Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

تیر ٹیڑھا ہو گیا ہے پھٹ گئی کب کی پتنگ کھال اوڑھے شیر کی گھومیں گدھا لومڑ کے سنگ داڑھیوں میں اب نہیں تنکا وہاں تو بانس ہے اسلحہ ہے پاس لیکن پھر بھی اکھڑی سانس ہے خوف کا عالم یہ ہے کہ سب کو چڑھ جائے بخار بھول...

389,069 просмотров • 2 лет назад •via X (Twitter)

Комментарии: 4

Фото профиля Fari
Fari2 лет назад

بہت اعلٰی

Фото профиля SSS
SSS2 лет назад

Kamaaal #ImranKhanFightingForPakistan #ووٹ_ڈالو_خان_نکالو

Фото профиля Lubna Arzoo
Lubna Arzoo2 лет назад

@ImranARaja1 #قیدی_نمبر_804 #ظلم_کا_بدلہ_ووٹ_سے

Фото профиля Noman
Noman2 лет назад

Youthie, tomorrow u will b crying, no vote for traitor PTI

Похожие видео

دنیا میں کسی کے لیے، چاہے اس نے سینکڑوں قتل کیے ہوں، چاہے وہ دنیا کا سب سے بڑا اسمگلر ہو، چاہے اس نے دنیا کی بدکاریاں کی ہوں، آج تک کسی کے لیے یہ نہیں ہوا کہ اس کے گھر والوں سے ملاقات پر پابندی ہو۔ عمران خان کا کیا کام؟ ایک سابق وزیراعظم ہے، نہ سہی ایک اچھا کرکٹر رہ چکا ہے، نہ سہی پاکستان کا سٹیزن تو ہے۔ ان سے ملاقات پر پابندی کس بنیاد پر؟ حالات بغاوت کے بھی پکے ہیں، حالات مردہ باد زندہ باد کے بھی پکے ہیں، حالات خانہ جنگی کے پکے ہیں۔ ہمیں صرف یہ ڈر ہے کہ خدانخواستہ اگر ہم عوام کو سڑکوں پر لے آئے تو پاکستان اس کو سہہ سکے گا یا نہیں؟ اس کے نتیجے میں کیا ہوگا، اس کا ہم سب کو ڈر ہے۔ ہم مجرم سمجھتے ہیں شہباز شریف کو، ہم مجرم سمجھتے ہیں پیپلز پارٹی کو، ہم مجرم سمجھتے ہیں ہر اس پارٹی کو جس نے 24ویں، 25ویں ترامیم میں ووٹ دیا۔ آپ کے ووٹ کے بغیر یہ نہیں ہو سکتا تھا۔ اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے۔ آپ نے اپنے عدلیہ کے پر کاٹ دیے، آپ نے اپنی میڈیا پر پابندی لگائی، آپ نے اپنے پارلیمنٹ کو کمزور کیا۔ اس کا نتیجہ اب آپ کے خلاف جائے گا۔ زرداری صاحب ہو سکتا ہے آپ صدر نہ رہیں، شہباز صاحب ہو سکتا ہے آپ وزیراعظم نہ رہیں کیونکہ آپ نے ایک غلط تالاب میں پانی ڈال دیا ہے۔ یہ ابھی بھی وقت ہے، مہربانی کریں۔" اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی

