正在加载视频...
视频加载失败
جو اپنی سمجھ میں آرہا ہے وہ سیدھا سیدھا یہ ہے کہ حرام کے جنے پی ٹی آئی والے ملک کو لیبیا اور عراق یمن شام بنانے پر فوکس ہیں وہ ہر حال میں خانہ جنگی چاہتے ہیں ان کا علاج یہ نہیں جو کیا جا رہا ہے ان... show more
14,935 次观看 • 2 年前 •via X (Twitter)
10 条评论

@OfficialDGISPR ناپاک فوج کے پالتو ۔۔۔۔۔

@OfficialDGISPR

@OfficialDGISPR کچھ رئٹائرڈ فوجی جو سمجھتے ہیں ان کے ساتھ سروسز میں ذیادتی ہوئ اور ان کو وہ رینک نہی ملا جس کے وہ اہل تھے انہوں نے ہی انتشار خان کو یقین دہانی کروائ ہو گی کہ انقلاب کے بعد فوج سنمبھال لیں گے!

@OfficialDGISPR حرام کے جنے وہ ہیں جن کو ابھی تک معاملات کی نزاکت سمجھ ہی نہیں آرہی جنہوں نے 71ء سے کچھ نہیں سیکھا جو نوشتہ دیوار پڑھنے سے قاصر ہیں جن کی زندگی کا کل مقصد نوکری میں طوالت ہے اور انکے وہ چمچے کھڑچے جو شدید زلالت کے بعد زبان پر قابو نہیں رکھ پا رہے

@OfficialDGISPR سب سے بڑا حرام کا جنا تو ہے اور تیرے حرام کے جنے جنرلز تو کسی کھوچل طوائف کی اولاد ہے @dtnoorkhan @OfficialDGISPR @NawazSharifMNS

@OfficialDGISPR حرامزادی ناپاک امریکی غلام فوج ملک کو یمن بنانا چاہتی ہے یہ سمجھیں ۵ لاکھ فوجی ۲۰ کڑوڑ عوام سے نھی لڑ سکتی جیتنا تو دور کی بات ہے نا بنگلادیش ہے نا ۱۹۷۰ ھے اِس سے پھلے کہ دن میں تارے نظر ائیں انسان کے بچے بنے جا کر بیرک میں بیٹھ جائیں ملک کی خدمت کریں ورنہ ڈالر ھزار روبےکا ہو گا

@OfficialDGISPR In haramiyo ke baray me Kya khayal ha

@OfficialDGISPR کسی بھی مفاہمت کے تحت یا مصلحت کی تحت آنکوجان بوجھ کرڈھیل دیناحوصلہ افزائی ہےانکوسوئی نہی چبتی یہ شورپہلے مچادیتےیہ سوچناچاہیے اداروں کو کہ یہ دنیا کو کیا دکھا رہے کہ پاکستان میں قانون فوج اسٹیبلشمنٹ ہر شیء کمزور اور یہ فتنہ طاقت ور ہے چار سال سے یہ تماشا لگا ہے چوہے بلی کا کھیل

@OfficialDGISPR ویری گڈ۔ ان پراپیگنڈہ کرنے والوں کی ایسی ہی چھترول ہونی چاہیے۔ پتہ ان کو ھے کچھ نہیں۔باتیں بڑی بڑی کرتے ہیں یہ دو ٹکے کے یوتھیے۔اور ساری عمر فوج کے ٹکڑوں پہ پلنے والے اب فوج کے خلاف بات کرتے ہیں۔ غدار کہیں کے

