Loading video...

Video Failed to Load

Go Home

,🛑تیجوانا، میکسیکو میں خلا سے زمینی کرۂ ہوا میں داخل ہوتے ہوئے میٹیور کا حیرت انگیز منظر ریکارڈ کر لیا گیا! 😮 میٹیور وہ اجرام فلکی ہیں جو دومکیت، کشودرگرہ یا میٹیورائڈ کا حصہ ہوتے ہیں۔یہ دراصل چھوٹے خلائی ذرے زمینی ماحول سے گزرنے کے دوران قائم رہتے ہیں...

31,531 views • 2 years ago •via X (Twitter)

0 Comments

No comments available

Comments from the original post will appear here

Related Videos

زہری گیٹ کی موجودہ منظر نگاری یہ بتلاتی ہے کہ قوتیں مادی طور پر قابض ہو سکتی ہیں لقمۂ قوت بن کر گھر و مال مسلط کر سکتی ہیں، جان و مال کو خطرے میں ڈال سکتی ہیں اور ہماری نجی حدود کی حرمت پامال کر سکتی ہیں۔ مگر وہ ایک کمزور مفروضے میں یقین رکھتے ہیں یہ سمجھ کر کہ اگر چادر اتار دی گئی، اگر قبور بے آبرو کی گئیں تو یادیں ختم ہو جائیں گی۔ تاریخ اس مفروضے کو رد کرتی ہے۔ نظریہ جب دبایا جاتا ہے تو وہ زیرِ زمین سرایت کرتا ہے، لیکن موت کا شکار نہیں ہوتا وہ نئی نسلوں کے دلوں میں بیج کی مانند پروان چڑھتا ہے۔ اگر تمہیں تسلی اسی میں ملی کہ زمینی نشان مٹائیں، تو بہر حال جان لو کہ ہر پامال یاد ایک نئی شعلہ بن کر ابھرتی ہے۔ تم برطانیہ سے زیادہ طاقتور نہیں زمانۂ استعمار کی مثال سامنے ہے جس نے جس زمین پر حکومت کی وہی زمین ایک دن ان کے لیے تنگ ہو گئی۔ تم بھی تاریخ کے اسی آئینے میں اپنی شکست دیکھو گے جسم پر قبضہ ممکن ہے مگر ایک قوم کے شعور، اس کے نظریے اور اخلاقی عزم پر قبضے کا امکان نہیں۔

Aroosa Baloch /Zamur Azad

14,346 views • 11 months ago

یہاں سے ثابت ہوتا ہے کہ جی عادل راجہ کے ذرائع کتنے سچے ہیں اور باوثوق ہیں صرف جھوٹ کا پلندہ ہے یہ شخص بھائی سب سے پہلے یہ تو بتائیے کہ کونسی اعلی قیادت کل سے ہسپتال عیادت کے لیے آئی یا فیملی کے پاس آئی ہو ؟ نام ضرور بتانا بھاگنا نہیں اب دوسرا یہ تھا وہ شاہانہ بند نما کمرہ جس میں صنم کو وارڈ میں علاج کے بعد شفٹ کیا گیا کبھی اس کی لائٹ بند تو کبھی پنکھا بند اور یہ ہے شاہانہ انداز میں ان کی فیملی کی ان سے پر سکون ملاقات ماں کیسے چیخ رہی ہے کسے چلارہی ہے کیوں کہ اس کی بیٹی کے دائیں ہاتھ سے شاہانہ انداز میں بہت خون بہہ رہا تھا اس واقعہ کے بعد ایم ایس صاحبہ اوپر آئی صنم کے ہاتھ پر مرہم کی اور جب باہر نکلی تو صنم کی والدہ نے درخواست کی کہ اس کو اپ وارڈ میں ہی شفٹ کردے کم از کم ادھر گرمی تو نہیں ہے لیکن انہوں نے صاف انکار کردیا اور کہا یہ اپ کا لیگل مسئلہ ہے ہم اس میں نہیں پڑے گے تم جیسے لوگ چند ویوز اور ڈالروں کے عوض اگلے کی ساری تکالیف اور قربانیوں کو متنازعہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں کچھ شرم کرو اور شاباش اس غیرت مند قیادت کا نام بتانا جو کل اس شاہانہ جگہ پر آیا ہو ؟ لازمی