Siddique Jan

20,224 просмотров • 3 месяцев назад

مولانا فضل الرحمن کی خوفناک باتیں۔۔۔ ہمارا صوبہ ، حضرت، آپ لوگ اسلام آباد میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ شاید آپ حضرات کو یہاں پر ادراک نہ ہو یا لاہور میں بیٹھے ہوئے لوگوں کو اتنا ادراک نہ ہو کہ دریائے سندھ کے مغربی کنارے پر اس وقت کوئی رِٹ نہیں ہے۔ لکی مروت ہو، بنوں ہو، ٹانک ہو، وہاں پولیس کا چین آف کمانڈ ٹوٹ چکا ہے۔ وہاں پولیس نے کمیٹیاں بنا دی ہیں۔ پولیس نے ناکہ بندیاں کی ہوئی ہیں، راستے روکے ہوئے ہیں۔ وہ نہ DPO کے آرڈر کو تسلیم کرتے ہیں، نہ DIG کے آرڈر کو تسلیم کرتے ہیں، نہ IG کے آرڈر کو تسلیم کرتے ہیں اور مکمل طور پر انہوں نے خود اپنا کمانڈ بنا لیا ہے۔ اور کمیٹی کا سربراہ جو کہتا ہے، اسی طرح ہوتا ہے۔ تو اس طریقے سے ابھی جو ہنگو میں واقعات ہوئے ہیں، پورا کمپاؤنڈ، جتنا بھی تھا پولیس کا، وہ طالبان نے گھیرے میں لے لیا۔ پھر انہوں نے علماء کرام سے درخواست کی کہ آپ سے کچھ ہو سکے تو آپ ان لوگوں سے بات کریں۔ پھر علاقے کے علماء کرام گئے وہاں پر اور انہوں نے ان سے بات کی اور ان سے کہا کہ ہم ان سپاہیوں، پولیس والوں کو آزاد کریں گے، لیکن ان کو اسلحہ چھوڑنا پڑے گا اور ہم اس کی ویڈیو بھی بنائیں گے۔ اور DPO نے کہا، ٹھیک ہے، ہمیں دونوں باتیں منظور ہیں۔ پھر اگلے روز پتا چلا کہ چھ بندے ابھی بھی ان کے پاس ہیں۔ پھر علماء کرام سے درخواست کی کہ اب ان کو بھی چھڑوائیں۔ پھر علماء کرام اس کے پیچھے گئے اور انہوں نے چھ بندوں کو چھوڑا۔ اس طرح چھوڑا کہ ایک ایک پولیس والے کو گلے بھی ملے اور دس دس ہزار روپے بھی دیتے رہے وہ۔ وہ دس دس ہزار روپے بھی دیتے رہے۔ یہ تو آپ کی پولیس کی حالت ہو گئی وہاں پر ۔ اس وقت کرم، اورکزئی کے علاقے، وہاں پر تو اب کچھ بھی نہیں رہا جی۔ تو یہ سارا پشتون علاقہ ہے اور اس پشتون علاقے میں اور خیبر پختونخوا میں تو بالکل ہی رِٹ ختم ہو چکی ہے۔ حضرت، آپ ہماری بات مانیں، یا تو یہ ہے کہ ہم عمداً اس کی اجازت دے رہے ہیں ، یا کوئی ڈیپ ایسی انڈر اسٹینڈنگ ہے کہیں جو پبلک کو نظر نہیں آ رہی ہے۔ اور یہ سارا کچھ کیوں ہو رہا ہے جی؟ بلوچ علاقوں میں، حضرت، آپ چلتن کو عبور کریں تو اس سے آگے چاغی تک ہو یا آپ مستونگ اور خضدار تک جائیں، آج صرف شہروں کو بچانے کے لیے میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں، صرف شہروں کو بچانے کے لیے شہروں کے گرد کھدائی کی گئی ہے اور اس کے اندر فوج نے مورچے سنبھال لیے ہیں اور وہاں پر ایکوئپمنٹس لے جا رہے ہیں، تاکہ صرف شہر بچ سکے، ضلعی ہیڈکوارٹر بچ سکے، تحصیل ہیڈکوارٹر بچ سکے، باقی میدان، دیہات وغیرہ وہ ان کے حوالے ہیں۔ تو اس سنگینی کو آخر کیوں ایڈریس نہیں کیا جا رہا؟ اور اگر میں یہ بات کرتا ہوں تو مجھے کیوں مجرم کہا جا رہا ہے؟ صحافی چلے جائیں، عالمی انسانی حقوق کی تنظیمیں آ جائیں، باہر سے وہ چلے جائیں ان علاقوں میں، دودھ کا دودھ، پانی کا پانی ہو جائے گا۔ اس صورتِ حال میں جبکہ آپ کے گھر میں آگ لگی ہوئی ہے اور بھائی جو ہیں وہ آپس میں بیٹھ کر اس گھر میں، جس میں آگ لگی ہے، آؤ ذرا اس گھر کو کیسے تقسیم کریں۔ یہ کوئی معقول بات ہے؟ آپ نے آگ بجھانی ہے یا آپ نے گھروں کو تقسیم کرنا ہے؟ تو صوبے بنانے کے بعد بھی ایسی ہی صورتِ حال تقریباً ہے۔ امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کی پارلیمنٹ ہاوس میں صحافیوں سے گفتگو

