Sensitive content

This media may contain sensitive content.

正在加载视频...

视频加载失败

بیٹے کے گاڑی کا ہارن بجاتے ہی گھر میں معصومیت کا نقاب اوڑھ لیا جاتا ہے لیکن جیسے ہی وہ رزق کی تلاش میں نکلتا ہے، پیچھے اس کا اپنا سگّا باپ اور بیوی ہوس کی خاطر مقدس رشتوں اور اخلاقیات کا جنازہ نکال دیتے ہیں 💔🖐️؛ نہ بابے...

73,028 次观看 • 1 个月前 •via X (Twitter)

0 条评论

暂无评论

原始帖子的评论将显示在这里

相关视频

عورت کا بانجھ ہونا اللہ کی طرف سے ہے، لیکن اس کی سزا معاشرہ دیتا ہے۔ شوہر جب اپنی بیوی کے فطری حسد کو گناہ بنا کر اس کی محبت کو نظرانداز کرتا ہے، تو ایک ادھوری عورت کی چاہت جنون میں بدل جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مرد کو چار شادیوں کی اجازت تو دی ہے، مگر ساتھ ہی یہ بھی واضح فرمایا کہ تم ان کے درمیان انصاف نہیں کرسکو گے، اس لئے ایک بیوی ہی کافی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بیوی یہ کبھی برداشت نہیں کر سکتی کہ شوہر کی زندگی میں کسی دوسری عورت کی شراکت داری ہو۔ ماہم جیسی نہ جانے کتنی عورتیں صرف بانجھ پن کے باعث نظرانداز کی جاتی ہیں، یہاں تک کہ انہیں پاگل پن کے دہانے تک پہنچا دیا جاتا ہے۔ کیوں؟ صرف اس لئے کہ وہ اولاد نہیں جن سکتیں، حالانکہ وہ اپنے شوہر سے جنون کی حد تک محبت کرتی ہیں۔ دنیا میں لاکھوں یتیم بچے ہیں جنہیں ماں باپ کی محبت اور پرورش کی ضرورت ہے۔ پھر کیوں نہ کسی عورت کو اذیت دینے کے بجائے ایک یتیم کو گود لیا جائے؟ اس طرح ایک معصوم بچے کو خاندان کا سہارا اور والدین کا پیار ملے گا، اور عورت کو تحفظ اور سکون۔ #sharakat
13:25

Sensitive content

عورت کا بانجھ ہونا اللہ کی طرف سے ہے، لیکن اس کی سزا معاشرہ دیتا ہے۔ شوہر جب اپنی بیوی کے فطری حسد کو گناہ بنا کر اس کی محبت کو نظرانداز کرتا ہے، تو ایک ادھوری عورت کی چاہت جنون میں بدل جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مرد کو چار شادیوں کی اجازت تو دی ہے، مگر ساتھ ہی یہ بھی واضح فرمایا کہ تم ان کے درمیان انصاف نہیں کرسکو گے، اس لئے ایک بیوی ہی کافی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بیوی یہ کبھی برداشت نہیں کر سکتی کہ شوہر کی زندگی میں کسی دوسری عورت کی شراکت داری ہو۔ ماہم جیسی نہ جانے کتنی عورتیں صرف بانجھ پن کے باعث نظرانداز کی جاتی ہیں، یہاں تک کہ انہیں پاگل پن کے دہانے تک پہنچا دیا جاتا ہے۔ کیوں؟ صرف اس لئے کہ وہ اولاد نہیں جن سکتیں، حالانکہ وہ اپنے شوہر سے جنون کی حد تک محبت کرتی ہیں۔ دنیا میں لاکھوں یتیم بچے ہیں جنہیں ماں باپ کی محبت اور پرورش کی ضرورت ہے۔ پھر کیوں نہ کسی عورت کو اذیت دینے کے بجائے ایک یتیم کو گود لیا جائے؟ اس طرح ایک معصوم بچے کو خاندان کا سہارا اور والدین کا پیار ملے گا، اور عورت کو تحفظ اور سکون۔ #sharakat

