Loading video...

Video Failed to Load

Go Home

جنرل ضیاالحق سے بڑا جھوٹا اور منافق دنیا میں پیدا نہیں ہوا ۔۔11 سال حکومت کرتا رہا جھوٹ بولتا رہا کہ مین اب 90 دن میں الیکشن کرواؤنگا۔۔ضیاالحق کہتا تھا کہ آئین کیا ہے یہ 24 صفحے کی کتاب ہے جب چاہوں پھاڑ کر پھینک سکتا ہوں ۔۔بالواسطہ مشرف...

19,018 views • 1 month ago •via X (Twitter)

0 Comments

No comments available

Comments from the original post will appear here

Related Videos

یہ پچھلے سال کی اس کی ویڈیو ہے تب یہ ٹک ٹاکر کافی زیادہ وائرل ہو رہا تھا اور یہ لائیو میچ کھیلا کرتا تھا ٹک ٹاک پہ لوگوں کے ساتھ اور اس کی ویڈیو کافی وائرل ہوتی تھی اور یہ خود کو عمران خان سے بڑا لیڈر سمجھنے لگا ایک دن اس کے ساتھ ہم باتیں کر رہے تھے تو اس نے عمران خان کے اوپر وہ باتیں کی جو میں سوچ نہیں سکتی تھی مدہ بہت لمبا تھا لیکن اس کی زبانی خود سنیں کہ یہ عمران خان کو کیا کہہ رہا ہے مطلب اس کو عمران خان سے زیادہ پتہ ہے۔۔ میں نے دوبارہ اس بندے کو کبھی اہمیت نہیں دی پھر یہ کافی چالاک بھی تھا اس نے ایک واٹس ایپ گروپ بنایا جس میں اس نے مجھے بھی ایڈ کیا اور اس نے ہم سب کو کہا اب میری ٹیم ہیں ٹیم الادین میں نے کہا ہم کسی کی ٹیم نہیں ہم صرف عمران خان کی ٹیم ہے ہم عمران خان کی بات کیا کریں گے اور اس پر میرے ساتھ سب لوگوں نے اتفاق کیا لیکن اس نے نہ کیا اور پھر بہت سارے لوگ وہ واٹس ایپ گروپ چھوڑ کے چلے گئے جس میں میں بھی شامل تھی اور میں نے اس کو ہمیشہ دیکھا یہ کرتا کیا ہے اس نے بہت جھوٹ بولے اس کو ہر وہ کام کرنے اور ہر ایک وہ چیز بولنے کی اجازت تھی جو ہر نئے انے والے بندے کو ہوتی ہے جس کو ہیرو بنایا جاتا ہے پھر اس کو پتہ چلا کہ ٹویٹر بھی کوئی چیز ہوتی ہے پھر یہ پچھلے سال ٹویٹر پہ پہنچا اور دیکھتے ہی دیکھتے کوئی شخص جب اتنا وائرل ہو جاتا ہے تو اپ خود سمجھیں کہ اس کے پیچھے کیا ہوتا ہے اور ہماری قوم ٹھہری معصوم جس کے فالور زیادہ ہوئے نہیں بس اسی کے ساتھ تصویریں لینے نکل پڑے وہ پتلو ہو یا وہ پھر کوئی جنت مرزا ا یا کوئی ڈکی بھائی ہو یا کوئی اور شروع میں یہ بھی ٹوٹے دل اور عاشقی والی ویڈیو ہی بناتا تھا۔۔جو کے اس کا ذاتی معاملہ ہے۔ اس نے بہت سارے ایسے لوگوں کو سپورٹ کی جس کو نہیں کرنا چاہیے تھا اس کو سمجھ اگئی تھی کہ ٹک ٹاک کا الگوریدم وہی چیزیں اٹھاتا ہے جو ٹاپ ٹرینڈنگ ہو اسے ان چیزوں سے کبھی مقصد نہیں ہوا تھا کہ کیا ضروری ہے کیا اہم اور پھر اہستہ اہستہ اس کو ہمارے ہی پی ٹی ائی افیشلز کے کچھ لوگوں نے انٹروڈکشن دیا اس کو عزت دی پھر اچانک سے اس کے ابو کو اٹھا لیا گیا جو کہ مجھے سچ نہیں لگتا کیونکہ پھر اگلے ہی دن یہ ائی ایس ائی کو للکار رہا تھا اور پھر ان کا ابو چھوٹ بھی گیا جو کہ اچھی بات ہوئی اس کے بعد یہ پی ٹی ائی افیشل میں بیٹھے ہوئے چند لوگوں کی مدد سے زیادہ ہی وائرل ہوگیا۔۔ اب اس نے یہ جتنے بھی پروگرام کیے ہیں اس نے بہت سنگین جرم کیا عمران خان کی تصویر نہ لگا کر پی ٹی ائی کے جھنڈے نہ لہرا کر اب یہ اس مدے پر پہنچ چکا ہے کہ یہ اپنی کوئی ہیومن رائٹس کے ارگنائز شن بنا رہا ہے یہ سب کرنے کے لیے اس نے عمران خان کا نام استعمال کیا اس نے پی ٹی ائی کے لوگوں کے جذبات سے کھیلا اور یہ تمام اس کے فالورز جو اس کو ملے ہیں وہ عمران خان کے نام پر ملے ہیں لیکن اس کا ایجنڈا کچھ زیادہ ہی بڑا ہے یاد رہے یہ اس کے الفاظ اس وقت کے ہیں جب خان صاحب جیل میں تھے یہ اس وقت بھی لوگوں کو یہ کہتا تھا کہ ہمیں عمران خان پر ٹرسٹ نہیں کرنا چاہیے تھا جو ہم نے کیا