Fahim Akhtar Malik

89,808 просмотров • 2 дней назад

میں آج آپ سے کچھ شکایات کرنے آیا ہوں۔ سیاست میں ایسا ہوتا ہے پریس کے لوگ باتیں کرتے ہیں ان کا حق ہے اور پریس کی آزادی ہونی چاہیے۔ لیکن اونٹ پٹانگ قسم کی باتیں بے بنیاد باتیں اور بغیر ثبوت کے باتیں (مناسب نہیں)۔ ​میں گاؤں گیا ہوا تھا وہاں میں سن رہا تھا کہ میڈیا پر آ رہا ہے کہ 'لیڈر آف دی اپوزیشن' صاحب نے پتا نہیں اپنے خاندان کے لوگوں کو کہاں کہاں لگایا ہے بہت بڑی مراعات کا مطالبہ کیا ہے اور اسپیکر کو پتا نہیں کیا کیا خطوط لکھے ہیں۔ ​میں چاہتا تو اس پر 'پریولج موشن' (تحریکِ استحقاق) لا سکتا تھا، لیکن میں ان باتوں میں پڑتا نہیں۔ آج میں نے مختصر بات کی جو ان حالات میں ضروری باتیں تھیں، میں نے اس کا (مراعات کا) ذکر نہیں کیا۔ ​صرف وضاحت کے لیے عرض ہے کہ جب سے میں اپوزیشن لیڈر بنا ہوں، شاید میرا صرف ایک خط گیا ہو اسپیکر کے پاس اور وہ بھی بہت معمولی بات کے لیے تھا۔ ​لیڈر آف دی اپوزیشن کے لیے وہی مراعات ہوتی ہیں جو ایک وفاقی وزیر (Federal Minister) کی ہوتی ہیں۔ لیڈر آف دی اپوزیشن کو رہنے کے لیے گھر دیا جاتا ہے، پتا نہیں کتنی گاڑیاں دی جاتی ہیں۔ میں جب سے اپوزیشن لیڈر بنا ہوں، میں نے اپنے پولیس اسکاٹ (محافظ دستے) کو بھی کہہ دیا ہے کہ میرے ساتھ مت جاؤ۔ ​ مجھے تو جو گھر سرکاری ملا ہوا ہے وہ گھر پر تو رانا ثنا اللہ خان رہتا ہے میں نے تو اس کو بھی وہاں سے جانے کو نہیں کہا میں کرائے پہ بھی حکومت پاکستان کی طرف سے گھر لے سکتا تھا میں نے وہ بھی نہیں لیا. نہ ہی میں نے کوئی ذاتی لوگوں کو قومی اسمبلی میں بھرتی کروایا ہے نہ ہی ایسا ہو سکتا ہے دوسرا نہ ہی میں نے کوئی مرات لی ہے نہ ہی مجھے ضرورت ہے قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی کا کچھ صحافیوں کی جانب سے کیے جانے والے نامناسب پروپیگنڈے پر جواب

