Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

"جب کوئی بندہ اٹھایا جاتا ہے اور ہم درخواست دیتے ہیں کہ جناب یہ بندہ ریاست اٹھا کر لے گئی ہے اس کو کل کے لیے فکس کر لیں درخواست کو تو ہمیں اگے سے اتنا غیر سنجیدہ رسپانس دیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ دیکھیں جی...

53,569 Aufrufe • vor 1 Jahr •via X (Twitter)

7 Kommentare

Profilbild von Sultana Akram
Sultana Akramvor 1 Jahr

ہماری سب سے بڑی غلطی ہم 22 گریڈ کے ملازمین کو ریاست قرار دے کر انہیں بہت غیر قانونی اختیارات دیتے ہیں ریاست عوام کی منتخب کردہ حکومت کا نام ہے جو عوام پہ ٹیکس لگانے کا اختیار رکھتی ہے یہ عوامی حکومت کے ماتحت ادارہ ہے جو ریاست کا ٹھیکہ اٹھا کے جگہ جگہ ریاست کو زلیل کر رہا ہے

Profilbild von Farhan Ahmed🇵🇰
Farhan Ahmed🇵🇰vor 1 Jahr

عمران ریاض کے مطابق

Profilbild von 𝐏𝐓𝐈_𝐋𝐨𝐯𝐞𝐫
𝐏𝐓𝐈_𝐋𝐨𝐯𝐞𝐫vor 1 Jahr

@ap__jnab اِس ملک کے وردی والے اس ملک کی عوام کے خون کے پیاسے بن چکے ہیں پورے ملک میں جنگل کا قانون ہے

Profilbild von khuram shahzad
khuram shahzadvor 1 Jahr

#نظریہ_عمران_نہ_مٹ_سکے_گا

Profilbild von RedDeer.Games IR
RedDeer.Games IRvor 1 Jahr

🎹 Master the Piano on Your Nintendo Switch with "Piano: Learn and Play"! 🎶 #RT🙏 🎹👉 Unlock the joy of music: Easy tutorials 📘 Songs for all levels 🎼 Fun for all ages 🎉 Start your musical journey today! 🌟 Play now! #Piano #NintendoSwitch #NS2

Profilbild von Jehanzeb Asghar
Jehanzeb Asgharvor 1 Jahr

#HumanRights #hrw

Profilbild von Sajida Shafiq
Sajida Shafiqvor 1 Jahr

کوئ حال نہی پیارے پاکستان میں💔

Ähnliche Videos

میری ماہ رنگ بلوچ کی جو بہن ہے، نادیہ بلوچ، ان سے اور وہ باقی جو ان کی سینئر رہنما ہے، سمی دین بلوچ، ان سے تفصیلی بات ہوئی ہے۔ اور میں آپ کو بتاؤں کہ پچھلے دس دن سے وہ بل... جو جیل میں ہیں وہاں پہ انہوں نے دھرنا دے رکھا ہے۔ اور اس بنیاد پہ انہوں نے دھرنا دیا ہے کہ ان کو، اب عدالت یہ کہہ رہی ہے، پراسیکیوشن یہ کہہ رہی ہے کہ ان کو ہم عدالت نہیں لا سکتے، ان کا جو ہے نہ وہ موبائل پہ جو فیس ٹرائل ہے وہ، اس طرح کا ٹرائل کریں۔ تو اس کے خ... خلاف انہوں نے دھرنا دے رکھا ہے۔ یہ ان کا، یہ سیاسی قیدی ہیں۔ ​یہ سیاسی قیدی ہیں اور سیاسی قیدیوں کو سیاسی قیدیوں کی طرح ہی ٹریٹ کیا جائے۔ یہ خدانخواستہ کوئی ملک دشمن عناصر نہیں ہیں۔ بلوچستان آگے اس میں جو ہے نہ آپ کو سب کو پتا ہے کہ بلوچستان کے اس وقت حالات کیا ہیں؟ بلوچستان کے اندر لاء اینڈ آرڈر کی سچویشن کیا ہے؟ اور آپ اس میں پھر جمہوری آوازوں کے ساتھ اس طرح کا رویہ رکھ رہے ہیں۔ ​پرسوں اختر مینگل صاحب کی پارٹی کے ایک سینئر رہنما کو ان کے گھر کے دہلیز پہ شہید کیا گیا اور کلاشنکوف کے بٹ سے مار کر شہید کیا گیا۔ پھر لواحقین کو ان کی لاش حوالے نہیں کی گئی۔ پھر اختر مینگل صاحب اور ان کی پارٹی کے باقی لوگ ان کے گھر جانا چاہتے تھے، ان کی رسائی روک دی گئی۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے اسیران کے ساتھ آپ کا یہ رویہ ہے، تو ہم آپ سے پھر یہی پوچھنا چاہتے ہیں کہ آپ خدارا اس ملک کو کس طرف لے کے جانا چاہ رہے ہیں؟ ​تو ہمارا یہ مطالبہ ہے کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جتنے بھی اسیران ہیں، ان کا آئینی اور قانونی حق ہے کہ ان کا عدالتی ٹرائل اسی طرح ہو جس طرح باقی ملزمان کے ساتھ ہوتے ہیں

