Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

تہجد کے وقت میڈیکل چیک اپ کے نام پر عدالتوں کا بھی مذاق اڑایا گیا اور اس قوم کے سب سے بڑی لیڈر کا بھی مذاق اڑایا گیا عین تہجد کے وقت جب دعاؤں کی قبولیت کا وقت ہوتا ہے عدالتوں کا حکم تھا کہ ان کو شفا ہاسپٹل...

16,306 просмотров • 18 дней назад •via X (Twitter)

Комментарии: 0

Нет доступных комментариев

Здесь появятся комментарии из оригинального поста

Похожие видео

ملک میں جو خود کو ووٹ کو عزت دو کا سب سے بڑا چیمپئن سمجھتا ہے، اس کی حکومت ہے۔ پنجاب میں ان کی بیٹی کی حکومت ہے۔ آج صبح پنجاب میں ہمارا اپوزیشن لیڈر بات کر رہا تھا کہ اس وقت بھی میرے گھر کے سامنے پولیس کھڑی ہے۔ پنجاب میں اگر آپ کا تعلق اپوزیشن سے ہے تو آپ اپنے گھر میں بھی رہائش نہیں رکھ سکتے۔اس وقت نہ کوئی قانون ہے اور نہ ہی آئین، صرف ظلم اور جبر ہے۔ اور جب ظلم حد سے بڑھ جائے تو جہاد لازم ہو جاتا ہے۔ جہاد صرف تلوار اٹھانے کا نام نہیں، جدوجہد سے بھی کیا جاتا ہے، اور یہی جدوجہد ہم پر اس وقت لازم ہے۔عمران خان اس وقت جرأت اور ہمت کے ساتھ اپنا مقدمہ لڑ رہا ہے۔ جب 1992 کا ورلڈ کپ ہو رہا تھا تو وہ ایک کمزور ٹیم تھی، لیکن اللہ نے عمران خان کو عزت دینی تھی۔ پھر جب شوکت خانم ہسپتال بن رہا تھا تو میں خود اس مہم کا حصہ تھا۔ ہم نے پوسٹر لگائے، چندہ اکٹھا کیا۔ ہمیں بھی یہ ناممکن نظر آتا تھا، لیکن اللہ نے عمران خان کے خواب کو پورا کیا۔

Asad Qaiser

15,982 просмотров • 8 месяцев назад

جب ہمیں پمز پہنچایا گیا تو میں نے پوچھا کہ سپریم کورٹ کا آرڈر تو شفا انٹرنیشنل کا تھا ، تو مجھے کہا گیا کہ عمران خان کا فالو اپ چیک اپ ہونا تھا ، اس لیے یہاں لائے، مکمل اندھیرا تھا ، ہمارے پاس موبائل نہیں تھا کیونکہ جیل میں موبائل لے جانے کی اجازت نہیں ہوتی ، پندرہ منٹ گاڑی میں مجھے بٹھائے رکھا ، پھر کہا کہ ڈاکٹر صاحبہ آپ آجائیں، مکمل اندھیرا تھا ، موبائل ٹارچ پر راستہ دکھاتے ہوئے او پی ڈی کے راستے مجھے ایک آفس لے جایا گیا اور وہاں بٹھایا گیا۔ اس کے بعد مجھے اوپر ایک کمرے میں لے گئے ، عمران خان بھی حیران تھے ، عمران خان مجھے ملے پیار کیا اور کہا کہ میں دس ماہ بعد اپنی بہن سے مل رہا ہوں، میں نے عمران خان کو بتایا کہ یہاں فالو اپ چیک اپ کے بعد ہم شفا انٹرنیشنل جائیں گے، وہاں آپ کے مکمل ٹیسٹ ہوں گے ، پھر ہمیں ایک دفتر لے گئے ، جہاں ڈاکٹر عارف نے عمران خان کی آنکھ کا معائنہ کیا ، آفس میں چیک اپ کیا ، آئی ڈراپس کا پوچھا کہ کونسی ڈال رہے ہیں؟ عمران خان نے کہا مجھے نام یاد نہیں، میں نے ڈاکٹرز سے کہا کہ آپ کو نام نہیں معلوم کہ آپ نے کونسے لکھ کے دیے ہیں؟ پریسکپن نہیں ہے آپ کے پاس ؟ ڈاکٹر ایک دوسرے کو دیکھتے رہے ، ڈاکٹر عظمیٰ خان