Tehreek-e-Tahafuz-e-Ayin-e-Pakistan

34,798 просмотров • 4 месяцев назад

پارلیمان کے باہر کھڑے ہو کر یہ بات کرنا برا لگتا ہے، میں کل اس پر بولوں گا۔ کل بولوں گا۔ بات یہ ہے کہ... دکھ ہوتا ہے۔ اس پارلیمنٹ ہاؤس میں، پارلیمنٹ کی وردیاں پہن کر لوگ، پارلیمنٹ کے ممبران کو چوہوں کی طرح ڈھونڈ رہے تھے۔ نہ کسی کو معطل کیا گیا، نہ کسی کو نکالا گیا اور نہ کسی پر یہ الزام لگا کہ تم کون ہو؟ تم کون ہوتے ہو پارلیمنٹ میں آ کر لوگوں کو اٹھانے والے؟ جو سارجنٹ ایٹ آرمز تھا، اسے تو ڈی جی کوسٹ گارڈ لگا دیا گیا۔ کیپٹن اشفاق کو اپ گریڈ کر کے آپ کے صوبے میں ڈی جی کوسٹ گارڈ لگا دیا گیا، جس نے آ کر اس کارِ خیر میں حصہ ڈالا تھا۔ یہ کیسے چلے گا؟ یہ کیسے ہوگا؟ آپ پوچھیں، کل ہم اس پر بھی بولیں گے۔ میں نے تو بار بار کہا ہے، پتا نہیں مجھے کیا بیماری لگ گئی ہے کہ میں بار بار یہ شور مچا رہا ہوں (رولا ڈال رہا ہوں) کہ مینڈیٹ کی چوری ہوئی ہے، یہ غلط حکومت ہے۔ لیکن بار بار یہ باتیں کرنا برا لگتا ہے۔ لوگوں کو بار بار یہ کہنا برا لگتا ہے۔ جس طرح یہ حکومت آئی ہے، آپ بھی جانتے ہیں اور میں بھی جانتا ہوں۔ دکھ کی بات یہ ہے کہ یہ سب کام ان اداروں نے کیا ہے جو خود کو پاکستان کا سب سے وفادار اور طاقتور (پاورفل) ادارہ سمجھتے ہیں۔ ​کیوں؟ کیا کبھی آپ نے دیکھا ہے کہ اسمبلیوں میں منڈیاں لگائی جاتی ہوں؟ سینیٹ کی قیمت یہ ہے، قومی اسمبلی کی قیمت یہ ہے، صوبائی اسمبلی کی قیمت یہ ہے... کون بولیاں دے گا؟ آپ جیسا غریب آدمی؟ یا یہ شرارتی آدمی بولیاں دے سکے گا؟ ڈرگ ٹریفکرز (منشیات فروش) بولیاں دیں گے، سمگلر بولیاں دیں گے۔ پھر اس ملک کا کیا حال ہوگا؟ اور پھر صادق سنجرانی جیسا آدمی آئے گا، اس قسم کا ایوان (ہاؤس) بنے گا جس میں عوام نہ ہوں، غریب نہ ہوں، صحیح نمائندے نہ ہوں۔ ​عمران کے ساتھ میرا کیا واسطہ ہے؟ عمران جب اس پارلیمنٹ کا گھیراؤ کر رہا تھا تو میں اس کا مخالف تھا، میں اس کا سب سے بدترین مخالف تھا۔ لیکن یہ پارلیمنٹ ہمیں عزیز ہے۔ اس کے خلاف جو بھی آگے بڑھے گا، کوئی اور کھڑا ہو یا نہ ہو، محمود کھڑا ہوگا۔ قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی

Tehreek-e-Tahafuz-e-Ayin-e-Pakistan

13,758 просмотров • 2 месяцев назад

ملک میں جو خود کو ووٹ کو عزت دو کا سب سے بڑا چیمپئن سمجھتا ہے، اس کی حکومت ہے۔ پنجاب میں ان کی بیٹی کی حکومت ہے۔ آج صبح پنجاب میں ہمارا اپوزیشن لیڈر بات کر رہا تھا کہ اس وقت بھی میرے گھر کے سامنے پولیس کھڑی ہے۔ پنجاب میں اگر آپ کا تعلق اپوزیشن سے ہے تو آپ اپنے گھر میں بھی رہائش نہیں رکھ سکتے۔اس وقت نہ کوئی قانون ہے اور نہ ہی آئین، صرف ظلم اور جبر ہے۔ اور جب ظلم حد سے بڑھ جائے تو جہاد لازم ہو جاتا ہے۔ جہاد صرف تلوار اٹھانے کا نام نہیں، جدوجہد سے بھی کیا جاتا ہے، اور یہی جدوجہد ہم پر اس وقت لازم ہے۔عمران خان اس وقت جرأت اور ہمت کے ساتھ اپنا مقدمہ لڑ رہا ہے۔ جب 1992 کا ورلڈ کپ ہو رہا تھا تو وہ ایک کمزور ٹیم تھی، لیکن اللہ نے عمران خان کو عزت دینی تھی۔ پھر جب شوکت خانم ہسپتال بن رہا تھا تو میں خود اس مہم کا حصہ تھا۔ ہم نے پوسٹر لگائے، چندہ اکٹھا کیا۔ ہمیں بھی یہ ناممکن نظر آتا تھا، لیکن اللہ نے عمران خان کے خواب کو پورا کیا۔

