Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

بہنوں بھائیوں میں نے کہا تھا یا پیری فقیری یا بھیک مانگنے والا سب سے بڑا بزنس ہے یہ مثال اپ کے سامنے ہے لاہور کی ایک کروڑ پتی فقیرنی ان دنوں خبروں کا موضوع بنی ہوئی ہے۔ بظاہر سڑکوں پر بھیک مانگنے والی اس خاتون کی حقیقت حیران...

191,774 Aufrufe • vor 7 Monaten •via X (Twitter)

44 Kommentare

Profilbild von 💞 شازیہ چوہدری 💞
💞 شازیہ چوہدری 💞vor 7 Monaten

کیوں نہ ہم بھی یہی کام شروع کر لیں گورنمنٹ سے مہینے اتنے پیسے نہیں ملتے جتنے یہ لوگ روز کے کما لیتے ہیں

Profilbild von Asmavia Chaudhary🇵🇰
Asmavia Chaudhary🇵🇰vor 7 Monaten

میرے تین چار بھائی ہیں چوھدری شاہد صاحب یونس گبول عالمگیر اور محبوب بھائی میں ان سے مشورہ کرتی ہوں پھر ہم ایک گینگ بناتے ہیں تو پھر مل کے ایک افس کھولیں گے پھر ہم یہ بزنس شروع کرتے ہیں @CSMR786 @younisgabol1124 @AlamgirZeb132 @Mehboob_mubi کیوں میرے بھائیو اپ کی کیا رائے ہے ہمیں یہ کام شروع ہونا چاہیے ✌️🤣🤔

Profilbild von Mehboob
Mehboobvor 7 Monaten

@shazia__10 @CSMR786 @younisgabol1124 @AlamgirZeb132 کاروبار بہت اچھا ہے لیکن ایریے ڈیوائڈ ہونے چاہیے اور ایک اور چیز اگر کوئی پیار سے نہ دے تو گن پوائنٹ پر لیا جا سکتا ہے ۔😂😂😂

Profilbild von Asmavia Chaudhary🇵🇰
Asmavia Chaudhary🇵🇰vor 7 Monaten

@shazia__10 @CSMR786 @younisgabol1124 @AlamgirZeb132 چلو پھر چوھدری شاہد صاحب اتے ہیں نا پھر ہر ضلعے میں یہ کام شروع کرتے ہیں پھر ہمارا بھی بحریہ ٹاؤن میں گھر ہوگا

Profilbild von Mehboob
Mehboobvor 7 Monaten

@shazia__10 @CSMR786 @younisgabol1124 @AlamgirZeb132 میرے لیے تو بہت اسان ہو جائے گا الریڈی بیمار ادمی اور رپورٹیں بنی ہوئی ہیں وہ بھی اوریجنل مشکل اپ کے لیے اور استانی جی کے لیے ہوگا لپسٹک لگا کر مانگنا ذرا مشکل ہو جائے گا ۔۔۔😂😂🤣

Profilbild von 💞 شازیہ چوہدری 💞
💞 شازیہ چوہدری 💞vor 7 Monaten

@AsmaviaChaudhry @CSMR786 @younisgabol1124 @AlamgirZeb132 یہ تو بات صحیح ہے لیکن سب سے زیادہ کمائی لاہور میں ہے

Profilbild von Alamgir Zeb
Alamgir Zebvor 7 Monaten

@Mehboob_mubi @AsmaviaChaudhry @CSMR786 @younisgabol1124 لاہور کو کیوں بد نام کر رہی ہیں باجی وہاں بہت شریف لوگ رہتے ہیں 😂🙏

Profilbild von 💞 شازیہ چوہدری 💞
💞 شازیہ چوہدری 💞vor 7 Monaten

@Mehboob_mubi @AsmaviaChaudhry @CSMR786 @younisgabol1124 بھیک مانگنے والے کون سا بدمعاش ہیں یہاں حکمران منگتے ہیں وہاں بھی منگتے بن جائیں گے

Profilbild von ✨️نائلہ منیر✨️
✨️نائلہ منیر✨️vor 7 Monaten

جی ہمیں بھی یہی کام شروع کر لینا چاہیے

Profilbild von Asmavia Chaudhary🇵🇰
Asmavia Chaudhary🇵🇰vor 7 Monaten

بس مجھے ایک گھنٹے کا ٹائم دو میں مشورہ کر رہی ہوں پھر اپ کو بتاتی ہوں

Profilbild von Azee Me
Azee Mevor 7 Monaten

اپ اس فقیرنی کو رو رہی ہیں یہاں تو لوگ ماں کے نام پر چندہ مانگ مانگ وزیراعظم تک بن گئے ہیں