@OfficialDGISPR
相关视频
Sensitive content
آج بھی میگا پروجیکٹس پاکستان کے اندر معطل ہیں،گزرے کئی سالوں سے ملٹی نیشنل کمپنیاں درجنوں کے حساب سے ملک سے باہر جا چکی ہیں، سرمایہ یہاں سے منتقل کر دیا ہے،پاکستانی اپنا سرمایہ منتقل کر رہے ہیں اور کوئی باہر کی کمپنیاں پاکستان کے اندر سرمایہ کاری کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ افغانستان کی سرحدات ہوں یا انڈیا کی سرحدات ہوں، شرق و غرب ہم نے اپنے اوپر بند کر دیے ہیں۔ تجارت نہیں ہے، کاروبار نہیں ہے، لوگوں کا آنا جانا مشکل ہو گیا ہے۔ چین کا ہم اعتماد کھو چکے ہیں، وہ پاکستان کے اندر سرمایہ کاری میں دلچسپی بھی نہیں لے رہا۔ تو پاکستان نے محصور ریاست کی شکل اختیار کر لی ہے۔ بدامنی میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ پولیس اور فوجی جوانوں پر حملے ہو رہے ہیں اور ریاستی قوت دفاعی پوزیشن میں آ گئی ہے۔ کتنی بری بات ہے یہ! ہم ماضی کے معاملات اور مشکلات، اس سے تو ہم نمٹ نہیں پا رہے۔ گھر میں آگ لگی ہوئی ہے، نئے نئے مسائل ہم پیدا کر رہے ہیں۔ کبھی صوبوں کے سوال چھیڑ دیتے ہیں، کبھی این ایف سی ایوارڈ کا مسئلہ چھیڑ دیتے ہیں، کبھی معدنی ذخائر کا مسئلہ چھیڑ دیتے ہیں۔ اور پہلے جو ملک جس مشکل میں گھرا ہوا ہے اور جو ہمارے سروں پر مشکلات ہیں، موت ہمارے سروں پر منڈلا رہی ہے، آگ برس رہی ہے، بارود جو ہے، ہم ڈھیر پر بیٹھے ہوئے ہیں، اور ان حالات میں نئے نئے مسائل کھڑے کرنا، اس سے بڑھ کر غیر سنجیدگی اور نہیں ہو سکتی۔ مسائل ڈسکس کیے جائیں، پارلیمنٹ میں لائے جائیں اور حکومت کا ایک حصہ وہ صوبوں کی بات کر رہا ہے، صوبوں کو ٹکڑے کرنے کی بات کر رہا ہے۔ حکومت اور حکومت میں شامل جماعتیں خاموش ہیں، اس کا ایک فرد بول رہا ہے، وہ ہوتا کون ہے؟ ملک کے اندر اس کی حیثیت کیا ہے، اس کی پہچان کیا ہے؟ وہ جس کے گھر کا نوکر ہے، اس کی نوکری کرے، ان کے برتن دھوئے، کپڑے دھوئے، ان کی یہی ڈیوٹی ہے۔ ملک کے مسائل سے اس کا کوئی سروکار نہیں۔ اتنے بے بس ہم بھی نہیں ہیں کہ آپ ملک کے ساتھ کھیلتے رہیں اور ہم تماشا دیکھتے رہیں۔ اگر حالات نہیں ہیں، نئے مسائل اور ایشوز کا پاکستان متحمل نہیں ہے، تو پھر ہم بھی پاکستانی ہیں۔ ہم آپ کو پاکستان کا مالک تصور نہیں کرتے۔ حد سے آگے بڑھیں گے تو پھر اور لوگ بھی حد سے آگے بڑھیں گے۔ شکر کرو کہ ابھی ملک آپ کے ساتھ ہے، عوام پاکستان کے ساتھ ہیں، مذہبی جماعتیں پاکستان کے ساتھ ہیں، سیاسی جماعتیں پاکستان کے ساتھ ہیں۔ ہم نے ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کیا، ہم نے اس سے اختلاف نہیں کیا، لیکن قوم کو نتائج تو بتائے جائیں ناں کہ اس کردار کا کیا نتیجہ نکلا؟ آج سعودی عرب پر گولے برسائے جا رہے ہیں، حرمین شریفین کی طرف راکٹوں کے رخ کر دیئے گئے ہیں، اور کچھ پتہ نہیں کہ یہ جو ثالثی کا کردار تھا، خطے میں قیامِ امن کے لیے ایک کوشش تھی، اصولی طور پر ہم نے اس سے اختلاف نہیں کیا۔ لیکن قوم کو بتایا تو جائے، اور میں نے کئی بار اس بات کا ذکر کیا ہے کہ پارلیمنٹ کا اِن کیمرہ اجلاس بلا کر قوم کے نمائندوں کو بتایا جائے کہ ملک کہاں کھڑا ہے۔ کوئی جواب نہیں دیا جا رہا۔ پارلیمانی لیڈرز کا ایک بند کمرے کا اجلاس، میرے خیال میں، وہ کافی نہیں ہے اور اس میں اپوزیشن دلچسپی بھی نہیں لے رہی۔ تو اس اعتبار سے یہ ساری چیزیں ایسی ہیں کہ اس وقت قوم تشویش میں ہے۔ سعودی عرب پر حملہ، معاہدہ ہو چکا ہے ہمارا ان کے ساتھ۔ گو کہ وہ جنگی معاہدہ نہیں ہے، وہ دفاعی معاہدہ ہے، لیکن جب اس کے ساتھ یہ لفظ وابستہ کیا گیا کہ کسی بھی ملک پر حملہ دوسرے ملک پر حملہ تصور کیا جائے گا تو اس میں کچھ ذمہ داریاں آ جاتی ہیں، ہمارے اوپر بھی آتی ہیں۔ اب ترکی بھی اس میں شامل ہو گیا۔ اس کو آگے بڑھنا چاہیے تھا، اس میں مصر کو شامل ہونا چاہیے تھا، اس میں ایران کو شامل ہونا چاہیے تھا، لیکن عالمی قوتوں نے ایسے حالات پیدا کر دیے کہ وہ جو اسلامی اتحاد کے عمل کا ایک تسلسل تھا، وہ فلحال رک گیا ۔ قوم کو تو بتایا جائے کہ وہ کیا کر رہے ہیں، پارلیمنٹ کو تو بتایا جائے،اس ساری صورتحال سے قوم کو بے خبر رکھا جا رہا ہے،اور ملک کے اندر تشویش بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ اور پھر پیسہ نہیں آئے گا ملک کے اندر، پھر اسلحہ ملک کے اندر آئے گا۔ ملک کے اندر اسلحہ کے راستے بنائے جا رہے ہیں، اور حالات آپ کے رویوں کی وجہ سے بنتے چلے جا رہے ہیں۔ پھر شکایت کس سے؟ ہم نے ٹی ٹی پی سے امن کی درخواست نہیں کرنی، ہم نے بی ایل اے سے امن کی درخواست نہیں کرنی، ہم نے اتحاد المجاہدین سے امن کی درخواست نہیں کرنی۔ ہم نے امن کا مطالبہ حکومت سے کرنا ہے، ہم نے امن کا مطالبہ اپنے اداروں سے کرنا ہے، جو ہمارے قیامِ امن اور ہماری جان، مال و عزت و آبرو کے محافظ ہیں، اور یہ ان کی آئینی اور قانونی ذمہ داری ہے۔ ہم نے ان سے مطالبہ کرنا ہے کہ آپ ہمیں کیا امن دے رہے ہیں؟
Maulana Fazl-ur-Rehman
23,845 次观看 • 7 天前
