Loading video...

Video Failed to Load

Go Home

جو شخص نیا نیا اسلام قبول کرتا ہے نا… وہ ہارا ہوا نہیں ہوتا، وہ سب سے زیادہ جیتا ہوا انسان ہوتا ہے ❤️ سوچو! ایک لمحہ آتا ہے جب وہ “کلمہ” پڑھتا ہے اور اُس کی پچھلی ساری زندگی کے گناہ مٹا دیے جاتے ہیں… جیسے آج ہی...

49,513 views • 6 months ago •via X (Twitter)

0 Comments

No comments available

Comments from the original post will appear here

Related Videos

اس مختصر ویڈیو میں آپ دیکھتے ہیں کہ قطبی ریچھ جب پتلی برف پر پہنچتا ہے تو وہ اپنے پیٹ کے بل رینگنے لگتا ہے اور جیسے ہی وہ نازک جگہ پار کرتا ہے تو دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑا ہو جاتا ہے اب آپ سوچیں گے کہ وہ ایسا کیوں کرتا ہے تو اس کے پیچھے سادہ سی فزکس ہے قانون کہتا ہے کہ دباؤ یعنی پریشر اس قوت پر ہوتا ہے جو کسی سطح پر ڈالی جائے یعنی جتنا وزن ایک جگہ پڑے گا اتنا ہی زیادہ دباؤ ہوگا قطبی ریچھ کا اوسط وزن تقریباً پانچ سو کلوگرام ہوتا ہے اور اس کے پنجے کا سائز تقریباً تیس سینٹی میٹر کا مربع ہوتا ہے اگر وہ سیدھا کھڑا ہو تو سارا وزن صرف چار پنجوں پر آتا ہے جس سے ہر پنجے پر تقریباً ڈیڑھ ٹن فی مربع میٹر دباؤ بنتا ہے اور اتنا زیادہ دباؤ پتلی برف کو توڑ سکتا ہے ریچھ پانی میں گر سکتا ہے لیکن قدرت نے اس کو عقل عطا کی وہ جانتا ہے کہ اگر وہ رینگتا ہوا چلے اور اپنے جسم کو پھیلا کر وزن کو زیادہ جگہ پر تقسیم کرے تو دباؤ کم ہو جاتا ہے اور برف نہیں ٹوٹتی تو وہ آہستہ آہستہ لیٹ کر برف کے اوپر سے گزر جاتا ہے اور جیسے ہی خطرہ ختم ہوتا ہے وہ پھر سیدھا ہو کر چلنے لگتا ہے یہ سب کچھ اس کو کس نے سکھایا نہ اس نے کبھی اسکول دیکھا نہ کوئی فارمولہ پڑھا تو کہنے کو بس ایک ہی بات بنتی ہے سبحان اللہ جس نے ایک جانور کو بھی اپنے علم سے یہ سکھا دیا قطبی ریچھ کو نہ اسکول ملا نہ استاد پھر بھی فزکس کا ماہر نکلا یہ علم نہیں قدرت کی تعلیم ہے #موناسکندر

Moona Sikander

21,558 views • 1 year ago

بریکنگ نیوز 🚨عمران خان کے ساتھی وقار یونس نے بھی خُوف کے بُت پاش پاش کردیے۔ عمران خان کی قائدانہ صلاحیتوں اور ایمانداری کی کھل کر تعریف کرڈالی، بڑی گواہی دے دی مخالفین کو تتے توے پر بیٹھا دیا 🔥🔥 عمران بھائی اگر مجھے کہتے نہ کہ اس چھت سے چھلانگ مارو، تو میں نے دوسری دفعہ پوچھنا نہیں تھا کہ کیوں؟ ٹانگ ٹوٹ سکتی ہے، یہ ہو سکتا ہے، وہ ہو سکتا ہے۔ کنسیکوئنسز (نتائج) ہم لوگوں نے نہیں دیکھے تھے۔ میرے خیال میں جو Success بھی تھی ہماری وہ اسی لیے تھی کہ ہم نے ایک ایسے قائد کی پیروی کی جو ایماندار تھا اور جو ہم سے بہترین کارکردگی چاہتا تھا اور I Think انہوں نے جو سکھایا ہے، یا جو انہوں نے کر کے دکھایا ہے، جو Attitude کے Issues ہوتے ہیں۔ بولرز یا کرکٹرز کے۔ آپ جانتے ہیں مہارت تو سب کے پاس ہوتے ہے talent بھی سب کے پاس ہوتا ہے، ایک ایٹی ٹیوڈ ہوتا ہے۔ میرا خیال ہے کہ وہ Attitude ان کی طرف سے آیا۔ میرے لیے، میرے والد کے بعد میری زندگی پر سب سے بڑا اثر عمران خان کا ہے۔ وہ ہمارا ہیرو ہے، ہمیں اُس پر فخر ہے۔