Profilbild von Dr Hanifa Ubaid
Dr Hanifa Ubaidvor 7 Monaten

ye buhat purani aur fabricated vidro hy

Profilbild von Naqi naqavi
Naqi naqavivor 7 Monaten

بآ کمال لوگ لا جواب بزنس

Profilbild von 💫Ashi Khan 💫
💫Ashi Khan 💫vor 7 Monaten

اف توبہ توبہ

Profilbild von Saqib Kaif
Saqib Kaifvor 7 Monaten

@choudaryazam مجھے یہ خاتون فقیرنی نہیں لگتی۔۔۔ کیونکہ اسکی وضع قطع فقیروں والی نہیں ہے۔

Profilbild von Yasir Bashir
Yasir Bashirvor 7 Monaten

جی بہت اچھا بزنس ہے جی جس پہ نہ تو کوئی خرچہ ہوتا ہے اور نہ کوئی نقصان کا ڈر بس نکلو اور کام شروع پرافٹ شروع

Profilbild von ✨️Sana Noor✨️
✨️Sana Noor✨️vor 7 Monaten

اسے حرام کا پیسہ کہتے ہیں

Profilbild von Asmavia Chaudhary🇵🇰
Asmavia Chaudhary🇵🇰vor 7 Monaten

اب یہی کام رہ گیا ہے

Profilbild von Nazia Ali
Nazia Alivor 7 Monaten

تمام لوگوں سے ہاتھ جوڑ کر درخواست ہے کہ رمضان اگیا ہے تمام کون و کھدروں سے فقیر نکل ائیں گے سفید پوش لوگوں کی مدد کریں مزدوروں کی مدد کریں ریڑی رکشہ چنتی چلانے والوں کی مدد کریں فقیرتیوں کو مت دیں اس جیسی عورتوں کو

Profilbild von Noor Raza
Noor Razavor 7 Monaten

پرائیویٹ سکول اور اکیڈمی بھی زبردست بزنس ہے غریب لوگوں کو امیر ہوتے دیکھا ہے

Profilbild von Rashid Malik
Rashid Malikvor 7 Monaten

😰

Profilbild von malik sahab
malik sahabvor 7 Monaten

بھیکاری کروڑ پتی ہوگئے اور غریب خودکشیاں کر رہے ہیں اسی سے ہم اپنے معاشرے کے معیارات کا اندازہ کر سکتے ہیں

Profilbild von 💫Ashi Khan 💫
💫Ashi Khan 💫vor 7 Monaten

Wowooo ✨️

Profilbild von 𝐹𝒶𝓈𝓈𝒶𝒹𝒾
𝐹𝒶𝓈𝓈𝒶𝒹𝒾vor 7 Monaten

یار بہت ھی قیوٹ ھے اگر ان کے سر پر دستِ شفقت رکھنے کا موقع ملے تو ان کی مانگ میں صندور بھرنے میں زرا بھی دیر نہی کرونگا

Profilbild von Asmavia Chaudhary🇵🇰
Asmavia Chaudhary🇵🇰vor 7 Monaten

ھاھاھاھاھا 🫣🤭🤔

Profilbild von Faheem Ahmad Khan Yousaf Zai
Faheem Ahmad Khan Yousaf Zaivor 7 Monaten

صاف اداکاری لگ رہی ہے حقیقت سے کوئی تعلق نہیں لگ رہا

Profilbild von 🌸فرح ناز✨️PMLN 🌸
🌸فرح ناز✨️PMLN 🌸vor 7 Monaten

انہیں سمجھانے کا فائدہ نہیں ان کو بس اللہ ہی عقل دے

Profilbild von Asmavia Chaudhary🇵🇰
Asmavia Chaudhary🇵🇰vor 7 Monaten

@love__786_ وہ کروڑوں پتی بن گئی ہے

Profilbild von J & K |.جھگڑے خان شاہکار
J & K |.جھگڑے خان شاہکارvor 7 Monaten

فیک

Profilbild von Wazir Ahmad
Wazir Ahmadvor 7 Monaten

یار یہ چ بنا رہا ہمیں یہ کوئی مانگنے والی نہیں دراصل یہ ویڈیو بنانے والا مانگنے والا ہے ایسی ویڈیو بنا کے ویوز اکھٹے کر رہا

