Загрузка видео...
Не удалось загрузить видео
تیر ٹیڑھا ہو گیا ہے پھٹ گئی کب کی پتنگ کھال اوڑھے شیر کی گھومیں گدھا لومڑ کے سنگ داڑھیوں میں اب نہیں تنکا وہاں تو بانس ہے اسلحہ ہے پاس لیکن پھر بھی اکھڑی سانس ہے خوف کا عالم یہ ہے کہ سب کو چڑھ جائے بخار بھول... show more
389,069 просмотров • 2 лет назад •via X (Twitter)
Комментарии: 4

Fari2 лет назад
بہت اعلٰی

SSS2 лет назад
Kamaaal #ImranKhanFightingForPakistan #ووٹ_ڈالو_خان_نکالو

Lubna Arzoo2 лет назад
@ImranARaja1 #قیدی_نمبر_804 #ظلم_کا_بدلہ_ووٹ_سے

Noman2 лет назад
Youthie, tomorrow u will b crying, no vote for traitor PTI
Похожие видео
0:26
Sensitive content
سوال یہ ہے کہ ۔۔۔ یہ منظر جو ہم دیکھ رہے ہیں ویڈیو بنانے والے نے بھی آگے بڑھ کر اس دُکاندار کے منہ پر تھپڑ رسید نہ کیا نہ کوئی رپورٹ کی یا مُحلے کو اکٹھا کیا بس ویڈیو بنائی اور شئر کر دی ہو گیا کام۔اج جب سارا سوشل میڈیا اسے دیکھ رہا ہے اس آدمی کا اب بھی کوئی پتہ نہیں نہ شہر کا پتہ نہ مُحلے کا نہ شئر کرنے والے کا شاید مقصد یہ تھا ہی نہیں کہ اس آدمی تک پُنچا جائے مقصد ویوز اور لائکس شئر اور کومنٹس کا تھا ۔مسلۂ ایسے ویڈیوز کو اپلوڈ کرنے اور ریپوسٹ کرنے سے حل نہیں ہو گا ۔مسلۂ تب حل ہو گا جب قانون اپنا کام کرے گا دو چار عبرت ناک سزا پائیں گے اور تعلیم اور شعور معاشرے میں عام ہو گا ۔ اس سب کا زمہ دار اگر کوئی ہے تو ریاست عدلیہ اور مقننہ اور پولیس ہے ۔شاید ہر دوسری تیسری بچی اس تکلیف دہ اور توہین آمیز تجُربے سے اس عمر میں گُزرتی ہے جہاں اُسے گھر کے ملازم سے لیکر ڈرائیور مالی ریڑھی والا چھابڑی والا دُکاندارراہ چلتا یا کسی رشتے دار، قاری یا اُستاد نے اُس کے ساتھ یہ حرکت نہ کی ہو گندے اشارے نہ کیے ہوں ۔کیونکہ وہ جانتے ہیں بچہ ڈر جاتا ہے اور اسی اپنی غلطی سمجھتا ہے کہ شاید مجھ سے کُچھ غلط ہوا ہے اور کسی کو نہیں بتاتا اور یہی وجہ ہے کہ بچے بار بار اس زہنی اور جسمانی ازیت سے گُزرتے ہیں کہیں خود مائیں چُپ رہنے کے لیے کہتہ ہونگی ۔۔ میں نے ناروے میں ہوتے ہوئے بھی اپنی بیٹیوں کو سکول کے پہلے دن یہ بات سکھائی تھی کہ کوئی آپ کو ٹچ کرے مجھے بتائیں اور اس میں آپکی کوئی غلطی نہیں نہ ڈرنے کی ضرورت ۔ ہر جگہ بیمار سوچ کے لوگ پائے جاتے ہیں اور کئی بار تعلیم سے بھی اس کا تعلق نہیں ہوتا ۔ اور ہمارے معاشرے کا تو سوا ستیاناس ہے ۔ میں نہیں جانتی کہ راتوں رات اس معاشرے کو کیسے بدلا جائے پر یہ سچ ہے بچیاں اور بچے جو غریب گھرانوں میں پل رہی ہیں سو فیصد غیر محفوظ ہیں ۔ اور کوئی اُنکا مددگار نہیں ۔ اب یہاں بحث نہ مذہب کی ہے نہ مرد کو گالی دینے کی ۔معاشرے کو لگام کی ضرورت ہے جو خُدا جانے کون ڈالے گا ۔
Sonia Khan khattak(SK)
62,513 просмотров • 2 лет назад
