Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

جب کوئی شخص دنیا سے چلا جائے تو اسکے بارے میں دعائے خیر کرنی چاہیے اور مردوں کو گالیاں دینا کسی بھی طور پر شریعت سے ثابت نہیں۔ اگر دنیا سے چلے جانے والا شخص اللہ کا ولی یا صحابی رسول ہو تو اسکی گستاخی کرنا بہت بڑا عیب...

15,951 просмотров • 3 лет назад •via X (Twitter)

Комментарии: 10

Фото профиля QSM Kamoke
QSM Kamoke3 лет назад

تمام اہل سنت اہل حدیث دیوبندی بریلوی ہمیشہ مرزوں کے خلاف ایک ہوۓ چاہے وہ بڑا مرزاٸی ہو یا چھوٹا مرزاٸی

Фото профиля Jahan Zaib Virk
Jahan Zaib Virk3 лет назад

اور اگر آپ جھوٹ بول کر فتنہ پھیلا رہے ہوں تو اس کے بارے میں کیا رائے ہیں، مجھے نہیں لگتا مرزا نے ایسی کوئی گستاخی کی ہو گی اس کی وجہ سے لوگوں نے نماز کی پابندی شروع کر دی اور اگر آپ کے رویے کو دیکھ کر لوگ دین کی طرف آنے کے بجائے دوری اختیار کریں گے

Фото профиля Muaz Ahmad Rasheed
Muaz Ahmad Rasheed3 лет назад

Agr Engineer ne AMMA AYESHA Salamullah Alaiha, HAZRAT ZUBAIR RA ya HAZRAT TALHA RA par lanat ya gaali na di ho To JHOOT bolne par AP par ALLAH ki laanat, Farishtoon ki laanat aur tamam lanat krne waloon ki lanat ho. OO WAHABIOO KUCH SHARAM KARO AP LOGOON KO MARNA BHOOLA HUA HAI

Фото профиля Mohammad Qasim
Mohammad Qasim3 лет назад

یہ نصحیتیں تم لوگوں کر آمام بخاری اور مسلم و داؤد و ترمزی و ابن ماجہ وغیرہ کو کرنی چاہیں تھی!!!!!! بخاری و مسلم : جن کے نام لے کر تم لوگ دین سے کھا رہے ہو ، انہوں نے یہ ساری باتیں اپنی "صحین" مین بیان فرمائی ہیں ، تو کیا تم لوگ بخاری و مسلم کے بھی دشمن ہو؟

Фото профиля Engr.Hassan
Engr.Hassan3 лет назад

Behtreen

Фото профиля Hammad
Hammad3 лет назад

کمال کر دیا۔۔ کرارا جواب۔۔

Фото профиля Atif Zubair
Atif Zubair3 лет назад

یہ بات نوجوانوں کو سمجھ نہیں آتی

Фото профиля وصل
وصل3 лет назад

آپ لوگوں کی چیخوں سے پتہ لگتا ہے کہ مرزا نے اپنا کام کرکے دیکھایا میں نے اس طرح چیختا ہوا انسان پہلی بار دیکھ لیا۔ اس طرح چیخنا تو اس کو اتا ہے وہ لوگ گھر میں رکھ لیں پھر گھر میں فرشتے داخل نہیں ہوتے🤣🤣

Фото профиля وصل
وصل3 лет назад

معاویہ قاتل تھا معاویہ باغی تھا حق کل بھی علی علیہ السلام کے ساتھ تھا حق آج بھی علی علیہ السلام کے ساتھ ہے اور قیامت تک رہے گا

Фото профиля Pakistan zenda baad pak army zenda baad
Pakistan zenda baad pak army zenda baad3 лет назад