Profilbild von Aliraza
Alirazavor 7 Monaten

Ya darma kaya who ha

Profilbild von Dr. JASH
Dr. JASHvor 7 Monaten

گھریلو وڈیو ہے۔ مذاق میں بنائی گئی۔۔حد ہے لوگوں کی بھی

Profilbild von farooqnadeem84
farooqnadeem84vor 7 Monaten

یہ ویڈیو پری پلاننگ سکرپٹڈ لگ رہی ہے @ صرف وڈیوز کے لئے 😷

Profilbild von Human being
Human beingvor 7 Monaten

Isko sarang gakkar ki mujassimay ki tarah lahore k kisi chowk me gaarh den🤣🤣🤣

Profilbild von Hassaan Shafiq
Hassaan Shafiqvor 7 Monaten

fake video .they made up this story for views

Profilbild von Rajput..
Rajput..vor 7 Monaten

hahahaja is k samny tarly q kr rhi usay kaho police bula ly phr aram sy police ko 1000 pkrao or aram sy apny ghr jai, 🤣🤣

Profilbild von جھوٹ کی عادت نہیں
جھوٹ کی عادت نہیںvor 7 Monaten

Planned interview

Profilbild von Arshii
Arshiivor 7 Monaten

@shazia__10 سونڑی وی ویکھو نا کڈی اے، کہیڑا کافر دو منٹ لنگا ے بغیر لنگ سکدا

Profilbild von Haider_❤️
Haider_❤️vor 7 Monaten

یہ پلانڈ وڈیو ہے صرف سوشل میڈیا پر سنسنی پھیلاکر زیادہ سے زیادہ لائکس لینے کے لیے لوگ جھوٹ بولنے سے باز نہیں آتے

Profilbild von Mani Khan
Mani Khanvor 7 Monaten

Baghair zarorat Ka sawal krna haram inka tikhana jahannum hoga

Profilbild von Alamgir Zeb
Alamgir Zebvor 7 Monaten

واہ اتنی امیر آپی 😂

Profilbild von engineer shofi
engineer shofivor 7 Monaten

Bahi eska khracha utho wo mangna band kr dyagi Tum loge kesiki madad to ker nahi sakty Ulta bakwas krty ho

Profilbild von Syed Sharfuddin
Syed Sharfuddinvor 7 Monaten

Not a surprise. In the West senior bankers & stock market traders become homeless overnight with the turn of fortune. Begging is not illegal and she is better than many others who engage in illegal activities of flesh to keep an honourable living and educate their kids. Majboori

Profilbild von Abdul Qadir
Abdul Qadirvor 7 Monaten

قصور پاکستانیوں کا ہی ۔۔۔ اپنا حلال کا کمایا ہوا پیسہ سب سے پہلے اپنی فیملی اس کے بعد اپنے غریب بہن بھائیوں اور رشتے داروں پر لگائیں ، یا خواجہ سرا کمیونٹی پر۔ ۔ ۔ یا کسی سفید فوش کو ماہانہ وار پر۔ ۔ ۔ باقی کسی کو مت دیں ، جب آپ سب اپنے اپنے رشتے داروں کو دیں گے تو یہ ہوگا نہیں

Ähnliche Videos

حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے اس نوٹ میں کہا گیا ہے کہ عمران خان کو ایک ایسے احاطے میں رکھا گیا ہے جس میں سات کمرے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ یہ سات کمرے کس مقصد کے لیے ہیں؟ یہ سات کمرے انہیں جیل کے دیگر قیدیوں سے الگ تھلگ رکھنے کے لیے ہیں۔ یعنی بنیادی طور پر ان کے اردگرد خالی کمروں کا ایک حصار بنا دیا گیا ہے تاکہ وہ جیل کے اندر کسی دوسرے شخص سے رابطہ نہ کر سکیں۔ وہ خود صرف ایک کمرے میں رہ رہے ہیں، جس کا سائز آٹھ فٹ ضرب دس فٹ ہے، اور ان کے پاس بس یہی جگہ ہے۔ اب انہوں نے سلمان صفدر اور ان لوگوں کو، جنہوں نے حال ہی میں ان سے ملاقات کی ہے، بتایا ہے کہ ان کی قید کے حالات مزید خراب کر دیے گئے ہیں۔ 18 اگست 2026 کے بعد بہنوں کے ساتھ ہونے والی تین ملاقاتوں کے دوران بھی یہی بات سامنے آئی۔ جیل میں ایک قیدی کو عام طور پر طلوعِ آفتاب سے غروبِ آفتاب تک اپنی کوٹھڑی سے باہر رہنے کی اجازت ہوتی ہے،عمران خان کو یہ اجازت نہیں دی جاتی۔ انہیں جیل کے احاطے میں چلنے پھرنے کا وہ معمول کا حق بھی نہیں دیا جاتا جو ایک قیدی کو حاصل ہوتا ہے۔ لہٰذا انہیں ان سات کمروں تک محدود کر دیا گیا ہے، اور یہ سات کمرے درحقیقت ان کے لیے ایک بڑی کوٹھڑی کا کام کر رہے ہیں، جس کا مقصد انہیں اڈیالہ جیل کے دیگر قیدیوں سے الگ تھلگ رکھنا ہے۔ اس سے ان کی تنہائی مزید گہری ہو جاتی ہے۔یہ انہیں دی جانے والی کوئی سہولت نہیں ہے۔حقیقت میں یہ ان پر عائد کی جانے والی ایک مزید غیر قانونی سزا ہے۔ سلمان اکرم راجہ

