Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

جب امریکہ میں دھماکوں کے بعد 2004ء میں یہاں آپریشن کرنے کا فیصلہ کیا گیا تو تحریکِ انصاف کی اسمبلی میں صرف ایک ہی نشست تھی، جو عمران خان کے پاس تھی۔ اس موقع پر عمران خان نے کہا تھا کہ میں نے پورے قبائلی علاقوں کا دورہ کیا...

13,232 просмотров • 7 месяцев назад •via X (Twitter)

Комментарии: 0

Нет доступных комментариев

Здесь появятся комментарии из оригинального поста

Похожие видео

جب ہمیں پمز پہنچایا گیا تو میں نے پوچھا کہ سپریم کورٹ کا آرڈر تو شفا انٹرنیشنل کا تھا ، تو مجھے کہا گیا کہ عمران خان کا فالو اپ چیک اپ ہونا تھا ، اس لیے یہاں لائے، مکمل اندھیرا تھا ، ہمارے پاس موبائل نہیں تھا کیونکہ جیل میں موبائل لے جانے کی اجازت نہیں ہوتی ، پندرہ منٹ گاڑی میں مجھے بٹھائے رکھا ، پھر کہا کہ ڈاکٹر صاحبہ آپ آجائیں، مکمل اندھیرا تھا ، موبائل ٹارچ پر راستہ دکھاتے ہوئے او پی ڈی کے راستے مجھے ایک آفس لے جایا گیا اور وہاں بٹھایا گیا۔ اس کے بعد مجھے اوپر ایک کمرے میں لے گئے ، عمران خان بھی حیران تھے ، عمران خان مجھے ملے پیار کیا اور کہا کہ میں دس ماہ بعد اپنی بہن سے مل رہا ہوں، میں نے عمران خان کو بتایا کہ یہاں فالو اپ چیک اپ کے بعد ہم شفا انٹرنیشنل جائیں گے، وہاں آپ کے مکمل ٹیسٹ ہوں گے ، پھر ہمیں ایک دفتر لے گئے ، جہاں ڈاکٹر عارف نے عمران خان کی آنکھ کا معائنہ کیا ، آفس میں چیک اپ کیا ، آئی ڈراپس کا پوچھا کہ کونسی ڈال رہے ہیں؟ عمران خان نے کہا مجھے نام یاد نہیں، میں نے ڈاکٹرز سے کہا کہ آپ کو نام نہیں معلوم کہ آپ نے کونسے لکھ کے دیے ہیں؟ پریسکپن نہیں ہے آپ کے پاس ؟ ڈاکٹر ایک دوسرے کو دیکھتے رہے ، ڈاکٹر عظمیٰ خان

PTI

186,684 просмотров • 11 дней назад

شعیب اختر اور تابش ہاشمی کا بہترین مزیدار مکالمہ : شعیب اختر: "میں نے بھاگنا شروع کیا، پھر میں نے دوڑنا شروع کیا۔ جب میں نے دوڑنا شروع کیا پھر میں نے اسپرنٹ لگانا شروع کی۔ جب میں نے اسپرنٹ لگانا شروع کی، میں نے پھر اڑنا شروع کیا۔ جب میں نے اڑنا شروع کیا، پھر میں نے یہ سوچنا شروع کیا کہ اب وہ ایک دن آئے گا کہ جب میں عمران خان کے ساتھ کھیلوں گا۔ شعیب اختر: "لیکن... لیکن ریٹائر ہو کے میں نے کہا نہیں، اگر میں ان کے ساتھ کھیل نہیں سکا، میں ان سے ملوں گا ضرور۔" میزبان: "ہاں، صحیح ہے۔" شعیب اختر: "تو پھر انہوں نے مجھ سے بڑا لاڈ کیا۔ ساری زندگی بڑا لاڈ کیا عمران خان نے مجھ سے، بہت لاڈ کیا۔" میزبان: "اب دل نہیں کرتا؟" شعیب اختر: "ہاں..، کیوں نہیں کرتا! میں ایسا نہیں ہوں، میں اوپنلی بات کرتا ہوں۔" میزبان: "میں بھی اوپن ہی بات کرتا ہوں شعیب اختر: "میں نے کرکٹ اسٹارٹ کی صرف عمران بھائی کی وجہ سے۔" تابش ہاشمی: "بہت سارے لوگوں کا یہی کہنا ہے۔" شعیب اختر: "ٹھیک ہے، اور میں نے... اس لیے اسٹارٹ کی کہ ایک میں نے سیلفش آدمی دیکھا..."..جو اپنے لیے نہیں کھیلتا تھا۔ جو ملک کے لیے کھیلتا ہے ، جو کوشش کرتا کہ یار ملک جیتے، میچ ونر ہوں گے، بیٹنگ پہلے کرنے آ جائیں گے،

