Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

جرنیلی صحافی بھی حکومت پر برس پڑا جرنیلی صحافی طلعت حسین کا کہنا ہے کہ ہم صدر ٹرمپ کو نوبل پیس پرائز کے لیے نامینیٹ کر کے فلسطین کے اوپر ایران کے مسئلے پر اور اخلاقی طور بھی بہت شرمندہ کیا ہے یہ اخلاقی پستی کی انتہا تھی

34,312 Aufrufe • vor 1 Jahr •via X (Twitter)

4 Kommentare

Profilbild von Sardar Sheraz
Sardar Sherazvor 1 Jahr

طلعت حسین بھی ان حکمرانوں کے مداح سرا ہیں ان می‍‍‍ں؛ اور طلعت حسین میں پہلے کب غیرت تھی

Profilbild von Farhad Anwar
Farhad Anwarvor 1 Jahr

یہ بیغیرت ہی رہے گا یہ اس لیے آواز بلند کر رہا ہے کہ یہ شیعہ ہے اور شیعہ ایران کے لیے آواز اٹھاتے ہیں جو کہ اچھی بات ہے

Profilbild von Faiqa Salman
Faiqa Salmanvor 1 Jahr

غلط یہ جرنیلی صحافی نہیں ہے۔ یہ نونی صحافی ہے۔

Profilbild von Shumaila
Shumailavor 1 Jahr

کیا کرے بےچارہ، یہ سب کہنا مجبوری ہے ورنہ جو دو چار ہزار پٹواری اس کو دیکھتے سُنتے ہیں وہ بھی سننا چھوڑ دیں گے اور پٹواری عقل سے فارغ سہی لیکن فلسطین کے معاملے پر بہرحال فلسطین کے ساتھ ہیں

Ähnliche Videos

جیسے ہی مجھے اطلاع ملی کہ ہمارے صحافی ناطق ریحان کو گرفتار کر لیا گیا ہے، میں فوراً موقع پر موجود ایس پی بلال اور ایس پی عاطف کے پاس پہنچا اور ان سے سوال کیا کہ آخر صحافیوں کو اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں ادا کرنے اور کوریج کرنے سے کیوں روکا جا رہا ہے؟ انہیں کس بنیاد پر گرفتار کیا گیا؟ انہوں نے جواب دیا کہ یہ ایک غلطی تھی، جس کے بعد ناطق ریحان کو رہا کر دیا گیا۔ لیکن یہ واقعہ ہم سب صحافیوں کے لیے ایک سبق ہے۔ جب بھی کسی صحافی کو بلاجواز روکا جائے، تشدد کا نشانہ بنایا جائے یا گرفتار کیا جائے تو ہم سب کو فوری طور پر ایک آواز بن کر اس کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم اکثر تقسیم رہتے ہیں، اور اسی تقسیم کا فائدہ اٹھا کر ہمیں ایک ایک کرکے نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اگر آج ہم ایک دوسرے کے لیے نہیں بولیں گے، تو کل ہمارے لیے بولنے والا بھی کوئی نہیں ہوگا۔ صحافت کا تحفظ صرف اسی صورت ممکن ہے جب صحافی متحد ہو کر اپنے حق، اپنے ساتھیوں اور آزادیِ صحافت کے لیے کھڑے ہوں۔

Zaeem leghari

50,491 Aufrufe • vor 1 Monat