Tehreek-e-Tahafuz-e-Ayin-e-Pakistan

12,890 Aufrufe • vor 3 Monaten

کیا دہشتگردی ختم ہوگئی؟آپ اور ہم جس صوبے سے تعلق رکھتے ہیں، پورے طول و عرض پر آپ نظر ڈال لیں، کہیں پر امن ہے؟ اور صرف بدامنی کی بات نہیں کر رہا، بدامنی اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ حکومتی رِٹ ختم ہو رہی ہے، پولیس کا چین آف کمانڈ ٹوٹ گیا ہے۔ لکی مروت میں، بنوں میں، ٹانک میں پولیس جو ہے، وہ آزاد ہو گئی ہے اور اس نے اپنی امن کمیٹیاں بنا لی ہیں، اور وہ وردی بھی نہیں پہن رہے، اور کانسٹیبل جو ہے، وہ خود اپنا نظام اپنے ہاتھ میں لیے ہوئے ہیں۔ نہ کوئی ڈی پی او کا آرڈر چلتا ہے، نہ کوئی ڈی آئی جی کا آرڈر چلتا ہے، نہ کوئی آئی جی کا آرڈر چلتا ہے۔ پرسوں ترسوں ہمارے بنوں کے ڈی آئی جی کی جو سیکیورٹی ہے، وہ ایک کانسٹیبل نے کِلوز کی ہے۔ ایک کانسٹیبل نے آرڈر دیا کہ سب یہ ڈیوٹی چھوڑ دو، آ جاؤ واپس۔ یہ حالت ہے! اب اس حالت میں ہم زندگی گزار رہے ہیں۔ کب تک ہم یہ زندگی اس طرح گزارتے رہیں گے؟ اور کہہ رہے ہیں کہ ہم ٹھیک کریں گے، ہم لڑیں گے۔ وہ ایک چڑیا ہے، وہ کہتا ہے: بلوچستان کےلئے تو ایک تھانیدار کی مار ہے۔ بس ،، تمہارے تھانیداروں کا کیا حشر کر دیا۔ تمہارے تھانوں کا کیا حشر کر دیا؟ کچھ تو حقائق کی طرف جاؤ۔ تو جب ہم حقائق کی طرف جائیں گے تو پھر ہم اس کے بعد مشاورت تو ہونا ہے۔ اب شہباز شریف بیچارہ وزیر اعظم ہے، پوری دنیا میں جاتا ہے، اور اگر وہ قابلِ قبول ہوگا تو آرمی چیف کو ساتھ لے کر جائے گا، ورنہ پھر اس کو کوئی ہاتھ بھی نہیں ملائے گا۔ بھئی، تم باہر جاؤ، تمہیں کوئی عزت دے، ہم اس کو پاکستان کی عزت کہیں گے، لیکن آپ کے ملک کے اندر کی سرزمین خون سے سرخ ہے اور تم باہر دنیا میں ریڈ کارپٹس کو انجوائے کر رہے ہو، کوئی احساس نہیں آپ کو؟ اسی سے گزارہ کر رہے ہو، کہ فلاں ملک پر آپ اتر رہے ہیں، ریڈ کارپٹس پر جا رہے ہیں، آپ کا استقبال ہو رہا ہے، بادشاہ آپ کا استقبال کر رہے ہیں۔ یہ ساری چیزیں ہیں۔ ہاں، کوئی جائز کام ہے، اگر آپ نے سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ کیا، جمعیت اس کو سپورٹ کرتی ہے۔ اگر اس پر ترکی شامل ہو گیا، ہم سپورٹ کرتے ہیں۔ جمعیت علماء اسلام کا منشور ہے: ایک اسلامی بلاک کا قیام۔ اگر اور اسلامی ممالک اس میں شامل ہوتے ہیں، اور یہ درحقیقت اس طرف ایک قدم ہے کہ اسلامی دنیا امریکہ پر اپنا انحصار ختم کرے، اور باہم یہ اپنی قوت کو مجتمع کرے، تو اگر کوئی ایسی بات ہوتی ہے تو ہم نے تو اختلاف نہیں کیا۔ اختلاف برائے اختلاف نہیں ہو رہا، ورنہ ہم یہاں بھی اختلاف کرتے ہیں۔ تو آپ کیوں جا رہے ہیں؟ آپ تو نمائندے نہیں ہیں پاکستان کے، آپ کی حکومت تو جعلی ہے اور واقعی جعلی ہے، اس میں بھی کوئی شک نہیں۔ اور پھر اقلیت حکومت کر رہی ہے۔ پیپلز پارٹی حکومت کا حصہ نہیں ہے، صرف آئینی عہدے لئے ہوئے ہیں ۔ گلگت میں الیکشن ہے، ایک دوسرے کے خلاف بول رہے ہیں، مقابلہ ہے ان کا۔ کشمیر میں الیکشن ہے، ایک دوسرے کے خلاف بول رہے ہیں، بھرپور بول رہے ہیں۔ اور اسمبلی میں آ کر بیٹھتے ہیں تو پہلے اختلاف کرتے ہیں، پھر جب ووٹ کا وقت آتا ہے،،،،،،،،،،،،،،، اس قسم کی ایک سیاست ہے جو ملک کے اندر چل رہی ہے۔ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن کا پشاور میں خطاب

