Video yükleniyor...

Video Yüklenemedi

Ana Sayfaya Dön

”جو شخص یا سیاسی جماعت بھی موجودہ رجیم سے سیاسی اختلاف کرنے کی جرات کرتا ہے، ریاست اس کو دہشتگرد قرار دے دیتی ہے۔ آزاد جموں کشمیر میں ہزاروں کشمیری آج تک سراپا احتجاج ہیں مگر ریاست کے پاس اس سیاسی مسئلے کا حل صرف یہی ہے کہ انہیں...

17,417 görüntüleme • 1 ay önce •via X (Twitter)

0 Yorum

Yorum bulunmuyor

Orijinal gönderinin yorumları burada görünecek

Benzer Videolar

🚨 جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی آخر آزاد کشمیر کو کس سمت لے جانا چاہتی ہے؟ کیا وہ مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال سے کوئی سبق نہیں لیتے، جہاں لوگ آج بھی بنیادی حقوق، روزگار، سیاسی آزادیوں اور معمول کی زندگی کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں؟ اس ویڈیو کو غور سے سنیے، جہاں محبوبہ مفتی خود آزاد کشمیر اور مقبوضہ جموں و کشمیر کا موازنہ کرتے ہوئے چند تلخ حقائق بیان کر رہی ہیں۔ جب مقبوضہ کشمیر کی ایک معروف سیاسی رہنما زمینی حقائق کا اعتراف کر رہی ہیں، تو ہمیں بھی جذبات کے بجائے حقائق کی بنیاد پر گفتگو کرنی چاہیے۔ آزاد کشمیر میں عوام کو تعلیم، کاروبار، اظہارِ رائے، سیاسی سرگرمیوں اور سماجی ترقی کے وہ مواقع حاصل ہیں جو مقبوضہ کشمیر میں محدود یا شدید دباؤ کا شکار ہیں۔ مسائل اپنی جگہ موجود ہیں، مگر ان کا حل انتشار، محاذ آرائی اور عدم استحکام نہیں بلکہ تعمیری مکالمہ اور ترقی پر مبنی سوچ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مجموعی طور پر آزاد کشمیر کے عوام تعلیمی، سماجی، سیاسی اور معاشی اعتبار سے مقبوضہ کشمیر کے مقابلے میں بہتر پوزیشن میں ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا آذاد کشمیریوں کو اس استحکام کو مزید مضبوط بنانا چاہیئے یا اسے کمزور کرنے کی کوشش کرنی چاہیئے؟ #AJK #AzadKashmir

Kashmir Urdu | کشمیر اردو

442,627 görüntüleme • 3 ay önce

ہم اب تک تقریباً سو شہداء کے جنازے اٹھا چکے ہیں، ہزاروں زخمیوں کا دکھ دیکھ چکے ہیں ہزاروں قید و بند کی صعوبتیں جھیل رہے ہیں اور ایک طویل عرصے سے شدید حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔ اس سب کے باوجود جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی آج بھی اپنی پُرامن، آئینی اور جمہوری جدوجہد کے اصول پر قائم ہے اور بامعنی مذاکرات، سنجیدہ بات چیت اور سیاسی حل کے لیے تیار ہے۔ یہ بات پوری وضاحت کے ساتھ سمجھ لی جانی چاہیے کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی پالیسی کسی جعلی سوشل میڈیا اکاؤنٹ، غیر مصدقہ پوسٹ، انفرادی رائے یا اشتعال انگیز بیان سے طے نہیں ہوتی۔ تحریک کا پالیسی مؤقف صرف مرکزی قیادت اور اس کے مستند ذرائع سے جاری ہونے والے بیانات کے ذریعے سامنے آتا ہے۔ ہم نے نہ کبھی مسلح جدوجہد کی حمایت کی ہے، نہ اسلحہ اٹھانے کی ترغیب دی ہے اور نہ ہی مستقبل میں کسی ایسی سرگرمی کی حمایت کریں گے۔ ہماری جدوجہد عوام کے بنیادی، سیاسی، معاشی اور جمہوری حقوق کے حصول کے لیے ہے۔ بدقسمتی سے بعض عناصر ایک منظم انداز میں ہماری پُرامن عوامی تحریک کو مسلح جدوجہد یا تشدد سے جوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایسی کوششیں نہ صرف حقائق کے منافی ہیں بلکہ اس تحریک کے حقیقی، عوامی اور جمہوری کردار کو مسخ کرنے کی کوشش بھی ہیں۔ ہم واضح کرتے ہیں کہ کسی بھی فرد، گروہ یا سوشل میڈیا پلیٹ فارم کی جانب سے تشدد، اسلحہ یا اشتعال انگیزی پر مبنی مؤقف کو جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی سے منسوب نہ کیا جائے۔ تقریباً سو جانوں کی قربانی کے بعد بھی اگر ہم مذاکرات، مکالمے اور پُرامن سیاسی جدوجہد کا راستہ اختیار کیے ہوئے ہیں تو یہ ہماری کمزوری نہیں بلکہ ہمارے اصولی مؤقف، سیاسی سنجیدگی اور عوام کے سامنے ہماری ذمہ داری کا ثبوت ہے۔ سردار عمر نذیر کشمیری کور ممبر، جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی

Sabir Shakir

50,198 görüntüleme • 1 ay önce

آزاد کشمیر میں جو کچھ ہو رہا ہے اُس پہ چند گزارشات۔ نمبر ۱۔ یہ معاملہ سیاسی تھا اور موجودہ سیاستدانوں کی نا اہلی ہے کے وہ یہ مسئلہ گفتگو سے حل نہ کر سکے۔ اُس کی وجہ بھی یہی ہے کے موجودہ سیاستدان لوگوں کے حقیقی نمائندے نہیں ہیں۔ جس دن الیکشن میں حقیقی نمائندے کامیاب ہوئے، سب مسلے حل ہو جائیں گے۔ نمبر ۲۔ نااہل سیاسی جماعتیں ہر مسئلے میں سیکورٹی فورسز کو آگے کر دیتی ہیں، یہاں سمجھنے کی ضرورت ہے کے سیکورٹی فورسز کے پاس ہر مسئلے کا حل گولی ہوتا ہے کیونکہ وہ اپنی ٹریننگ میں مزاکرات کرنا نہیں بلکہ لڑنا سیکھتے ہیں۔ نمبر ۳۔ عین مُمکن ہے کہ احتجاج کرنے والوں میں چند بکے ہوئے لوگ بھی ہوں گے مگر اس بنا پہ باقی شہریوں کی پاکستان سے محبت پہ سوال اٹھانا زیادتی ہے۔ مت بھولیے کہ پاک فوج سے لے کر ہر پاکستانی ادارے میں کشمیریوں کی لازوال خدمات و قربانیاں ہیں۔ یہ لوگ جو آج سیاسی احتجاج کر رہے ہیں، انہی کے رشتداروں نے پاکستان کے لئے جانیں نچھاور کی ہیں۔ اس سال کاکول میں اعزازی شمشیر لینے والا بھی ایک کشمیری پاکستانی ہے۔ نمبر ۴۔ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔ اور اگر اس کہ ساتھ زورآزمائی ہوئی تو ہم سب معذور ہوں گے۔ دلیل کو سُنیں اور اُس کا حل حکمت سے نکالیں۔ نمبر ۵۔ لوگوں کے حقیقی نمائندے سامنے لائیں، جن کی بات کو عوام اہمیت دیں۔ جمہوریت عوام کی مرضی کو کہتے ہیں، نااہل سیاستدانوں کی حکومت کو نہیں۔ نااہل سیاستدان اپنی نااہلی چھپانے کے لئے فقط سیکورٹی فورسز کو آگے کرے گا جس سے معاملہ مزید بگڑے گا۔ نمبر ۶۔ یہ لوگ جو سیاسی احتجاج کر رہے ہیں ان کے لاکھوں رشتہ دار برطانیہ میں موجود ہیں جو پاکستان سے محبت کرتے ہیں، خدارا ان کے دلوں میں اس محبت کو قائم رکھ کے اُس کی آبیاری کریں۔

