Video yükleniyor...

Video Yüklenemedi

Ana Sayfaya Dön

جب فیض حمید سے کہا کہ میں تو نواز شریف کیس کا فیصلہ میرٹ پر فیصلہ کرونگا تو اس پر فیض حمید نے وہ تاریخی جملہ کہا "اس طرح تو ہماری دو برس کی محنت ضائع ہوجائیگی"، جسٹس شوکت صدیقی

46,872 görüntüleme • 2 yıl önce •via X (Twitter)

0 Yorum

Yorum bulunmuyor

Orijinal gönderinin yorumları burada görünecek

Benzer Videolar

🚨🚨🚨 مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ میں عمران خان کی حکومت میں آزاد ہوئی، انہوں نے مجھے فرانس بھیجا، آسیہ ملعونہ اس وقت عمران نیازی اور اس کے ذہنی غلام شخصیت پرست یوتھیے بھاولے ہو رہے تھے کہ یہ عدالت کا فیصلہ ہے اس میں حکومت یا عمران خان کا کوئی قصور نہیں ہے، حالانکہ ریکارڈ پر ہر چیز موجود ہے جیسے کہ عمران نیازی نے امریکہ میں خود کیمرے کے سامنے اعتراف کیا کہ ہم نے ایک مذہبی سیاسی جماعت کے قائدین کو جیلوں میں ڈالا اور آسیہ کی رہائی ممکن بنائی، عمران نیازی نے یہ بھی کہا کہ اس سے پہلے کسی اور حکومت نے یہ جرت نہیں کی کہ اس کو رہا کر کے باہر بھیجتے یہ کام میری حکومت نے کیا ہے، پہلے تو کہہ رہے تھے یہ عدالت کا فیصلہ ہے پھر خود ہی اپنی زبان سے اقرار کہ کہاں ہم نے رہا کروایا۔ اب کل بلہ کیس پر سپریم کورٹ نے فیصلہ سنا دیا بلہ پی ٹی آئی سے چھن گیا، اب یہ بھی تو سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے۔ منافقوں
0:30

Sensitive content

🚨🚨🚨 مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ میں عمران خان کی حکومت میں آزاد ہوئی، انہوں نے مجھے فرانس بھیجا، آسیہ ملعونہ اس وقت عمران نیازی اور اس کے ذہنی غلام شخصیت پرست یوتھیے بھاولے ہو رہے تھے کہ یہ عدالت کا فیصلہ ہے اس میں حکومت یا عمران خان کا کوئی قصور نہیں ہے، حالانکہ ریکارڈ پر ہر چیز موجود ہے جیسے کہ عمران نیازی نے امریکہ میں خود کیمرے کے سامنے اعتراف کیا کہ ہم نے ایک مذہبی سیاسی جماعت کے قائدین کو جیلوں میں ڈالا اور آسیہ کی رہائی ممکن بنائی، عمران نیازی نے یہ بھی کہا کہ اس سے پہلے کسی اور حکومت نے یہ جرت نہیں کی کہ اس کو رہا کر کے باہر بھیجتے یہ کام میری حکومت نے کیا ہے، پہلے تو کہہ رہے تھے یہ عدالت کا فیصلہ ہے پھر خود ہی اپنی زبان سے اقرار کہ کہاں ہم نے رہا کروایا۔ اب کل بلہ کیس پر سپریم کورٹ نے فیصلہ سنا دیا بلہ پی ٹی آئی سے چھن گیا، اب یہ بھی تو سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے۔ منافقوں

Khawaja Yaseen Usmani

73,638 görüntüleme • 2 yıl önce

شکر، صد شکر کہ فیض حمید جیسا کوئی سابق DG ISI اور طاقتور ترین جرنیل سیاسی مداخلت جیسے الزامات کی فرد جُرم کا سامنا کر رہا ہے، فیض حمید کی فرد جُرم کا مطلب ہے کہ انہوں نے حلف توڑا اور آئین سے غداری کی لہذا اس پر آرٹیکل 6 بھی لگانا چاہیے۔ میں تو کہوں گا کہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی جنرل پاشا اور جنرل ظہیر الاسلام پر بھی سیاست میں مداخلت کا الزام لگاتی رہی ہیں، ن لیگ کو اب تو ہمت کرتے ہوئے ان دونوں جرنیلوں کا بھی احتساب شروع کر دینا چاہیے۔ اگر کوئی کسی اور سابق جج یا جرنیل کا احتساب کروانا چاہتا ہے تو میں اسکے ساتھ بھی غیر مشروط کھڑا ہوں اب آ جائیں کہانی کے دوسرے رخ کی طرف: جنرل باجوہ نے بطور آرمی چیف قوم کے سامنے اعتراف کیا کہ انکے دور سمیت 70 سال تک فوج سیاست میں مداخلت کرتی رہی، باجوہ کے دور میں ہی فیض حمید ISI میں ایک اعلیٰ عہدہ پر فائز تھا اور پھر باجوہ دور میں ہی DG ISI بنا، کیا باجوہ فیض حمید کے سیاسی جرائم سے بری الذمہ ہو سکتا ہے؟ اسوقت سپریم کورٹ کا آئینی بنچ جنرل اسلم بیگ اور مرحوم حمید گُل جیسے جرنیلوں کی بنائی ہوئی IJI کا کیس بھی سن رہا ہے جس میں فوج نے سیاستدانوں میں پیسے بانٹے۔ جو فیض حمید کے ہم پلہ جرم تھا، لہذا کیا ہی کمال ہو جائے کہ IJI بنانے والے جرنیلوں کا بھی احتساب ہونے دیا جائے۔ تیسری اور آخری بات، پرویز مشرف کو بھی پھانسی دینے کی سزا پشاور ہائیکورٹ کے جج نے سنائی تھی لیکن کوئی مائی کا لال مشرف کو ہاتھ نہیں لگا سکا خلاصہ: اگر ریاست واقعی احتساب کی دلداہ ہے تو پھر باجوہ سے لیکر اسلم بیگ تک کا بھی احتساب کیا جائے ورنہ مورخ یہی کہے گا کہ فیض حمید بہانہ تھا عمران خان نشانہ تھا

Ameer Abbas

81,422 görüntüleme • 1 yıl önce