‏زہـــرہ لیــاقت

14,718 views • 25 days ago

سب سے بڑی غلطی جو عاصم منیر اور حکومت کرتے ہیں وہ یہ غلط فہمی ہے کہ سوشل میڈیا پر کوئی aliens آ کر پوسٹ کرتے ہیں۔ یہاں عوام اپنی رائے دیتی ہے، بس تھوڑا سا طریقہ مختلف ہے ان کی جوانی کے زمانے سے۔ اب کسی ٹی وی پروگرام کی ضرورت نہیں رہی، صرف ایک عدد سمارٹ فون کی ضرورت ہوتی ہے جو آجکل سب کے پاس ہے۔ دوسری بڑی غلطی وہ یہ کرتے ہیں کہ فارم ۴۷ والا طریقہ یہاں بھی چل جائے گا۔ جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے ، وہ اگر چل بھی جائے تو زیادہ دیر نہیں چلتا۔ قوم کے شعور کا جو عالم ہے اس میں تو جھوٹ، منافقت اور manipulation کی گنجائش ہی نہیں۔ Orya Maqbool Jan نے بلکل ٹھیک کہا (جس کی Imran Riaz Khan نے بھی تائید کی اپنی اس وڈیو میں) کہ حکومت اور عسکری ادارے اربوں روپے خرچ کرکے ، تنخواہ دار لوگوں سے عمران خان کے رضاکار سوشل میڈیا کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ اسی لیے ساڑھے تین سال سے ہار رہے ہیں عمران خان اور عوام سے- سلام ہے پاکستان کے بے لوث سوشل میڈیا ٹائیگرز اور ٹائیگریسز کو۔ ہم سب ایک دوسرے کو نہیں جانتے مگر دل میں ایک دوسرے کی بہت عزت کرتے ہیں، کیونکہ ہمیں پتہ ہے کہ کسی کو پاکستان کی بہتری کے علاوہ اور کچھ نہیں چاہیے اور یہ بھی پتہ ہے کہ کن مشکل حالات میں اپنی پوری کوشش صبح شام کرتے ہیں۔ جیت تو ہم سب کا مقدر ہے اور اس بات کا پورا یقین ہے کیونکہ اللہ الحق ہے! #خان_قوم_تیرے_سنگ_رہے_گی

