Video yükleniyor...

Video Yüklenemedi

Ana Sayfaya Dön

جمہوریت کے لبادے میں چھپی آمریت، ننگا ہوتا مارشل لاء ، زنجیروں میں جکڑا ایوانِ عدل اور مردہ ضمیر حکمران ملک کو سیاسی انتقام کا اکھاڑہ بنا چکے ہیں۔ گزشتہ ایک ہفتے سے کراچی میں پی ٹی آئی کے کارکنان پر زمین تنگ کر دی گئی ہے۔ 300 سے...

10,580 görüntüleme • 7 ay önce •via X (Twitter)

0 Yorum

Yorum bulunmuyor

Orijinal gönderinin yorumları burada görünecek

Benzer Videolar

چئیرمین پی ٹی آئی کا اکاؤنٹ ان کی گرفتاری کے بعد بھی مسلسل استعمال میں ہے، یہ بات قابل تشویش ہے کہ ان کی غیر موجودگی میں کون ان کے ٹویٹر اکاؤنٹ کو چلا رہا ہے، چئیرمین پی ٹی آئی کے اکاؤنٹ سے ملک دشمن پروپیگنڈے کا کام جاری ہے۔ چئیرمین پی ٹی آئی کا ٹویٹر اکاؤنٹ مسلسل ایک منظم منفی پروپیگنڈے کے تحت جعلی خبریں پھیلانے میں مصروف ہے جبکہ ان جعلی خبروں کا ٹارگٹ فوج اور اداروں کو بدنام کرنا اور چئیرمین پی ٹی آئی کی رہائی ہے۔ چئیرمین پی ٹی آئی کے اکاؤنٹ سے کی جانے والی جعلی خبروں مثالیں متعدد خبریں ہیں جیسا کہ چئیرمین پی ٹی آئی نے متعدد بار 9 مئی کے واقعات کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے لکھا کہ 9 مئی دراصل چئیرمین پی ٹی آئی اور ان کی پارٹی کو ختم کرنے کے لئے منظم کریک ڈاؤن ہے جو انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ٹویٹ میں ایک جعلی ویڈیو دکھائی گئی جس میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی کہ 9 مئی دراصل پی ٹی آئی کے خلاف ایک پروپیگنڈا تھا جو ملکی اداروں نے پی ٹی آئی کو سبوتاژ کرنے کے لئے کیا۔ 9 مئی کے واقعات کی پوری مانیٹرینگ اور ہدایات چئیرمین پی ٹی آئی کے ٹویٹر اکاؤنٹ سے جاری تھیں جبکہ دوسری جانب چئیرمین پی ٹی آئی نے بارہا 9 مئی کے واقعات میں آئی ایس آئی اور بیرونی قوتوں کے ملوث کونے کا کھلا الزام لگایا ہے اور اس بات کی تردید کی کہ پی ٹی آئی کے کارکنان ملوث ہیں۔ جناح ہاؤس لاہور پر حملے کے دوران بھی ویڈیوز میں یہ دیکھا گیا کہ ایک شخض بڑھ چڑھ کر فوج اور اداروں کے خلاف بکواس کرتے ہوئے انہیں دہشتگردی پر اکساتا رہا، چیئرمین پی ٹی آئی کے اکاؤنٹ سے دعویٰ کیا گیا کہ یہ بندہ آئی ایس آئی کا ایجنٹ ہے جو بعد ازاں عمران محبوب کے نام سے ظاہر ہوا اور پی ٹی آئی کا سرگرم کارکن نکلا۔ چئیرمین پی ٹی آئی ایک طرف نہایت دیدہ دلیری سے یہ دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ ان کا 9 مئی کی دہشتگردی سے کوئی تعلق نہیں، ان کی جماعت ہمیشہ پرامن احتجاج کرتی ہے، جبکہ دوسری جانب ویڈیو آڈیو شواہد سامنے آنے کے بعد یہ واضح ہو گیا کہ یہ سب پلاننگ زمان پارک میں چئیرمین پی ٹی آئی کی زیر نگرانی ہوئی اور سب غنڈے چئیرمین پی ٹی آئی کے تیار کردہ تھے، اداروں بالخصوص آئی ایس آئی پر چئیرمین پی ٹی آئی کی جانب سے لگائے گئے الزامات سراسر غلط اور منفی پروپیگنڈگ کی عکاسی کرتے ہیں۔ تشویش ناک امر یہ ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی کے ٹویٹر اکاؤنٹ سے روزانہ کی بنیاد پر جھوٹے اور بے بنیاد پروپیگنڈوں کا سلسلہ جاری ہے، ایک بندہ جیل میں ہے تو اس کا اکاؤنٹ کون چلا رہا ہے، ایف آئی اے کو چائیے کہ وہ فوری تحقیقات عمل میں لاتے ہوئے چئیرمین پی ٹی آئی کے ٹویٹر اکاؤنٹ کا محاسبہ کرے اور ملک میں انارکی کی فضا کو ہوا دینے والوں کے خلاف سخت ایکشن لے۔