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

14,527 Aufrufe • vor 29 Tagen

نئے صوبوں سے متعلق سوال پر امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کا جواب: ایک بات میں پہلے آپ صحافیوں سے کرنا چاہوں گا جی، ذرا مہربانی کریں، آپ میڈیا کی دنیا میں حمایت اور مخالفت کی لکیر نہ کھینچیں۔ یہ ایک ڈیبیٹیبل ایشو ہے اور اس پر مختلف پہلوؤں سے بات ہو سکتی ہے۔ اصولی طور پر ایک مسئلے کی پوزیشن اور ہوتی ہے، عملی طور پر جب آپ آتے ہیں تو پھر اس کی صورت اور ہوتی ہے۔ اصولی طور پر آپ کو حق ہے کہ آپ اپنا گھر بنائیں، لیکن کیا آپ کے پاس وسائل ہیں کہ آپ بنا سکیں؟ وسائل نہیں ہیں، جیب خالی ہے اور آپ جا کر وہاں اینٹیں رکھنا شروع کر دیں تو لوگ کہیں گے کہ یہ کیا کر رہا ہے؟ تو وہ ایک خامخواہ ضائع ہونے والی بات ہو جاتی ہے۔ میری اپنی ذاتی رائے یہ ہے کہ اصولی طور پر تو ہم یونٹس کے خلاف نہیں ہیں۔ ہم نے اس سے پہلے بہاولپور صوبے کی بھی حمایت کی تھی، ہم نے اس سے پہلے سرائیکی صوبے کی بھی حمایت کی تھی، ہم نے اس سے پہلے ہزارہ صوبے کی بھی حمایت کی تھی، ہم نے خود فاٹا کو صوبہ بنانے کا مطالبہ کیا تھا۔ تاہم سندھ ذرا اس سے مختلف تھا کہ سندھ کے عوام صوبے کی تقسیم کے لیے آمادہ نہیں تھے، اس وقت بھی نہیں تھے اور اب بھی نہیں ہیں۔ لیکن جو میری معلومات ہیں، جب اس وقت صوبہ، صوبہ ہو رہا تھا تو اسٹیبلشمنٹ بھی اس کی مخالف تھی۔ چنانچہ ان عناصر کی حوصلہ شکنی کی گئی جو صوبہ، صوبہ کر رہے تھے اور حکومتوں اور اسمبلیوں میں وہ لوگ نہیں آ سکے، کمزور پوزیشن میں آئے اور بالآخر ان کو وہ ایشوز چھوڑنے پڑ گئے۔ آج پھر کون سی ایسی وحی آ گئی ہے ان کے اوپر کہ آؤ، ان کو پتا نہیں کتنے اور کوئی نقشہ بھی نہیں ہے۔ کبھی آپ سولہ یونٹس میں تقسیم کر رہے ہیں، کبھی آپ بتیس یونٹس میں تقسیم کر رہے ہیں، کبھی ہر ڈویژن کو صوبے کا درجہ دے رہے ہیں۔ کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا کہ نقشہ کیا ہے۔ تو ایک بات کہہ دینا اور پھر لوگوں کو چھوڑ دینا کہ وہ اس پر بحث کرتے رہیں، میرے خیال میں ملک کے اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے یہ ایشو پھینکا گیا ہے۔ اس میں کوئی سنجیدگی ہے، نہ اس کے لیے اس وقت کوئی ماحول موجود ہے اور نہ ہی اس کے لیے کوئی تیاری موجود ہے۔ جب ماحول بھی نہیں ہے، اس وقت تیاری بھی نہیں ہے، تو خامخواہ ایک غیر سنجیدہ گفتگو، جس کا پاکستان متحمل نہیں ہو سکتا۔ ہمارے حکمران اس وقت باہر کی دنیا کے ریڈ کارپٹس کو انجوائے کر رہے ہیں اور ان کو یہ اندازہ نہیں ہے کہ پاکستان کی سرزمین جو خون سے سرخ ہے، اس کو بھی تو ہمیں سنبھالنا ہے۔ تو جہاں خون بہہ رہا ہو، جہاں ملکی زمین جو ہے وہ خون سے سرخ ہو اور آپ باہر دنیا میں جا کر وہاں پر ریڈ کارپٹ سے لطف اندوز ہو رہے ہوں، تو ذرا گھر کو تو ٹھیک کریں۔ ہم نہیں کہتے کہ آپ باہر کی دنیا سے اچھے تعلقات نہ رکھیں۔ ہم نے تو امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کو سپورٹ کیا ہے۔ ہم نے سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان دفاعی معاہدے کو سپورٹ کیا ہے۔ ترکی کی شمولیت کو ہم نے سپورٹ کیا ہے۔ مصر اس میں آتا ہے، ایران اس میں آتا ہے۔ خیر، مقدم کریں گے ایک اسلامی بلاک کے قیام کا۔ یہ خود جمعیت علماء اسلام کے منشور کا حصہ ہے۔ تو جو چیزیں دنیا میں ہمارے اپنے فکر اور ہمارے نظریے کے مطابق آگے بڑھیں گی، ہم اس کو سپورٹ کریں گے۔