PTI

138,007 Aufrufe • vor 16 Tagen

حکومت نے جو 900 افراد کی جانب سے 198 ملاقاتوں کے اعداد و شمار دیے ہیں وہ مکمل طور پر گمراہ کن ہیں۔ 2023، 2024 اور 2025 کے ابتدائی حصے کے دوران، ہاں، مقدمات کی سماعتیں ہو رہی تھیں۔ مثال کے طور پر، 9 مئی 2023 کے واقعات سے متعلق ایک مقدمے کی سماعت اڈیالہ جیل میں ہو رہی تھی۔ ان سماعتوں کے دوران 50، 60 یا 70 شریک ملزمان آتے تھے اور ہاں، مسٹر خان ان سے ملاقات کر سکتے تھے۔ لیکن اس مقدمے کی نوعیت بھی اس کے بعد سے یکسر تبدیل کر دی گئی ہے۔ اور عمران خان کو دیگر تمام شریک ملزمان سے الگ کر دیا گیا ہے اور ان کا مقدمہ اکیلے ویڈیو لنک پر چلایا جاتا۔ وہ جیل کی کوٹھڑی میں اکیلے بیٹھتے ان کے سامنے ایک موبائل فون، ایک سیلولر فون رکھ دیا جاتا ہے۔ کئی میل دور موجود متعلقہ جج کو ویڈیو کال کی جاتی ہے، اور عدالت میں جج محض اس موبائل فون کو اپنے سامنے رکھتا، جس کی اسکرین پر عمران خان کو جیل کی کوٹھڑی میں بیٹھا ہوا دیکھا جا سکتا تھا، اور پھر ان کی حاضری لگا دی جاتی ہے کہ وہ عدالت میں موجود ہیں۔ یہ اس طریقۂ کار کی مضحکہ خیزی ہے جس کے تحت یہ مقدمہ چلایا جاتا رہا۔ چنانچہ عمران خان وہاں مکمل تنہائی میں بیٹھے ہوتے ہیں۔ وہ نہ اپنے وکلاء سے رابطہ کر سکتے ہیں، نہ یہ سن سکتے کہ ان کے خلاف گواہ کیا بیان دے رہے ہیں، اور نہ ہی وہ گواہوں کے بیانات کے حوالے سے اپنے وکلاء کو ہدایات دے سکتے ہیں کہ جرح کس طرح کی جائے۔ اس کے خلاف ہم نے لاہور ہائی کورٹ کے راولپنڈی بینچ کے سامنے آئینی درخواستیں دائر کی ہیں۔ میں نے ایک درخواست دائر کی ہے اور مسٹر قاسم نے بھی ایک درخواست دائر کی ہے۔ لیکن ان درخواستوں میں بھی کوئی پیش رفت نہیں ہو رہی۔ لہٰذا جس انداز میں عمران خان کا ٹرائل کیا گیا وہ منصفانہ قانونی عمل کے بنیادی تصور ہی کی نفی ہے۔ ایک شخص جیل کی کوٹھڑی میں اکیلا بیٹھا ہے، اس کے سامنے ایک موبائل فون رکھا ہوا ہے۔ وہ اپنے وکلاء سے بات نہیں کر سکتا، اسے معلوم نہیں کہ اس کے خلاف کیا گواہی دی جا رہی ہے، اور پھر آپ کہتے ہیں کہ یہ ٹرائل ہے؟ کیا اسے ٹرائل کہا جا سکتا ہے؟ سلمان اکرم راجہ