Saad dogar

102,646 views • 4 months ago

"خون کی فطرت میں جم جانا ہے ' دھلنا نہی " آج سٹوڈنٹس میں سکالر شپ کی تقسیم کی اس تقریب میں چشم تخیل کی طاقت سے میں بھی موجود تھا - جب مریم نواز صاحبہ Maryam Nawaz Sharif نے یہ والا بھاشن شروع کیا تو میں نے ہاتھ کھڑا کیا اور پوچھا کہ " میڈم ! طلباء کو بھی شوق نہیں ہے کہ وہ یونیورسٹی کی جگہ ڈی چوک میں احتجاج کیلئے جائیں لیکن جب ان کا ووٹ چوری کرنے والا جیل کی بجاے سی ایم ہاؤس پہنچ جاتا ہے ' اس چوری کو روکنے کیلئے زمہ دار الیکشن کمیشن خود ہی سہولت کار بن جاتا ہے ' اس چوری پر بازپرس کرنے والی عدلیہ خود بیکار بن جاتی ہے ' اس چوری کو آشکار کرنے والا میڈیا خود ساہوکار بن جاتا ہے ' اس پر آواز اٹھانے والا صحافی ' سٹوڈنٹ اور ایکٹوسٹ مغوی اور پاسبان ہی اس کا اغواکار بن جاتا ہے ' --- تو پھر طلباء کو اپنے حق کی اس چوری پر جواب مانگنے کیلئے خود ہی یونیورسٹی چھوڑ کر ڈی چوک میں بھی بیٹھنا پڑتا ہے- آپ کا بیٹا جنید اس لئے آرام سے گریجویٹ کرگیا کیوں کہ وہ سارق (چور ) کا بیٹا تھا ' مسروق کا نہیں---اگر طلباء یونیورسٹی میں اچھے لگتے ہیں ڈی چوک پر نہیں ' تو طلباء کے حق کی چوری کرنے والے جیل میں اچھے لگتے ہیں ' سی ایم ہاؤس میں نہیں " - یہ سٹوڈنٹس وہاں موجود پنجاب پولیس کے جلادوں کے ہاتھ مجبور ہونگے ورنہ بہت سے نوجوان ذہنوں میں یہ بھاشن سن کر یہی سوال ابھرے ہونگے جو میں نے پوچھے - اس ملک کی قسمت چیک کریں کہ پہلے جن لوگوں کا حق کھایا جاتا ہے اور پھر انہی کے سامنے کھڑا ہو کر بھاشن بھی دیا جاتا ہے - سی ایم صاحبہ کے لہجے میں جو اعتماد ہے وہ ایسے ہی نہیں آتا - ڈھٹائی اور بےشرمی کی نجانے کتنی بوتلیں لگوانی پڑتی ہیں ' معصوموں کے خون کے کتنے پیالے پینے پڑتے ہیں ' تب جاکر لہجے میں یہ والا اعتماد آتا ہے کہ آپ مسروق (جس کی چوری ہوئی ہو ) کے سامنے اس کو منع کریں کہ پڑھائی پر توجہ دو اور اپنے سامان مسروقہ کی برآمدگی کا مطالبہ نہ کرو - پچھلی کچھ تقریروں میں جتنا گند اور غلاظت مریم نے اسلام آباد احتجاج کے شرکا کے خلاف اگلا ہے اس سے ایسا لگتا ہے کہ "پٹھان " ہونا اس ملک میں جرم ہی بن گیا ہے اور کی پی کے ڈیورنڈ لائن کے اسطرف واقع ہے - اس ملک کی دوتہائی سے زائد آبادی تیس سال سے نیچے کے نوجوان ہیں جس میں سے اکثریت جس کو سپورٹ کرتی ہے آپ اس کو "دہشت گرد اور انتشاری" کہتی ہیں - آج وہ بیشک آپ کے پریشر اور آپ کے زہر کے خوف سے آپ کے سامنے تالیاں بجائیں ' لیکن یہی وہ یوتھ ہے جو آپ کو اور آپ کے سہولت کاروں کو اپنے حق انتخاب اور آج ملک میں جاری فسطائیئت کا زمہ دار سمجھتی ہے - آپ کیلئے اس یوتھ کی یہ تالیاں منہ پر ہویے اسی رنگ روغن کی طرح ہیں جو پانی کا ایک چھینٹا پڑتے ہی جب اترتا ہے تو اندر سے زہر سے بھرا ہوا نفرت انگیز چہرہ سامنے آتا ہے - اس تقریر میں نہ چاہتے ہویے بھی مریم کے منہ سے یہ نکل ہی گیا کہ "اسلام آباد میں نہتے لوگ ..." . پھر خود کو ٹوکا اور بولا "نہتے پولیس والے " اگر ایک- کے 47 اور سنایپرگنوں سے لیس وہ پولیس والے ' رینجرز اور فوجی نہتے تھے تو پھر مریم کی نظر میں اسلحہ سے لیس اسی پولیس افسر کو کہا جائیگا جو نیوکلیر بمب کی ڈیوائس اور آر ڈی ایس کی جیکٹ ساتھ لے کر گھوم رہا ہو - خون میں قدرت نے ایک خاصیت رکھی ہے - یہ جب بہتا ہے تو جم جاتا ہے اور اس کے نشان نہیں جاتے کیوں کہ اس کی فطرت میں جمنا ہے ' دھلنا نہیں - اس حکومت اور اس کی سہولت کار ریاست کے چہرے پر بھی یہ خون اب جم گیا ہے جو بچوں کو یوں لارا لپا لگانے اور "میں پنجاب کی ماں " والی کہانیاں سنانے سے نہیں دھلے گا اور بار بار پوچھتا رہیگا کہ #گولی_کیوں_چلائی ؟ #IslamabadMassacre --------------------------------------------------------- Moeed Pirzada Imran Afzal Raja