PTI

187,956 просмотров • 24 дней назад

🚨🚨 بریکینگ نیوز : حامد میر کے تہلکہ خیز انکشافات, اندر کی کہانی بتادی.!!!!🔥🔥🛑🛑🛑 جب محسن نقوی آٹھ دس دن پہلے بیرسٹر گوہر کی والدہ کی وفات پر ان سے تعزیت کیلئے ان کے گھر گئے تھے, تو وہاں پر بیرسٹر گوہر نے محسن نقوی سے یہ بات کی کہ عمران خان کی طبیعت کافی خراب ہے, تو کم از کم انہیں ہاسپٹل شفٹ کیا جائے ۔ تو محسن نقوی نے اس پر کہا کہ ٹھیک ہے, ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے, آپ عدالت کا راستہ اختیار کریں, ۔ عدالت اگر حکم دیدے گی ۔ تو ہم اس پر عمل کرینگے ۔اور پھر اس کے بعد پی ٹی آئی نے عدالت میں پٹیشن دائر کی, اور اس پر عدالت نے فیصلہ بھی دے دیا ۔ اس پر محسن نقوی بیرسٹر گوہر سے پورے رابطے میں تھے ۔ اور جس رات عمران خان کو شفاء کے بجائے پمز لایا گیا تھا, تو اس رات بھی محسن نقوی کا بیرسٹر سے رابطہ تھا ۔اور بیرسٹر گوہر کو آٹھ بجے ہی یہ اطلاع دیدی گئی تھی, کہ عمران خان کو شفاء میں ہی لایا جا رہا ہے ۔ لیکن پھر اس کے بعد مسلم لیگ نون کے ایک گروپ نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ ہماری جو ریویو پٹیشن ہے ۔ اس میں ہم نے کہا ہے کہ عمران خان کو پرائیوٹ ہسپتال نہیں لے جایا جاسکتا ۔ انکو سرکاری ہسپتال میں لے جایا جائے ۔اور پھر شفاء کے باہر کچھ لوگ اکٹھے ہوگئے, جس کو بہانہ بنا کر وہ عمران خان کو پمز لے گئے ۔تو اس پر میرا خیال ہے کہ محسن نقوی کا نام اس لئے شامل نہیں کیا گیا ۔ کیونکہ پی ٹی آئی کی لیڈرشپ یہ سمجھتی ہے کہ محسن نقوی نے ہماری درخواست پر عمران خان کو جیل سے ہاسپٹل لانے کا جو عمل تھا ۔ اس میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی۔ تو ہو سکتا ہے, آئیندہ بھی وہ رکاوٹ نہ ڈالیں تو اس لئے انکا نام توہین عدالت کی درخواست میں نہیں ڈالا گیا ۔ حامد میر 🔥🔥🚨

Anisha KHAN

242,488 просмотров • 22 дней назад

" کسی وقت میں (اسلام آباد ہائیکورٹ میں) یومیہ دائری 50 سے زیادہ نہیں تھی آج ہم اڑھائی سو کے ساتھ کام کر رہے ہیں اس انڈیکیٹر سے ہمیں یہ نظر آتا ہے کہ لوگ کتنا عدالتوں میں آنا چاہتے ہیں " چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کا اسلام آباد ہائیکورٹ میں یوم آزادی تقریب سے خطاب "ہم پاکستان کی ترقی میں اپنا اپنا کردار ادا کرتے ہوئے اپنا سب سے جو مختص کیا گیا کردار ہے وہ غیر جانبداری اور شفافیت کے ساتھ ہر کسی کا حق ان کے گھروں تک پہنچا دینا ہمارا کام ہے اس مقصد کے حصول کے لئے بینچ اور بار ایک ہی نظام کے دو ستون ہیں ایک مضبوط ، باوقار ، آزاد اور مضبوط عدلیہ نظام کے لئے ناگزیر ہیں جب کہ بینچ کی ذمہ داری ہماری شفافیت اور قانون کے مطابق فیصلوں کے ذریعے عوام کے اعتماد کو مزید مضبوط کرنا ہے اس کے لئے میں آپ لوگوں سے یہ بات آج کے موقع پر شئیر کرنا چاہتا ہوں کہ ایک سال پہلے کے بعد آج ہی کے دن دوسری دفعہ آپ سے مخاطب ہوں اس وقت میں اور آج کے وقت میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ آپ کی عدالتوں پر اسلام آباد ہائی کورٹ پر اسلام آباد ڈسٹرکٹ کورٹ پر لوگوں کا اعتماد کیلکولیٹیڈ طریقے سے دیکھیں سے تو آجُ یومیہ دائری اڑھائی سو کے قریب ہے اس کے باوجود کہ ججز ہمارے پاس کم تھے لیکن کسی وقت میں یومیہ دائری 50 سے زیادہ نہیں تھی آج ہم اڑھائی سو کے ساتھ کام کر رہے ہیں اس انڈیکیٹر سے ہمیں یہ نظر آتا ہے کہ لوگ کتنا عدالتوں میں آنا چاہتے ہیں اور کتنا عدالتوں میں ریلیف ملتا ہے جس کی وجہ سے ان کا عدالتوں میں آنا اور مسائل کو لےکر آنا اور ان کے حل کے لئے وہ عدالتوں کا رخ کرتے ہیں "