Sara Mir

33,141 views • 9 months ago

ملک میں جو خود کو ووٹ کو عزت دو کا سب سے بڑا چیمپئن سمجھتا ہے، اس کی حکومت ہے۔ پنجاب میں ان کی بیٹی کی حکومت ہے۔ آج صبح پنجاب میں ہمارا اپوزیشن لیڈر بات کر رہا تھا کہ اس وقت بھی میرے گھر کے سامنے پولیس کھڑی ہے۔ پنجاب میں اگر آپ کا تعلق اپوزیشن سے ہے تو آپ اپنے گھر میں بھی رہائش نہیں رکھ سکتے۔اس وقت نہ کوئی قانون ہے اور نہ ہی آئین، صرف ظلم اور جبر ہے۔ اور جب ظلم حد سے بڑھ جائے تو جہاد لازم ہو جاتا ہے۔ جہاد صرف تلوار اٹھانے کا نام نہیں، جدوجہد سے بھی کیا جاتا ہے، اور یہی جدوجہد ہم پر اس وقت لازم ہے۔عمران خان اس وقت جرأت اور ہمت کے ساتھ اپنا مقدمہ لڑ رہا ہے۔ جب 1992 کا ورلڈ کپ ہو رہا تھا تو وہ ایک کمزور ٹیم تھی، لیکن اللہ نے عمران خان کو عزت دینی تھی۔ پھر جب شوکت خانم ہسپتال بن رہا تھا تو میں خود اس مہم کا حصہ تھا۔ ہم نے پوسٹر لگائے، چندہ اکٹھا کیا۔ ہمیں بھی یہ ناممکن نظر آتا تھا، لیکن اللہ نے عمران خان کے خواب کو پورا کیا۔

Asad Qaiser

15,982 views • 8 months ago

🚨🚨🚨 مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ میں عمران خان کی حکومت میں آزاد ہوئی، انہوں نے مجھے فرانس بھیجا، آسیہ ملعونہ اس وقت عمران نیازی اور اس کے ذہنی غلام شخصیت پرست یوتھیے بھاولے ہو رہے تھے کہ یہ عدالت کا فیصلہ ہے اس میں حکومت یا عمران خان کا کوئی قصور نہیں ہے، حالانکہ ریکارڈ پر ہر چیز موجود ہے جیسے کہ عمران نیازی نے امریکہ میں خود کیمرے کے سامنے اعتراف کیا کہ ہم نے ایک مذہبی سیاسی جماعت کے قائدین کو جیلوں میں ڈالا اور آسیہ کی رہائی ممکن بنائی، عمران نیازی نے یہ بھی کہا کہ اس سے پہلے کسی اور حکومت نے یہ جرت نہیں کی کہ اس کو رہا کر کے باہر بھیجتے یہ کام میری حکومت نے کیا ہے، پہلے تو کہہ رہے تھے یہ عدالت کا فیصلہ ہے پھر خود ہی اپنی زبان سے اقرار کہ کہاں ہم نے رہا کروایا۔ اب کل بلہ کیس پر سپریم کورٹ نے فیصلہ سنا دیا بلہ پی ٹی آئی سے چھن گیا، اب یہ بھی تو سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے۔ منافقوں
0:30

