Loading video...

Video Failed to Load

Go Home

بیان: جدھر فوج تھی ادھر ہی احتجاج کرنا تھا، اور کدھر کرنا تھا؟ مگر جلایا انھوں نے نہیں۔ جس نے جلایا ہے اس کو سزا دیں۔ تجزیہ: عمران کو شائد احساس نہیں ہے کہ زمان پارک کے باہر دنیا کتنی بدل چکی ہے۔ اور اس کی سیاست کہاں جا...

343,405 views • 3 years ago •via X (Twitter)

10 Comments

Muhammad Asim's profile picture
Muhammad Asim3 years ago

تمہیں بھی احساس نہیں کے پاکستان باہر بھی دنیا بدل چکی ۔ تم لوگوں کو باکھنے کا موقع بھی نئی ملنا سجن ۔

Nadeem A.Rana 💯's profile picture
Nadeem A.Rana 💯3 years ago

فوج کی چھڑی چلانے والے کبھی کامیاب نہیں ہونگے ظلم اور جبر سے عوام کو دبایا جا سکتا ہے ختم نہیں کیا جاسکتا

Irfan Ullah's profile picture
Irfan Ullah3 years ago

@TalatHussain12 ya tu tum logo k hal hai kisi ghulam polishi k nasal

Taimur Malik ™️ 🇵🇸's profile picture
Taimur Malik ™️ 🇵🇸3 years ago

اچھا پھر اپنے لیڈران سے کہ کر الیکشن کروا دیں

imran's profile picture
imran3 years ago

Jin ko tum khuda samjthy ho wo khuda nahi hai Allah ka faisla akhri faisla hoga .

Mehboob Elahi's profile picture
Mehboob Elahi3 years ago

@Harsh_Striker آپ کی بکواس سے کچھ نہیں ہو گا بے غیرت لفافہ

Numan Wahab's profile picture
Numan Wahab3 years ago

If he is no more relevant then why are you commenting

Rana Nisar Ahmed's profile picture
Rana Nisar Ahmed3 years ago

زماں پارک کے باہر تو دنیا واقعی ہی بدل چکی ہے ۔۔ اسکا ثبوت کل شام سیاست کی نائیکہ مریم بائی کی کل لبرٹی چوک میں دی گئی کال کے شرکاء کو دیکھ کر تجزیہ کر لینا۔ باقی ان شاءاللہ تعالیٰ جب بھی الیکشن ہوں گے ۔ ھم پاکستانی بتائیں گے کہ زماں پارک سے باہر کے حالات اب 1990 کی دہائی کے نہی

PTI Watchdog's profile picture
PTI Watchdog3 years ago

ٹھیک کہا ، اسی بہانے الیکشن بھی کروا لیتے ہیں !

Shoaib Ahmad's profile picture
Shoaib Ahmad3 years ago

تو طلعت صاحب اپنے دونوں ابو کو کہو الیکشن کرواؤ کیونکہ عمران تو ختم ہے پر لگ پتا جائیگا