Saqib Bashir

53,268 просмотров • 28 дней назад

محسن نقوی نے عمران خان کے علاج کے معاملے پر علیمہ خان کی سیاست اور بیرسٹر گوہر کی بیچارگی کو کھول کر رکھ دیا۔۔ 👇👇👇👇👇 ہم نے کہا عمران خان کا چیک اپ کرنا ہے، ساتھ جانے کے لیے آپ اپنے ڈاکٹر کا نام دے دیں جواب میں کہا گیا ڈاکٹر نہیں فیملی کا بندہ لے جائیں، پھر ہمیں قاسم زمان کا نام دیا گیا۔ ہم نے کہا ٹھیک ہے۔ پھر کہا گیا آپ پہلے ایک ہفتے کے لیے عمران خان کو اسپتال منتقل کر دیں تو ہم مانیں گے۔ میں نے جواب دیا ایک نہیں دو ہفتے کے لیے کر عمران خان کو اسپتال بھیج دیں گے اگر ڈاکٹرز کہیں گے تو۔۔ تین روز تک ان کی وجہ سے عمران خان کا چیک اپ ڈیلے ہوا۔۔ ہم نے چیک اپ کے دن بیرسٹر گوہر کو انفارم کیا کہ آپ جیل آ جائیں ڈاکٹرز کے ساتھ آپ اندر چلے جائیں اور خود چیک اپ کے دوران آپ وہاں رہیں،، اڑھائی بجے کا انہیں ٹائم دیا، ایک گھنٹہ اڈیالہ میں انتظار کرتے رہے مگر پھر بیرسٹر گوہر نے جواب دیا کہ پارٹی سے مشاورت ہوئی ہے میں نہیں آ سکتا۔۔ ان کے انکار اور چیک کے اپ کے بعد ہم نے پھر رابطہ کیا کہ قائد حزب اختلاف قومی اسمبلی، قائد حزب اختلاف سینیٹ اور بیرسٹر گوہر تینوں آ جائیں اپنے ڈاکٹرز کو بھِی لے آئیں۔۔ جواب ملا کہ ڈاکٹرز تو لاہور میں ہیں۔ اپوزیشن لیڈر سینیٹ اور بیرسٹر گوہر پمز آئے اور ان کے ڈاکٹرز فون پر تھے، ڈیڑھ گھنتہ بریفنگ ہوئی، ان کے ڈاکٹرز نے کہا بہترین علاج ہو رہا ہے ہم مطمئن ہیں۔ اس موقع پر میں نے پھر کہا کہ اپنے ڈاکٹرز سے پوچھیں کہ کوئی ایسا ٹیسٹ رہ گیا ہے جو آپ کے ڈاکٹرز کروانا چاہئیں ہم تیار ہیں۔۔ اس کے بعد جب سب واپس گئے تو علیمہ خان نے پارٹی کے لوگوں کو کہا اور یہ ہمارے پاس موجود ہے کہ اگر ہم سب کچھ مان گئے تو ایشو ختم ہو جائے گا۔۔ علیمہ خان کی وجہ سے تین دن تک عمران خان کا چیک اپ نہیں ہو سکا، پی ٹی آئی کے سیاسی لیڈر عمران خان کے علاج پر آن بورڈ ہوتے تھے مگر علیمہ خان ہر چیز کو ویٹو کر دیتی تھیں۔ ان کی اپنی نیت میں کھوٹ ہے۔