Mirza Hy bagerat

Похожие видео

سوشل میڈیا پر وائرل اس کلپ کے حوالے سے بے شمار احباب نے ٹیگ کر کے سوال پوچھا میں ان سے پوچھتا ہوں کہ اتنی کم عمر کا بچہ ایسی مثالیں بغیر کسی کے سکھائے دے سکتا ہے؟؟ اگر تو اسنے واقعی خان صاحب کے ماں باپ کا نام کسی کے کہے بغیر رسول اللہ کے بعد افضل ترین ماں باپ سے ملایا تو بچہ ہونے کے ناطے اسکو تادیبا سمجھایا جائے گا کہ اس نے غلط اور لغو اور خلاف اسلام خلاف دین بات کی ہے۔ ۔ اور اگر عادت سے مجبور اسلامی ٹچ والی اسلام دشمن پارٹی نے ایسا سکھلا کر اس سے سوال لیا تو عند اللہ بھی مجرم ہیِں اور قانونی طور پر بھی سنگین نوعیت کا جرم ہے ہمارے معاشرے کو ایک عرصے سے ایسے معاملات میں بے حس وبے غیرت بنانے کی کوشش کی جارہی ہے جسکی ابتدا آسیہ ملعونہ کی رہائی سے مرزا جہلمی کی ہرزہ سرائی تک پھیلی ہے اور ہر ایسے گستاخ فتنے کے پیچھے اسی خطرناک فتنہ عمرانیہ کا ہاتھ ثابت ہوتا جا رہا ہے اگر کوئی غیرت مند انتظامیہ یا حکومت میں موجود ہے تو بچے کو سکھایا گیا لکھا ہوا مواد برآمد کروا کر اصل مجرم تک پہنچا جا سکتا ہے لیکن ہماری ترجیحات بہت فرق ہیں نوٹ= یہ پارٹی گستاخوں کی اور مرزا ملعون کی جتنی مرضی حمایت کر لے اسے قانون کی گرفت میں لانا ہی ہوگا