Asad Qaiser

15,982 просмотров • 8 месяцев назад

آپ میں سے یہاں موجود تمام خواتین و حضرات بغیر سفارش کے بھرتی ہوئے ہیں، میرٹ ہی ہمارا اصل سرمایہ ہے، اور انشاءاللہ تعالیٰ، اسی میرٹ کی بنیاد پر ہم نے خیبر پختونخوا کی تاریخ بدل دی ہے۔ جو تصویر آپ سامنے کرسی دیکھ رہے ہیں، یہ میرے پرنسپل رہ چکے ہیں۔ اس سے بھی بڑھ کر، یہ میرے والد صاحب کے استاد بھی رہ چکے ہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ جب یہ پرنسپل تھے، تو کینٹ نمبر ون گورنمنٹ اسکول میں انہوں نے میرٹ کی بنیاد پر داخلے دیے۔ انہوں نے اس اسکول کو اس معیار تک پہنچایا کہ لوگ سفارش سے بھی داخلہ لینے پر مجبور تھے۔ جب یہ ریٹائر ہوئے، تو ایک پرائیویٹ اسکول مسلم پبلک اسکول میں چلے گئے، جہاں میں بھی پڑھتا تھا۔ یہ مسلم اسکول میں میرے پرنسپل رہے، اور میری کردار سازی اور آج یہاں تک پہنچنے میں ان کا بنیادی کردار ہے۔ میں نے اپنی پوری زندگی میں کبھی کسی استاد کے سامنے بدتمیزی نہیں کی، اور انشاءاللہ تعالیٰ آئندہ بھی نہیں کروں گا، کیونکہ معاشرے میں استاد کو روحانی باپ اور روحانی ماں کا درجہ دیا گیا ہے۔ اس لیے ہم سب پر فرض ہے کہ ہم اپنے اساتذہ کی عزت اور احترام کریں۔ جب ہم میٹرک سے فارغ ہو رہے تھے تو سر ہمارے سامنے کھڑے ہوئے اور انہوں نے ہم سے کہا آپ یہاں سے جا رہے ہیں۔ ہو سکتا ہے آپ کے ذہن میں یہ خیال ہو کہ آپ میں سے کئی ڈاکٹر بنیں گے یا انجینیئر بنیں گے، لیکن ایسا ضروری نہیں۔ ہو سکتا ہے آپ میں سے کوئی بھی ڈاکٹر نہ بنے یا کوئی بھی انجینیئر نہ بنے۔ لیکن میری ایک نصیحت یاد رکھنا: جو بھی کام کرو، کمال کا کرو، کیونکہ معاشرے میں عزت ہمیشہ کمال کے انسان کی ہوتی ہے۔ #CMKP #SohailAfridi #TeacherTribute #KPEducation