Mudassar Saeed

23,323 просмотров • 6 месяцев назад

کل رات سے لے کر آج سارا دن حیدر سعید کی والدہ Farzana Saeed اور والد سعید صاحب کے ساتھ تھانوں سے لے کر عدالتوں میں ہر جگہ پتہ کیا لیکن حیدر کا کچھ پتہ نہ چلا اس کی والدہ روتی ہیں اور ان کا ایک ہی سوال ہے کہ میرا بیٹا کہاں ہے بس یہ پتہ چل جائے اس نے کوئی جرم کیا ہے تو عدالت میں پیش کیا جائے بہادر ماں ہے حیدر کی میں اور تابش ایڈووکیٹ ان کی فیملی سے رابطہ میں ہیں میری تمام سوشل میڈیا اور لیڈرشپ سے گزارش ہے کہ ان تمام شوشل میڈیا کے ایکٹوسٹ کے لیے آواز اٹھائیں یہی وقت ہے ایک دوسرے کا ساتھ دینے کا آج اگر آپ خاموش رہے تو کل کوئی بھی حیدر سعید بن سکتا ہے۔۔۔ میں پیچھلے عرصہ حیدر کے ساتھ مسلسل رابطہ رہا اس کو معلوم تھا کہ اس کو اٹھایا جائے گا لیکن وہ گھبرایا نہیں خصوصا جب سے میری ملاقات خان صاحب سے ہوئی اس کے بعد حیدر میرے بہت نزدیک تھا میرے بھائیوں جیسا تھا ہر وقت ایک ہی بات پوچھتا تھا اویس بھائ خان صاحب کو میرا پیغام دینا کہ حیدر سعید اور اس کی فیملی آپ کے لیئے ہر وقت لڑتے رہئں گے اور آج وہ وقت ہے کہ لڑتے لڑتے وہ اغواء ہو گیا اس شخص جس کا نام حیدر سعید ہے اصل میں عمران خان کا عاشق تھا اس کو عمران خان سے عشق تھا ہر وقت قیدیوں کی بیلز سے لے کر ان کے مچلکوں تک کی فکر میں رہتا تھا وہ واقعی ایک بہادر انسان ہے اللہ پاک اس سمیت تمام سوشل میڈیا کے بھائیون کی حفاظت فرمائے آمین۔ آخری ریکوسٹ ہے کہ ایک دوسری کا ساتھ دیں ایک ہو کر ہر کسی کا بازو بنیں اپنے ہر ورکر کا اس طرح خیال رکھیں جیسے ہمارے لیڈر عمران خان اپنے ورکر کا خیال رکھتا ہے ۔۔ میری گزارش ہے کہ حیدر سعید کو عدالت میں پیش کیا جائے کل تک اگر نہ پیش کیا گیا تو ہم صبح حیدر کے لیے پٹیش دائر کریں گے خاموش نہیں بیٹھے گے انشاء اللہ ۔۔ Imran Khan