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

11,368 Aufrufe • vor 1 Monat

اس وقت ہم پارلیمنٹ کے سامنے کھڑے ہیں۔ کل سے ہم نے یہاں دھرنا دیا ہوا ہے۔ ہمارے ساتھ سینیٹرز اور ایم این ایز ہیں، خاص طور پر قائدِ حزبِ اختلاف سینیٹ اور قومی اسمبلی موجود ہیں، اور میں خود اس ہاؤس کا اسپیکر رہا ہوں۔ عمران خان کو علاج معالجے کے لیے ہسپتال منتقل کرنا کوئی بڑی بات نہیں ہے۔ ہمارا مطالبہ بہت سادہ ہے کہ عمران خان کو علاج معالجے کی سہولت دی جائے اور اسے ہسپتال منتقل کیا جائے۔ یہ اس کا قانونی حق ہے اور جیل مینول اور رولز کے مطابق ہے۔عمران خان اس ملک کے سابق وزیرِ اعظم اور قومی ہیرو ہیں، اس سب کے باوجود ان کے ساتھ یہ رویہ رکھا جا رہا ہے۔ ہم نے پُرامن طریقے سے یہاں دھرنا دیا ہوا ہے۔ یہ پارلیمنٹ ہے، 25 کروڑ عوام کا نمائندہ ہاؤس ہے، اور اسے تالے لگائے گئے ہیں۔ یہاں کھانا پینا بند کیا گیا ہے، کربلا کا سماں پیدا کیا گیا ہے۔ اگر ان کا خیال ہے کہ اس سے ہم ڈر جائیں گے تو ہم واضح کرتے ہیں کہ جب تک عمران خان کو ہسپتال منتقل نہیں کیا جاتا اور ہمیں تسلی نہیں دی جاتی، ہم دھرنا ختم نہیں کریں گے۔ یہ ہمارا قانونی حق ہے۔ ہم سیاسی درجۂ حرارت کو کم کرنا چاہتے ہیں، یہ حکومت کی ذمہ داری ہے۔ بلوچستان اور ہمارے صوبے میں جو صورتِ حال ہے، اسلام آباد میں جو ہوا، لیکن اس سب کے باوجود حکومت ہوش کے ناخن نہیں لے رہی ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ جلد از جلد عمران خان کو ہسپتال منتقل کیا جائے۔

