Video yükleniyor...

Video Yüklenemedi

Ana Sayfaya Dön

جب امریکہ کا ارماڈا ناکام ہوگیا ہے تو دنیا کی کوئی اور طاقت جرات نہیں کر سکتی کہ اسکے قریب جائے اور ہرمز کو کھلوا پائے۔ اسکے repercussions ہیں۔ دنیا کی سپر پاور، سب سے بڑی ہوائی اور نیول طاقت کی جب اسطرح ناکامی ہوتی ہے تو انکے اپنے...

26,552 görüntüleme • 6 ay önce •via X (Twitter)

0 Yorum

Yorum bulunmuyor

Orijinal gönderinin yorumları burada görünecek

Benzer Videolar

میرے خیال میں اب صورت حال وہ نہیں ہے اب امریکہ سپر طاقت نہیں رہا ہے، وہ اپنا ایک بھرم رکھنے کے لئے یہ سارا کچھ کر رہا ہے، بلکہ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ شاید ٹرمپ اپنے ذاتی دفاع کیلئے یہ سب کچھ کر رہا ہے، امریکہ کی دفاع کیلئے بھی نہیں کر رہا اور وہاں پر اس وقت امریکہ کی عوامی تائید بھی اس وقت حاصل نہیں ہے، بڑا سوال یہ ہے کہ جس شخص نے الیکشن لڑا کہ دنیا سے جنگ ختم کروں گا اس نے اقتدار میں آ کر دنیا پر جنگ مسلط کر دی ہے یہ خود امریکیوں کے اور امریکی عوام کے نظر میں بھی ایک سوالیہ نشان ہے۔ سو اس وقت پوری دنیا ازسر نو سوچ رہی ہے اور ظاہر ہے سوویت یونین کی ٹوٹنے کے بعد ہم پہلے سے کہہ رہے ہیں کہ عالمی تبدیلی اور تغیرات آئیں گی سو اس وقت پوری دنیا امریکہ سے لے کر روس تک اور چین تک یہ عالمی تغیرات کی زد میں ہیں اور ہمیں خود بیٹھ کر خود اعتمادی کے ساتھ اپنے مستقبل کو خود تراشنا ہوگا۔ ہمیں یہی سوال ہے کہ اس وقت ثالثی کی باتیں بھی ہو رہی ہیں کیا پاکستان اس پوزیشن میں ہے کہ وہ ثالثی کر سکے اور شہباز شریف جیسے حکمران کے ٹویٹ پر ٹرمپ کا ٹویٹ آنا خود ٹرمپ کی کمزوری اور امریکی پالیسی کی کمزوری کی عکاس ہے۔ سو اس حوالے سے ہمیں سوچنا چاہیے۔ صحافی: کیا ہماری طاقت عکاس نہیں ہے؟ نہیں پاکستان بہرحال محاصرے میں ہے اور سوائے ثالثی کے کردار کے ہمارے پاس اور کون سا راستہ ہے؟ جب تک ہمارے دماغ سے یہ کیڑا نہیں نکلے گا کہ ہم نے افغانستان کو زیر نگیں رکھنا ہے اور افغانستان میں کوئی حکومت وہ ہماری مرضی کے بغیر نہیں چلے گی اس وقت تک معاملات ٹھیک نہیں ہو سکتے، ہمیں ایک آزاد افغانستان ایک صاحب استقلال افغانستان ایک خودمختار افغانستان اس پر توجہ رکھنی چاہیے اور ماضی کے جو ہمارے اس حوالے سے قربانیاں ہیں ان کو کسی ایک کامیاب نتائج تک ہمیں پہنچانا چاہیے۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ افغانستان میں سفارتی جو ہماری ستتر یا اٹھتر سالہ کوششیں ہیں وہ اب تک کیوں ناکام ہیں یہ مستقل ایک سوال ہے، یہ کافی نہیں ہے ہم نے بڑی کوشش کی اور افغانی نہیں مانتے اور ہم نے بڑی کوشش کی اور افغانی نہیں مانتے، مسئلہ یہ نہیں ہے، مسئلہ یہ ہے کہ کیوں نہیں مانتے، کیا ساری غلطیاں ستتر سال سے انہی کی طرف ہیں اور کیا ہمارے طرف بلکل کوئی غلطی نہیں ہے، یہ بھی ہمیں قومی سطح پر سوچنا چاہیے، افغانستان صرف حکومت کا نام نہیں ہے، افغانستان صرف وہاں امارت اسلامیہ کا نام نہیں ہے، افغانستان وہاں کے عوام کا بھی نام ہے، افغان قوم کا نام ہے، افغان قوم کے ہمارے ساتھ رشتے ہیں، ہمارے ساتھ ان کے تعلقات ہیں، ہمارے ساتھ ان کی برادریاں شریک ہیں اور ہمارے ساتھ ان کی معاشرت شریک ہے، ان تمام رشتوں کو سامنے رکھتے ہوئے ہمیں افغانستان کے حوالے سے سوچنا چاہیے، یہ ہر وقت رجیم چینج اور رجیم چینج کے باتیں یہ شاید نہ ختم ہونے والا سلسلہ بنے، ہم نے ظاہر شاہ کے خلاف انقلاب کی حمایت کی، پھر اس کے بعد کمیونسٹ انقلاب آیا پھر ہم نے ان کے خلاف جہاد اس وقت ہم امریکہ جب آیا تو ہم بھی شامل ہو گئے، پھر وہی امریکہ تھا اس نے طرف تبدیل کر دیا تو مشرف کے زمانے میں ہم پھر امریکہ کی جنگ لڑ رہے تھے، آج ہم پھر ایک دفعہ امریکہ کی خواہشات کی مطابق، یہ کیسا امریکہ ہے کہ پاکستان کی اگر انڈیا سے لڑائی ہو تو کریڈٹ لیتا ہے کہ میں نے جنگ بند کرا دی اور اگر افغانستان کے ساتھ لڑائی ہو جائے تو کہتے ہیں پاکستان ٹھیک جا رہا ہے اس کو اور کرنا چاہیے۔ تو یہ چیزیں ان کی بدنیتی پر دلالت کرتی ہے اور ہمیں کسی کے ٹریپ میں نہیں آنا چاہیے وہ اب خود ٹریپ میں آ چکے ہیں، پھنسے ہوئے ہیں، مشکلات کے شکار ہیں اور وہ کامیابیاں حاصل نہیں کر پا رہے ہیں، پاکستان کو ہر قدم احتیاط سے اٹھانا چاہیے اور پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینا چاہیے۔ دیکھیے سفارت کاریاں حکومتوں کا کام ہے، ریاستوں کا کام ہے، پارٹیوں کا کام نہیں ہوتا ہے، ہم پبلک ٹو پبلک ریلیشنز جو ہیں اس میں مدد دے سکتے ہیں، ہم سب مسلمان ہیں ہم سب بھائی بھائی ہیں ہم ایک دوسرے پر ڈیپنڈ کر رہے ہیں، لیکن عوام کی ضرورتوں اور خواہشات کو مد نظر رکھتے ہوئے ریاستیں فیصلہ کریں، بین الاقوامی قوتوں کے تابع فیصلہ نہ کریں، اپنے ملک کے عوام کے خواہشات اور ان کی ضرورتوں کے تابع فیصلے کریں۔ امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کی ڈیرہ اسماعیل خان میں گفتگو