Ch Awais Younas

47,828 просмотров • 1 год назад

ابھی راشد یوسف صاحب کے اہل خانہ سے ملاقات ہوئی چاروں بیٹیاں اس وقت شدید صدمے کی حالت میں ہیں انہوں نے بتایا کہ اس وقت پولیس اہلکار اور ایف سی کے جوان ان کی گلی کے اطراف موجود ہیں اور آنے جانے والے تمام مہمانوں کی سخت نگرانی اور جانچ پڑتال کی جا رہی ہے انہوں نے کہا کہ یہ کیفیت ان کے لیے ناقابل برداشت اذیت بن چکی ہے اور پولیس ان کے زخموں پر مرہم رکھنے کے بجائے ان پر نمک چھڑک رہی ہے اہل خانہ کے مطابق جب پولیس اہلکار گھر میں داخل ہوئے تو انہوں نے ان کے والد کو گھسیٹ کر حراست میں لیا حالانکہ ان کا پاکستان تحریک انصاف سے کوئی تعلق نہیں تھا اس کے باوجود ان کے والد کو زبردستی پولیس گاڑی میں بٹھایا گیا وہ پورے ہوش و حواس میں تھے اور اہلکاروں کے ساتھ گئے مگر تھانے میں ان پر بدترین تشدد کیا گیا جس کی تاب نہ لا کر وہ جانبر نہ ہو سکے اور جان کی بازی ہار گئے بچیوں نے بتایا کہ پولیس مسلسل ان پر دباؤ ڈال رہی ہے کہ وہ بیان دیں جبکہ وہ کسی بھی قسم کا بیان دینے کی ذہنی حالت میں نہیں ہیں جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا پاکستان تحریک انصاف کا کوئی رہنما ان کے پاس آیا ہے تو انہوں نے بتایا کہ چند کارکن ضرور آئے ہیں مگر ابھی تک پارٹی کا کوئی ذمہ دار رہنما نہیں پہنچا یہ ستم ظریفی نہیں تو اور کیا ہے کہ معصوم بچیاں یتیم ہو چکی ہیں اور اسی حالت میں ان پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے اہل خانہ نے بتایا کہ والد کی تدفین کا مرحلہ مکمل کر لیا گیا ہے اور انہیں سپرد خاک کر دیا گیا ہے مگر پولیس نے اس خبر کو بھی دبانے کی کوشش کی ہے اس وقت بچیاں شدید ذہنی دباؤ اور خوف میں مبتلا ہیں تحریک تحفظ آئین اس وقت لاہور میں موجود ہے اور اخلاقی طور پر سب سے پہلے ان یتیم بچیوں کے پاس جانا اور ان کے غم میں شریک ہونا لازم ہے جو اس وقت ایک ظالم ریاست کی بھینٹ چڑھ چکی ہیں اللہ تعالیٰ ان بچیوں کو صبر عطا فرمائے اور ہم سب پر فرض ہے کہ اس کڑے وقت میں ان کے ساتھ کھڑے ہوں

Agha Sheikh Sarwar

32,070 просмотров • 8 месяцев назад

ہمیں عدالت اور سپریم کورٹ کے احکامات کے مطابق آزاد اور غیر جانب دار طریقے سے چیک اپ کروانے کی اجازت کیوں نہیں دی جا رہی؟ بلڈ پریشر بھی انہوں نے مینول طریقے سے چیک کیا۔ اب یہ مینول طریقہ کیا تھا اور اس میں کیا ریڈنگ آئی، ہمیں کیا پتا؟ ہمیں صرف یہ بتایا جاتا ہے کہ بلڈ پریشر چیک کیا گیا، لیکن کس طریقے سے ڈاکٹر نے کیا سنا، کیا ریکارڈ کیا اور کیا نتیجہ نکالا، ہمیں اس کی مکمل معلومات نہیں دی جاتیں۔ مینول طریقے میں بلڈ پریشر ہاتھ سے چیک کیا جاتا ہے اور ڈاکٹر اپنے آلہ سماعت کے ذریعے ریڈنگ لیتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ہمیں اس عمل کی تفصیلات کیوں نہیں بتائی جا رہیں اور مکمل میڈیکل معلومات کیوں فراہم نہیں کی جا رہیں؟ جیل سے جو رپورٹ یا معلومات سامنے آئی ہیں، ان کے مطابق ایک موقع پر عمران خان کا بلڈ پریشر 145/100 بتایا گیا۔ لیکن ہمیں یہ بھی نہیں بتایا جا رہا کہ یہ ریڈنگ کس وقت لی گئی، کس حالت میں لی گئی اور اس کے بعد کیا اقدامات کیے گئے۔ ہمیں ان چیزوں کے بارے میں مکمل معلومات ہی نہیں دی جا رہیں۔ ڈاکٹر عظمیٰ خان Dr Uzma Khan #عمران_خان_پر_ظلم_بند_کرو