Jibran Ilyas

45,473 views • 8 months ago

✨محترم میاں محمد نواز شریف - ایک نظریہ، ایک روشنی، حب الوطنی اور استقامت کا استعارہ✨ پاکستان کی خدمت کی جو مثال محترم میاں محمد نواز شریف Nawaz Sharif نے قائم کی، وہ محض سیاست نہیں، ایک سبق ہے۔ ان کا وقار اور بردباری ایک مثال ہے۔ بشر کامل نہیں ہوتا، لیکن محترم نواز شریف اُن شخصیات میں سے ہیں جنہیں ہم نے ہمیشہ عزت دی، سراہا، اور سراپا خلوص پایا۔ جب بھی محترم نواز شریف کی آواز کانوں سے نہیں، دل سے گزرتی ہے … تو دل بھر آتا ہے۔ ہمارے اور اُن کے زخم ایک جیسے تو نہیں، لیکن اُن کے درد میں کچھ ایسا ہے، جو ہمیں ہمارے اپنے دکھ یاد دلا دیتا ہے۔ وہ جو کہتے ہیں، ہم وہ محسوس کرتے ہیں۔ گویا اُن کے الفاظ اور ہماری آپ بیتی … کسی آئینے کی دو جھلکیاں ہوں - الگ الگ، پھر بھی ایک جیسی۔ جس بے انصافی، تعصب اور سیاسی انتقام کا وہ اور ان کا خاندان نشانہ بنے، وہ ایک ایسی تاریخ ہے جو معافی کی نہیں، شرمندگی کی مستحق ہے۔ اللہ تعالیٰ محترمہ بیگم شمیم اختر اور بیگم کلثوم نواز کی لغزشوں کو معاف فرمائیں اور اُنہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائیں آمین 🤲 لیکن سن لو ہر وہ آواز جو ان کے خلاف بولی: اگر فیصلے انسانوں کے اختیار میں ہوتے، تو نہ وہ ہوتے، نہ ہم✌️ فیصلہ صرف اللہ رب العزت کا ہے، جو أَحْكَمُ ٱلْحَـٰكِمِينَ ہیں - سب سے بڑا منصف 🕋❤️ محترم میاں محمد نواز شریف ان چند گنے چنے رہنماؤں میں سے ہیں، جنہوں نے نہ صرف ہمارے مادر وطن پاکستان کو تعمیر کیا، بلکہ ترقی کی راہ پر گامزن بھی رکھا۔ اُن کی قیادت اور اُن کی خدمت کی مثال تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھی جاتی ہے۔ محترم نواز شریف ایک نام نہیں، ایک مثال ہے - ایسا نظریہ جو ہر دور کی دھول میں بھی چمکتا رہا۔ قوموں کو صرف خواب دکھانے والے نہیں، بلکہ اُن خوابوں کو حقیقت میں ڈھالنے والے رہنما یاد رہتے ہیں … اور محترم نواز شریف انہی میں سے ہیں۔ سچ یہ ہے، اور رہے گا: محترم نواز شریف صرف ایک ہیں، اور اُن جیسا کوئی دوسرا ہو ہی نہیں سکتا … چاہے وہ کوئی بھی ہو! حالات کچھ بھی ہوں، وقت جیسا بھی ہو … یہ وہ حقیقت ہے جو انکار سے نہیں مٹتی، بلکہ ہر گزرتے لمحے کے ساتھ اور نمایاں ہوتی ہے۔ ظلم جب حد سے بڑھتا ہے، تو مٹ جاتا ہے۔ اور جو حق ہوتا ہے، وہ عارضی طور پر دب تو سکتا ہے، مگر فنا نہیں ہوتا! #NawazSharif #PMLN 💫👸🏻✨