Asad Qaiser

22,137 Aufrufe • vor 7 Monaten

آج جو شریکِ جرم ہیں، کل کو وہی فریادی ہوئے تو ؟ ایک صوبے کا منتخب وزیراعلیٰ، اپنی پوری کابینہ اور ارکانِ پارلیمنٹ کے ساتھ، گزشتہ رات اڈیالہ جیل کے باہر سڑک پر کھڑا رہا، اور آج صبح سویرے سے سپریم کورٹ کے دروازے پر دھرنا دے کر بیٹھ گیا ہے، نہ اقتدار کی شان، نہ پروٹوکول کا غرور۔ اور اس لیے نہیں کہ اسے اقتدار چاہیے، اس لیے بھی نہیں کہ کوئی این آر او مانگ رہا ہے، بلکہ صرف ایک مطالبہ کہ جس شخص کے نام پر عوام نے ووٹ دیا، وہ اڈیالہ جیل میں قید ہے، 2 دسمبر کے بعد نہ اس سے ملاقات کرائی گئی، نہ اس کی خیریت کی خبر دی گئی۔ وہ ملاقات، جس کی اجازت آئین دیتا ہے، قانون دیتا ہے، جیل مینوئل دیتا ہے اور عدالتی فیصلے دیتے ہیں، وہ ملاقات چھین لی گئی، اور پھر ایک رات، خاموشی سے، اندھیرے میں، اسی قیدی کو پمز اسپتال منتقل کیا جاتا ہے، جزوی اینستھیزیا دیا جاتا ہے، سرجری ہوتی ہے اور پھر اسی خاموشی سے واپس جیل پہنچا دیا جاتا ہے، نہ خاندان کو بتایا جاتا ہے، نہ پارٹی کو، نہ قوم کو۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ غیر آئینی ہے کہ ایک منتخب وزیراعلیٰ اپنے لیڈر کی صحت پر سوال اٹھائے؟ کیا یہ غیر قانونی ہے کہ اس کے ذاتی معالجین کو مریض سے ملنے دیا جائے؟ کیا یہ جرم ہے کہ قوم کو بتایا جائے کہ جسے انہوں نے مینڈیٹ دیا، اس کی صحت کس حال میں ہے؟ جمہوریت، نیم جمہوریت یا ہائبرڈ نظام، دنیا کے کسی نظام میں ایسا نہیں ہوتا، ہاں بندوبستی نظام میں ایسا ضرور ہوتا ہے، جہاں آمریت نافذ ہوتی ہے، جہاں فیصلے آئین سے نہیں، طاقت سے ہوتے ہیں، جہاں عدالتیں، حکومتیں اور ادارے سب ایک ہی جگہ سجدہ ریز ہوتے ہیں، لہٰذا ایسے بندوبستی نظام سے کیا شکوہ، وہ قائم ہی اسی مقصد کے لیے کیا گیا ہے۔ لیکن سوال ان سیاسی جماعتوں، ان کے رہنماؤں اور کارکنوں سے ہے جن کی شراکت داری سے یہ بندوبستی نظام قائم ہے، انہیں سوچنا چاہیے کہ وقت کا پہیہ رکنے کا نام نہیں لیتا، آج آپ شریکِ جرم ہیں، کل اس کا شکار بھی ہو سکتے ہیں، پاکستان تحریک انصاف اور عمران خان مار کھا کر بھی کھڑے ہیں، کیونکہ ان کے ساتھ عوام ہے، جو ٹوٹے نہیں، بکھرے نہیں۔ اگر خدا نہ کرے کہ کل یہی ظلم کسی اور جماعت، کسی اور لیڈر کے حصے میں آئے، تب نہ کندھا ملے گا، نہ ہمدردی، نہ آواز، کسی بھی معاشرے کے لیے اس سے زیادہ شرمناک لمحہ اور کوئی نہیں ہوتا کہ وہ ظلم کو دیکھے، سمجھے اور پھر بھی خاموش رہے۔

