Sensitive content

This media may contain sensitive content.

Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

تھری سم میں بیوی جب شوہر کے سامنے کسی اور کا لن چوستی تو ہے شوہر کا سویا ہوا لن لوہے کی طرح سیدھا ہو جاتا ہے پھر دونوں مل کر چسواتے افف

23,638 Aufrufe • vor 5 Tagen •via X (Twitter)

0 Kommentare

Keine Kommentare verfügbar

Kommentare vom Original-Post werden hier angezeigt

Ähnliche Videos

عورت کا بانجھ ہونا اللہ کی طرف سے ہے، لیکن اس کی سزا معاشرہ دیتا ہے۔ شوہر جب اپنی بیوی کے فطری حسد کو گناہ بنا کر اس کی محبت کو نظرانداز کرتا ہے، تو ایک ادھوری عورت کی چاہت جنون میں بدل جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مرد کو چار شادیوں کی اجازت تو دی ہے، مگر ساتھ ہی یہ بھی واضح فرمایا کہ تم ان کے درمیان انصاف نہیں کرسکو گے، اس لئے ایک بیوی ہی کافی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بیوی یہ کبھی برداشت نہیں کر سکتی کہ شوہر کی زندگی میں کسی دوسری عورت کی شراکت داری ہو۔ ماہم جیسی نہ جانے کتنی عورتیں صرف بانجھ پن کے باعث نظرانداز کی جاتی ہیں، یہاں تک کہ انہیں پاگل پن کے دہانے تک پہنچا دیا جاتا ہے۔ کیوں؟ صرف اس لئے کہ وہ اولاد نہیں جن سکتیں، حالانکہ وہ اپنے شوہر سے جنون کی حد تک محبت کرتی ہیں۔ دنیا میں لاکھوں یتیم بچے ہیں جنہیں ماں باپ کی محبت اور پرورش کی ضرورت ہے۔ پھر کیوں نہ کسی عورت کو اذیت دینے کے بجائے ایک یتیم کو گود لیا جائے؟ اس طرح ایک معصوم بچے کو خاندان کا سہارا اور والدین کا پیار ملے گا، اور عورت کو تحفظ اور سکون۔ #sharakat
13:25

Sensitive content

عورت کا بانجھ ہونا اللہ کی طرف سے ہے، لیکن اس کی سزا معاشرہ دیتا ہے۔ شوہر جب اپنی بیوی کے فطری حسد کو گناہ بنا کر اس کی محبت کو نظرانداز کرتا ہے، تو ایک ادھوری عورت کی چاہت جنون میں بدل جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مرد کو چار شادیوں کی اجازت تو دی ہے، مگر ساتھ ہی یہ بھی واضح فرمایا کہ تم ان کے درمیان انصاف نہیں کرسکو گے، اس لئے ایک بیوی ہی کافی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بیوی یہ کبھی برداشت نہیں کر سکتی کہ شوہر کی زندگی میں کسی دوسری عورت کی شراکت داری ہو۔ ماہم جیسی نہ جانے کتنی عورتیں صرف بانجھ پن کے باعث نظرانداز کی جاتی ہیں، یہاں تک کہ انہیں پاگل پن کے دہانے تک پہنچا دیا جاتا ہے۔ کیوں؟ صرف اس لئے کہ وہ اولاد نہیں جن سکتیں، حالانکہ وہ اپنے شوہر سے جنون کی حد تک محبت کرتی ہیں۔ دنیا میں لاکھوں یتیم بچے ہیں جنہیں ماں باپ کی محبت اور پرورش کی ضرورت ہے۔ پھر کیوں نہ کسی عورت کو اذیت دینے کے بجائے ایک یتیم کو گود لیا جائے؟ اس طرح ایک معصوم بچے کو خاندان کا سہارا اور والدین کا پیار ملے گا، اور عورت کو تحفظ اور سکون۔ #sharakat

Najiba Faiz

88,130 Aufrufe • vor 1 Jahr

شوہر کی وفات کے بعد بھائی اور دوست نے پاکستان مخالف سرگرمیوں پر ورغلایا، ایک خاص منصوبے کے تحت نوکنڈی میں دھماکہ کیا۔ سنیں ایک بلوچ خاتون خدیجہ کی کہانی۔ معصوم شہریوں کو دہشت گرد تنظیم بی ایل اے/بی ایل ایف کے ساتھ مل کر قتل کر کے پھر توبہ یاد آگئی۔ نوٹ: باقی دنیا میں جب ایک خاتون بیوہ ہو جاتی ہے تو اللہ کا نام لے کر اچھے راستے پر نکل جاتی ہے، ہمارے ہاں شوہر کی وفات کا بدلہ بھی ریاست اور معصوم شہریوں سے نکالتی ہے۔ اور پھر ہمارے قوم پرست کہتے ہیں کہ بلوچ قوم کے پاس روزگار یا ترقی نہیں، اس لیے دہشت کی راہ پر نکلتے ہیں۔ عجیب ہی کوئی تماشا لگا رکھا ہے، اس خدیجہ نامی خاتون کی معافی بھی قبول نہ کریں اور جیل میں ڈالیں۔ جب ان کا دل کرے معصوم شہریوں کو شہید کرتی ہیں، جب اچھی طرح ان کا دل بھر جائے تو پھر توبہ کے نام پر پریس کانفرنس کرتی ہیں۔ مگر اب بس، عام شہری خون کی بوتلیں نہیں کہ جب ان کا دل کرے خون بہا لیں اور توبہ کریں۔ #Balochistan