ℕ𝕚𝕟𝕚 𝕄𝕒𝕝𝕚𝕜 (ℙ𝕋𝕀)

112,535 просмотров • 17 дней назад

*وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سُہیل خان آفریدی کا وادی تیراہ آپریشن پر اہم ویڈیو پیغام!* وادی تیراہ پر آج ایک بار پھر سخت ترین حالات مسلط کیے گئے ہیں، عمران خان کی منتخب جمہوری حکومت کو ریجیم چینج آپریشن کے ذریعے گرایا گیا، رجیم چینج کے بعد جب دہشتگرد دوبارہ آباد ہو رہے تھے تو خیبر سے ہزارہ، ملاکنڈ سے لے کر ڈی آئی خان اور وزیرستان تک ہم نے جرگے اور امن پاسون منعقد کیے، ہم نے خبردار کیا کہ پختون قوم کے سروں کا سودا ہو رہا ہے اور ہم پر دہشتگردی دوبارہ مسلط کی جا رہی ہے، اس وقت پی ڈی ایم کی ناجائز حکومت کہتی تھی کہ ہم جھوٹا پروپیگنڈا کر رہے ہیں، اس وقت پختون قوم بڑی تعداد میں باہر نکلی اور بند کمروں کے فیصلوں کو مسترد کیا، جن اضلاع میں عوام نے ان فیصلوں کو رد کیا، وہاں اللہ کے فضل سے آج بھی امن قائم ہے، بدقسمتی سے جن اضلاع میں اس خطرے کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا، وہاں آج ہم دوبارہ بدامنی کا شکار ہیں، بند کمروں میں کیے گئے فیصلوں نے عمران خان کی منتخب جمہوری حکومت کو گرایا، جس کے نتیجے میں بدامنی بھی لوٹی اور معیشت بھی تباہ حال ہوئی۔ آج سرمایہ کار اور نوجوان ملک سے بھاگنے کے راستے تلاش کر رہے ہیں، وادی تیراہ پر بھی جب بند کمروں کے فیصلے مسلط کیے جا رہے تھے تو میں نے اس کے خلاف آواز بلند کی، جب 22 بڑے اور 14 ہزار سے زائد انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز سے بدامنی ختم نہیں ہو سکی تو ہمیں کوئی سمجھائے کہ دوبارہ آپریشن کے فائدہ مند نتائج کیا ہوں گے؟ خیبر پختونخوا اسمبلی کے چھت تلے تمام مکاتب فکر اور صوبے کی تمام سیاسی جماعتوں کے جرگے نے متفقہ طور پر 15 نکاتی ایجنڈا منظور کیا، سب اس بات پر متفق تھے کہ ملٹری آپریشن مسئلے کا حل نہیں اور آپریشن سے دہشتگردی ختم نہیں ہو رہی، سب نے کہا کہ مل بیٹھ کر مسئلے کا حل تلاش کیا جائے تاکہ مستقل امن قائم ہو سکے، لیکن یہ نہیں مانے اور بند کمروں میں فیصلہ ہوا کہ وادی تیراہ پر ایک بار پھر آپریشن مسلط کیا جائے، کور کمانڈر اور آئی جی ایف سی کی سربراہی میں 24 رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی، 24 رکنی کمیٹی میں آفریدی قوم کے بڑوں کو کہا گیا کہ آپ لوگ گھروں کو خالی کریں کیونکہ ہم آپریشن نہیں کر سکتے، آفریدی قوم نے کمیٹی ممبران سے اتفاق نہیں کیا، لیکن انہیں مجبور کیا گیا کہ برفباری کے موسم میں اپنے گھر بار خالی کریں، میں بار بار واضح کرتا رہا کہ جس علاقے میں آپریشن کیا جا رہا ہے وہاں برفباری کے باعث جانور بھی زندہ نہیں رہ سکتے، اب نقل مکانی کرنے والے بوڑھے، بچے اور خواتین پوری دنیا دیکھ رہی ہے، اور برفباری کی وجہ سے آپریشن بھی نہیں ہو پا رہا، اب ہمیں کوئی سمجھائے کہ ان بند کمروں کے فیصلوں سے کون سا مقصد حاصل ہوا ہے؟ یہ آپریشن صرف مجھے اپنے لوگوں میں بدنام کرنے اور میری حکومت کو ختم کرنے کے لیے شروع کیا گیا، لیکن میں اپنے لوگوں کے درمیان گیا اور انہوں نے مجھے پیار اور عزت دی، اب جب انہیں سمجھ آ گیا ہے کہ اس موقع پر آپریشن کا فیصلہ غلط تھا تو انہوں نے پریس ریلیز جاری کی کہ تیراہ کے لوگ اپنی مرضی سے نقل مکانی کر رہے ہیں، یہ پریس ریلیز انتہائی خطرناک ہے، اس سے صوبے، اداروں اور وفاق کے درمیان تنازع پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہ اعتماد کا فقدان پیدا کرنے کا منصوبہ ہے، اس پریس ریلیز کے بعد قوم ان کی باتوں پر کسی صورت بھروسہ نہیں کریں گے کیونکہ کور کمانڈر اور آئی جی ایف سی نے کمیٹی کے سامنے بڑے وعدے کیے ہیں، میں اتوار کو دو بجے پورے خیبر میں بسنے والی اقوام کا جرگہ جمرود فٹبال اسٹیڈیم میں بلا رہا ہوں، جرگے میں پوچھا جائے گا کہ آپ اپنی مرضی سے بے دخل ہوئے یا زبردستی گھر چھوڑنے پڑے، ہم دنیا کو دکھائیں گے کہ ہمارے ساتھ ظلم ہو رہا ہے، خیبر پختونخوا کے لوگ لیبارٹری نہیں ہیں، خیبر پختونخوا کے لوگ کیڑے مکوڑے نہیں ہیں، ان کا خون سستا نہیں ہے، میری حکومت نے متاثرین کی دیکھ بھال کے لیے چار ارب روپے ریلیز کیے ہیں کیونکہ ہم نے وفاق کے وعدے دیکھے ہیں، پچھلے آپریشن میں گھروں کو تباہ کر کے صرف چار لاکھ روپے کا وعدہ کیا گیا اور آج تک پیسے نہیں دیے گئے، اس بار ہم نے بند کمروں کے فیصلوں کے لیے خود کو تیار رکھا ہے کہ اپنے لوگوں کو بے سہارا نہیں چھوڑ سکتے، میں پختون قوم کے ساتھ کھڑا ہوں اور خون کے آخری قطرے تک ان کے حقوق کے لیے کھڑا رہوں گا، اگر اس بار ہم کھڑے نہ ہوئے تو ساری زندگی جنازے اٹھاتے رہیں گے. وزیراعلی خیبر پختونخوا محمد سہیل خان آفریدی