Yar Muhammad Khan Niazi

14,010 просмотров • 8 месяцев назад

سوال یہ ہے کہ ۔۔۔ یہ منظر جو ہم دیکھ رہے ہیں ویڈیو بنانے والے نے بھی آگے بڑھ کر اس دُکاندار کے منہ پر تھپڑ رسید نہ کیا نہ کوئی رپورٹ کی یا مُحلے کو اکٹھا کیا بس ویڈیو بنائی اور شئر کر دی ہو گیا کام۔اج جب سارا سوشل میڈیا اسے دیکھ رہا ہے اس آدمی کا اب بھی کوئی پتہ نہیں نہ شہر کا پتہ نہ مُحلے کا نہ شئر کرنے والے کا شاید مقصد یہ تھا ہی نہیں کہ اس آدمی تک پُنچا جائے مقصد ویوز اور لائکس شئر اور کومنٹس کا تھا ۔مسلۂ ایسے ویڈیوز کو اپلوڈ کرنے اور ریپوسٹ کرنے سے حل نہیں ہو گا ۔مسلۂ تب حل ہو گا جب قانون اپنا کام کرے گا دو چار عبرت ناک سزا پائیں گے اور تعلیم اور شعور معاشرے میں عام ہو گا ۔ اس سب کا زمہ دار اگر کوئی ہے تو ریاست عدلیہ اور مقننہ اور پولیس ہے ۔شاید ہر دوسری تیسری بچی اس تکلیف دہ اور توہین آمیز تجُربے سے اس عمر میں گُزرتی ہے جہاں اُسے گھر کے ملازم سے لیکر ڈرائیور مالی ریڑھی والا چھابڑی والا دُکاندارراہ چلتا یا کسی رشتے دار، قاری یا اُستاد نے اُس کے ساتھ یہ حرکت نہ کی ہو گندے اشارے نہ کیے ہوں ۔کیونکہ وہ جانتے ہیں بچہ ڈر جاتا ہے اور اسی اپنی غلطی سمجھتا ہے کہ شاید مجھ سے کُچھ غلط ہوا ہے اور کسی کو نہیں بتاتا اور یہی وجہ ہے کہ بچے بار بار اس زہنی اور جسمانی ازیت سے گُزرتے ہیں کہیں خود مائیں چُپ رہنے کے لیے کہتہ ہونگی ۔۔ میں نے ناروے میں ہوتے ہوئے بھی اپنی بیٹیوں کو سکول کے پہلے دن یہ بات سکھائی تھی کہ کوئی آپ کو ٹچ کرے مجھے بتائیں اور اس میں آپکی کوئی غلطی نہیں نہ ڈرنے کی ضرورت ۔ ہر جگہ بیمار سوچ کے لوگ پائے جاتے ہیں اور کئی بار تعلیم سے بھی اس کا تعلق نہیں ہوتا ۔ اور ہمارے معاشرے کا تو سوا ستیاناس ہے ۔ میں نہیں جانتی کہ راتوں رات اس معاشرے کو کیسے بدلا جائے پر یہ سچ ہے بچیاں اور بچے جو غریب گھرانوں میں پل رہی ہیں سو فیصد غیر محفوظ ہیں ۔ اور کوئی اُنکا مددگار نہیں ۔ اب یہاں بحث نہ مذہب کی ہے نہ مرد کو گالی دینے کی ۔معاشرے کو لگام کی ضرورت ہے جو خُدا جانے کون ڈالے گا ۔
0:26

Sensitive content

سوال یہ ہے کہ ۔۔۔ یہ منظر جو ہم دیکھ رہے ہیں ویڈیو بنانے والے نے بھی آگے بڑھ کر اس دُکاندار کے منہ پر تھپڑ رسید نہ کیا نہ کوئی رپورٹ کی یا مُحلے کو اکٹھا کیا بس ویڈیو بنائی اور شئر کر دی ہو گیا کام۔اج جب سارا سوشل میڈیا اسے دیکھ رہا ہے اس آدمی کا اب بھی کوئی پتہ نہیں نہ شہر کا پتہ نہ مُحلے کا نہ شئر کرنے والے کا شاید مقصد یہ تھا ہی نہیں کہ اس آدمی تک پُنچا جائے مقصد ویوز اور لائکس شئر اور کومنٹس کا تھا ۔مسلۂ ایسے ویڈیوز کو اپلوڈ کرنے اور ریپوسٹ کرنے سے حل نہیں ہو گا ۔مسلۂ تب حل ہو گا جب قانون اپنا کام کرے گا دو چار عبرت ناک سزا پائیں گے اور تعلیم اور شعور معاشرے میں عام ہو گا ۔ اس سب کا زمہ دار اگر کوئی ہے تو ریاست عدلیہ اور مقننہ اور پولیس ہے ۔شاید ہر دوسری تیسری بچی اس تکلیف دہ اور توہین آمیز تجُربے سے اس عمر میں گُزرتی ہے جہاں اُسے گھر کے ملازم سے لیکر ڈرائیور مالی ریڑھی والا چھابڑی والا دُکاندارراہ چلتا یا کسی رشتے دار، قاری یا اُستاد نے اُس کے ساتھ یہ حرکت نہ کی ہو گندے اشارے نہ کیے ہوں ۔کیونکہ وہ جانتے ہیں بچہ ڈر جاتا ہے اور اسی اپنی غلطی سمجھتا ہے کہ شاید مجھ سے کُچھ غلط ہوا ہے اور کسی کو نہیں بتاتا اور یہی وجہ ہے کہ بچے بار بار اس زہنی اور جسمانی ازیت سے گُزرتے ہیں کہیں خود مائیں چُپ رہنے کے لیے کہتہ ہونگی ۔۔ میں نے ناروے میں ہوتے ہوئے بھی اپنی بیٹیوں کو سکول کے پہلے دن یہ بات سکھائی تھی کہ کوئی آپ کو ٹچ کرے مجھے بتائیں اور اس میں آپکی کوئی غلطی نہیں نہ ڈرنے کی ضرورت ۔ ہر جگہ بیمار سوچ کے لوگ پائے جاتے ہیں اور کئی بار تعلیم سے بھی اس کا تعلق نہیں ہوتا ۔ اور ہمارے معاشرے کا تو سوا ستیاناس ہے ۔ میں نہیں جانتی کہ راتوں رات اس معاشرے کو کیسے بدلا جائے پر یہ سچ ہے بچیاں اور بچے جو غریب گھرانوں میں پل رہی ہیں سو فیصد غیر محفوظ ہیں ۔ اور کوئی اُنکا مددگار نہیں ۔ اب یہاں بحث نہ مذہب کی ہے نہ مرد کو گالی دینے کی ۔معاشرے کو لگام کی ضرورت ہے جو خُدا جانے کون ڈالے گا ۔