Sensitive content

🚨🚨🚨 مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ میں عمران خان کی حکومت میں آزاد ہوئی، انہوں نے مجھے فرانس بھیجا، آسیہ ملعونہ اس وقت عمران نیازی اور اس کے ذہنی غلام شخصیت پرست یوتھیے بھاولے ہو رہے تھے کہ یہ عدالت کا فیصلہ ہے اس میں حکومت یا عمران خان کا کوئی قصور نہیں ہے، حالانکہ ریکارڈ پر ہر چیز موجود ہے جیسے کہ عمران نیازی نے امریکہ میں خود کیمرے کے سامنے اعتراف کیا کہ ہم نے ایک مذہبی سیاسی جماعت کے قائدین کو جیلوں میں ڈالا اور آسیہ کی رہائی ممکن بنائی، عمران نیازی نے یہ بھی کہا کہ اس سے پہلے کسی اور حکومت نے یہ جرت نہیں کی کہ اس کو رہا کر کے باہر بھیجتے یہ کام میری حکومت نے کیا ہے، پہلے تو کہہ رہے تھے یہ عدالت کا فیصلہ ہے پھر خود ہی اپنی زبان سے اقرار کہ کہاں ہم نے رہا کروایا۔ اب کل بلہ کیس پر سپریم کورٹ نے فیصلہ سنا دیا بلہ پی ٹی آئی سے چھن گیا، اب یہ بھی تو سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے۔ منافقوں

Khawaja Yaseen Usmani

73,638 views • 2 years ago

او یار ان کے گندے ذہن ہیں، یہ ناف کے اوپر والے حصے سے نہیں سوچتے، یہ اب خوش ہیں، پہلے کرنیل نی جرنیل نی ہن گرینل نی، او بھائی تیرے شوق ہیں تو میں کیا کروں، شہباز گل، مجھے دھمکانے کی کوشش مت کرو، خدا کی قسم نہ مجھے امریکہ جانے کا شوق ہے اور نہ ہی امریکی سفارتخانہ میں مدعو ہونے کا شوق ہے، شہباز گل تم جیسے کشتہ فروشوں کے ذہن میں یہی خیالات آتے ہیں، میں تمہیں بتاتا ہوں کہ تلسی گیبریڈ کیوں چاہتی ہے کہ عمران خان رہا ہو، کیونکہ تلسی پاکستان سے نفرت کرتی ہے، مجھے ان کے مذہب سے کوئی لینا دینا نہیں ہے میں تمام مذاہب کے عزت کرتا ہوں، لیکن تلسی نے تاریخ بنائی ہے، اس نے پہلی مرتبہ گیتا کو ہاتھ میں لے کر حلف اٹھایا ہے، میں نے یہ نہیں کہا جو آپ بول رہے ہو، میں نے یہ کہا کہ تلسی کا دل آیا ہوا ہے کہ عمران کو رہا کرواؤ تاکہ پاکستان میں CHAOS پھیلے، لیکن زرا یہ بھی یاد رکھنا کہ جب بچے لٹک رہے تھے جس کو ابھی بھی ٹرمپ بھولتا نہیں ہے تو کس نے کہا تھا کہ غلامی کی زنجیریں توڑ دیں، او بھائی یہ بھی آپ لوگوں نے کہا تھا، اور اگر اس سوچ میں ہیں کہ ٹرمپ کی ٹیم افغانستان کا بدلہ لے گی تو اس وقت جنہوں نے چائے پی تھی وہ آپ کے ابو جی تھے میرے نہیں، آپ کے پڑدادا ابو جنرل ضیاء الحق جب یہاں 11 سال تک تھے تو اس وقت بھی میں یہاں رہا تھا اور مقابلہ کیا تھا، جنرل مشرف کے دور میں بھی یہی رہا ہوں، میں اس اسٹوری کے ساتھ کھڑا ہوں، سینئر صحافی نصرت جاوید کی شہباز گل کے جھوٹے پروپیگنڈے پر برس پڑے #PublicNews #NewsUpdates #PublicProgram #KhabbarNashar Adnan Haider (عدنان حیدر) अदनान हैदर Nusrat Javeed