Related Videos

یہ پچھلے سال کی اس کی ویڈیو ہے تب یہ ٹک ٹاکر کافی زیادہ وائرل ہو رہا تھا اور یہ لائیو میچ کھیلا کرتا تھا ٹک ٹاک پہ لوگوں کے ساتھ اور اس کی ویڈیو کافی وائرل ہوتی تھی اور یہ خود کو عمران خان سے بڑا لیڈر سمجھنے لگا ایک دن اس کے ساتھ ہم باتیں کر رہے تھے تو اس نے عمران خان کے اوپر وہ باتیں کی جو میں سوچ نہیں سکتی تھی مدہ بہت لمبا تھا لیکن اس کی زبانی خود سنیں کہ یہ عمران خان کو کیا کہہ رہا ہے مطلب اس کو عمران خان سے زیادہ پتہ ہے۔۔ میں نے دوبارہ اس بندے کو کبھی اہمیت نہیں دی پھر یہ کافی چالاک بھی تھا اس نے ایک واٹس ایپ گروپ بنایا جس میں اس نے مجھے بھی ایڈ کیا اور اس نے ہم سب کو کہا اب میری ٹیم ہیں ٹیم الادین میں نے کہا ہم کسی کی ٹیم نہیں ہم صرف عمران خان کی ٹیم ہے ہم عمران خان کی بات کیا کریں گے اور اس پر میرے ساتھ سب لوگوں نے اتفاق کیا لیکن اس نے نہ کیا اور پھر بہت سارے لوگ وہ واٹس ایپ گروپ چھوڑ کے چلے گئے جس میں میں بھی شامل تھی اور میں نے اس کو ہمیشہ دیکھا یہ کرتا کیا ہے اس نے بہت جھوٹ بولے اس کو ہر وہ کام کرنے اور ہر ایک وہ چیز بولنے کی اجازت تھی جو ہر نئے انے والے بندے کو ہوتی ہے جس کو ہیرو بنایا جاتا ہے پھر اس کو پتہ چلا کہ ٹویٹر بھی کوئی چیز ہوتی ہے پھر یہ پچھلے سال ٹویٹر پہ پہنچا اور دیکھتے ہی دیکھتے کوئی شخص جب اتنا وائرل ہو جاتا ہے تو اپ خود سمجھیں کہ اس کے پیچھے کیا ہوتا ہے اور ہماری قوم ٹھہری معصوم جس کے فالور زیادہ ہوئے نہیں بس اسی کے ساتھ تصویریں لینے نکل پڑے وہ پتلو ہو یا وہ پھر کوئی جنت مرزا ا یا کوئی ڈکی بھائی ہو یا کوئی اور شروع میں یہ بھی ٹوٹے دل اور عاشقی والی ویڈیو ہی بناتا تھا۔۔جو کے اس کا ذاتی معاملہ ہے۔ اس نے بہت سارے ایسے لوگوں کو سپورٹ کی جس کو نہیں کرنا چاہیے تھا اس کو سمجھ اگئی تھی کہ ٹک ٹاک کا الگوریدم وہی چیزیں اٹھاتا ہے جو ٹاپ ٹرینڈنگ ہو اسے ان چیزوں سے کبھی مقصد نہیں ہوا تھا کہ کیا ضروری ہے کیا اہم اور پھر اہستہ اہستہ اس کو ہمارے ہی پی ٹی ائی افیشلز کے کچھ لوگوں نے انٹروڈکشن دیا اس کو عزت دی پھر اچانک سے اس کے ابو کو اٹھا لیا گیا جو کہ مجھے سچ نہیں لگتا کیونکہ پھر اگلے ہی دن یہ ائی ایس ائی کو للکار رہا تھا اور پھر ان کا ابو چھوٹ بھی گیا جو کہ اچھی بات ہوئی اس کے بعد یہ پی ٹی ائی افیشل میں بیٹھے ہوئے چند لوگوں کی مدد سے زیادہ ہی وائرل ہوگیا۔۔ اب اس نے یہ جتنے بھی پروگرام کیے ہیں اس نے بہت سنگین جرم کیا عمران خان کی تصویر نہ لگا کر پی ٹی ائی کے جھنڈے نہ لہرا کر اب یہ اس مدے پر پہنچ چکا ہے کہ یہ اپنی کوئی ہیومن رائٹس کے ارگنائز شن بنا رہا ہے یہ سب کرنے کے لیے اس نے عمران خان کا نام استعمال کیا اس نے پی ٹی ائی کے لوگوں کے جذبات سے کھیلا اور یہ تمام اس کے فالورز جو اس کو ملے ہیں وہ عمران خان کے نام پر ملے ہیں لیکن اس کا ایجنڈا کچھ زیادہ ہی بڑا ہے یاد رہے یہ اس کے الفاظ اس وقت کے ہیں جب خان صاحب جیل میں تھے یہ اس وقت بھی لوگوں کو یہ کہتا تھا کہ ہمیں عمران خان پر ٹرسٹ نہیں کرنا چاہیے تھا جو ہم نے کیا

