正在加载视频...

视频加载失败

جس تجزیہ کار نے بھی یہ لکھا تھا کہ ہماری اسٹیبلشمنٹ کو PhDs کی تلاش ہے اب اس تجزیہ کار کو تو منہ چھپانا چاہیے کیونکہ PHDs تو دور کی بات یہاں ایک PhD کرنے والے طالب علم کی ایک تحریر تک نہیں برداشت ہوئی اور اسے ڈلیٹ کروانا...

95,338 次观看 • 8 个月前 •via X (Twitter)

0 条评论

暂无评论

原始帖子的评论将显示在这里

相关视频

کئی فالورز نے کمنٹس میں سوال اٹھایا ہے کہ ایک بشو سکردو میں ایک گاڑی ٹھیک کرنے کے ستر ہزار روپے کیوں لگے؟ ایسے لوگوں کو چاہیے تھا کہ مکینک کی تعریف کرتے، اس کی حوصلہ افزائی کرتے۔ اُس نے ایک اجنبی سیاح کی مدد کی، وقت دیا، بار بار لمبا سفر کیا۔یہ معمولی بات نہیں۔ تو آئیے، خود سنیے کہ وہ مکینک کیا کہہ رہا ہے۔۔ آپ لوگوں کو یہ اندازہ نہیں کہ بشو ویلی سکردو سے کتنی دور ہے۔ وہ لڑکا پہلے سکردو سے بشو ویلی گیا، پھر وہاں گاڑی بک کر کے دوبارہ سکردو آیا کیونکہ وہاں ضروری سامان دستیاب نہیں تھا۔ سکردو سے واپس بشو ویلی گیا، اور پھر دوبارہ آیا۔ اب آپ خود کسی سے پوچھ لیں، بشو ویلی ایک چکر لگا کے آنا کتنا خرچ پڑتا ہے؟ اوپر سے اُس کی مزدوری، گاڑی کی مرمت کے پرزے، اور دن بھر کی محنت — ان سب کو ملا کر ستر ہزار روپے کچھ زیادہ نہیں بنتے۔ آج کے دور میں جب فیول، سپیئر پارٹس اور سروس سب مہنگے ہو چکے ہیں، تو یہ رقم بالکل مناسب ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ اس نے ایک اجنبی سیاح کی مدد کی۔ اللہ نہ کرے اگر وہ سیاح کسی مشکل میں پڑتا اور فیملی ساتھ ہوتی تو ہم سب کتنا کچھ سوچتے۔ تو ایسے وقت میں یہ نہیں پوچھنا چاہیے کہ خرچہ کتنا ہوا، بلکہ اس شخص کی نیت، خلوص اور مدد کو سراہنا چاہیے۔ اس نے انسانیت کا ثبوت دیا، اب ہماری باری ہے کہ ہم بھی اُسے اپریشیٹ کریں، نہ کہ اس پر سوال اٹھائیں۔

Gilgit Baltistan Tourism.

24,720 次观看 • 1 年前