PTI

35,954 Aufrufe • vor 15 Tagen

لاہور کے پوش علاقے ڈیفنس میں ہالینڈ اور وینزویلا سے آئی دو غیر ملکی خواتین کے اغوا، جنسی زیادتی اور بھاری تاوان طلب کیے جانے کے واقعے نے پنجاب میں امن و امان کی صورتحال پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ یہ محض ایک مجرمانہ واقعہ نہیں، بلکہ اس نے شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے سے متعلق حکومتی دعوؤں کی حقیقت بھی بے نقاب کر دی ہے۔ اس واقعے کے نتیجے میں بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی ساکھ متاثر ہوئی ہے۔ پنجاب حکومت اس واقعہ کی براہ راست ذمہ دار ہے جس کے نام نہاد “گڈ گورننس” کے دعوے سنبھالے نہیںُ سنبھل رہے۔ مزید تشویش کی بات یہ ہے کہ یہ واقعہ ایسے علاقے میں پیش آیا جسے صوبے کے محفوظ ترین علاقوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اگر اس نوعیت کا سنگین جرم ایسے علاقے میں پیش آ سکتا ہے تو عام شہریوں کے احساسِ تحفظ کے بارے میں خدشات پیدا ہونا فطری امر ہے۔ یہ واقعہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور پنجاب حکومت کی کارکردگی کے حوالے سے سنجیدہ سوالات کو جنم دیتا ہ

Aftab Ahmad Goraya

24,914 Aufrufe • vor 2 Monaten

کے پی کے ہاؤس اسلام آباد عالمی میڈیا سے عمران خان کے عدالتی فیصلوں اور ان کی صحت سے متعلق گفتگو حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے اس نوٹ میں کہا گیا ہے کہ عمران خان کو ایک ایسے احاطے میں رکھا گیا ہے جس میں سات کمرے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ یہ سات کمرے کس مقصد کے لیے ہیں؟ یہ سات کمرے انہیں جیل کے دیگر قیدیوں سے الگ تھلگ رکھنے کے لیے ہیں۔ یعنی بنیادی طور پر ان کے اردگرد خالی کمروں کا ایک حصار بنا دیا گیا ہے تاکہ وہ جیل کے اندر کسی دوسرے شخص سے رابطہ نہ کر سکیں۔ وہ خود صرف ایک کمرے میں رہ رہے ہیں، جس کا سائز آٹھ فٹ ضرب دس فٹ ہے، اور ان کے پاس بس یہی جگہ ہے۔ اب انہوں نے سلمان صفدر اور ان لوگوں کو، جنہوں نے حال ہی میں ان سے ملاقات کی ہے، بتایا ہے کہ ان کی قید کے حالات مزید خراب کر دیے گئے ہیں۔ 18 اگست 2026 کے بعد بہنوں کے ساتھ ہونے والی تین ملاقاتوں کے دوران بھی یہی بات سامنے آئی۔ جیل میں ایک قیدی کو عام طور پر طلوعِ آفتاب سے غروبِ آفتاب تک اپنی کوٹھڑی سے باہر رہنے کی اجازت ہوتی ہے،عمران خان کو یہ اجازت نہیں دی جاتی۔ انہیں جیل کے احاطے میں چلنے پھرنے کا وہ معمول کا حق بھی نہیں دیا جاتا جو ایک قیدی کو حاصل ہوتا ہے۔ لہٰذا انہیں ان سات کمروں تک محدود کر دیا گیا ہے، اور یہ سات کمرے درحقیقت ان کے لیے ایک بڑی کوٹھڑی کا کام کر رہے ہیں، جس کا مقصد انہیں اڈیالہ جیل کے دیگر قیدیوں سے الگ تھلگ رکھنا ہے۔ اس سے ان کی تنہائی مزید گہری ہو جاتی ہے۔یہ انہیں دی جانے والی کوئی سہولت نہیں ہے۔حقیقت میں یہ ان پر عائد کی جانے والی ایک مزید غیر قانونی سزا ہے۔ سلمان اکرم راجہ