Shafi Jan

45,588 просмотров • 7 месяцев назад

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سُہیل خان آفریدی کا وادی تیراہ آپریشن پر اہم ویڈیو پیغام! وادی تیراہ پر آج ایک بار پھر سخت ترین حالات مسلط کیے گئے ہیں، عمران خان کی منتخب جمہوری حکومت کو ریجیم چینج آپریشن کے ذریعے گرایا گیا، رجیم چینج کے بعد جب دہشتگرد دوبارہ آباد ہو رہے تھے تو خیبر سے ہزارہ، ملاکنڈ سے لے کر ڈی آئی خان اور وزیرستان تک ہم نے جرگے اور امن پاسون منعقد کیے، ہم نے خبردار کیا کہ پختون قوم کے سروں کا سودا ہو رہا ہے اور ہم پر دہشتگردی دوبارہ مسلط کی جا رہی ہے، اس وقت پی ڈی ایم کی ناجائز حکومت کہتی تھی کہ ہم جھوٹا پروپیگنڈا کر رہے ہیں، اس وقت پختون قوم بڑی تعداد میں باہر نکلی اور بند کمروں کے فیصلوں کو مسترد کیا، جن اضلاع میں عوام نے ان فیصلوں کو رد کیا، وہاں اللہ کے فضل سے آج بھی امن قائم ہے، بدقسمتی سے جن اضلاع میں اس خطرے کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا، وہاں آج ہم دوبارہ بدامنی کا شکار ہیں، بند کمروں میں کیے گئے فیصلوں نے عمران خان کی منتخب جمہوری حکومت کو گرایا، جس کے نتیجے میں بدامنی بھی لوٹی اور معیشت بھی تباہ حال ہوئی۔ آج سرمایہ کار اور نوجوان ملک سے بھاگنے کے راستے تلاش کر رہے ہیں، وادی تیراہ پر بھی جب بند کمروں کے فیصلے مسلط کیے جا رہے تھے تو میں نے اس کے خلاف آواز بلند کی، جب 22 بڑے اور 14 ہزار سے زائد انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز سے بدامنی ختم نہیں ہو سکی تو ہمیں کوئی سمجھائے کہ دوبارہ آپریشن کے فائدہ مند نتائج کیا ہوں گے؟ خیبر پختونخوا اسمبلی کے چھت تلے تمام مکاتب فکر اور صوبے کی تمام سیاسی جماعتوں کے جرگے نے متفقہ طور پر 15 نکاتی ایجنڈا منظور کیا، سب اس بات پر متفق تھے کہ ملٹری آپریشن مسئلے کا حل نہیں اور آپریشن سے دہشتگردی ختم نہیں ہو رہی، سب نے کہا کہ مل بیٹھ کر مسئلے کا حل تلاش کیا جائے تاکہ مستقل امن قائم ہو سکے، لیکن یہ نہیں مانے اور بند کمروں میں فیصلہ ہوا کہ وادی تیراہ پر ایک بار پھر آپریشن مسلط کیا جائے، کور کمانڈر اور آئی جی ایف سی کی سربراہی میں 24 رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی، 24 رکنی کمیٹی میں آفریدی قوم کے بڑوں کو کہا گیا کہ آپ لوگ گھروں کو خالی کریں کیونکہ ہم آپریشن نہیں کر سکتے، آفریدی قوم نے کمیٹی ممبران سے اتفاق نہیں کیا، لیکن انہیں مجبور کیا گیا کہ برفباری کے موسم میں اپنے گھر بار خالی کریں، میں بار بار واضح کرتا رہا کہ جس علاقے میں آپریشن کیا جا رہا ہے وہاں برفباری کے باعث جانور بھی زندہ نہیں رہ سکتے، اب نقل مکانی کرنے والے بوڑھے، بچے اور خواتین پوری دنیا دیکھ رہی ہے، اور برفباری کی وجہ سے آپریشن بھی نہیں ہو پا رہا، اب ہمیں کوئی سمجھائے کہ ان بند کمروں کے فیصلوں سے کون سا مقصد حاصل ہوا ہے؟ یہ آپریشن صرف مجھے اپنے لوگوں میں بدنام کرنے اور میری حکومت کو ختم کرنے کے لیے شروع کیا گیا، لیکن میں اپنے لوگوں کے درمیان گیا اور انہوں نے مجھے پیار اور عزت دی، اب جب انہیں سمجھ آ گیا ہے کہ اس موقع پر آپریشن کا فیصلہ غلط تھا تو انہوں نے پریس ریلیز جاری کی کہ تیراہ کے لوگ اپنی مرضی سے نقل مکانی کر رہے ہیں، یہ پریس ریلیز انتہائی خطرناک ہے، اس سے صوبے، اداروں اور وفاق کے درمیان تنازع پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہ اعتماد کا فقدان پیدا کرنے کا منصوبہ ہے، اس پریس ریلیز کے بعد قوم ان کی باتوں پر کسی صورت بھروسہ نہیں کریں گے کیونکہ کور کمانڈر اور آئی جی ایف سی نے کمیٹی کے سامنے بڑے وعدے کیے ہیں، میں اتوار کو دو بجے پورے خیبر میں بسنے والی اقوام کا جرگہ جمرود فٹبال اسٹیڈیم میں بلا رہا ہوں، جرگے میں پوچھا جائے گا کہ آپ اپنی مرضی سے بے دخل ہوئے یا زبردستی گھر چھوڑنے پڑے، ہم دنیا کو دکھائیں گے کہ ہمارے ساتھ ظلم ہو رہا ہے، خیبر پختونخوا کے لوگ لیبارٹری نہیں ہیں، خیبر پختونخوا کے لوگ کیڑے مکوڑے نہیں ہیں، ان کا خون سستا نہیں ہے، میری حکومت نے متاثرین کی دیکھ بھال کے لیے چار ارب روپے ریلیز کیے ہیں کیونکہ ہم نے وفاق کے وعدے دیکھے ہیں، پچھلے آپریشن میں گھروں کو تباہ کر کے صرف چار لاکھ روپے کا وعدہ کیا گیا اور آج تک پیسے نہیں دیے گئے، اس بار ہم نے بند کمروں کے فیصلوں کے لیے خود کو تیار رکھا ہے کہ اپنے لوگوں کو بے سہارا نہیں چھوڑ سکتے، میں پختون قوم کے ساتھ کھڑا ہوں اور خون کے آخری قطرے تک ان کے حقوق کے لیے کھڑا رہوں گا، اگر اس بار ہم کھڑے نہ ہوئے تو ساری زندگی جنازے اٹھاتے رہیں گے. وزیراعلی خیبر پختونخوا محمد سہیل خان آفریدی