Hafiz Hisham Elahi Zaheer

427,741 просмотров • 3 лет назад

ان دنوں عاطف اسلم کی مسجد میں دی جانے والی اذان کی وڈیو بہت وائرل ہے۔ جس کے نیچے موجود بے شمار کمنٹس نے مجھے یہ پوسٹ لکھنے پر مجبور کیا ہے۔ ویسے تو میں یہ بات بہت عرصے سے کہنا چاہ رہی تھی لیکن آج سمجھ لیں کہ وہ موقع ہاتھ لگ ہی گیا۔ بہت عرصہ پہلے، یوں کہہ لیں کہ میرے جاہلیت کے زمانے میں، میں بھی میوزک اور ڈرامہ انڈسڑی میں کام کرنے والوں کے بارے میں کچھ اچھی رائے نہیں رکھتی تھی۔ خاص طور پر ان کے منہ سے نماز وغیرہ کا ذکر سننا بڑا عجیب لگتا اور میں بھی باقی کے لوگوں کی طرح انہیں جج کرتی تھی کہ اس انڈسٹری میں کام کرنے والے تو بہت گناہگار ہیں۔ اب اس پوسٹ میں، میں اس انڈسٹری کو جسٹیفائی نہیں کرنے لگی اور نہ ہی اس بات کو کہ اس انڈسٹری میں کام کرنا گناہ ہے یا نہیں۔ میں بات کرنے لگی ہوں ان لوگوں کی۔ بات یہ ہے کہ ہم ہر اس شخص کو گناہگار سمجھتے ہیں، جن کے گناہ سے ہم کمفرٹیبل نہیں ہوتے۔ وضاحت دیتی ہوں۔ ایک شخص ہے وہ بہت جھوٹا انسان ہے۔ وعدہ خلافی کرتا ہے۔ سود لیتا ہے۔ رشوت بھی لیتا ہے اور دیتا بھی ہے لیکن شراب نہیں پیتا۔ دوسرا شخص یہ سارے گناہ نہیں کرتا لیکن شراب پیتا ہے۔ اب صورتحال یہ ہے کہ پہلا شخص اپنے سارے گناہوں کے ساتھ کمفرٹیبل ہے، وہ انہیں برا نہیں سمجھتا۔ اس لیے اسے لگتا ہے کہ جو شرابی ہے، وہ تو بہت بڑا گناہگار ہے۔ اب دوسرا شخص پہلے والے کو گناہگار سمجھے گا کہ وہ تو سود کا کاروبار کرتا ہے۔ رشوت کا بھی لین دین ہے تو یہ تو بڑے گناہ کررہا ہے۔ ہم دوسروں کو ان گناہوں پر جج کرتے ہیں جن کے ساتھ ہم کمفرٹیبل نہیں ہوتے۔ ہم جھوٹ بہت آسانی سے بول لیتے ہیں لیکن اگر کوئی ہمارے سامنے چغلی کرلے تو ہم اسے اس کے گناہ پر پکڑ لیں گے۔ جھوٹ بولنے والے کو کبھی جھوٹ گناہ نہیں لگتا۔ چغلی کرنے والے کو کبھی چغلی گناہ نہیں لگتی۔ اس طرح ہم انڈسٹری میں کام کرنے والوں کی نماز اور قرآن کو بھی اسی بات پر جج کرتے ہیں لیکن ہو سکتا ہے کہ وہ ہم سے زیادہ صدقہ دینے والے ہوں۔ ہم سے زیادہ عبادت کرنے والے ہوں۔ ڈرامہ دیکھنا بھی اتنا ہی گناہ ہے جتنا ڈرامے میں کام کرنا۔ تو پھر ہم ڈرامہ دیکھتے وقت کیوں نہیں کہتے کہ ہمارا نماز سے کیا لینا دینا؟ یا یہ کہ اتنے ڈرامے دیکھنے کے بعد، اتنے جھوٹ بولنے کے بعد، اتنی چغلیاں کرنے کے بعد، اتنے گانے سننے کے بعد اب ہم نماز کی بات کیوں کر رہے ہیں؟ جیسے ہمیں لگتا تھا کہ عبایا میں موجود لڑکی یا داڑھی والا لڑکا بڑے نیک ہوں گے جبکہ جینز شرٹ پہننے والی لڑکی یا شیو والا لڑکا دین سے بہت دور ہو گا۔ لیکن میں نے حقیقت ان کے برعکس دیکھی ہے۔ ہم گناہ ثواب کا معاملہ کسی کے ظاہر کو دیکھ کر نہیں پرکھ سکتے۔ یہ لوگ سارا دن اسی سنگر کے گانے سنیں گے اور پھر جب اسے کوئی نیکی کرتے دیکھیں گے تو اس پر فتویٰ لگا دیں گے۔ کتنے منافق اور دوغلے لوگ ہیں۔ سارا دن ریلز دیکھنے والے ریلز بنانے والوں کو گناہگار بول رہے ہوتے ہیں۔ بلکہ میں تو کہتی ہوں کہ جسے نیکی کا موقع ملے وہ بڑا خوش قسمت ہے۔ کیونکہ اس دور میں نیکیاں کرنا بہت مشکل ہے۔ اللہ کے گھر میں اذان دینا ہر کسی کی قسمت میں نہیں ہوتا۔ نیکی وہی شخص کرتا ہے، جسے اللہ تعالیٰ چنتے ہیں۔ تو آج کے بعد اگر کسی کا گناہ آپ کو بہت بڑا لگ رہا ہے تو یاد رکھنا کہ آپ کے گناہ بھی کسی دوسرے کی نظر میں بہت بڑے ہوسکتے ہیں۔ گناہ ثواب کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے پاس ہی رہنے دیں۔ اپنی عدالت نہ لگائیں بلکہ اگلی عدالت کی فکر کریں جس میں آپ کے بھی گناہ برابر تولے جائیں گے۔ کسی کو چھوٹ نہیں ملے گی۔ اگر آپ کو لگتا ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ آپ کو بخش دیں گے تو اللہ تعالی ان لوگوں کو بھی بخش دیں گے۔ کیونکہ وہ صرف آپ کا رب نہیں ہے۔ #atifaslam #atifaslamofficial