𝐼𝓂𝓇𝒶𝓃 𝐿𝒶𝓁𝒾𝓀𝒶

11,597 Aufrufe • vor 15 Tagen

" جہاں تک مجھے پتہ ہے عمران خان کی جس آنکھ کی بیماری کا بتایا جا رہا ہے اس کے علاج کے لیے (پمز میں) وہاں ڈاکٹر ہی موجود نہیں جہاں ان کا لایا گیا تھا " عمران خان کے ذاتی معالج ڈاکٹر عاصم یوسف نے کہا معاملہ کھول دیا " اس کی وضاحت یا تصدیق نہیں ہو سکی کہ (عمران خان کی) بیماری کی نوعیت کیا تھی ہماری تشویش ہے کہ یہ ایک سیریس کنڈیشن ہے اور یہ اس کے لئے ایکسپرٹ میڈیکل کیئر required ہے ہر آنکھوں کا ڈاکٹر اس کا علاج نہیں کر سکتا بلکہ خاص آنکھوں کے ڈاکٹر جنہوں نے اسپیشل ٹریننگ یا اس قسم کی بیماری تجربہ لیا ہوا ہو وہ اس کا علاج کر سکتا ہے جہاں تک ہمیں پتہ ہے اسلام آباد کے جس ہسپتال میں خان صاحب لے جایا گیا اس میں اس طرح کے ڈاکٹرز نہیں ہیں اس بیماری کے پیچھے کوئی اور بیماری ہوتی ہے جس کی وجہ سے یہ بیماری شروع ہوتی ہے اس لئے اس طرح کی بیماریوں کے بھی خان صاحب کے ٹیسٹ ہونے چاہییں اور (آنکھ کی ییماری) کے ایکسپرٹ کو ان کا علاج کرنا چاہیے اس لئے خان صاحب تک ہمیں رسائی دی جائے "

Saqib Bashir

155,986 Aufrufe • vor 7 Monaten

دیگر خبروں سے ہٹ کر ایک ایسی خبر بھی ہے جس نے پہلے سے موجود کئی سوالات کو ایک بار پھر زندہ کر دیا ہے اور اب یہ معاملہ ایک نئے موڑ پر کھڑا دکھائی دیتا ہے مکمل تصدیق کے بعد سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق عاقب جاوید کی بیٹی عقبہ عاقب کا نکاح 10 اگست کو انگلینڈ میں ہوا اور جس خاندان میں یہ رشتہ ہوا ہے اسے ایک عیسائی اور سفید فام خاندان بتایا جا رہا ہے اس خبر کے سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر ایک سوال دوبارہ زیرِ بحث آ رہا ہے کہ آخر پاکستان کرکٹ میں محمد رضوان کی دینی و تبلیغی سرگرمیوں اور ان کے مذہبی طرزِ عمل کو ماضی میں بار بار تنقید اور پابندیوں کا سامنا کیوں کرنا پڑا؟ کیا یہ محض اتفاقات تھے یا پاکستان کرکٹ کے بعض فیصلوں کے پیچھے کوئی مخصوص سوچ اور ترجیحات بھی کارفرما رہی ہیں؟ یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ پاکستان کے پاس سعید انور محمد یوسف یونس خان جاوید میانداد، وسیم اکرم شعیب اختر اور انضمام الحق جیسے عظیم کرکٹرز اور تجربہ کار شخصیات موجود ہیں لیکن اس کے باوجود پاکستان کرکٹ کے اہم ترین فیصلوں میں ایک ایسے شخص کا کردار مسلسل نمایاں کیوں ہے جس کے اپنے کوچنگ کیریئر پر بھی شدید تنقید ہوتی رہی ہے؟ اصل سوال تو یہ ہے کہ تمام تر ناکامیوں اعتراضات اور تنقید کے باوجود آخر وہ کون سی قوتیں یا عوامل ہیں جو عاقب جاوید کو پی سی بی کے اہم فیصلوں سے الگ نہیں ہونے دیتے؟ کیا واقعی تمام فیصلے صرف میرٹ اور کرکٹ کی بہتری کو سامنے رکھ کر کیے جا رہے ہیں یا پسِ پردہ کوئی اور مصلحتیں بھی موجود ہیں؟ اور اگر فیصلے واقعی کسی مخصوص فکر سوچ یا ترجیحات کے زیرِ اثر ہو رہے ہیں تو پھر سوال صرف عاقب جاوید کا نہیں بلکہ اس پورے نظام کا ہے پاکستان کرکٹ کی زبوں حالی اب محض میدان میں ہونے والی شکستوں کا معاملہ نہیں رہا یہ اس نظام پر بھی سوالیہ نشان ہے #Afaqwrites #

Afaq somroo

51,127 Aufrufe • vor 1 Monat