Siddique Jan

48,216 просмотров • 7 месяцев назад

🚨امریکی CIA نے القاعدہ تک کیسے رسائی حاصل کی؟🚨 جان کریاکو کو القاعدہ کے چار ارکان کے ایک کافی شاپ میں روزانہ ملنے کی اطلاع ملی۔ اس نے عربی حلیے میں روزانہ وہاں جانا شروع کر دیا۔ پھر ان میں سے ایک عربی سے اس کا کیسے رابطہ ہوا؟ یہ سنسنی خیز کہانی سنیے: میں پاکستان میں تھا۔ مجھے ایک اطلاع ملی تھی کہ القاعدہ کے درمیانی سطح کے چند جنگجو روزانہ صبح دس بجے ایک کافی شاپ میں ملاقات کرتے تھے۔ میری عربی اس وقت بالکل درست اور فصیح تھی۔ میں نے آپریشنل وجوہات کی بنا پر ایک گھنی داڑھی رکھی ہوئی تھی۔ انٹرویو کرنے والے نے پوچھا : کیا میں آپ کی کچھ عربی سن سکتا ہوں؟ جان کریاکو نے جواب دیا : ہاں۔ "آپ سے مل کر خوشی ہوئی۔" بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمد للہ رب العالمین الرحمن الرحیم" میں نے ایک عربی اخبار خریدا اور کافی شاپ میں جا کر بیٹھ گیا، اور واقعی دس بجے وہ چاروں آ گئے۔ ان میں سے ایک نے میری طرف دیکھا، میں نے بھی اس کی طرف دیکھا، اور بس، ہماری نظریں ملیں۔ میں نے یہ ایک ہفتہ کیا۔ دوسرے ہفتے میں وہاں کافی پی رہا تھا، عربی اخبار کے ساتھ بیٹھا ہوا، اور وہ شخص جس نے پچھلے ہفتے میری طرف دیکھا تھا، اس نے سر ہلایا۔ تو میں نے بھی سر ہلایا، بس اتنا ہی —— کوئی اور بات چیت نہیں ہوئی۔ تیسرے ہفتے میں اب اس کے لیے باقاعدہ ایک شناسا انسان بن چکا تھا، وہ مجھے پہچانتا تھا۔ ایک دن اس نے مجھ سے کہا: "السلام علیکم" میں نے کہا: "وعلیکم السلام" — تم پر بھی سلامتی ہو۔ ایک دن وہ اکیلا آیا، تو میں نے کہا: "تفضل، براہ مہربانی بیٹھ جائیں۔ میرے ساتھ بیٹھیں، اس میں کوئی معنی نہیں کہ آپ اکیلے بیٹھیں اور میں اکیلے بیٹھوں۔" تو وہ بیٹھ گیا، ہم بات کرنے لگے، اور میں نے اس سے پوچھا کہ آپ پاکستان میں کب سے ہیں؟ اس نے کہا: میں پانچ سال سے یہاں ہوں۔ میں افغانستان میں تھا، میں نے امریکیوں کے خلاف جہاد کیا تھا۔ میں نے کہا: اوہ، وہ تو جہنم کی طرح رہا ہو گا۔ اس نے کہا: اوہ تورابورا کی بمباری تو وحشیانہ اور خوفناک تھی۔ میں نے کہا: اور آپ کا خاندان کیسا ہے؟ اس نے کہا: میری بیوی، بیٹا اور بیٹی قاہرہ میں ہیں۔ میں نے کبھی اپنے بیٹے سے ملاقات نہیں کی — وہ میری روانگی کے فوراً بعد پیدا ہوا تھا جب میں جہاد کے لیے گیا تھا۔ میں نے کہا: مجھے بہت افسوس ہے۔ اس نے کہا: ہاں، میں تنہا ہوں، اور میں گھر جانا چاہتا ہوں۔ اور ہم نے یہ رابطہ جاری رکھا۔ آخر کار ایک دن میں نے اس سے کہا: چلو، میں آپ کو ڈنر پر لے جاتا ہوں۔ کافی شاپ سے باہر چلیں۔ حقیقت یہ تھی کہ میں نہیں چاہتا تھا کہ اس کا کوئی دوست آ کر ہمیں دیکھ لے۔ تو ہم ایک ریسٹورنٹ میں ڈنر کے لیے گئے، اور میں نے کہا: سنیں، ایک چیز ہے جس میں میں نے آپ سے سچ نہیں بولا۔ میں لبنانی نہیں ہوں۔ دراصل، میں امریکی ہوں۔ کیا آپ اس سے ٹھیک ہیں؟ اس نے کہا: مجھے لگتا ہے ہاں۔ میں نے کہا: دراصل، میں سی آئی اے کا افسر ہوں۔ اس نے کہا: ٹھیک ہے۔ (وہ چیختا ہوا بھاگا نہیں، نہ ہی بندوق نکالی — کچھ نہیں کیا) اس نے پوچھا: آپ مجھے کیوں ملنا چاہتے ہیں؟ آپ مجھ سے بات کیوں کرنا چاہتے ہیں؟ میں نے کہا: دراصل، آپ کے پاس ایک چیز تک رسائی ہے جو میں چاہتا ہوں جو بہت مخصوص تھی۔ میں نے اسے بتا دیا کہ کیا چاہیے؟ اس نے کہا: اور آپ میرے لیے کیا کریں گے؟ میں نے کہا: آپ کے دل کی جو بھی خواہش ہو۔ اس نے کہا: میں گھر جانا چاہتا ہوں۔ میں نے کہا: میں یہ کر سکتا ہوں۔ (اور معلومات؟ ہاں، میں نے مخصوص معلومات چاہی تھیں جو میں نہیں بتاؤں گا۔) ورنہ میں جیل چلا جاؤں گا۔ تو ہم نے اس کے لیے پاسپورٹ کا بندوبست کیا، میں نے اس کے لیے فرسٹ کلاس ٹکٹ خریدا، اور اسے ایئرپورٹ تک چھوڑنے گیا، کچھ نقد رقم دی تاکہ وہ دوبارہ زندگی کی شروعات کر سکے۔ اور روانگی سے پہلے میں نے پوچھا: میں آپ سے ایک بات پوچھنا چاہتا ہوں — آپ مجھے یہ معلومات دینے پر کیوں رضامند ہوئے؟ میں تو غالباً آپ کا دشمن ہوں۔ اس نے کہا: میں یہاں پانچ سال سے ہوں، اور آپ پہلے شخص ہیں جس نے کبھی مجھ سے میرے خاندان کے بارے میں پوچھا۔ تو میں نے کہا: تم بہت خوش نصیب ہو، پھر میں اس سے کبھی نہیں ملا۔ یہی ہمارا کام ہے۔ John Kiriakou #CIA #JohnKiriakou #alQaeda #USA #Pakistan