Eshaal زہـــرہ

12,698 просмотров • 6 месяцев назад

معروف چینی محقق وکٹر گاؤ کا شرمین نروانی کے ایران جنگ میں پاکستان کے کردار سے متعلق سوال پر تفصیلی جواب: میں پاکستان کو بہت اچھے طریقے سے جانتا ہوں۔ پاکستان کے عوام، حکومت اور فوج غیور مسلمان ہیں اور وہ عالمِ اسلام کے تمام ممالک کے جائز حقوق کی حمایت کرتے ہیں۔ وہ کبھی اپنے کسی برادر اسلامی ملک کی بربادی نہیں چاہیں گے۔ ایران جنگ میں بھی یہی صورتحال رہے گی۔ پاکستان، سعودی عرب کے مشترکہ دفاعی معاہدہ انتہائی اہم ہے۔ پاکستانی فوجی پہلے ہی بڑی تعداد میں مشرقِ وسطیٰ کے مختلف ممالک میں تعینات ہیں اور پاکستان ایک ایٹمی ملک ہے۔ لہٰذا اگر کوئی سعودی عرب کے خلاف کوئی بیوقوفانہ حرکت کرے گا تو یہ معاہدہ عمل میں آ سکتا ہے۔ میں یہ نہیں سمجھتا کہ پاکستان کسی بھی ملک کے خلاف اس وقت تک اپنے انتہائی مہلک ہتھیار استعمال کرے گا جب تک کہ سعودی عرب کی علاقائی سالمیت کو کوئی سنجیدہ ترین خطرہ ہو۔ اور میں نہیں سمجھتا کہ ہم اِس وقت اُس سطح پر ہیں۔ جہاں تک پاکستان اور چین کی بات ہے تو ہم حقیقی بہن، بھائی ہیں۔ اور ہم ایک دوسرے کو تمام تر طرح سے مدد اور حمایت فراہم کرتے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان کوئی قانونی طور دفاعی معاہدہ نہیں ہے۔ پر ہم بہت سے اہم ترین معاملات پر ایک دوسرے سے کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہوتے ہیں۔ آپس میں بھی اور بین الاقوامی سطح پر بھی۔ لہٰذا اگر چین اور پاکستان کے برادرانہ تعلقات پر اس کا کوئی اثر نہیں ہو رہا تو پاکستان اور امریکہ کے درمیان بڑھتے تعلقات کو منفی انداز میں دیکھنے کی قطعاً کوئی وجہ نہیں ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ پاکستان کے دنیا میں زیادہ سے زیادہ ممالک کے ساتھ مثبت سفارتی تعلقات ہوں اور ہمیں یقین ہے کہ پاکستان کو پتہ ہے اسے کیا کرنا ہے۔ مجھے مکمل یقین ہے کہ پاکستان عالمِ اسلام کے جائز مفادات کا ایک زبردست محافظ ہے، بشمول مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کے۔

Naya Daur Videos

96,465 просмотров • 6 месяцев назад

سب سے بڑی غلطی جو عاصم منیر اور حکومت کرتے ہیں وہ یہ غلط فہمی ہے کہ سوشل میڈیا پر کوئی aliens آ کر پوسٹ کرتے ہیں۔ یہاں عوام اپنی رائے دیتی ہے، بس تھوڑا سا طریقہ مختلف ہے ان کی جوانی کے زمانے سے۔ اب کسی ٹی وی پروگرام کی ضرورت نہیں رہی، صرف ایک عدد سمارٹ فون کی ضرورت ہوتی ہے جو آجکل سب کے پاس ہے۔ دوسری بڑی غلطی وہ یہ کرتے ہیں کہ فارم ۴۷ والا طریقہ یہاں بھی چل جائے گا۔ جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے ، وہ اگر چل بھی جائے تو زیادہ دیر نہیں چلتا۔ قوم کے شعور کا جو عالم ہے اس میں تو جھوٹ، منافقت اور manipulation کی گنجائش ہی نہیں۔ Orya Maqbool Jan نے بلکل ٹھیک کہا (جس کی Imran Riaz Khan نے بھی تائید کی اپنی اس وڈیو میں) کہ حکومت اور عسکری ادارے اربوں روپے خرچ کرکے ، تنخواہ دار لوگوں سے عمران خان کے رضاکار سوشل میڈیا کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ اسی لیے ساڑھے تین سال سے ہار رہے ہیں عمران خان اور عوام سے- سلام ہے پاکستان کے بے لوث سوشل میڈیا ٹائیگرز اور ٹائیگریسز کو۔ ہم سب ایک دوسرے کو نہیں جانتے مگر دل میں ایک دوسرے کی بہت عزت کرتے ہیں، کیونکہ ہمیں پتہ ہے کہ کسی کو پاکستان کی بہتری کے علاوہ اور کچھ نہیں چاہیے اور یہ بھی پتہ ہے کہ کن مشکل حالات میں اپنی پوری کوشش صبح شام کرتے ہیں۔ جیت تو ہم سب کا مقدر ہے اور اس بات کا پورا یقین ہے کیونکہ اللہ الحق ہے! #خان_قوم_تیرے_سنگ_رہے_گی

