Loading video...

Video Failed to Load

Go Home

تمہیں معلوم ہے دنیا کا سب سے چھوٹا ملک میرا دل ہے اور اس کی آبادی محض تم پر مشتمل ہے اس ملک کا قومی ترانہ تمہارے ہونٹوں پہ رقص کرتی ہنسی ہے اور اس کا پرچم کا رنگ تماری آنکھوں کے رنگ جیسا ہے اور میں چاہتی ہوں...

10,445 views • 2 years ago •via X (Twitter)

0 Comments

No comments available

Comments from the original post will appear here

Related Videos

وقت گزر جاتا ہے، مگر بچوں کی ہنسی، ان کی معصوم باتیں اور ان کے ننھے قدم دل کے کسی گوشے میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔ آج ایک پرانی ویڈیو دیکھتے ہوئے احساس ہوا کہ زندگی کی سب سے بڑی نعمتیں وہی ہیں جنہیں ہم اکثر معمولی سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ میرے نزدیک اللہ تعالیٰ کا انسان پر سب سے بڑا انعام اولاد، صحت اور محبت ہیں۔ میں خود کو بے حد خوش نصیب سمجھتا ہوں کہ میرے رب نے مجھے یہ تینوں نعمتیں فراوانی سے عطا کیں۔ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر اپنی رحمتوں اور نعمتوں کی بارش ہمیشہ بے حساب کی ہے۔ اس نے مجھے زندگی میں توقعات سے کہیں بڑھ کر عزت، محبت، مواقع اور آسائشیں عطا کیں۔ لیکن ان تمام نعمتوں میں جو نعمت میرے دل کے سب سے قریب ہے، وہ میری اولاد ہے۔ ریان، بہرام اور میری پیاری بیٹی میری زندگی کا حاصل ہیں۔ یہ میری محبت، میری امید، میری خوشی اور میرے آنے والے کل کا سرمایہ ہیں۔ اگر مجھ سے پوچھا جائے کہ میری سب سے قیمتی متاع کیا ہے، تو میرا جواب ہمیشہ یہی ہوگا کہ میری اصل دولت میرے بچے ہیں۔ میں ان کا قیدی ہوں، اور یہ وہ قید ہے جس پر مجھے فخر ہے۔ زندگی کے اس مرحلے پر میری سب سے بڑی خواہش نہ شہرت ہے، نہ دولت اور نہ کوئی منصب۔ میری دعا صرف یہ ہے کہ میں اپنے بچوں کی ایسی تربیت کر سکوں کہ وہ اچھے انسان، باکردار شہری اور معاشرے کے لیے باعثِ خیر بنیں۔ کیونکہ آخرکار انسان کی کامیابی کا پیمانہ اس کی اولاد کے کردار سے ہی ناپا جاتا ہے۔ گزشتہ ڈیڑھ سال حالات نے ہمیں مختلف ملکوں میں رکھا۔ میرے بچے دبئی اور برطانیہ میں رہے اور میں پاکستان میں۔ ان کی جدائی نے مجھے ہر روز یہ احساس دلایا کہ گھر دیواروں سے نہیں، بچوں کی موجودگی سے بنتا ہے۔ میں نے انہیں بے حد یاد کیا، شاید اتنا جتنا الفاظ بیان نہیں کر سکتے۔ اور آج، جب میرے بیٹے دبئی سے واپس آرہے ہیں اور میں انہیں لینے ایئرپورٹ جا رہا ہوں، تو دل کی کیفیت بیان سے باہر ہے۔ ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے میری دنیا کا ایک گمشدہ حصہ دوبارہ اپنی جگہ لوٹ رہا ہو۔ اولاد دراصل اللہ تعالیٰ کی وہ زندہ دعا ہے جو ہماری آنکھوں کے سامنے پروان چڑھتی ہے۔ جتنا انہیں دیکھتا ہوں، اتنا ہی اپنے رب کا شکر ادا کرتا ہوں۔ ریان، بہرام اور میری بیٹی — تم میری کامیابی نہیں، میری دنیا ہو۔ ❤️ الحمدللہ، ہر نعمت پر، ہر آزمائش پر، ہر وصال اور ہر جدائی پر؛ اور سب سے بڑھ کر، تم پر۔ ✨

Sher Afzal Khan Marwat

91,385 views • 1 month ago

دیکھو اپنے فیورٹ فیملی وی لاگر کے کام ۔یہ رجب بٹ جیسے پاکستان کی فیملیزبہت شوق سے دیکھتی ہیں ۔۔۔ کیسے قرانی ایت کا مذاق اڑارہا ہے پہلے بھی اس پر اسطرح کے انزام ہیں مگر عوام ہر بار اس کو معاف کر دیتی ہے ۔۔۔ مگر اب تو قرانی ایت کا مذاق اڑا رہا ہے ۔۔ یہ ویڈیو اور یہ پوسٹ پڑھنے کے بعد فیصلہ اپ پر چھوڑتا ہوں ۔۔ کیا یہ شخص قابل معافی ہے ۔۔ یہ اللہ کا حکم سنیے اس بارے میں خدارا اس پر اواز اٹھایے ۔۔ سورۃ التوبہ، آیت 65–66 ترجمہ: “کیا تم اللہ، اس کی آیات اور اس کے رسول کا مذاق اُڑاتے تھے؟ بہانے نہ بناؤ، تم ایمان کے بعد کفر کر بیٹھے ہو۔ 2. سورۃ النساء، آیت 140 ترجمہ: “تم پر کتاب میں یہ حکم نازل کیا گیا ہے کہ جب تم سنو کہ اللہ کی آیات کا انکار کیا جا رہا ہے اور ان کا مذاق اُڑایا جا رہا ہے تو اُن کے ساتھ مت بیٹھو، یہاں تک کہ وہ کسی اور بات میں لگ جائیں۔ سورۃ الانعام، آیت 68 ترجمہ: “اور جب تم دیکھو کہ لوگ ہماری آیات کے بارے میں لغویات میں پڑ رہے ہیں (یعنی مذاق یا بحثِ باطل میں)، تو اُن سے منہ موڑ لو، یہاں تک کہ وہ کسی اور بات میں مشغول ہوں۔ سورۃ الزمر، آیت 56 ترجمہ: “کہیں کوئی جان یہ نہ کہے: افسوس ہے مجھ پر کہ میں نے اللہ کے حق میں کوتاہی کی، حالانکہ میں (اللہ کی آیات کے) مذاق اُڑانے والوں میں سے تھا ۔ سورۃ الجاثیہ، آیت 9 ترجمہ: “اور جب وہ ہماری آیات میں سے کچھ سنتا ہے تو انہیں مذاق بنا لیتا ہے۔ ایسے ہی لوگوں کے لیے ذلت کا عذاب ہے۔ سورۃ لقمان، آیت 6 ترجمہ: “اور لوگوں میں سے کچھ ایسے ہیں جو لغو باتیں خریدتے ہیں تاکہ اللہ کے راستے سے بہکائیں اور اسے مذاق بنائیں۔ ایسے لوگوں کے لیے ذلت کا عذاب ہے۔ سورۃ الکہف، آیت 106 ترجمہ: “یہی ان کی جزا ہے — جہنم — اس سبب سے کہ انہوں نے میری آیات اور میرے رسولوں کو مذاق بنا لیا تھا۔

Saleem Speaks

54,770 views • 10 months ago