Loading video...

Video Failed to Load

Go Home

تو بديت بمسلسل التفاح الحرام يالله يجمالية الساوووووند

165,229 views • 4 months ago •via X (Twitter)

0 Comments

No comments available

Comments from the original post will appear here

Related Videos

پاکستان کے طول و عرض میں سفر کے دوران ہمارا ذاتی مشاہدہ ہے کہ جب بھی ہم موٹر وے پر موجود مساجد ، ہائی وے پر موجود بڑے ہوٹلوں اور پٹرول پمپس کی مساجد اور دیگر عوامی مراکز میں ہاتھ کھول کر اور سجدہ گاہ رکھ کر نماز کی ادائیگی کر رہے ہوتے ہیں تو دائیں بائیں موجود دیگر مسالک کے نمازی ہمیں تعجب انگیز اور حیرت آمیز نگاہوں سے دیکھتے رہتے ہیں۔ جب کبھی ہم بین المذاہب اور بین المسالک سرگرمیوں کے دوران کسی مدرسے کی مسجد یا کسی جامع مسجد (اہل سنت) میں نماز کی ادائیگی کرتے پائے جائیں تو مسجد و مدرسے کے طلباء و نمازی ہم پر نظریں جما کے بلکہ نظریں گاڑ کے رکھتے ہیں یہاں تک کہ ہم نماز تمام کر کے اٹھ نہ جائیں۔ اس سے زیادہ المیہ یہ ہے کہ مذکورہ بالا سارے مقامات بالخصوص ناشناختہ مساجد میں شیعہ حضرات نماز کی ادائیگی سے اس لئے گریز کرتے ہیں کہ کہیں کوئی انتہاپسند ، تعصب زدہ ، فرقہ پرست ، تکفیری ذہنیت کا حامل یا منفی پروپیگنڈے کا شکار سادہ لوح جذباتی انسان یا گروہ شیعہ نمازی پر پل نہ پڑے اور مولوی کے بتائے ہوئے جہاد پر عمل پیرا نہ ہو جائے۔ اس صورتحال سے تقریباََ ہم سب آگاہ ہیں۔ لیکن دوسری طرف دیکھئیے ۔ یہ اسلام آباد میں موجود پاکستان کے سب سے بڑے شیعہ مرکز جامعتہ الکوثر کی جامع مسجد کا منظر ہے۔ تین محرم الحرام کی شام ہے۔ مجلس عزا کا آغاز ہو چکا ہے۔ شیعہ عزاداروں کے درمیان ایک اہل سنت بھائی سر پر خاص انداز سے رومال باندھ کر ، ٹخنوں سے شلوار بلند کر کے ، اپنے دونوں ہاتھ پیٹ پر باندھ کے ، بغیر سجدہ گاہ رکھے یعنی اپنے پورے انتظام کے ساتھ اور ارد گرد کے ماحول سے بے نیاز پورے انہماک سے نماز کی ادائیگی میں مصروف ہے۔ دائیں بائیں بیٹھے شیعہ عزادار حتی کہ شیعہ بچے بھی اس اہل سنت نمازی کی طرف نفرت انگیز نگاہوں سے تو درکنار محض تعجب انگیز نگاہوں سے بھی نہیں دیکھ رہے۔ اس ماحول کی تربیت آئمہ طاہرین اور شیعہ علماء و مرجعین نے دی ہے۔ یہ مناظر کربلا و نجف و مشہد و کاظمین سمیت آئے روز شیعہ مراکز میں دیکھے جاسکتے ہیں۔ ویڈیو میں موجود اہل سنت بھائی نے نوافل سمیت نماز کی ادائیگی کے بعد نہ صرف علامہ شیخ انور علی نجفی کی ”مناجات“ کے موضوع پر مجلس سماعت کی بلکہ مصائب کے دوران گریہ بھی کیا۔ کاش ہمارے اہل سنت برادران کے زیرانتظام مساجد و مدارس اور دینی مراکز میں بھی اس طرح کا دوستانہ ، غیر متعصبانہ ، غیر جانبدارانہ اور غیر اجنبیانہ ماحول پیدا ہوجائے اور اپنے زیر اثر لوگوں کی اسی نہج پر تربیت ہو جائے جہاں کوئی بھی شیعہ مسلمان بلا خوف و جھجک اپنے طریقے سے اپنی عبادت انجام دے سکے تو پاکستان کے مذہبی ماحول کا منظر ہی کچھ اور ہو۔

