے میکے میاں چنوں آ گئی، جہاں وہ کچھ عرصہ مقیم رہی۔ متاثرہ خاتون کے مطابق بعد ازاں اس کا سسر اسے لینے کے لیے میاں چنوں کے علاقے چک 44/15-L پہنچا اور کہا کہ اس کے شوہر نے اسے واپس لانے کے لیے بھیجا ہے۔ خاتون نے بتایا کہ وہ سسر کے ساتھ ملتان واپس چلی گئی، تاہم گھر پہنچنے پر وہاں کوئی اور موجود نہیں تھا۔ اس کے مطابق اسی دوران سسر نے اس کے ساتھ زیادتی کی کوشش کی، تاہم وہ موقع سے فرار ہو کر دوبارہ اپنے میکے پہنچنے میں کامیاب ہو گئی۔ متاثرہ خاتون نے وزیرِ اعظم شہباز شریف، وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز، ڈی پی او خانیوال اور دیگر متعلقہ حکام سے اپیل کی ہے کہ اسے انصاف فراہم کیا جائے اور ملزم کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ پولیس اور متعلقہ اداروں کی جانب سے واقعے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، جبکہ شہریوں نے بھی اس واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انصاف کی فراہمی کی ضرورت پر زور دیا ہے

Daim Mubashar

18,296 Aufrufe • vor 3 Monaten

ملک میں جو خود کو ووٹ کو عزت دو کا سب سے بڑا چیمپئن سمجھتا ہے، اس کی حکومت ہے۔ پنجاب میں ان کی بیٹی کی حکومت ہے۔ آج صبح پنجاب میں ہمارا اپوزیشن لیڈر بات کر رہا تھا کہ اس وقت بھی میرے گھر کے سامنے پولیس کھڑی ہے۔ پنجاب میں اگر آپ کا تعلق اپوزیشن سے ہے تو آپ اپنے گھر میں بھی رہائش نہیں رکھ سکتے۔اس وقت نہ کوئی قانون ہے اور نہ ہی آئین، صرف ظلم اور جبر ہے۔ اور جب ظلم حد سے بڑھ جائے تو جہاد لازم ہو جاتا ہے۔ جہاد صرف تلوار اٹھانے کا نام نہیں، جدوجہد سے بھی کیا جاتا ہے، اور یہی جدوجہد ہم پر اس وقت لازم ہے۔عمران خان اس وقت جرأت اور ہمت کے ساتھ اپنا مقدمہ لڑ رہا ہے۔ جب 1992 کا ورلڈ کپ ہو رہا تھا تو وہ ایک کمزور ٹیم تھی، لیکن اللہ نے عمران خان کو عزت دینی تھی۔ پھر جب شوکت خانم ہسپتال بن رہا تھا تو میں خود اس مہم کا حصہ تھا۔ ہم نے پوسٹر لگائے، چندہ اکٹھا کیا۔ ہمیں بھی یہ ناممکن نظر آتا تھا، لیکن اللہ نے عمران خان کے خواب کو پورا کیا۔

Asad Qaiser

15,982 Aufrufe • vor 8 Monaten

یہ زیشان روکھڑی کی بانہوں میں جھولنے والی لڑکی کا نام زینب یوسف ہے ۔۔۔ جی وہی مشہور ٹک ٹاکر جو اجکل ٹرینڈنگ میں ہے جیسے شوگر ڈیڈی کی تلاش ہے کچھ دن پہلے مسٹر پتلو کے گیم شو میں ہوسٹنگ کر چکی ہے ۔۔ اس کی وجہ شہرت صرف اک کلپ بنا تھا جس میں اس نے کہا تھا مر جاونگی پھوپھو کے بیٹوں سے شادی نہی کرونگی ۔۔ کچھ دن پہلے نیشنل ٹی وی پر بیٹھ کر اس نے لڑکوں کو مشورہ دیا انٹیاں پھنساو اور ان سے گاڑیوں کی بجاے کیش نکلواو ۔ اب اس نے لڑکیوں کو کہا ہے کہ شوگر ڈیڈی رکھو اور خوب ان سے پیسہ نکلواو ۔ اور یہ سب ٹی وی پروگرام میں اس ملک میں بولا جارہا ہے جسکا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے ۔۔ اور اب اس کا یہ کلپ بھی سن لیں جس میں وہ کہ رہی ہے اسے کسی تگڑے بکرے کی تلاش ہے جس کے پاس پیسہ ہو ۔۔ فضا علی اسے اشاروں میں زیشان روکھڑی کا نام بتاتی ہے اس کے بعد یہ اس کے پاس پہنچ جاتی ہے ۔۔ اور ان کا لیونگ ریلیشن اسقدر اگے چل جاتا ہے کہ سوشل میڈیا پر یہ بھی مشہور ہوجاتا ہے کہ دونوں نے شادی کر لی ہے ۔۔ مگر وہ اس کیلے بکرا تھا ۔ مطلب کہ اس عورت کے خیالات دیکھیں اور اس کے حالات دیکھیں ۔۔ اور کبھی یہ لاہور کے شہزاد ڈوگر کا انٹرویو کرنے پہنچ جاتی ہے ۔۔ تو کبھی رجب بٹ کے بگ بردار ملک زمان کا انٹرویو کرنے پہنچ جاتی ہے ۔۔۔ تو کبھی عثمان ورک اور زیشان روکھڑی کے ساتھ ہارس رائیڈنگ کرتی پھر رہی ہوتی ہے ۔ اسے صرف بکروں کی تلاش ہے یا پھر اسے بہترین شوگر ڈیڈی کی تلاش ہے ۔۔ جسکے پاس دولت ہو ۔۔۔ یہ اسکا زاتی فعل ہے وہ جو بھی کرے مگر اس بے حیای کو کھلے عام پرموٹ کرنا اور اس ملک کے نوجوان لڑکے لڑکیوں کو پیغام دینا اپنی زندگی اسان بنانی ہے تو شوگر ڈیڈی اور شوگر ممی ہائیر کرو ۔۔ یہ تو بیغرتی بیشرمی سے بھی اگے کا لیول ہے ۔ ریاست پاکستان سے بس اتنی سی التماس ہے اگر ان ڈیجٹل کھوٹوں کو بند نہی کر سکتے تو پھر اس ملک کے ساتھ اسلامی جمہوریہ پاکستان سے لفظ اسلامی ہٹا کر ساتھ میں 18 + لازمی لکھ دیں ۔۔
2:55