Ayyan

13,468 views • 1 year ago

میرے خیال میں اب صورت حال وہ نہیں ہے اب امریکہ سپر طاقت نہیں رہا ہے، وہ اپنا ایک بھرم رکھنے کے لئے یہ سارا کچھ کر رہا ہے، بلکہ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ شاید ٹرمپ اپنے ذاتی دفاع کیلئے یہ سب کچھ کر رہا ہے، امریکہ کی دفاع کیلئے بھی نہیں کر رہا اور وہاں پر اس وقت امریکہ کی عوامی تائید بھی اس وقت حاصل نہیں ہے، بڑا سوال یہ ہے کہ جس شخص نے الیکشن لڑا کہ دنیا سے جنگ ختم کروں گا اس نے اقتدار میں آ کر دنیا پر جنگ مسلط کر دی ہے یہ خود امریکیوں کے اور امریکی عوام کے نظر میں بھی ایک سوالیہ نشان ہے۔ سو اس وقت پوری دنیا ازسر نو سوچ رہی ہے اور ظاہر ہے سوویت یونین کی ٹوٹنے کے بعد ہم پہلے سے کہہ رہے ہیں کہ عالمی تبدیلی اور تغیرات آئیں گی سو اس وقت پوری دنیا امریکہ سے لے کر روس تک اور چین تک یہ عالمی تغیرات کی زد میں ہیں اور ہمیں خود بیٹھ کر خود اعتمادی کے ساتھ اپنے مستقبل کو خود تراشنا ہوگا۔ ہمیں یہی سوال ہے کہ اس وقت ثالثی کی باتیں بھی ہو رہی ہیں کیا پاکستان اس پوزیشن میں ہے کہ وہ ثالثی کر سکے اور شہباز شریف جیسے حکمران کے ٹویٹ پر ٹرمپ کا ٹویٹ آنا خود ٹرمپ کی کمزوری اور امریکی پالیسی کی کمزوری کی عکاس ہے۔ سو اس حوالے سے ہمیں سوچنا چاہیے۔ صحافی: کیا ہماری طاقت عکاس نہیں ہے؟ نہیں پاکستان بہرحال محاصرے میں ہے اور سوائے ثالثی کے کردار کے ہمارے پاس اور کون سا راستہ ہے؟ جب تک ہمارے دماغ سے یہ کیڑا نہیں نکلے گا کہ ہم نے افغانستان کو زیر نگیں رکھنا ہے اور افغانستان میں کوئی حکومت وہ ہماری مرضی کے بغیر نہیں چلے گی اس وقت تک معاملات ٹھیک نہیں ہو سکتے، ہمیں ایک آزاد افغانستان ایک صاحب استقلال افغانستان ایک خودمختار افغانستان اس پر توجہ رکھنی چاہیے اور ماضی کے جو ہمارے اس حوالے سے قربانیاں ہیں ان کو کسی ایک کامیاب نتائج تک ہمیں پہنچانا چاہیے۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ افغانستان میں سفارتی جو ہماری ستتر یا اٹھتر سالہ کوششیں ہیں وہ اب تک کیوں ناکام ہیں یہ مستقل ایک سوال ہے، یہ کافی نہیں ہے ہم نے بڑی کوشش کی اور افغانی نہیں مانتے اور ہم نے بڑی کوشش کی اور افغانی نہیں مانتے، مسئلہ یہ نہیں ہے، مسئلہ یہ ہے کہ کیوں نہیں مانتے، کیا ساری غلطیاں ستتر سال سے انہی کی طرف ہیں اور کیا ہمارے طرف بلکل کوئی غلطی نہیں ہے، یہ بھی ہمیں قومی سطح پر سوچنا چاہیے، افغانستان صرف حکومت کا نام نہیں ہے، افغانستان صرف وہاں امارت اسلامیہ کا نام نہیں ہے، افغانستان وہاں کے عوام کا بھی نام ہے، افغان قوم کا نام ہے، افغان قوم کے ہمارے ساتھ رشتے ہیں، ہمارے ساتھ ان کے تعلقات ہیں، ہمارے ساتھ ان کی برادریاں شریک ہیں اور ہمارے ساتھ ان کی معاشرت شریک ہے، ان تمام رشتوں کو سامنے رکھتے ہوئے ہمیں افغانستان کے حوالے سے سوچنا چاہیے، یہ ہر وقت رجیم چینج اور رجیم چینج کے باتیں یہ شاید نہ ختم ہونے والا سلسلہ بنے، ہم نے ظاہر شاہ کے خلاف انقلاب کی حمایت کی، پھر اس کے بعد کمیونسٹ انقلاب آیا پھر ہم نے ان کے خلاف جہاد اس وقت ہم امریکہ جب آیا تو ہم بھی شامل ہو گئے، پھر وہی امریکہ تھا اس نے طرف تبدیل کر دیا تو مشرف کے زمانے میں ہم پھر امریکہ کی جنگ لڑ رہے تھے، آج ہم پھر ایک دفعہ امریکہ کی خواہشات کی مطابق، یہ کیسا امریکہ ہے کہ پاکستان کی اگر انڈیا سے لڑائی ہو تو کریڈٹ لیتا ہے کہ میں نے جنگ بند کرا دی اور اگر افغانستان کے ساتھ لڑائی ہو جائے تو کہتے ہیں پاکستان ٹھیک جا رہا ہے اس کو اور کرنا چاہیے۔ تو یہ چیزیں ان کی بدنیتی پر دلالت کرتی ہے اور ہمیں کسی کے ٹریپ میں نہیں آنا چاہیے وہ اب خود ٹریپ میں آ چکے ہیں، پھنسے ہوئے ہیں، مشکلات کے شکار ہیں اور وہ کامیابیاں حاصل نہیں کر پا رہے ہیں، پاکستان کو ہر قدم احتیاط سے اٹھانا چاہیے اور پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینا چاہیے۔ دیکھیے سفارت کاریاں حکومتوں کا کام ہے، ریاستوں کا کام ہے، پارٹیوں کا کام نہیں ہوتا ہے، ہم پبلک ٹو پبلک ریلیشنز جو ہیں اس میں مدد دے سکتے ہیں، ہم سب مسلمان ہیں ہم سب بھائی بھائی ہیں ہم ایک دوسرے پر ڈیپنڈ کر رہے ہیں، لیکن عوام کی ضرورتوں اور خواہشات کو مد نظر رکھتے ہوئے ریاستیں فیصلہ کریں، بین الاقوامی قوتوں کے تابع فیصلہ نہ کریں، اپنے ملک کے عوام کے خواہشات اور ان کی ضرورتوں کے تابع فیصلے کریں۔ امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کی ڈیرہ اسماعیل خان میں گفتگو