Waseem Malik

38,228 Aufrufe • vor 7 Monaten

ایک ایسے معاہدے پر ہم جشن منا رہے ہیں کہ جس کی تفصیلات کا حکومت پاکستان کو علم ہی نہیں ہے، پاکستان کی پارلیمنٹ کو پاکستان، ترکی اور سعودی عرب معاہدے کا نہیں پتہ کہ یہ دراصل ہے کیا، وفاقی کابینہ کو معاہدے کا نہیں پتہ، حکومتی وزراء سے بات ہوتی ہے تو وہ کہتے ہیں کہ ہمیں نہیں پتہ کہ اس معاہدے میں کیا لکھا ہوا ہے، حکومتی چینلز کو ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ اس معاہدے کو آپ نے مذہبی رنگ نہیں دینا یعنی قوم کو کچھ اور بتانا چاہتے ہیں اور انٹرنیشنل میڈیا کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ ہمارا کوئی اسلامی اتحاد نہیں بن رہا نہ یہ بتانا چاہتے ہیں کہ یہ NATO طرز کا کوئی اتحاد ہے اور نہ اس میں یہ تاثر جانا چاہیے کہ پاکستان کی ایٹمی صلاحیت کہیں ترکی یا سعودی عرب کے کام آ سکتی ہے، حکومتی کنٹرولڈ میڈیا کو خاص طور پر آگاہ کیا گیا ہے کہ یہ معاہدہ آپ نے اس طرف نہیں جانے دینا، کسی کو بھی نہیں پتہ کہ یہ معاہدہ ہے کیا، ایک انڈرسٹینڈنگ یہ ہے کہ شاید یہ معاہدہ دہشتگردی کے خلاف ہے کیونکہ تینوں ممالک اپنے کو دھشتگردی سے متاثرہ قرار دیتے ہیں، درحقیقت یمن کے حوثیوں کو سعودی عرب ایک دھشتگرد تنظیم سمجھتا ہے اور انہیں حوثی باغی کہا جاتا ہے تو ان کے خلاف ایک مشترکہ فوجی محاذ کھڑا ہو گا، لیکن کابینہ اور پارلیمان کو معاہدے کی تفصیلات نہ بتانا بہت بڑی غفلت ہو سکتی ہے، اس سے پہلے بھی سعودی عرب کے ساتھ ہونے والا معاہدہ کابینہ اور پارلیمان کے بغیر کیا گیا، وزیر دفاع خواجہ آصف کہتا ہے کہ ہم افغانستان کے ساتھ حالت جنگ میں ہیں تو کیا سعودی عرب نے افغانستان کے ساتھ جنگ کو اپنے ملک پر حملہ قرار دیا؟ کٹھ پُتلی پارلیمنٹ فارم 47 پر بنی ہوئی ہے اور اردلی وزیرِ اعظم شہباز شریف کی اتنی اوقات اور سکت نہیں ہے کہ عاصم منیر سے کہہ سکے کہ ہمیں کم از کم پارلیمان سے یہ معاہدہ گزارنے اور منظور کرانے دو۔ #FascismUnderAsimLaw #PakistanUnderMartialLaw

Qasim Khan Suri

18,165 Aufrufe • vor 1 Monat

"ہائبرڈ نظام نجات کا واحد راستہ ہے۔تو اسی ہائبرڈ نظام نے تو یہاں تک پہنچا دیا ہے کہ آپ کا وزیرِ داخلہ کہہ رہا ہے کہ سسٹم کولیپس کر چکا ہے۔ اور یہ کولیپس کرنے کا جو اعتراف ہے، یہ تو کل ہم نے خود ان کے منہ سے سنا۔ ہم تو روزِ اول سے یہ کہہ رہے ہیں کہ یہ سسٹم عام آدمی کو ڈیلیور نہیں کر رہا۔ یہ سسٹم گلگت بلتستان سے لے کر کشمیر تک بری طرح ناکام ہو چکا ہے۔ اس کے ثمرات آپ دیکھ رہے ہیں۔ اب آپ خود سوچیں کہ آپ خود اعتراف کر رہے ہیں کہ یہ سسٹم بیٹھ گیا ہے۔ زور، زبردستی اور دھاندلی سے بنایا ہوا یہ نظام ڈیلیور ہی نہیں کر رہا۔ اس نظام کو کس نے یہ حق دیا ہے کہ وہ پاکستان کے ان حساس معاملات کے اوپر فیصلے لے؟ تو ہم ان کو خبردار کرنا چاہتے ہیں کہ آپ اس طرف آگے نہ بڑھیں۔ اگر اس طرف آگے بڑھیں گے، تو تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان آپ کے راستے میں کھڑی ہوگی۔ ہم اس کی ہر حد تک مخالفت کریں گے۔ ترجمان تحریک تحفظ آئین پاکستان اخونزادہ حسین احمد یوسفزئی Hussain Ahmad yousafzai #زنجیریں_توڑو_خان_کو_چھوڑو

PTI

15,499 Aufrufe • vor 1 Monat