Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

🚨🚨 بی ایل اے میں خواتین کی بھرتی کا گھناؤنا کھیل، گل بلوچ نے بے نقاب کر دیا! کلعدم تنظیم خواتین کو کیسے بلیک میل کرکے اپنے مکروہ دھندے کےلئے استعمال کرتی ہے تہلکہ خیزانکشافات، غریب گھرانوں کے مردوں کو اغوا کیا جاتا ہے جن کی رہائی کے بدلے...

17,591 просмотров • 6 месяцев назад •via X (Twitter)

Комментарии: 0

Нет доступных комментариев

Здесь появятся комментарии из оригинального поста

Похожие видео

🚨''فورسز کی مخبری نہ کرنے پر بی ایل اے نے مقامی بلوچ خاندان کو شہید کردیا' بلوچ عوام میں بی ایل اے کا ڈر ختم ہورہا ہے،ڈر کے کھیل میں بی ایل اے جس کو چاہتی تھی اپنے لئے استعمال کرتی تھی۔ بلیدہ میں ایک بلوچ خاندان نے بی ایل اے کے انٹیلی جنس یونٹ کے لئے کام کرنے سے انکار کیا،سیکیورٹی فورسز کی نقل و حرکت سمیت دیگر خفیہ معلومات اکھٹی کرنے سے انکار کیا۔ اُس خاندان پر شدید دباؤ ڈالا جاتا رہا،وہ مسلسل انکار کرتے رہے،حالیہ ناکام حملوں کے بعد تو ویسے بھی بلوچ عوام بی ایل اے کے لئے شدید نفرت کا اظہار کرتے ہیں۔ ڈر قائم کرنے کےلئے بی ایل اے نے مقامی بلوچ خاندان پر حملہ کیا،مارٹر گولوں سے ان کا گھر جلادیا،گھر کی 3 خواتین اور 3 مردوں کو شہید کردیا،3 بچے زخمی کردیے۔ اس دوران ایک حملہ آور مقامی افراد کے ہتھے چڑھ گیا،جسے لوگوں نے جلاکر راکھ کردیا اور بی ایل اے کو پیغام دیا کہ ان کے ظلم و ستم کے سامنے جھکیں گے نہیں۔ سیکیورٹی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ بی ایل اے پہلے مقامی بلوچ افراد کو ڈرا دھمکا کر یا لالچ دیکر مخبری کرالیتی تھی،اب اب نہ صرف بلوچ عوام ان کو انکار کرتے ہیں بلکہ سیکیورٹی فورسز کو بھی آگاہ کرتے ہیں۔

Balochistan Insight

25,340 просмотров • 6 месяцев назад

ستمبر 2024 میں تربت کے قریب گرفتار ہونے والی بی ایل اے کی مبینہ خودکش بمبار عدیلہ بلوچ نے النہار ٹی وی اور پریس کانفرنس میں جو باتیں کیں، ان کا سیدھا سادا خلاصہ یہ ہے:وہ ایک کوالیفائیڈ نرس تھیں، WHO کے پولیو پروگرام پر کام کر رہی تھیں۔ بی ایل اے کے سہولت کاروں نے انہیں پہلے قوم پرستی کے نعرے لگا کر بہلایا، پھر پہاڑی کیمپ میں بلایا۔ وہاں ان کے ساتھ گینگ ریپ کیا گیا، ویڈیو بنائی گئی، اور اس ویڈیو کی دھمکی دے کر بلیک میل کیا گیا کہ اگر خودکش حملہ نہ کیا تو ویڈیو وائرل کر دی جائے گی۔عدیلہ نے بتایا کہ کیمپ میں کئی اور بلوچ لڑکیاں بھی اسی طرح قید تھیں، جنہیں ریپ اور تشدد کے بعد خودکش جیکٹس پہنا کر بھیجا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بی ایل اے کا دعویٰ کہ خواتین رضاکارانہ طور پر خودکش حملے کرتی ہیں، بالکل جھوٹ ہے؛ سب کچھ زبردستی، دھمکیوں اور جنسی استحصال سے ہوتا ہے۔انہوں نے ماہرنگ بلوچ اور بی ایل اے کے کمانڈروں کو براہ راست ذمہ دار ٹھہرایا اور بلوچ خاندانوں سے اپیل کی کہ اپنی بیٹیوں کو ان لوگوں سے بچائیں۔ آخر میں انہوں نے کہا کہ اللہ نے انہیں بچا لیا، ورنہ وہ بھی مر چکی ہوتیں، اور اب وہ سچ بول رہی ہیں تاکہ دوسری لڑکیاں بچ جائیں۔مکمل 1 گھنٹہ 45 منٹ کی پریس کانفرنس X پر یہاں دیکھی جا سکتی ہے:👇 یہ المیہ نہیں، بلکہ بی ایل اے جیسی دہشت گرد تنظیموں کی درندگی کا ننگا چہرہ ہے۔ یہ عورت رضاکار نہیں تھی؛ یہ وہی عدیلہ بلوچ جیسی مظلوم تھی، جسے پہلے قوم پرستی کے جھوٹے خواب دکھا کر بہلایا گیا، پھر پہاڑی کیمپوں میں گینگ ریپ کیا گیا، ویڈیو بنا کر بلیک میل کیا گیا، اور آخر میں خودکش جیکٹ باندھنے پر مجبور کیا گیا۔ یہ "آزادی کی جدوجہد" نہیں، خواتین کے جنسی استحصال اور تشدد کی تجارت ہے!

Faisal Khan Achakzai

64,112 просмотров • 9 месяцев назад