Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

بورڈ آف پیس کی آڑ میں روز ویلٹ ہوٹل کا ایم او یو بھی سائن کر آئے اس میں Witkoff بھی انوالو ہے سامنے تو یہی ہے کہ امریکہ کی گورنمنٹ ایجنسی اسے ڈیویلپ کرے گی لیکن ہمیں اس میں کیا ملے گا بورڈ آف پیس میں ہم فوج...

67,466 просмотров • 6 месяцев назад •via X (Twitter)

Комментарии: 0

Нет доступных комментариев

Здесь появятся комментарии из оригинального поста

Похожие видео

ڈوب کے مر جانا چاہیے کہ انڈونیشیا کا صدر کہتا ہے کہ ہم اپنی بورڈ آف پیس کی ممبرشپ کو سسپینڈ کر رہے ہیں، لیکن پاکستان ابھی تک اس بورڈ آف پیس میں بیٹھا ہوا ہے، کیوں بیٹھے ہوئے ہو؟ ​کیونکہ وہی بورڈ آف پیس تو ہم لا رہے ہیں ایران کے اوپر، وہی بورڈ آف پیس تو ایرانیوں کا، ہمارے مسلمان بھائیوں کا خون بہا رہے ہیں، لیکن ہم ادھر بے شرمی کے ساتھ بیٹھے ہوئے ہیں، شہباز شریف صاحب پتا نہیں کس کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں۔ ​اس طرح مزید نہیں چلے گا، اپنی فارن پالیسی، اور میں آپ کو یہ بھی بتاؤں کہ جب ایران کے اندر یہ سب کچھ ہو رہا تھا اور پارلیمنٹ میں اس پہ ڈیبیٹ ہو رہی تھی تو پچاس بندے پارلیمنٹ کے اندر نہیں بیٹھے ہوئے تھے، پچاس بندے، اقبال آفریدی نے کل کورم پوائنٹ آؤٹ کیا، بندہ ہی نہیں تھا کوئی، لیکن مزے کی بات یہ ہے زبیر بھائی کہ اس سے ایک دن پہلے یہی ہاؤس ایک میسٹیریس (mysterious) طریقے سے ممبران آ جاتے ہیں۔ ​ہاؤس کے ایجنڈے کے اوپر کوئی چیز نہیں ہے، پھر ایک ممبر حکومت کا کھڑا ہو جاتا ہے، وہ کہتا ہے یہ ہم نیب ترمیمی بل لے کے آ رہے ہیں، اور پھر سارے اس کو دو منٹ میں اس طرح وہ پاس ہو جاتا ہے، اور وہ نیب کے چیئرمین کا آخری دن تھا ایز اے ٹینیور (tenure) اس کو مزید ایکسٹینشن (extension)، پورے ملک کو انہوں نے ایکسٹینشنز پہ ڈالا ہوا ہے، پورے ملک کو، اس ملک میں کون ہے جس کو ایکسٹینشن نہیں ملی ہوئی؟ ​ہر ایک ملک میں، میں کہتا ہوں یہ حکومت، یہ ریاست، عمران خان کی میڈیکل رپورٹ سے لے کر افغانستان سے لے کر ایران کے ساتھ، ہر ایک چیز کو خفیہ رکھا گیا ہے۔ ترجمان تحریک تحفظ آئین پاکستان اخونزادہ حسین احمد یوسفزئی

Tehreek-e-Tahafuz-e-Ayin-e-Pakistan

15,765 просмотров • 5 месяцев назад

جو ترمیم ہوئی ہے، ہم آپس میں بیٹھے ہیں۔ میں کھل کر آپ سے کہنا چاہتا ہوں، ہم نے واک آؤٹ تو کیا، لیکن ہم نے قانون کا مطالعہ نہیں کیا۔اگر ہم اس قانون کا مطالعہ کر لیتے تو ہم پہلے لڑتے، اپنا پوائنٹ آف ویو دیتے، بحث کرتے۔ اگر وہ زبردستی ووٹ کا مرحلہ آتا تو پھر ہم نکل کر واک آوٹ لیکن نشاندہی تو ہونی چاہیے تھی۔ وہ جو کسی زمانے سے بات چلی آ رہی ہے کہ ملک کے سیاسی نظام میں فوج کا کردار ہونا چاہیے اور اس کو قانون کے حوالے سے، اس کو کردار دیں تو یہ تو ترکی بنانا چاہتے تھے۔ ہم اتا ترکی حکومت بنانا چاہتے تھے کہ اس میں فوج کا کردار ہونا چاہیے۔ آج اس قانون کے ذریعے ان کو یہ کردار دے دیا گیا ہے۔ اور میں درخواست کروں گا بیرسٹر گوھر، علی ظفر صاحب سے بھی، علی ظفر صاحب سے بھی، کامران صاحب سے بھی، یہ بیٹھیں آپس میں اور آپ ان چیزوں کو ڈسکس کریں کہ کہاں کہاں پر کیا کچھ ہوا ہے اس کے اندر۔ وہ جو فیڈرل گورنمنٹ کے اختیارات تھے، فوج کے ادارے کے اختیارات کے حوالے سے جو ایک اختیارات تھے، جس میں بری فوج ہو، فضائی فوج ہو، بحری فوج ہو، اس کی قیادت میں ردوبدل کرنا، چھٹی دینا نہ دینا، ترقی دینا نہ دینا، کسی کی ملازمت میں۔۔۔یہ سارے اختیارات جو فیڈرل گورنمنٹ کے پاس تھے، وہ آپ نے آج چیف آف ڈیفنس فورسز کو حوالے کر دیے ہیں۔ اور ان کو اگر آپ نے ایڈوائزر بھی بنا دیا ہے، ڈیفنس ایڈوائزر، تو اب وہ کیبنٹ میں بیٹھے گا۔ اب فیلڈ مارشل بھی ہو، آرمی چیف بھی ہو اور وہ چیف آف ڈیفنس فورسز بھی ہو، اور وہ کیبنٹ میں بیٹھا ہو۔ آپ بتائیں، فیصلے کون کرے گا؟ فیصلہ شریف صاحب کرے گا؟ اس کی کابینہ کرے گی؟ امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمٰن کی جوائنٹ اپوزیشن اجلاس سے خطاب

Harmeet Singh

57,308 просмотров • 5 дней назад