اکرم راعی Akram Raee

135,433 просмотров • 5 месяцев назад

نواب اکبر بگٹی کی شہادت کے بعد ملتان سروسز کلب میں—اس زمانے میں سروسز تھا، پھر ایم جی ایم بنایا انہوں نے—ایک فل کرنل کے ساتھ میرا مذاکرہ ہوا، جو حاضر سروس تھا اور تازہ تازہ ڈیفر (defer) ہوا تھا کہ ترقی نہیں ہوئی تھی۔ بلوچستان پر گفتگو ہوئی تو میں نے اسے کہا کہ، ”یہ اکبر بگٹی کو آپ لوگوں نے اس حالت میں مار کے بہت بڑا نقصان کیا ہے، اپنا بھی اور ہمارے ملک کا بھی۔“ کہنے لگا کہ، ”نہیں، آپ کو نہیں پتا۔“ میں نے پوچھا کہ، ”کیا نہیں پتا؟ خیر بخش مری سے زیادہ نیشنلسٹ تو کوئی بھی نہیں ہے بلوچستان میں، نہ کوئی تھا۔ وہ تو کہتا ہے کہ اکبر بگٹی کبھی بھی ان کے ساتھ نہیں تھا، کاش کہ ان کے ساتھ ہوتا!“ پھر کہتا ہے کہ، ”نہیں، آپ لوگوں کو نہیں پتا۔“ میں نے کہا کہ، ”بتاؤ پھر۔“ وہی ٹپیکل منجن کہ وہ پاکستان دشمن ہو چکا تھا، نواب اکبر بگٹی۔ وہ ڈاکٹر کے ریپسٹ کو پکڑوانا—اگر وہ فوجی ہے—تو وہ پاکستان دشمن ہو گیا؟ جب ذوالفقار علی بھٹو نے فوج کشی کی، خیر بخش مری اور اس کے قبیلے کے خلاف، تو یہی نواب اکبر بگٹی اس وقت بھٹو کا گورنر تھا؛ اور ان کو بڑا پتا چلتا ہے کہ گورنر اسٹیٹ کا نمائندہ ہوتا ہے، حکومت کا نہیں۔ تھوڑی دیر تو میں نے اس کی بکواس برداشت کی، پھر میں نے کہا، ”کہاں کے رہنے والے ہو؟“ کہتا ہے، ”چکوال کا۔“ میں نے کہا، ”ریٹائرمنٹ کا کیا پلان بنایا ہے؟“ کہتا، ”یہ میری ذاتی زندگی ہے۔“ میں نے کہا، ”تمہاری ذاتی زندگی تمہارے باپ نے تمہیں دی ہے؟ تمہاری آبائی زمین کا نہیں پوچھ رہا، یہ پوچھ رہا ہوں کہ تم نے تنخواہ میرے سے لی ہے، ریٹائرمنٹ کی پینشن مجھ سے لو گے! دو تین ڈیفنسوں میں اور کنٹونمنٹ میں جو تمہیں پلاٹ مل رہے ہیں، یہ میری زمین ہے۔ تم چکوال میں جا کے استنجا کرو گے اور میں کوہِ سلیمان میں بیٹھتا ہوں۔ مجھے دوسری سائیڈ والے بلوچ بے غیرت کہتے ہیں کہ میں پنجابیوں کے ساتھ ملا ہوا ہوں۔ تم ریٹائرمنٹ کے بعد چکوال میں جا کے بیٹھو گے اور میں وہیں بیٹھوں گا، ڈائریکٹ ان کی ہٹ (hit) میں!“ یہ ہیں جی ہمارے فیصلے کرنے والے، اور ان کا والد ان کے ورثے میں وہ ٹکسال بھی چھوڑ کے گیا تھا، جس میں یہ غدار اور غیر مسلم کا سرٹیفیکیٹ جاری کرتے ہیں! آخری بات بھی تم لوگوں نے کہ اب سخت فیصلے کیے جائیں گے، مجھے اپنے تین سالہ دور میں نرم فیصلے بتاؤ ؟ پنجاب پہ کوئی نرم فیصلہ کیا ہے ؟ فاٹا کشمیر اور بلوچستان میں کوئی نرم فیصلہ کیا ہے ؟ سندھ زرداری کو دے کہ تو کوئی سندھ پہ نرم فیصلہ کیا ہے ؟ سب سے بڑی پولیٹیکل پارٹی کو اس حد تک دیوار سے لگا کے تو تم نے ملک پہ کوئی نرم فیصلہ کیا ہے ؟ ڈروز وقت سے کہ یہ سب مل کے جب تم پہ ایک سخت فیصلہ مسلط کریں گے !