Dr Waqas Nawaz

12,319 views • 1 year ago

#انقلابی_ڈر_گئے معاشرے کی گندگی کو ہائی لائٹ کرنا بھی ایک جہاد ہے :::::::: تصویر میں نظر انے والے ہجڑے کا نام حنین باجوا ہے اس کا تعلق لاہور سے ہے اور ڈرگ مافیا اور پاکستان کی ہم جنس پرست کمیونٹی جو اس وقت دن بدن پھیلتی جا رہی ہے اس کو سپورٹ کرتا ہوں یہ اس وقت پاکستان کے ٹاپ کے لڑکیوں کے سپلائر میں اس کا نام اتا ہے یہ سرکاری افسران سیاستدان بزنس مینوں کو لڑکیاں سپلائی کرتا ہے اب یہ کرتا کیا ہے کہ چھوٹے چھوٹے گاؤں اور شہروں سے انے والی لڑکیاں جو لاہور میں نوکری کے لیے اتی ہے ان کو اس نے دکھا کر ان کو جسم فروشی پر لگا دیتا ہے ماڈرن کپڑے پہنا کر صاف ستھرا کر کے لڑکیوں کو 20 25 ہزار میکسیمم 30 ہزار دیتا ہے اور خود دو دو ڈھائی ڈھائی لاکھ پکڑتا ہے تصویر میں نظر انے والی لڑکی کا تعلق بھی اوکاڑہ سے ہے یہ انپڑھ اور پینڈو لڑکی ہے لاہور میں ماڈل بننے ائی تھی ماڈل بن نہیں سکی بے شرم ہجڑے کے ہاتھ لگ گئی باقی رزلٹ اپ کے سامنے اس جیسے بے شمار درندے بڑے بڑے شہروں میں بیٹھے ہیں جو چھوٹے شہروں سے انے والی لڑکیوں کو لیبل لگا دیتے ہیں اور سب سے جو خطرناک کام ہے اب یہ ویڈیوز اپ کو سوشل میڈیا پر عام مل جاتی ہے جو پہلے کبھی نہیں ملتی تھی کیونکہ ہمارے ادارے ان کے خلاف ایکشن نہیں لیتے وہ بھی ان کی گنگا میں اپنے ہاتھ دھوتے ہیں الٹا ان کی نشاندہی کرنے والے پھنس جاتے ہیں #یوتھئیے_کیلا_کھا_گئے #Islamabad
0:13