Sara Mir

33,141 views • 9 months ago

🚨اتنا سچ بول گیا اس کو پھانسی دو ۔اتنی اجازت کیسے مل گی کہ بھونک سکے ۔اور کچھ نہیں ملا تو ٹائم پاس کے لیے کمپنی نے اپنے حکومتی اور مزہبی کتے آپس میں لڑاؤ دیے ۔۔ 😂عوام اتنی بھی پھدو نہیں 👇👇👇😭 عمران خان کا قصور یہ ہے وہ فوج کے خلاف اس طرح نہیں بھونکا ۔ عمرانُ خان کا قصور یہ ہے اس نے کھل کر فوج کو اس طرح ننگا نہیں کیا ۔ عمران خان کا قصور یہ ہے اس نے سب کو ایک ہو کر چلنے کی کوشش کی ۔ عمران خان کا قصور یہ ہے اس نے کبھی نسلی ،لسانیت ،مذہبی ،صوبائیت کی بنیاد پر سیاست نہیں کی ۔ عمران خان کا قصور یہ ہے اس نے اس کی پارٹی نے اندھیرے میں اور دن کی روشنی میں غیر ملکیوں سفیروں سے ملاقاتیں نہیں کی ۔ عمران خان قصور یہ ہے اس نے پاکستان کو ایک رکھنے کے لیے کوئی جارحانہ ادھر تم ادھر ہم ،سندھ کھپے ،جیو بلوچستان پر سیاست نہیں کی ۔ عمران خان کا قصور یہ ہے اس نے کہا فوج بھی میری ملک بھی میرا ۔ عمران خان کا قصور یہ ہے اس نے پہلی بار انٹرنیشنل فورم پر ایک اسلامی چینل اور او آئی سی کا اجلاس دوسری بار پاکستان میں منعقد کرا کر ایسے مولویوں کی سیاست ختم کرنا چاہیے ۔ عمران خان کا قصور یہ ہے،کبھی کسی مولوی سے جھوٹے فتوے دلا کر سیاست نہیں کی ۔ عمران خان کا قصور یہ ہے اس نے کسی عورتوں کی کردار کشی نہیں کی نہ عورتوں پر سیاست کی ۔ عمران کا قصور یہ ہے اس نے سب سے زیادہ اپنی فوج اور فوجی جرنیلوں پر اعتماد کیا ۔ عمران خان کا قصور یہ ہے اس نے ملک کی بہتری کے لیے ہمیشہ خاموشی اختیار کی ۔ سب سے بڑا عمران خان کا قصور یہ ہے وہ شریف امانت دار ،مخلص بندہ ہے جس کو بے شرم واردتیے ،آستین کے سانپ قدم قدم پر ملے ۔