Jack~The~Ripper

19,361 просмотров • 1 месяц назад

میں آج آپ سے کچھ شکایات کرنے آیا ہوں۔ سیاست میں ایسا ہوتا ہے پریس کے لوگ باتیں کرتے ہیں ان کا حق ہے اور پریس کی آزادی ہونی چاہیے۔ لیکن اونٹ پٹانگ قسم کی باتیں بے بنیاد باتیں اور بغیر ثبوت کے باتیں (مناسب نہیں)۔ ​میں گاؤں گیا ہوا تھا وہاں میں سن رہا تھا کہ میڈیا پر آ رہا ہے کہ 'لیڈر آف دی اپوزیشن' صاحب نے پتا نہیں اپنے خاندان کے لوگوں کو کہاں کہاں لگایا ہے بہت بڑی مراعات کا مطالبہ کیا ہے اور اسپیکر کو پتا نہیں کیا کیا خطوط لکھے ہیں۔ ​میں چاہتا تو اس پر 'پریولج موشن' (تحریکِ استحقاق) لا سکتا تھا، لیکن میں ان باتوں میں پڑتا نہیں۔ آج میں نے مختصر بات کی جو ان حالات میں ضروری باتیں تھیں، میں نے اس کا (مراعات کا) ذکر نہیں کیا۔ ​صرف وضاحت کے لیے عرض ہے کہ جب سے میں اپوزیشن لیڈر بنا ہوں، شاید میرا صرف ایک خط گیا ہو اسپیکر کے پاس اور وہ بھی بہت معمولی بات کے لیے تھا۔ ​لیڈر آف دی اپوزیشن کے لیے وہی مراعات ہوتی ہیں جو ایک وفاقی وزیر (Federal Minister) کی ہوتی ہیں۔ لیڈر آف دی اپوزیشن کو رہنے کے لیے گھر دیا جاتا ہے، پتا نہیں کتنی گاڑیاں دی جاتی ہیں۔ میں جب سے اپوزیشن لیڈر بنا ہوں، میں نے اپنے پولیس اسکاٹ (محافظ دستے) کو بھی کہہ دیا ہے کہ میرے ساتھ مت جاؤ۔ ​ مجھے تو جو گھر سرکاری ملا ہوا ہے وہ گھر پر تو رانا ثنا اللہ خان رہتا ہے میں نے تو اس کو بھی وہاں سے جانے کو نہیں کہا میں کرائے پہ بھی حکومت پاکستان کی طرف سے گھر لے سکتا تھا میں نے وہ بھی نہیں لیا. نہ ہی میں نے کوئی ذاتی لوگوں کو قومی اسمبلی میں بھرتی کروایا ہے نہ ہی ایسا ہو سکتا ہے دوسرا نہ ہی میں نے کوئی مرات لی ہے نہ ہی مجھے ضرورت ہے قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی کا کچھ صحافیوں کی جانب سے کیے جانے والے نامناسب پروپیگنڈے پر جواب