Sensitive content

#انقلابی_ڈر_گئے معاشرے کی گندگی کو ہائی لائٹ کرنا بھی ایک جہاد ہے :::::::: تصویر میں نظر انے والے ہجڑے کا نام حنین باجوا ہے اس کا تعلق لاہور سے ہے اور ڈرگ مافیا اور پاکستان کی ہم جنس پرست کمیونٹی جو اس وقت دن بدن پھیلتی جا رہی ہے اس کو سپورٹ کرتا ہوں یہ اس وقت پاکستان کے ٹاپ کے لڑکیوں کے سپلائر میں اس کا نام اتا ہے یہ سرکاری افسران سیاستدان بزنس مینوں کو لڑکیاں سپلائی کرتا ہے اب یہ کرتا کیا ہے کہ چھوٹے چھوٹے گاؤں اور شہروں سے انے والی لڑکیاں جو لاہور میں نوکری کے لیے اتی ہے ان کو اس نے دکھا کر ان کو جسم فروشی پر لگا دیتا ہے ماڈرن کپڑے پہنا کر صاف ستھرا کر کے لڑکیوں کو 20 25 ہزار میکسیمم 30 ہزار دیتا ہے اور خود دو دو ڈھائی ڈھائی لاکھ پکڑتا ہے تصویر میں نظر انے والی لڑکی کا تعلق بھی اوکاڑہ سے ہے یہ انپڑھ اور پینڈو لڑکی ہے لاہور میں ماڈل بننے ائی تھی ماڈل بن نہیں سکی بے شرم ہجڑے کے ہاتھ لگ گئی باقی رزلٹ اپ کے سامنے اس جیسے بے شمار درندے بڑے بڑے شہروں میں بیٹھے ہیں جو چھوٹے شہروں سے انے والی لڑکیوں کو لیبل لگا دیتے ہیں اور سب سے جو خطرناک کام ہے اب یہ ویڈیوز اپ کو سوشل میڈیا پر عام مل جاتی ہے جو پہلے کبھی نہیں ملتی تھی کیونکہ ہمارے ادارے ان کے خلاف ایکشن نہیں لیتے وہ بھی ان کی گنگا میں اپنے ہاتھ دھوتے ہیں الٹا ان کی نشاندہی کرنے والے پھنس جاتے ہیں #یوتھئیے_کیلا_کھا_گئے #Islamabad

Khurram Khan

62,829 views • 27 days ago

سوشل میڈیا: نئی نسل کا دوست یا دشمن؟ سویڈن نے سکولوں میں سکرین اور ڈیجیٹل طریقہ تعلیم پر پابندی لگا کر دوبارہ سے روایتی طریقہ تعلیم کو فروغ دیا ہے اس وقت دنیا بھر میں بالخصوص ترقی یافتہ ممالک میں سوشل میڈیا کے اثرات زیر بحث ہے کئی ممالک نے سولہ سال تک کے بچوں کو سوشل میڈیا تک رسائی ختم کر دی ہے کئی ممالک نے ختم نہیں کی محدود کر دی ہے تاہم ایک بات پر اتفاق ہے کہ سوشل میڈیا لوگوں کو کند ذہن بنا رہا ہے کیونکہ یہ انکو دماغی لحاظ سے سہل پسند اور غیر تنقیدی بنا رہا ہے اسکے سبب ذہنی یکسوئی ختم ہوتی جا رہی ہے صارفین کا کسی بھی نقطے پر سوچ کو مرتکز کرنا چند سیکنڈ تک محدود ہو گیا ہے اور یہ بحران بچوں کے معاملے میں اور خطرناک ثابت ہوتا ہے کیونکہ یہ انکی دماغی اور جسمانی نشوونما کی عمر ہوتی ہے وہ ذہنی طور پر پسماندہ ہو رہے ہیں کھیل کود کی بجائے سکرین پر زیادہ ٹائم گزار رہے ہیں جس سے وہ کئی ذہنی امراض کا شکار ہو رہے ہیں اور اسکے ساتھ ساتھ ان میں بین الشخصی تعلق بنانے کی صلاحیت متاثر ہو رہی ہے وہ ایک دوسرے سے بات کرنے کی بجائے سوشل میڈیا میں مصروف رہنے کو ترجیح دیتے ہیں ان میں emotional intelligence کا فقدان ہے سوال یہ ہے کہ آیا پاکستان میں اس بارے سوچ بچار پائی جاتی ہے جواب بدقسمتی سے نفی میں ہے حکومت تو دور کی بات والدین کو بھی اس بارے زیادہ آگاہی نہیں بلکہ وہ فون کو کھلونے کا درجہ دیتے ہیں کہ بچے کے ہاتھ میں دے دیں وہ اس فون پر لگا رہے اور یہ اپنے فون پر