PTI

19,870 просмотров • 12 дней назад

اللہ نے ہماری زندگی کے ایام ہماری ارواح کو پیدا کرتے ہوئے مقرر کر دیے ہیں ۔ قبر میں جو رات آنی ہے اس کو کوئی نہ گھٹا سکتا ہے نہ بڑھا سکتا ہے۔ ہم عمر کے اس دور میں ہیں اب ہمارا اس قوم کو دینے کا وقت ہے . اس قوم کے آنے والے بچوں کے مستقبل کو بنانے کا وقت ہے ۔ کوئی یہ سمجھے کہ ڈر ، جان کا ڈر ، مال کا ڈر ، عزت کا ڈر ۔ میں بار بار کہتا ہوں کہ اگر مرنا ہی ہے تو اس قاز کے لیے مر جائیں مر رہے ہیں تو کیوں نہ پاکستان کے لیے مر جائیں ۔ زیادہ سے زیادہ مار سکتے ہیں ۔کتنو کو مارا ہمیں بھی مار دیں ۔ لیکن خدا کی قسم اس وقت تک آرام سے نہیں بیٹھیں گے جب تک پاکستان میں قانون کا بول بالا نہ ہو۔ جب تک پاکستان میں عدالتوں کی حکمرانی نہ ہو ۔ جب تک پاکستان میں پاکستانی کو سماجی انصاف نہ ملے۔ پاکستانی کو معاشی انصاف نہ ملے اور پاکستانیوں کے گھر میں گھسنے والا ، پاکستانی کے اوپر ڈنڈے برسانے والا ، ٹیر گیس چھوڑنے والا ۔ ان تمام لوگوں کو ہم کیفر کردار تک نہ پہنچائے ۔

Sher Afzal Khan Marwat

121,044 просмотров • 2 лет назад

عمران خان کے صحت کے حوالے سے جو رپورٹ آئی ہے اس پر پوری قوم کو تشویشِ ہے اور ہماری تشویش تب ختم ہوگی جب عمران خان کو ان کی فیملی اور ذاتی معالجین کے روبرو بہترین ہسپتال میں شفٹ کیا جائے گا۔ کل چونکہ کیس لگا ہوا ہے تو ہماری عدالت سے یہ التجا، درخواست اور ڈیمانڈ ہے کہ عمران خان کو انصاف دیا جائے۔ ہم صرف انصاف چاہتے ہیں اور میرٹ پر۔ آپ کو یاد ہوگا جب نواز شریف جیل میں تھے اور بیمار تھے تو ہماری حکومت نے ان کو ہسپتال منتقل کیا، ان کو پوری سہولت دی۔ جتنی دیر وہ ہسپتال میں رہے، ہم نے اس میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی۔ پھر اس کے بعد ان کا جو پلیٹ لیٹس کا مسئلہ آیا تو ایک رپورٹ آئی، آپ کو پتا ہے اس کی کیا پوزیشن تھی، لیکن اس کی بنیاد پر ڈاکٹر یاسمین راشد کی سفارش پر، جو خود اس وقت بیمار اور جیل میں ہیں اور کینسر سے سروائیور ہیں، ان کی رپورٹ پر حکومت نے فیصلہ کیا کہ اگر عدالت فیصلہ کرتی ہے تو حکومت اس میں کوئی رکاوٹ نہیں بنے گی۔ اس وقت تو بدترین انسانی حقوق کی پامالی ہو رہی ہے۔ ہمارا مطالبہ تو یہ ہے کہ عمران خان کے جتنے بھی کیسز ہیں، ان میں انصاف کیا جائے۔