Architect Jalal Sherazi

35,531 görüntüleme • 3 yıl önce

🚨نئی گرفتاریوں کی فہرست🚨 شام چھہ بجے تک 170 گرفتار آج دوپہر 12 بجے تک سندھ حکومت کے کریک ڈاؤن میں 93 پی ٹی آئی کارکنان و عہدیداران کی گرفتاریوں کی تصدیق ہو چکی تھی، مگر چند ہی گھنٹوں میں یہ تعداد بڑھ کر تقریباً 170 ہو چکی ہے۔ یہ نئی اپڈیٹڈ فہرست (شام 6 بجے تک) اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ کراچی ڈویژن میں گرفتاریاں انتہائی تیزی سے جاری ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ بلاول بھٹو کی سندھ حکومت اور مریم نواز کی پنجاب حکومت کے درمیان فسطائیت کا مقابلہ چل رہا ہے—اور سندھ حکومت اس دوڑ میں آگے نکلنے کے لیے ہر حد پار کر رہی ہے۔ اس مرتبہ سندھ پولیس نے جبر، فسطائیت اور پولیس گردی کے تمام سابقہ ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ بزرگ شہریوں کو گرفتار کیا گیا، پی ٹی آئی عہدیداران کے بچوں کو اٹھایا گیا، خواتین کے گھروں میں گھس کر چادر و چار دیواری کا تقدس پامال کیا گیا۔ متعدد کارکنان کو بغیر ایف آئی آر کے غیرقانونی حراست میں رکھا گیا ہے، چند پر MPO لگایا گیا، جبکہ اکثریت تاحال بلاجواز قید میں ہے۔ یہ سب آئینِ پاکستان، انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی پر کھلا حملہ ہے۔ پی ٹی آئی سندھ اس ریاستی جبر کی شدید مذمت کرتی ہے اور مطالبہ کرتی ہے کہ تمام گرفتار کارکنان کو فوری رہا کیا جائے۔ گرفتار کارکنان کی مکمل فہرست منسلک ہے salman akram raja