Jibran Ilyas

45,473 просмотров • 9 месяцев назад

ہم پولیٹیکل لوگ ہیں، ڈائیلاگ پر یقین رکھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ تمام اسٹیک ہولڈرز، چاہے وہ ادارے ہوں یا سیاسی لوگ، سب کو بیٹھ کر بات کرنی چاہیے۔ مجھے کوئی شرم نہیں کہ میں اپنے اداروں کے ساتھ بیٹھوں اور انہیں یہ سمجھانے کی کوشش کروں کہ اداروں اور عوام کے درمیان فاصلے بڑھ رہے ہیں۔ مضبوط ادارے مضبوط پاکستان کی علامت ہیں، لیکن مضبوط اداروں کے پیچھے عوام کا اعتماد بھی ہونا چاہیے۔ ہم اپنے اداروں کو اون کرتے ہیں، یہ میرے ملک کے ادارے ہیں، اس لیے چاہتے ہیں کہ ادارے مضبوط ہوں اور عوام کے ساتھ ان کا تعلق بھی مضبوط ہو۔ عمران خان صاحب کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے، اس کی وجہ سے عوام میں اداروں کے حوالے سے ناراضی پیدا ہو رہی ہے، اور ہمیں اس فاصلے کو کم کرنے کے لیے بات کرنی چاہیے۔ 80 فیصد عوام عمران خان صاحب کے ساتھ جڑے ہیں اور عمران خان صاحب کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے، اس کی وجہ سے لوگ اداروں سے ناراض ہیں۔ ہم اپنے اداروں کو اون کرتے ہیں، یہ میرے ملک کے ادارے ہیں، تو مجھے تو خوشی ہے کہ یہ ادارے مضبوط ہوں اور عوام کے ساتھ ان کا تعلق مضبوط ہو۔ اس سے پہلے بھی ہم ملے ہیں۔ جب بھی میاں صاحب نے ہاتھ بڑھانے کی کوشش کی، ہم نے بالکل ویلکم کیا، لیکن دوسرے دن ہمارے وارنٹ نکل جاتے تھے اور ہمیں مزید ایف آئی آرز میں ڈال دیا جاتا تھا۔ حکومت صرف باتوں سے نہیں، اپنے عمل سے ثابت کرے کہ اسے کیا کرنا ہے۔ ہمارے پاس ووٹ کا مینڈیٹ عمران خان کا ہے، تو یہ نہیں ہو سکتا کہ عمران خان صاحب کے مشورے کے بغیر ہم کوئی بات کریں۔ جب ووٹ اُن کا ہے، پہچان اُن کی وجہ سے ہے، مجھے ووٹ اُن کا ملا ہے اور مجھے اُن کی وجہ سے پیار ملتا ہے، تو میں کس طرح یہ بات کر سکتا ہوں؟ حکومت کو ہمارا اختیار دیکھنا ہے تو ہماری ملاقات عمران خان سے کروا دیں، انہیں پتہ چل جائے گا کہ ہمارے پاس بات کرنے کا اختیار ہے یا نہیں۔ بالکل، ہم پولیٹیکل لوگ ہیں۔ ہم خان سے بات کر سکتے ہیں، انہیں موجودہ زمینی حقائق سے آگاہ کر سکتے ہیں اور گائیڈ کر سکتے ہیں۔ پی ٹی آئی میں جو جمہوری کلچر ہے، یہ اُن لوگوں سے پوچھیں جو پی ٹی آئی چھوڑ چکے ہیں۔ یہ جو غلط تاثر دیا جاتا ہے کہ خان صاحب بات نہیں سنتے، خان صاحب سنتے ہیں۔ آپ مسلم لیگ میں کسی سے پوچھ لیں، کیا کسی میں ہمت ہے کہ میاں صاحب کے سامنے اُن سے اختلاف کرے؟ میٹنگ میں میری اور خان صاحب کی لڑائی بھی ہوتی تھی۔ ہم انہیں کہتے تھے کہ آپ غلط ہیں، اس طرح نہیں، اس طرح ہونا چاہیے۔ یہ والا کلچر آپ کو کسی اور پارٹی میں نہیں ملتا۔ میں محسن نقوی صاحب کو وزیراعظمِ پاکستان سے بھی زیادہ مضبوط سمجھتا ہوں اور سمجھتا ہوں کہ اس حکومت میں اگر کسی بندے سے بات ہو سکتی ہے اور جو اپنی بات منوا سکتا ہے، تو وہ نقوی صاحب ہیں۔

Junaid Akbar

18,079 просмотров • 3 дней назад