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

17,437 views • 5 months ago

یہ سب کچھ ڈی جی صاحب نے کہا ۔ صرف انکی جونسی انگریزی ہے اس کا ترجمہ کر دیا ۔ وہ یہ سب سمجھتے ہیں اسی لئے یوتھ کے خلاف ہیں ؟ انہوں نے کہا ۔ جو ہوپ والی بات ہے۔ ​آپ کیا سمجھتے ہیں کہ پاکستان کا جو نوجوان ہے وہ باشعور نہیں ہے؟ بہت باشعور ہے مجھے اسکولوں، کالجوں اور دیگر پلیٹ فارمز پر پاکستان کے اس شاندار نوجوان طبقے سے بارہا گفتگو کا شرف حاصل ہوا ہے۔ اور میں آپ کو سچ بتاؤں، جس عمر میں وہ ہیں، اس عمر میں ہمارے مقابلے ان کی سوچ کہیں زیادہ واضح اور روشن ہے۔ بے حد واضح ​وہ جو دنیا کے حالات دیکھتے ہیں نا میرے بھائی، انہیں ریاست کی اہمیت کا مجھ سے اور آپ سے زیادہ اندازہ ہے جو ہمیں اس عمر میں تھا۔ پاکستان کے ساتھ ان کی وابستگی، پاکستان سے ان کی محبت، اور پاکستان پر ان کا اعتماد بہت مضبوط ہے۔ اور میرے خیال میں وہ یہ بات بہت اچھی طرح سمجھتے ہیں، کیونکہ ان کے سامنے ابھی 50 سے 70 سال کی پوری زندگی پڑی ہے، کہ وہ ذاتی طور پر زندگی میں اور یہ ملک مجموعی طور پر کن چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔ ​اور ایک بہتر تبدیلی اور سنہرے مستقبل کے لیے ان کی خواہش کہیں زیادہ شدید ہے۔ ​تو اگر کوئی یہ کہہ رہا ہے، اور اب ہم کھلم کھلا اس بات پر بحث بھی کر رہے ہیں کہ جی ہاں، تبدیلی کی ضرورت ہے..." , تو آئی تھنک مایوسی نہیں، کہیں گے... وہ پرہیپس آئی تھنک کہیں گے 'دیر آئے درست آئے'۔ ٹھیک ہے نا؟ Because they also, ان کا اسٹیک ہے میرے بھائی ان کے پاس زندگی زیادہ ہے، ان کے پاس دہائیاں زیادہ ہیں۔ ​اور اسی ملک کے نیچے، انہیں پتہ ہے وہ غزة کو نہیں دیکھ رہے، انہیں پتہ ہے ریاست کیا ہوتی ہے۔ ریاست کی جگہ... انہیں پتہ ہے پاکستان کے علاوہ نہ ان کی پہچان ہے، نہ عزت ہے، نہ اوقات ہے۔ میں ہمیشہ یہ کہتا ہوں، مجھ سے زیادہ سمجھتے ہیں۔ میں جب بھی انٹریکٹ کرتا ہوں، ایک چیز.. . جب آپ ان سے ملتے ہیں تو کئی ایسی باتیں ہیں جو آپ کا دل جیت لیتی ہیں، کہ ہمارے پاس کتنا شاندار نوجوان طبقہ ہے! کتنا سلجھا ہوا اور روشن دماغ نوجوان طبقہ ہے!" ​تو یہ ان کی ریکوائرمنٹ ہے میرے بھائی۔ یہ امید کم نہیں ہوئی، یہ ان کے حوصلے کم نہیں ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ ٹھیک ہے، تو اب ایک... ایک سوچ جنم لے رہی ہے، ایک عمل آگے بڑھ رہا ہے، اور ایک بنیادی ضرورت بھی موجود ہے۔" اب اس کا طریقہ جونسا ہے وہ آئین اور قانون اور عوام... اور ​"تو پھر، سب سے بڑے اسٹیک ہولڈر بھی تو وہی ہیں ​اگر پاپولیشن وائز بھی دیکھا جائے تو سب سے بڑا اسٹیک ہولڈر وہی ہے نہ؟ 'ویل آف دی پیپل' کی بات کی جائے تو 'ویل آف دی پیپل' کا سب سے بڑا کمپوننٹ تو وہی ہے۔ تو ہم تو یہی کہہ رہے ہیں لوگوں کی رائے لیں' تو. یوتھ بتا دے گی آپ کو،کہ وہ کیا چاہتے ہیں"

Shafqat Ch

20,399 views • 28 days ago