Umar Cheema

13,621 views • 5 months ago

یہ ویڈیو کوئٹہ تفتان شاہراہ پر مل کے مقام پر سیکورٹی فورسز اور مسلح افراد کے درمیان جھڑپ کی بتائی جا رہی ہے جہاں سوشل میڈیا پر ویڈیو شیئر کرنے والے مسافر کے مطابق شاہراہ پر موجود مسلح افراد نے سیکورٹی فورسز کی آنے والی گاڑیوں پر چار بم دھماکے کیے ہیں اور دونوں طرف سے شدید فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے، اس ویڈیو میں سب سے بڑا اور واضح انکشاف یہ ہے کہ سیکورٹی فورسز کے ساتھ سادہ لباس میں مسلح افراد موجود ہیں جو مکمل ملٹری ٹریننگ کے مطابق پرون پوزیشن میں لڑ رہے ہیں، یہی وہ تربیت یافتہ ایجنٹس ہیں جو جب کسی جھڑپ میں مارے جاتے ہیں تو ریاست، میڈیا اور سیکورٹی ادارے انہیں مزدور، ملنگ، قوال، نہتے مسافر، بے گناہ شہری، نائی یا ٹھیکیدار قرار دے کر ان کے مسلح وجود سے مکمل انکار کر دیتے ہیں، یہ منافقانہ اور جعلی بیانیہ کب تک چلے گا کہ جب یہ لوگ سیکورٹی کے ساتھ مل کر لڑ رہے ہوں تو ان کی فوجی تربیت کا ذکر نہیں کیا جاتا اور جب انہیں نشانہ بنایا جائے تو انہیں فوراً بے گناہ شہری بنا دیا جاتا ہے، حقیقت اب اس ویڈیو میں خود دیکھ لیں۔

Zorakh Baloch

24,709 views • 3 months ago

سانحہ ڈی چوک 26 نومبر سے لاپتہ ہونے والے ،محمد راشد ولد شبیر، جو صادقہ آباد کی ایک کالونی کے رہائشی تھے، 26 نومبر کے بعد سے لاپتہ تھے ۔ ان کے گھر والوں کو ایک نا معلوم نمبر سے کال موصول ہوتی ہے، اور پولیس کی طرف سے بتایا جاتا ہے کہ ان کے لخت جگر کی موت ایک کار حادثے میں ہو گئی ہے۔ جب وُرثاء ہسپتال پوہنچتے ہیں، تو میت سَرد خانے سے نکال کے دیکھائی جاتی ہے۔ میت پر گولی کے واضح نشان تھے، جیسے کے وڈیو میں بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔ اس قدر ظلم و جبر، زیادتی، لاشیں تک چُھپا دی گئی؟ حق کے لیے نکلنے والوں کو سِر عام مار کر ان کی لاشوں سے بھی ان کے اہل خانہ کو محروم کر دینا، یہ نا کبھی سُنا تھا نا ہوا ہے ہماری معاشرہ اس قدر تنزلی اور degradation کا شکار ہو چکا ہے۔ 26 نومبر کے بعد سے، ہمارے بہت سے کارکن مسنگ ہیں ہمیں اور ان کے بارے میں بہت سیریس خدشات ہیں۔ سَرد خانے میں اور لاشیں ہونے کی بھی خبریں ہیں۔ حکومت کو اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہوش کے ناخن لینے چاہیے ملک کو کس نہج پہ پوہنچا دیا گیا ہے؟ یاد رکھیے وقت سدا ایک سا نہیں رہتا اج اگر یہ ہمارے ورکرز ہیں تو کل اپ کے بھی ہو سکتے ہیں۔

Sher Afzal Khan Marwat

31,934 views • 1 year ago

کبھی کبھی منظر آنکھوں سے نہیں، سیدھا دل پر نقش ہو جاتا ہے۔ آج اڈیالہ کے باہر ان تینوں بہنوں کو پریشان دیکھ کر جو کیفیت بنی، وہ لفظوں میں بیان کرنا آسان نہیں۔ چہروں پر تھکن، آنکھوں میں انتظار، اور دل میں ایک ہی دعا… کہ سب خیر ہو جائے۔ ڈھائی ماہ کوئی چھوٹا عرصہ نہیں ہوتا۔ ہر دن ایک سال جیسا لگتا ہے جب کوئی اپنا کوئی دور ہو۔ ایسے لمحوں میں سیاست، بحث یا اختلاف کی گنجائش نہیں رہتی بس انسانیت رہ جاتی ہے۔ دکھ سب کا ایک جیسا ہوتا ہے، آنسو سب کے ایک جیسے ہوتے ہیں، اور انتظار سب کو ایک سا تڑپاتا ہے لیکن جس کا اپنا بھائی ، بیٹا ، والد یا والدہ جس مشکل سے گزر رہے ہوں اس کی تکلیف صرف اسی کا خاندان محسوس کر رہا ہوتا ہے اور یہ ہم نے 9 مئی کے بعد ہر احتجاج میں گرفتار بے گناہ متاثرہ خاندانوں کو اپنی انکھوں سے یہ تکلیف برداشت کرتے ہوئے دیکھا ہے۔۔ اللہ سب کے دلوں کو سکون دے اور آسانی پیدا کرے اور عمران خان سمیت تمام بے گناہ قیدیوں کے لیے آسانیاں پیدا فرمائے آمین

Ch Awais Younas

12,602 views • 7 months ago