Asad Qaiser

12,344 просмотров • 27 дней назад

دنیا میں ہمیشہ دو طبقے رہے ہیں: ایک ظالم اور دوسرا مظلوم۔ ہم ہر مظلوم کے حامی اور ہر ظالم کے خلاف ہیں۔ مولا علی علیہ السلام کا فرمان ہے کہ ہمیشہ ظالم کے خلاف کھڑے ہو اور مظلوم کے مددگار بنو۔ آج جب دنیا کے تمام ظالم ایک ہو چکے ہیں، تو ہمیں بھی چاہیے کہ ہم سب مظلوم متحد ہوں اور اپنی جدوجہد کو منظم کریں۔ میں آپ کے سامنے ہوں،میرے کئی ساتھی اور دوست گزشتہ دس سال سے لاپتہ ہیں۔ اس لاقانونیت اور ظلم کے خلاف ہمیں مل کر آواز بلند کرنی ہوگی۔ پنجاب سمیت پاکستان بھر کے عوام اپنے بلوچ بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور ان کے دکھ درد کو محسوس کرتے ہیں۔ بلوچستان کے عوام غیرت مند، باشعور اور بہادر ہیں، اور وہ اپنے حقوق کے لیے پرامن جدوجہد کر رہے ہیں۔ بدقسمتی سے ہم پر ایسے عناصر کو مسلط کر دیا گیا ہے جو ظلم و جبر کے ذریعے عوام کے حقوق سلب کر رہے ہیں۔ ان بے بصیرت کرپٹ وطن دشمن حکمرانوں نے ماضی کے سانحات، خصوصاً مشرقی پاکستان کے المیے سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔ ماہ رنگ بلوچ ہماری قوم کی بیٹی ہے، اور کوئی بھی غیرت مند معاشرہ اپنی بیٹیوں کے ساتھ ایسا سلوک برداشت نہیں کرتا۔ اسلام آباد میں بلوچ بیٹیوں کے ساتھ جو ظلم ہوا، ہم نے اس وقت بھی اس کی مذمت کی، دھرنے میں جا کر ان کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا اور ان کے سروں پر چادر رکھی۔ ہم آپ کے درد کو محسوس کرتے ہیں، کیونکہ اس وقت پورے پاکستان کے عوام ظلم کا شکار ہیں۔ اب وقت آ چکا ہے کہ وطن عزیز کی بقا کے لیے ہم سب مظلوم ایک ہو جائیں اور ان وطن دشمنوں کا مقابلہ کریں۔ بلوچستان کی ہماری مائیں، بہنیں اور بیٹیاں پورے پاکستان کے لیے ایک مثال ہیں۔ ہمیں اپنے حقوق کے لیے گھروں سے نکلنا ہوگا، ورنہ یہ ظالم باقی ماندہ پاکستان کو بھی برباد کر دیں گے۔ ہمیں اپنے ملک کو بچانا ہے اور ان ظالموں کو روکنا ہے۔ اور اے ظالمو! سن لو، جب کسی تحریک میں خواتین شامل ہو جائیں، تو اسے دنیا کی کوئی طاقت شکست نہیں دے سکتی۔ ہمیں متحد رہنا ہے، کیونکہ بلوچستان پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے اور اس کے عوام کا اس پر سب سے زیادہ حق ہے۔ ان شاء اللہ تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان ان ظالموں کو روکے گی اور وطن عزیز کو امن و انصاف کا گہوارہ بنائے گی۔ (بلوچستان ۔مستونگ،لکپاس میں بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کے زیر اہتمام جاری دھرنے سے خطاب)

Senator Allama Raja Nasir

21,963 просмотров • 1 год назад

سوات میں PPP کے ایک سیاستدان نے جب دیکھا کہ PPP بہت زیادہ پرو اسٹبلشمنٹ ہو گئی ہے تو اس نے PPP چھوڑ دی اور دسمبر 2023 میں PTI میں شمولیت اختیار کر لی اور PTI کی سیٹ پر الیکشن جیت کر پارلیمنٹ میں آ گئے انہیں نیشنل ہیلتھ کی کمیٹی میں رکھا گیا اس نوجوان کا نام ڈاکٹر امجد ہے انہوں نے جب دیکھا کہ اسلام آباد کے میڈیکل کالجز بغیر لائسنس اور اپرول کے کام کر رہے تھے انہوں نے ان کالجز کو ریگولیٹ کرنا کا سوچا جب انہوں نے ریگولیٹر اتھارٹی سے رابط کیا تو پتا چلا جو اس ریگولیٹر اتھارٹی کا سربراہ ہے اس کا اپنا میڈیکل کالج ہے پھر ڈاکٹر امجد کو سوات سے اسٹبلشمنٹ کے افسر کا فون آ گیا اور کہا آپ اس کام کو چھوڑیں یہ ہمارے بندے ہیں لیکن ڈاکٹر امجد نہ مانے ریگولیٹر اتھارٹی کے بندے کا اسٹبلشمنٹ سے اچھا تعلق تھا اب ڈاکٹر امجد کو سانحہ نو مئی میں ملوث کر کے نام ECL میں ڈال دیا گیا حالانکہ سانحہ نو مئی کے وقت ڈاکٹر امجد PPP میں تھے انہوں نے سوچا ان کے پاس ثبوت ہیں یہ کیس عدالت سے اُڑ جاۓ ان کا نام ECL میں تو تھا ہی اب ان کا نام پاسپورٹ کنٹرول اتھارٹی میں بھی ڈال دیا گیا ہے اعزاز سید

Waqar khan

207,908 просмотров • 7 месяцев назад