Sonia Khan khattak(SK)

62,513 просмотров • 2 лет назад

میں یہ سوچتا ہوں کہ محسن نقوی نے کس capacity میں یہ باتیں کی ہیں، وہ کابینہ کے رکن ہیں، اگر ناکام ہو چکا ہے تو پھر یا تو اپنی حکومت سے کہیں کہ مستعفی ہو جائےیا پھر کم از کم خود مستعفی ہو کر میدان میں آجائے، نوکری بھی اسی تنخواہ پر کرنی ہے اور باتیں بڑی بڑی کرنی ہیں تو میں اب کیا کہہ سکتا ہوں ، '''چھوٹے لوگوں کو بڑا کہنا بڑا ہے مجھ کو اکثر ایسی تکلیف کئی بار اٹھائی میں نے''' یہاں پر پارلیمنٹ کی اہمیت ختم ہو گئی ہے، ہم تو کہتے ہیں کہ اس کا حل ہے آج بھی ہے کل بھی تھا وہ ملک کا آئین ہے آئین کے مطابق ملک کو چلاو، جمہوریت بھی ٹھیک ہو جائے گی، قانون سازی شروع ہو جائے گی، عوام میں خوداعتمادی بھی آجائے گی، اصل میں ہماری مرضی کی حکومت ہونی چاہئے، ہم پر جبرا حکومت مسلط نہ کی جائے لیکن وہ دھاندلیوں کے ذریعے دھوکہ دیتے ہیں جیسے واقعی عوام کی حکومت ہے جبکہ یہ بھی انہی کی حکومت ہوتی ہیں اور پیچھے لگام ان کے پاس ہوتی ہے، مولانا فضل الرحمن کا محسن نقوی کے بیان پر ردعمل

Siddique Jan SMT

15,684 просмотров • 16 дней назад

میں پاکستان کا ایک شہری ہوں اور مجھے یقین ہو گیا ہے کہ ڈی جی آئی ایس پی آر کو یہ پتہ ہی نہیں ہے کہ پراپیگنڈا ایک آرٹ بھی ہے اور سائنس بھی ۔ آپ جس طرح کی بچگانہ حرکت کرتے ہیں اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو نہ آرٹ آتا ہے اور نہ ہی سائنس۔ مجھے بھی اچھی طرح معلوم ہے کہ لاہور میں ایک کور کمانڈر ہاؤس ہاؤس ہے جس کو قائد اعظم نے خریدا اور اور پھر بیچ دیا اور ایک دن بھی اس گھر میں نہیں رہے اور آپ نے “قائد ہاؤس ، قائد ہاؤس” پراپیگنڈا شروع کر دیا۔ آپ کو یہ پتہ ہونا چاہیے کہ آپ کے پاس سوشل میڈیا پر مکمل پابندی لگانے کی صلاحیت نہیں ہے۔ یہ سب کچھ کر کے اپنے لیے نفرت نہ پھیلائیں آپ ہم میں سے ہیں ایسا نہ کریں کہ عوام آپ سے نفرت کرنے لگے۔ جس فوج سے عوام نفرت کرتی ہے وہ جنگ نہیں لڑ سکتی۔ آپ وہ کریں جس سے آپ کی عزت محسوس رہےجس میں دراڑیں پڑ گئی ہیں اور پاکستان مضبوط رہے نعیم بخاری کا ایک بار پھر بہترین تجزیہ #آزادی_خان_کے_سنگ