Najiba Faiz

88,130 次观看 • 1 年前

آزادی صحافت اور روایتی مہمان نوازی پر ریاستی مشینری کا حملہ۔ حسنین ایک غیر جانبدار اور خود مختار صحافی ہے، جس کا قصور یہ بنا کہ اس نے ایک انسان اور پاکستان کے شہری ہونے کے ناطے خیبر پختونخوا کے منتخب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو اپنے گھر میں ٹھہرایا اور پناہ دی۔ اس مہمان نوازی کا بدلہ اس کا گھر مسمار کر کے، سامان لوٹ کر اور اس کی چھت چھین کر لیا گیا۔ پنجاب حکومت، مریم نواز اور انتظامیہ کا یہ اقدام صاف بتاتا ہے کہ سیاسی انتقام میں اندھے ہو کر اب عام شہریوں اور صحافیوں کی نجی زندگیوں اور جائدادوں کو سڑکوں پر رولا جا رہا ہے۔ کسی مہمان کو اپنے گھر میں جگہ دینا نہ تو کوئی جرم ہے اور نہ ہی آئینِ پاکستان اس کی ممانعت کرتا ہے۔ لیکن پنجاب پولیس اور مقامی انتظامیہ نے تمام قانونی تقاضوں، عدالتی وارنٹس اور انسانی اقدار کو ہوا میں اڑا دیا۔ ایک غیر جانبدار صحافی کے گھر میں زبردستی گھسنا، قیمتی سامان اٹھا کر لے جانا اور پورے گھر کو ملبے کا ڈھیر بنا دینا قانون نافذ کرنے کا عمل نہیں بلکہ براہِ راست ڈکیتی اور غنڈہ گردی ہے۔ ایک طرف سچ بولنے والے صحافیوں پر ویسے ہی دباؤ ڈالا جاتا ہے، اور دوسری طرف اگر وہ کسی کو مہمان بنا لیں تو ان کے گھر ہی اجاڑ دیے جاتے ہیں۔ اس کھلے ظلم میں ملوث تمام ایس ایچ اوز، انتظامی افسران اور سیاسی سرپرست اس ستم کے براہِ راست ذمہ دار ہیں۔ مہمان نوازی کو جرم بنا کر شہریوں کو ہراساں کرنے کا یہ سلسلہ طاقت کے ناجائز استعمال کرنے والی ٹک ٹاکر کے حساب سے بھی ایک گری ہوئی حرکت ہے۔ Naya Pakistan Husnain Rafique

PTI

35,858 次观看 • 16 天前

ذرا سوچیے!! شہناز کے اپنے گھر والے ہی اس کی سوچ اور راستے کو غلط قرار دے رہے ہیں۔ ایک ماں کی آواز، ایک دادا کے لرزتے الفاظ اور خاندان کی بے بسی یہ بتا رہی ہے کہ وہ راستہ کبھی درست نہیں ہو سکتا جو اپنے ہی گھر کو دکھ، خوف اور شرمندگی میں مبتلا کر دے۔ جو اپنی سوچ اپنے گھر میں قبول نہ کرا سکی اُسے فتنہ الہندوستان نے بلوچ خواتین کو مسلح جدوجہد کی طرف اکسانے کے لیے لاونچ کیا۔ شہناز بلوچ کی والدہ، دادا اور خاندان کے دیگر افراد نے بلوچی زبان میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ہم پاکستان کے وفادار ہیں اور ہر حال میں اپنے وطن کی تحفظ کےلیے ہمیشہ ساتھ کھڑے ہونگے۔ ہمیں نہ اس غلط قدم کا علم تھا اور نہ ہی اب ہمارا شہناز سے کوئی تعلق ہے۔ ان کے چہروں کی اداسی اور لہجے کا کرب بہت کچھ بیان کر رہا تھا۔۔۔۔۔ مگر افسوس عورتوں کو اپنی مزموم مقاصد کے لئے استعمال کرنے والے ان دہشتگردوں کو اس درد کا احساس نہیں۔ روز باپردہ بے گناہ بلوچ مائیں، بہنیں اور بیٹیاں کیمرے کے سامنے آکر اپنے ٹوٹے دلوں کی کہانیاں قوم کو سنا رہیں ہیں ۔انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا ،انہیں نہ ماں کے آنسو دکھائی دیتے ہیں، نہ خاندانوں کی بکھرتی زندگیاں… بس اپنے بیرونی آقا انڈیا کو خوش رکھنا ہی انکا اصل مقصد ہے۔

Meena Majeed Baloch, MPA

17,476 次观看 • 4 个月前