Haleem Adil Sheikh

29,743 görüntüleme • 7 ay önce

آکسفورڈ یونین ڈیبیٹ میں بحث کا آغاز ایک طالبعلم کے ذریعے موضوع کے تعارف سے ہوتا ہے۔ میرے مخالف بحث کا آغاز ایک پی ٹی آئی کے حامی طالبعلم اسد نے کیا جو کہ عمران خان کو چانسلر بنانے کی ناکام مہم چلا چکا تھا۔ اس نے پاکستان کو ایک بدمعاش ریاست کے طور پر پیش کیا اور عمران خان کو لبرل جمہوریت کا چیمپئن بنا کر یہ تاثر دیا کہ انہیں انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ افسوس کی بات ہے کہ پی ٹی آئی کے حامی اپنے لیڈر کی کرپشن کا دفاع کرنے کے لیے بین الاقوامی فورمز پر اپنے ہی ملک کو بدنام کر رہے ہیں۔ میں نے تقریر کے آغاز سے قبل پی ٹی آئی کے حامی کے دلائل کا جواب دیا اور پی ٹی آئی کا بیانیہ جھاگ کی طرح بیٹھ کو زمین بوس ہو گیا میں نے کہا کہ: •کیا عمران خان لبرل جمہوریت کی علامت ہیں یا طالبان جمہوریت کی؟ کیونکہ وہ طالبان کے نظریے کے دلدادہ ہیں۔ •کس ملک میں سپریم کورٹ کی جانب سے ماورائے آئین اقدام کے مرتکب مجرم کو لبرل جمہوریت کی علامت تسلیم کیا جائے گا؟ • کیا ایسا شخص جس کی سیاست فقط نفرت کو فروغ دینا اور مذہب کے کارڈ سے کھیلنا ہو جسکا ثبوت میں کھڑا ہوں جس پر اسکے نتیجے میں قاتلانہ حملہ ہوا اور اس کی گولی میرے پیٹ میں موجود مجھے روزانہ عمران خان کے لبرل ازم کی یاد دلاتی ہے؟ •کیا برطانیہ میں کوئی وزیراعظم قومی خزانے سے 190 ملین پاؤنڈ تو کجا 90 پاؤنڈ بھی چوری کر کے لبرل جمہوریت کی علامت بن سکتا ہے یا اسے ہمیشہ کے لیے کرپٹ قرار دے کر سیاست کو خیر باد کہلوا دیا جائیگا؟ جمہوریت میں ایسے بددیانت شخص کو کرپٹ کہا جاتا ہے، نہ کہ لبرل جمہوریت کی علامت۔ ایوان نے تالیاں بجا کر اس مؤقف کو سراہا اور ہم نے یہ ڈیبیٹ 145 کے مقابلے میں 184 ووٹوں سے جیت لی۔

Ahsan Iqbal

484,114 görüntüleme • 1 yıl önce

پاکستان تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی عمران خان صاحب اور شاہ محمود قریشی سمیت قیادت و کارکنان کی آزادی کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گی۔ پارلیمانی پارٹی سپریم کورٹ کے مخصوص نشستوں کے فیصلے سے اتفاق نہیں کرتی اور اپنے حق کے لیے ہر آئینی اور جمہوری راستہ اپنائے گی۔ پارلیمانی پارٹی پیٹرن انچیف جناب عمران خان کو قید تنہائی میں رکھنے اور وکلا اور سیاسی قیادت سے ملاقات نہ کروانے کی مذمت کرتی ہے۔ تحریک انصاف بے گناہ اسیران کی رہائی کے بعد ہلاکت پر تشویش اور تحفظات کا اظہار کرتی ہے۔ ہم عمران خان اور کارکنان کی آزادی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ پاکستان تحریک ملک میں آئین و قانون کی حکمرانی کے لیے ہر طرح کی آئینی، سیاسی و قانونی جدوجہد اپنے لیڈر عمران خان کی رہنمائی میں جاری رکھے گی۔ اس جدوجہد میں عوامی جدوجہد ، پرامن احتجاج اور مذاکرات بھی شامل ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف اپنے لیڈر عمران خان کی قیادت میں متحد و متفق ہے اور مخالفین کی ہر سازش سے آشنا ہے۔ آج کا اجلاس اس امر پر تشویش کا اظہار کرتا ہے کہ اعلی عدلیہ کے اوپر حکومتی دباؤ ہے اور ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ عدلیہ اپنی ازادی، میرٹ اور انصاف کے لیے کھڑی ہو۔ پارلیمانی پارٹی کا اجلاس آئینی و قانونی جدوجہد کے لیے کارکنان، قیادت اور پارلیمنٹریئنز کی قربانیوں کو سراتا ہے۔

PTI

13,454 görüntüleme • 1 yıl önce