Tehreek-e-Insaf

97,506 просмотров • 2 лет назад

آج جو شریکِ جرم ہیں، کل کو وہی فریادی ہوئے تو ؟ ایک صوبے کا منتخب وزیراعلیٰ، اپنی پوری کابینہ اور ارکانِ پارلیمنٹ کے ساتھ، گزشتہ رات اڈیالہ جیل کے باہر سڑک پر کھڑا رہا، اور آج صبح سویرے سے سپریم کورٹ کے دروازے پر دھرنا دے کر بیٹھ گیا ہے، نہ اقتدار کی شان، نہ پروٹوکول کا غرور۔ اور اس لیے نہیں کہ اسے اقتدار چاہیے، اس لیے بھی نہیں کہ کوئی این آر او مانگ رہا ہے، بلکہ صرف ایک مطالبہ کہ جس شخص کے نام پر عوام نے ووٹ دیا، وہ اڈیالہ جیل میں قید ہے، 2 دسمبر کے بعد نہ اس سے ملاقات کرائی گئی، نہ اس کی خیریت کی خبر دی گئی۔ وہ ملاقات، جس کی اجازت آئین دیتا ہے، قانون دیتا ہے، جیل مینوئل دیتا ہے اور عدالتی فیصلے دیتے ہیں، وہ ملاقات چھین لی گئی، اور پھر ایک رات، خاموشی سے، اندھیرے میں، اسی قیدی کو پمز اسپتال منتقل کیا جاتا ہے، جزوی اینستھیزیا دیا جاتا ہے، سرجری ہوتی ہے اور پھر اسی خاموشی سے واپس جیل پہنچا دیا جاتا ہے، نہ خاندان کو بتایا جاتا ہے، نہ پارٹی کو، نہ قوم کو۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ غیر آئینی ہے کہ ایک منتخب وزیراعلیٰ اپنے لیڈر کی صحت پر سوال اٹھائے؟ کیا یہ غیر قانونی ہے کہ اس کے ذاتی معالجین کو مریض سے ملنے دیا جائے؟ کیا یہ جرم ہے کہ قوم کو بتایا جائے کہ جسے انہوں نے مینڈیٹ دیا، اس کی صحت کس حال میں ہے؟ جمہوریت، نیم جمہوریت یا ہائبرڈ نظام، دنیا کے کسی نظام میں ایسا نہیں ہوتا، ہاں بندوبستی نظام میں ایسا ضرور ہوتا ہے، جہاں آمریت نافذ ہوتی ہے، جہاں فیصلے آئین سے نہیں، طاقت سے ہوتے ہیں، جہاں عدالتیں، حکومتیں اور ادارے سب ایک ہی جگہ سجدہ ریز ہوتے ہیں، لہٰذا ایسے بندوبستی نظام سے کیا شکوہ، وہ قائم ہی اسی مقصد کے لیے کیا گیا ہے۔ لیکن سوال ان سیاسی جماعتوں، ان کے رہنماؤں اور کارکنوں سے ہے جن کی شراکت داری سے یہ بندوبستی نظام قائم ہے، انہیں سوچنا چاہیے کہ وقت کا پہیہ رکنے کا نام نہیں لیتا، آج آپ شریکِ جرم ہیں، کل اس کا شکار بھی ہو سکتے ہیں، پاکستان تحریک انصاف اور عمران خان مار کھا کر بھی کھڑے ہیں، کیونکہ ان کے ساتھ عوام ہے، جو ٹوٹے نہیں، بکھرے نہیں۔ اگر خدا نہ کرے کہ کل یہی ظلم کسی اور جماعت، کسی اور لیڈر کے حصے میں آئے، تب نہ کندھا ملے گا، نہ ہمدردی، نہ آواز، کسی بھی معاشرے کے لیے اس سے زیادہ شرمناک لمحہ اور کوئی نہیں ہوتا کہ وہ ظلم کو دیکھے، سمجھے اور پھر بھی خاموش رہے۔

Waseem Malik

38,228 просмотров • 6 месяцев назад