SSG of Pti

31,511 views • 1 month ago

میں اسٹیبلشمنٹ،بیوروکریسی،سیاست دانوں،حکمرانوں کو بھی بتانا چاہتا ہوں کہ جب 1977 میں پورے ملک میں الیکشن میں دھاندلی کی گئی، اس دھاندلی کے خلاف پورے ملک میں تحریک اٹھی، اس تحریک کی قیادت مفتی محمود نے کی تھی۔ چوری سے نتیجے برآمد کرنا، الیکشن میں دھاندلیاں کرنا اس کے خلاف سب سے پہلے بڑی تحریک کی قیادت میرے قائد نے کی تھی، مفکر اسلام نے کی تھی، ہماری گٹھی میں یہ بات ڈال دی ہے کہ ہم پاکستان میں چوری کا الیکشن تسلیم نہیں کریں گے۔ چوری ہوئی ہے 2018 میں بھی ہوئی، ہم نے کہا ہم تسلیم نہیں کرتے، 2024 میں ہوئی، پارلیمنٹ میں ہوئی، اس صوبے کی الیکشن میں چوری ہوئی، ہم نے نہ صوبے کی چوری کو تسلیم کیا نہ ہم نے وفاق کی چوری کو تسلیم کیا، لڑتے رہیں گے یہاں تک کہ پاکستان کے عوام کو اس کے ووٹ کا حق واپس نہ دلا دے۔ یہ وہ سیاست ہے جس کے نام سے کانفرنس منعقد ہو رہی ہے وہی اس نظریے اور اس اصول کے رہبر تھے۔ اگر ہم واقعی ان کے پیروکار ہیں تو پھر ہمیں ثابت کرنا ہوگا کہ ہم نے اصول کی سیاست کرنی ہے، جمہوریت کی سیاست کرنی ہے، اخلاق کی سیاست کرنی ہے، شائستگی کی سیاست کرنی ہے۔ ہم اختلاف کرتے ہیں، ہم اختلاف کریں گے، لیکن ہماری سیاست گالیوں کی سیاست نہیں، بدتمیزی کی سیاست نہیں ہے، بد اخلاقی کی سیاست نہیں ہے، فحاشی اور عریانی کی سیاست نہیں ہے، اعلیٰ اسلامی اقدار کی سیاست ہے۔ ان شاءاللہ جو راستہ ہمیں اپنے راہبر نے دکھایا ہے، ہم اس راستے پر استقامت کے ساتھ اپنا سفر جاری رکھیں گے اور ان شاءاللہ آج اس ڈیرہ کا شہر جو آج گزرگاہ ہے اگر اللہ نے چاہا اسی راستے سے اسلام آباد پہنچیں گے اور اسلام آباد ہماری منزل گاہ ہوگی۔قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

10,927 views • 10 months ago

یہ ارب پتی سردار تھا۔ اربوں روپیہ رائلٹی سوئی گیس کے نام پر یہ حکومت پاکستان سے لیتا تھا۔۔ اس کو پرائیویٹ جہاز دیے جاتے تھے۔۔ مگر اس کے اپنے علاقے میں سوئی گیس نہیں تھی کیونکہ نواب کو یہ پسند نہیں تھا کہ اس کے گھر میں گیس ہو اور سارے گاؤں کے گھروں میں بھی گیس ہو۔۔ اور یہ بات اس کو پروپگینڈا کرنے میں بھی مدد دیتی تھی کہ پاکستان ہمیں لوٹ رہا ہے دیکھیں پورے پاکستان کو سوئی گیس جاتی ہے اور سوئی میں گیس نہیں ہے ‌‌ ۔۔ یہ کمینہ یہ نہیں بتاتا تھا کہ اس نے خود منع کیا ہوا ہے کہ میرے گاؤں کو گیس نہیں دی جائے گی۔ اس نے اپنی ہی قوم کے لاکھوں لوگوں کو مار کر نکال دیا تھا اور ان کی زمینوں پر قبضہ کیا ہوا تھا۔‌ سرفراز بگٹی جو اج وزیراعلی ہے اس کا پورا خاندان بلوچستان سے نکال کر پنجاب میں خوار ہوتا تھا۔ مشرف نے صرف یہ کیا تھا کہ ان دربدر بلوچوں کو واپس لے جا کر ڈیرہ بگٹی میں اباد کر دیا۔‌ اس بات پر ناراض ہو کر اکبر بگٹی نے بغاوت کر دی۔ اور خودکشی کر لی اور ہمارے کئی جوان شہید کر دیے۔‌ اب لوگ اس کو ہیرو بنا کر پیش کرتے ہیں۔ اپ خود بکٹی قبیلے سے پوچھیں کہ یہ کتنا کمینہ اور ح**** تھا۔۔ بلوچستان کو ان سرداروں نے لوٹا ہے اور پتھر کے دور میں رکھتے تھے۔۔ جیسے پیپلز پارٹی اندرون سندھ کو پتھر کے دور میں رکھتی ہے ۔ ان نوابوں اور وڈیروں کا ایک ہی طریقہ واردات ہے۔

اللہ کے بندے۔۔۔

68,212 views • 1 month ago