Public News

94,572 views • 1 year ago

عمران خان صاحب کو جب حکومت ملی، لوگ کہتے تھے کہ ملک کا بیڑا غرق کر دیا ہے، یہ نیا نیا بندہ ہے اور اس سے ملک سنبھالا نہیں جائے گا۔ لیکن وہ یہ بات بھول چکے تھے کہ جو ایماندار حکمران ہوتا ہے، اللہ تعالی اس کی دعا قبول کرتا ہے۔ پہلا وقت کچھ مشکل گزرا، پھر آہستہ آہستہ ملک تیزی سے ترقی کرنے لگا۔ میں نے اس کے دور میں جنرل اسٹور بنایا تھا، ڈبل اسٹوری جنرل اسٹور تھا اور میں پیٹی پیٹی چیزیں لانے لگا، یعنی کاروبار میں برکت پڑنے لگی۔ میں نے بھتیجے کو رکھا تھا، اس کو تنخواہ بھی دیتا تھا اور گھر کا سرکٹ بھی چلاتا تھا۔ ساتھ ایک پارٹ ٹائم جاب بھی کرتا تھا اور بڑا خوبصورت روزگار چل رہا تھا۔ اس کے دور میں پھر خواب دیکھنے شروع کیے کہ میں مکان بنانا چاہتا ہوں۔ اس کے دور میں 480 روپے کی سیمنٹ کی بوری لی تھی اور 130 روپے کلو سریا لیا تھا اور مکان بنایا تھا۔ مکمل مکان تیار کر کے اس میں اے سی لگوایا تھا۔ بچے میرے دن رات اے سی چلاتے تھے۔ اس کے دور میں، میں عمرے پر گیا تھا—غریب آدمی کا عمرہ کرنا اور مکان بنانا بڑا مشکل کام ہوتا تھا۔ میرے مسلمان بھائیو! اس کے دور میں خوشحالی دیکھی ہے، خواب پورے ہوتے دیکھے ہیں، مسلمانوں کو مضبوط ہوتے دیکھا ہے، اور غربت کا خاتمہ ہوتے دیکھا ہے۔ ایک ماڑے بندے کو صحت کارڈ مل جائے تو امیر اور غریب برابر ہو جاتے ہیں۔ غریبوں کے لیے لنگر خانے اور پناہ گاہیں کھولیں۔ لیکن یہ بات ان کو منظور نہیں تھی۔ وہ چاہتے تھے کہ ہمیں وہ حکمران چاہیے جو ہماری غلامی کرے۔ اس بندے نے شروع سے غلامی نہیں کی کیونکہ کلمہ ہمیں اس بات کی اجازت ہی نہیں دیتا کہ ہم غلامی کریں۔ تو انہوں نے حکم دیا کہ اس کی حکومت گرا دو۔ اس کے بعد ہم نے کیا نقصان دیکھا؟ وہ کہتا تھا کہ میں تو برداشت کر لوں گا لیکن تمہارے سے برداشت نہیں ہوگا اور وہ جیل کی سختیاں برداشت کر رہا ہے۔ دن بہ دن اس کا ایمان اور مضبوط ہو رہا ہے کیونکہ اس کا اللہ پر توکل ہے۔ لیکن ہمارے پاس برداشت ختم ہو گئی ہے۔ میری نوکری بھی چلی گئی، جنرل اسٹور بھی بند ہو گیا، ڈیرے والی زمین بھی چلی گئی اور ایک کیری ڈبہ لے کر اس پر مزدوری کر رہا ہوں۔ ڈرائیونگ لائسنس رینیو کرواتے وقت پہلے دو تین ہزار لگتا تھا، اب میں نے 10,000 روپیہ دیا ہے۔ گاڑی پاس کروانے کے لیے پہلے دو تین ہزار لگتا تھا، اب 20,000 روپیہ لگا ہے۔ پہلے ٹول پلازہ چھوٹی گاڑی کا 30 روپے تھا، اب 70 روپے ہے۔ میرے مسلمان بھائیو! ہمیں سب معلوم ہے، جو لوگ حکومت میں بیٹھے ہیں اور ان کو سپورٹ کرتے ہیں، انہیں بھی پتہ ہے کہ عمران خان حق پر ہے۔ لیکن وہ اس کو آنے نہیں دیتے کیونکہ وہ کہتا ہے کہ طاقتور کو قانون کے نیچے لاؤں گا، احتساب کروں گا، امیر اور غریب کے لیے قانون برابر کروں گا، اور عدالتیں انصاف دیں۔ یہ چیزیں تبھی ممکن ہیں جب عوامی طاقت آئے گی۔ عوامی طاقت اس کے پاس ہے، لیکن ہم بزدل ہیں، ہم ڈرپوک ہیں۔ اس کا اللہ پر توکل پورا ہے لیکن ہمارا توکل نہیں ہے۔ ہمیں مولویوں نے غلط راستے پر لگا دیا ہے—لنگر بانٹنے ہیں، سبیلیں لگانی ہیں، محفلیں کرانی ہیں، لیکن مقصدِ حسین ہم بھول چکے ہیں۔ پیغامِ حسین یہ ہے کہ ظالم کے خلاف جدوجہد کی جائے۔ ہمارے امام حسین نے اپنا سب کچھ قربان کر دیا لیکن ظالم کی بیعت نہیں کی۔ میرے مسلمان بھائیو! پیغامِ حسین یہی ہے۔ اور عمران خان کو اس پر عمل کرتے ہوئے دیکھا ہے، ہمیں بھی اس پر عمل کرنا پڑے گا اور حق بات بولنی پڑے گی۔ پاکستان زندہ باد! حرف باحرف سچ

ℕ𝕚𝕟𝕚 𝕄𝕒𝕝𝕚𝕜 (ℙ𝕋𝕀)

11,323 views • 1 day ago