Tehreek-e-Tahafuz-e-Ayin-e-Pakistan

34,798 просмотров • 4 месяцев назад

عمران خان کے صحت کے حوالے سے جو رپورٹ آئی ہے اس پر پوری قوم کو تشویشِ ہے اور ہماری تشویش تب ختم ہوگی جب عمران خان کو ان کی فیملی اور ذاتی معالجین کے روبرو بہترین ہسپتال میں شفٹ کیا جائے گا۔ کل چونکہ کیس لگا ہوا ہے تو ہماری عدالت سے یہ التجا، درخواست اور ڈیمانڈ ہے کہ عمران خان کو انصاف دیا جائے۔ ہم صرف انصاف چاہتے ہیں اور میرٹ پر۔ آپ کو یاد ہوگا جب نواز شریف جیل میں تھے اور بیمار تھے تو ہماری حکومت نے ان کو ہسپتال منتقل کیا، ان کو پوری سہولت دی۔ جتنی دیر وہ ہسپتال میں رہے، ہم نے اس میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی۔ پھر اس کے بعد ان کا جو پلیٹ لیٹس کا مسئلہ آیا تو ایک رپورٹ آئی، آپ کو پتا ہے اس کی کیا پوزیشن تھی، لیکن اس کی بنیاد پر ڈاکٹر یاسمین راشد کی سفارش پر، جو خود اس وقت بیمار اور جیل میں ہیں اور کینسر سے سروائیور ہیں، ان کی رپورٹ پر حکومت نے فیصلہ کیا کہ اگر عدالت فیصلہ کرتی ہے تو حکومت اس میں کوئی رکاوٹ نہیں بنے گی۔ اس وقت تو بدترین انسانی حقوق کی پامالی ہو رہی ہے۔ ہمارا مطالبہ تو یہ ہے کہ عمران خان کے جتنے بھی کیسز ہیں، ان میں انصاف کیا جائے۔

Asad Qaiser

12,344 просмотров • 15 дней назад

بنوں میں امن کی آواز اٹھانے والے پر امن لوگوں پر سیکورٹی فورسز کی فائرنگ ناقابلِ یقین اور افسوسناک عمل ہے پتا نہیں طاقتور حلقے ملک کو کس طرف لے جانا چاہتے ہیں، آپریشنز اور جنگ تو خود ہی ایک مسئلہ ہیں یہ مسئلوں کا حل کیا دیں گے، عمران خان نے بلوچستان، سندھ، خیبرپختونخواہ اور قبائلی علاقوں میں فوجی آپریشنز کی ہمیشہ سے مخالفت کی ہے اور معاملات کے سیاسی حل اور بات چیت کے حامی رہے ہیں، عمران خان نے 9/11 کے بعد امریکہ کے افغانستان پر حملے کی سی این این پر تب مخالفت کی تھی جب جنرل مشرف سمیت پوری دنیا امریکہ کے آگے لیٹ گئی تھی، 'وار آن ٹیرر' کے نام پر اس جنگ سے پاکستان کی اکانومی کو تقریباً 100 بلین ڈالر کا نقصان ہوا ایک لاکھ سے زیادہ شہادتیں ہوئیں اور امریکہ نے کھربوں ڈالرز گنوا کر 20 سال بعد پھر وہی کام کیا جو عمران خان نے بتایا تھا یعنی مذاکرات کر کے امریکہ اور نیٹو افغانستان سے نکلے۔ عمران خان کی اسی پالیسی کیوجہ سے خیبرپختونخواہ میں پاکستان تحریک انصاف کی گزشتہ حکومت میں دہشت گردی کا تقریباً خاتمہ ممکن ہوا جس میں خیبرپختونخواہ حکومت کو عوام کا تعاون حاصل تھا، عوام کے تعاون کے بغیر کہیں بھی امن و امان قائم نہیں کیا جا سکتا ہے، فارم 47 کی وفاقی حکومت اور اس کے ھینڈلرز کو نہ ہی عوام کی حمایت حاصل ہے اور نہ انہیں آپریشنز اور جنگ کی تباہ کاریوں کا احساس ہے کیونکہ ان تمام لوگوں کے کاروبار اور جائیدادیں ملک سے باہر پڑی ہوئی ہیں اور استحکام کے نام پر آپریشن اور تباہی پھیلا کر ڈالرز جمع کر کے یہ سب ملک سے باہر بھاگ جائیں گے اور عوام دربدر ہو جائے گی اسی وجہ سے عمران خان نے جیل سے اس مرتبہ بھی خیبرپختونخواہ میں کسی بھی قسم کے آپریشن اور طاقت کے استعمال کی مخالفت کی ہے اور ملک کی 95 فیصد عوام کو عمران خان پر اعتماد ہے۔ #BannuBleed #BannuAmanMarch #UndeclaredMartialLaw

Qasim Khan Suri

28,531 просмотров • 2 лет назад