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

17,445 görüntüleme • 6 ay önce

2006 میں کوہلو سے لاپتہ ہونے والی زرینہ مری کی بہن "زیم ٹی وی" سے بات کررہی ہیں جنکا کہنا ہے کہ ان کی بہن ایک سکول کے ٹیچر تھیں اور انہیں پاکستانی فوج نے لاپتہ کردیا تھا. پاکستان میں حال ہی تک تنخواہیں اور ریکارڈز کو مینول طریقے سے اندراج اور انکی ادائگی ہوتی رہی ہے۔ تو ایک ہاتھوں سے لکھی گئی ریکارڈ کیپنگ سسٹم سے کسی کا نام غائب کرنا کوئی مشکل بات نہیں۔ یہاں افغانستان اور ایران سے آئے غیر ملکی لوگوں کو بلوچستان کا با شندہ بنانا اور انہیں عوامی نمائندہ دکھا کر انتخابات کروائے جا سکتے ہیں تو انکا نام مٹانا کوئی بڑی بات نہیں۔ زرینہ مری کی فیملی 2013 تک سراپہ احتجاج رہی ہیں۔ یہ انٹرویو 2012 کی ہے جن میں انکی بہن کو دیکھا جا سکتا ہے۔ جب پنجاب میں یونیورسٹی میں ریپ کا پروپیگینڈا کیا گیا تھا تو نا مجرم کا پتہ تھا لوگوں کو اور نہ ہی جسکا ریپ ہوا تھا کیونکہ وہ جھوٹ تھا۔ اور یہاں انکی بہن سامنے ہیں, کاغزی کاروائی سے آپ کسی انسان کے وجود کو نہیں ختم کر سکتے۔ یہ انکی فیملی ہے، انکی فیملی کو ٹریس کر کے انکے وجود کا پتہ انکے ہمسایوں، علاقہ مکینوں اور بلوچ قوم سے معلوم کی جا سکتی ہے۔ #ReleaseZarinaMarri

Naeema Zehri

31,593 görüntüleme • 1 yıl önce

کبھی لوٹ آئیں تو پوچھنا نہیں دیکھنا انہیں غور سے جنہیں راستے میں خبر ہوئی کہ یہ راستہ کوئی اور ہے ——————————— جناب سلیم کوثر کی غزل میری پسندیدہ ترین غزلوں میں سے .... میں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہے سر آئینہ مرا عکس ہے پس آئینہ کوئی اور ہے میں کسی کے دست طلب میں ہوں تو کسی کے حرف دعا میں ہوں میں نصیب ہوں کسی اور کا مجھے مانگتا کوئی اور ہے عجب اعتبار و بے اعتباری کے درمیان ہے زندگی میں قریب ہوں کسی اور کے مجھے جانتا کوئی اور ہے مری روشنی ترے خد و خال سے مختلف تو نہیں مگر تو قریب آ تجھے دیکھ لوں تو وہی ہے یا کوئی اور ہے تجھے دشمنوں کی خبر نہ تھی مجھے دوستوں کا پتا نہیں تری داستاں کوئی اور تھی مرا واقعہ کوئی اور ہے وہی منصفوں کی روایتیں وہی فیصلوں کی عبارتیں مرا جرم تو کوئی اور تھا پہ مری سزا کوئی اور ہے کبھی لوٹ آئیں تو پوچھنا نہیں دیکھنا انہیں غور سے جنہیں راستے میں خبر ہوئی کہ یہ راستہ کوئی اور ہے جو مری ریاضت نیم شب کو سلیمؔ صبح نہ مل سکی تو پھر اس کے معنی تو یہ ہوئے کہ یہاں خدا کوئی اور ہے سلیم کوثر

اردو ورثہ

33,878 görüntüleme • 1 yıl önce