Syed M Mehdi

63,885 views • 2 years ago

کفارِ مکہ کی طرف سے مسلمانوں کو نماز پڑھنے سے روکنے اور ان پر ظلم و ستم ڈھانے کے کئی واقعات تاریخ میں ملتے ہیں۔ ان میں سے چند واقعات درج ذیل ہیں جن کی ایک عملی تصویر اس ویڈیو میں دیکھی جا سکتی ہے: 1- حضرت ابوبکر صدیقؓ کا شمار ان ابتدائی مسلمانوں میں ہوتا ہے جنہیں قریش کی طرف سے سخت مخالفت اور تکالیف کا سامنا کرنا پڑا۔ جب حضرت ابوبکرؓ نے اپنے گھر کے صحن میں ایک چھوٹی مسجد بنائی اور وہاں نماز پڑھنے لگے تو قریش نے اس پر اعتراض کیا۔ وہ جانتے تھے کہ حضرت ابوبکرؓ کی تلاوت اور نماز کا انداز بہت پراثر تھا، جسے سن کر کئی لوگ اسلام کی طرف مائل ہو سکتے تھے۔ اس لیے کفارِ مکہ نے ان کے گھر کے صحن میں نماز پڑھنے پر بھی پابندی لگانے کی کوشش کی۔ اس ظلم و ستم کے باوجود حضرت ابوبکر صدیقؓ اور دوسرے صحابہ کرامؓ اپنے ایمان پر ثابت قدم رہے اور ہر طرح کی اذیتیں برداشت کرتے ہوئے بھی اسلام کے پیغام کو پھیلانے میں مصروف رہے۔ 2. حضرت بلال حبشیؓ پر ظلم حضرت بلال حبشیؓ، جو ایک غلام تھے، جب اسلام لائے تو ان کے مالک امیہ بن خلف نے انہیں سخت اذیتیں دیں۔ انہیں تپتی ہوئی ریت پر لٹا کر سینے پر بھاری پتھر رکھ دیا جاتا تھا تاکہ وہ اسلام چھوڑ دیں اور نماز سے باز آ جائیں، لیکن وہ مسلسل "اَحد، اَحد" (اللہ ایک ہے) کہتے رہے۔ 3. حضرت خباب بن ارتؓ پر تشدد حضرت خباب بن ارتؓ جب نماز پڑھتے یا قرآن کی تلاوت کرتے تو کفار انہیں سخت اذیتیں دیتے۔ انہیں دہکتے ہوئے انگاروں پر لٹا دیا جاتا، تاکہ وہ اسلام سے دستبردار ہو جائیں، لیکن وہ ثابت قدم رہے۔ 4. خانہ کعبہ میں نبی کریم ﷺ کو نماز سے روکنا رسول اللہ ﷺ جب خانہ کعبہ میں نماز پڑھتے تو کفار مکہ انہیں مختلف طریقوں سے تنگ کرتے۔ ابو جہل اور اس کے ساتھیوں کی گستاخی: ایک موقع پر نبی کریم ﷺ سجدے میں تھے کہ ابو جہل کے کہنے پر عقبہ بن ابی معیط نے اونٹ کی اوجھڑی لا کر آپ ﷺ کی کمر پر رکھ دی، جس سے آپ ﷺ کو شدید تکلیف ہوئی۔ گلا گھونٹنے کی کوشش: ایک بار نبی کریم ﷺ خانہ کعبہ میں نماز پڑھ رہے تھے تو عقبہ بن ابی معیط نے آپ ﷺ کے گلے میں کپڑا ڈال کر اسے سختی سے کھینچنا شروع کر دیا، یہاں تک کہ آپ ﷺ کا دم گھٹنے لگا، لیکن حضرت ابوبکر صدیقؓ آئے اور انہیں بچایا۔ 5. حضرت عثمان بن مظعونؓ پر تشدد حضرت عثمان بن مظعونؓ ایک دفعہ حرم شریف میں نماز پڑھ رہے تھے کہ اُمیہ بن خلف نے انہیں زدوکوب کیا اور ان کی آنکھ پر اتنا زور سے مکا مارا کہ وہ شدید زخمی ہو گئے۔ 6. حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کا واقعہ جب حضرت سعدؓ نے اسلام قبول کیا اور نماز پڑھنے لگے تو ان کی ماں اور قبیلے کے لوگ ان پر دباؤ ڈالنے لگے کہ وہ نماز ترک کر دیں۔ 7. حضرت یاسرؓ، سمیہؓ اور عمارؓ پر ظلم حضرت عمار بن یاسرؓ اور ان کے والدین حضرت یاسرؓ اور حضرت سمیہؓ کو اسلام لانے پر شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ حضرت سمیہؓ کو ابو جہل نے نیزہ مار کر شہید کر دیا، اور یہ اسلام کی پہلی شہیدہ بنیں۔ غرض کفارِ مکہ نے مسلنانوں کو نماز سے روکنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی، لیکن مسلمان اپنے دین پر ثابت قدم رہے اور آخرکار اللہ نے انہیں فتح عطا فرمائی۔ فتح مکہ کے بعد مسلمان آزادانہ طور پر مسجد الحرام میں نماز ادا کرنے لگے۔ کاپی_پیست Credit and source 👇

Abdul Karim

18,818 views • 1 year ago