Sensitive content

یہ زیشان روکھڑی کی بانہوں میں جھولنے والی لڑکی کا نام زینب یوسف ہے ۔۔۔ جی وہی مشہور ٹک ٹاکر جو اجکل ٹرینڈنگ میں ہے جیسے شوگر ڈیڈی کی تلاش ہے کچھ دن پہلے مسٹر پتلو کے گیم شو میں ہوسٹنگ کر چکی ہے ۔۔ اس کی وجہ شہرت صرف اک کلپ بنا تھا جس میں اس نے کہا تھا مر جاونگی پھوپھو کے بیٹوں سے شادی نہی کرونگی ۔۔ کچھ دن پہلے نیشنل ٹی وی پر بیٹھ کر اس نے لڑکوں کو مشورہ دیا انٹیاں پھنساو اور ان سے گاڑیوں کی بجاے کیش نکلواو ۔ اب اس نے لڑکیوں کو کہا ہے کہ شوگر ڈیڈی رکھو اور خوب ان سے پیسہ نکلواو ۔ اور یہ سب ٹی وی پروگرام میں اس ملک میں بولا جارہا ہے جسکا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے ۔۔ اور اب اس کا یہ کلپ بھی سن لیں جس میں وہ کہ رہی ہے اسے کسی تگڑے بکرے کی تلاش ہے جس کے پاس پیسہ ہو ۔۔ فضا علی اسے اشاروں میں زیشان روکھڑی کا نام بتاتی ہے اس کے بعد یہ اس کے پاس پہنچ جاتی ہے ۔۔ اور ان کا لیونگ ریلیشن اسقدر اگے چل جاتا ہے کہ سوشل میڈیا پر یہ بھی مشہور ہوجاتا ہے کہ دونوں نے شادی کر لی ہے ۔۔ مگر وہ اس کیلے بکرا تھا ۔ مطلب کہ اس عورت کے خیالات دیکھیں اور اس کے حالات دیکھیں ۔۔ اور کبھی یہ لاہور کے شہزاد ڈوگر کا انٹرویو کرنے پہنچ جاتی ہے ۔۔ تو کبھی رجب بٹ کے بگ بردار ملک زمان کا انٹرویو کرنے پہنچ جاتی ہے ۔۔۔ تو کبھی عثمان ورک اور زیشان روکھڑی کے ساتھ ہارس رائیڈنگ کرتی پھر رہی ہوتی ہے ۔ اسے صرف بکروں کی تلاش ہے یا پھر اسے بہترین شوگر ڈیڈی کی تلاش ہے ۔۔ جسکے پاس دولت ہو ۔۔۔ یہ اسکا زاتی فعل ہے وہ جو بھی کرے مگر اس بے حیای کو کھلے عام پرموٹ کرنا اور اس ملک کے نوجوان لڑکے لڑکیوں کو پیغام دینا اپنی زندگی اسان بنانی ہے تو شوگر ڈیڈی اور شوگر ممی ہائیر کرو ۔۔ یہ تو بیغرتی بیشرمی سے بھی اگے کا لیول ہے ۔ ریاست پاکستان سے بس اتنی سی التماس ہے اگر ان ڈیجٹل کھوٹوں کو بند نہی کر سکتے تو پھر اس ملک کے ساتھ اسلامی جمہوریہ پاکستان سے لفظ اسلامی ہٹا کر ساتھ میں 18 + لازمی لکھ دیں ۔۔

Saleem Speaks

217,046 Aufrufe • vor 5 Monaten