Dukhtar-E-Balochistan🇵🇰

10,374 Aufrufe • vor 14 Tagen

الله تعالیٰ میاں عمران ارشد کو مزید ہمت اور حوصلہ عطا فرمائیں کہ وہ معاشرے میں دینی مسئلے کے نام پر پھیلی ہوئی اس قبیح رسم "حلالہ" (دراصل زنا) کے خلاف جہاد کا ارادہ ظاہر کر رہے ہیں (آمین)- یہ انتہائی ضروری ہے کیونکہ "حلالہ" کوئی شرعی اصطلاح نہیں- عرف عام میں حلالہ کا معنی یہ ہے کہ: جب شوہر اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دے تو اس کے بعد اس کی بیوی اس پر حرام ہوجاتی ہے- اب اگر وہ عدت گزارنے کے بعد کسی اور مرد سے نکاح کر لے اور ازدواجی تعلق بھی قائم کرلے، پھر اس کے بعد شوہر کا انتقال ہوجائے یا وہ اتفاقی طور پر طلاق دے دے تو عدت گزارنے کے بعد وہ عورت پہلے شوہر کے لیے حلال ہوجاتی ہے- تاہم اس میں طلاق کی شرط کے ساتھ حلالہ کی غرض سے نکاح کرنا مکروہ تحریمی ہے- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا نکاح کرنے والے اور جس شخص کے لیئے یہ نکاح کیا جائے دونوں کو اللہ تعالی کی رحمت سے دور بتایا ہے- شریعت نے مرد کو تین طلاقوں کا حق دیا تھا تاکہ بوقت ضرورت وہ اپنے حق کو استعمال کرسکے لیکن جب وہ اپنا یہ حق ضائع کردے تو شریعت نے اس کے لیئے یہ سزا مقرر کی ہے کہ وہ اپنی سابقہ بیوی سے نکاح بھی نہیں کرسکتا، جب تک کہ وہ کسی اور شخص سے نکاح کے بعد ازدواجی تعلقات قائم نہ کرلے- جب اس نے شریعت کی نگاہ میں سب سے ناپسندیدہ عمل (تین طلاقوں) کا ارتکاب کیا تو شریعت نے اسے یہ سزا دی کہ اس کی بیوی اب اس پر حرام ہے- نکاح ساتھ نبھانے کیلئے کیا جاتا ہے نہ کہ کچھ وقت بعد چھوڑنے کی شرط کے ساتھ- اور اگر ایسی شرط رکھ دی جائے تو یہ نکاح نہیں بلکہ زنا ہوتا ہے-
2:39

Sensitive content

الله تعالیٰ میاں عمران ارشد کو مزید ہمت اور حوصلہ عطا فرمائیں کہ وہ معاشرے میں دینی مسئلے کے نام پر پھیلی ہوئی اس قبیح رسم "حلالہ" (دراصل زنا) کے خلاف جہاد کا ارادہ ظاہر کر رہے ہیں (آمین)- یہ انتہائی ضروری ہے کیونکہ "حلالہ" کوئی شرعی اصطلاح نہیں- عرف عام میں حلالہ کا معنی یہ ہے کہ: جب شوہر اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دے تو اس کے بعد اس کی بیوی اس پر حرام ہوجاتی ہے- اب اگر وہ عدت گزارنے کے بعد کسی اور مرد سے نکاح کر لے اور ازدواجی تعلق بھی قائم کرلے، پھر اس کے بعد شوہر کا انتقال ہوجائے یا وہ اتفاقی طور پر طلاق دے دے تو عدت گزارنے کے بعد وہ عورت پہلے شوہر کے لیے حلال ہوجاتی ہے- تاہم اس میں طلاق کی شرط کے ساتھ حلالہ کی غرض سے نکاح کرنا مکروہ تحریمی ہے- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا نکاح کرنے والے اور جس شخص کے لیئے یہ نکاح کیا جائے دونوں کو اللہ تعالی کی رحمت سے دور بتایا ہے- شریعت نے مرد کو تین طلاقوں کا حق دیا تھا تاکہ بوقت ضرورت وہ اپنے حق کو استعمال کرسکے لیکن جب وہ اپنا یہ حق ضائع کردے تو شریعت نے اس کے لیئے یہ سزا مقرر کی ہے کہ وہ اپنی سابقہ بیوی سے نکاح بھی نہیں کرسکتا، جب تک کہ وہ کسی اور شخص سے نکاح کے بعد ازدواجی تعلقات قائم نہ کرلے- جب اس نے شریعت کی نگاہ میں سب سے ناپسندیدہ عمل (تین طلاقوں) کا ارتکاب کیا تو شریعت نے اسے یہ سزا دی کہ اس کی بیوی اب اس پر حرام ہے- نکاح ساتھ نبھانے کیلئے کیا جاتا ہے نہ کہ کچھ وقت بعد چھوڑنے کی شرط کے ساتھ- اور اگر ایسی شرط رکھ دی جائے تو یہ نکاح نہیں بلکہ زنا ہوتا ہے-

Amir H. Qureshi

56,551 Aufrufe • vor 18 Tagen