Raja Faisal

15,574 görüntüleme • 3 ay önce

سوال: اچھا مولانا صاحب ملک کے بہتر مفاد میں آپ عمران خان سے بھی مل سکتے ہیں ان کو شامل ہونے کی دعوت دے سکتے ہیں؟ جواب: دیکھیے ہر چیز باوقار انداز سے ہو اس میں کوئی شک نہیں کہ دس بارہ سال ہم ایک دوسرے کے بڑے مد مقابل رہے ہیں اور ہمارے بڑے تحفظات ہیں اور ان کو اگر دور کیا جاتا ہے تو ہم سیاسی لوگ ہیں مذاکرات سے بھی انکار نہیں کریں گے اور مذاکرات کے لیے اگر ماحول بنتا ہے تو اس کی بھی حوصلہ افزائی کریں گے ہم کوئی مستقل جھگڑے اور جنگ اور تلخیاں اس کو باقی رکھنا نہ ملک کے مفاد میں سمجھتے ہیں نہ ہمارے سوسائٹی کے مفاد میں ہے۔ سوال: آپ کی طرف سے ویلکم ہے عمران خان کے لیے۔۔ تو یہ ذرا واضح کیجیے گا اگر آپ کو ضرورت پڑتی ہے یا۔۔۔۔ جواب: میرے پاس ان کے دو وفود آئے ہیں اس کے باوجود ان کے لوگ جو ہیں وہ مجھے مسلسل مل رہے ہیں چاہے آف دی ریکارڈ مل رہے ہیں یا میڈیا کے سامنے بھی مل رہے ہیں تو ملتے ہیں اور یہی گفتگو چل رہی ہے کہ آپس کے جو تحفظات ہیں کس طرح ان کو دور کرنے کے لیے ماحول بنایا جائے۔ سوال: مولانا صاحب ابھی آپ نے فرمایا کہ 10 12 سال کی تلخیاں تھی اب آپ سیاسی طور پر کہہ رہے ہیں کہ سیاسی لوگ دروازے کھلے رکھتے ہیں تو جو سب سے زیادہ پچھلے سات آٹھ سالوں میں آپ کی طرف سے الزام کہ یہ یہودی لابی ہے تو یہ سیاسی تلخیاں ختم ہوں گی تو آپ ان کو یہودی لابی سے مسلمان لابی میں کیسے دیکھیں گے؟ جواب: یہ بات ذہن میں رکھے اگر ہم نے برصغیر کی سیاست میں کسی کو انگریز کا ایجنٹ کہا ہے یا ہم نے عالمی سطح پر کسی کو امریکہ کا ایجنٹ کہا ہے تو یہ عنوان ہے یہ گالی نہیں ہے مطلب یہ ہے کہ جو عالمی سطح پر ایک ورلڈ وائڈ جو ایکنامک نیٹ ورک ہے اور اس کے اوپر جو جیوش کی ایک بالادستی ہے جب میں دیکھوں گا کہ میرے ملک کو بھی اس نیٹ ورک کے اندر ڈالا جا رہا ہے اور یہاں پر میں سود کے خاتمے کی بات کرتا ہوں اور میں مکمل طور پر عالمی سطح پر سودی نظام کے اندر جا رہا ہوں ان کی معیشت کے اصولوں کے مطابق چلوں گا تو اس سے میرا اختلاف ہوگا اب اس اختلاف کا عنوان اگر یہ ہے کہ یہودی ایجنٹ تو اس کو گالی کیوں کہا گیا اس کو سنجیدگی سے لینا چاہیے تھا مجھ سے پوچھنا چاہیے تھا کہ آپ یہ بات کیوں کہہ رہے ہیں اگر میں کہتا ہوں کہ قادیانیوں کو دوبارہ مسلم سٹیٹس پاکستان میں دینا یہ میرے تحفظات ہیں بجائے اس کے کہ آپ مجھے اس کے بدلے میں گالیاں دیں آپ مجھے مطمئن کریں میں پاکستان کا شہری ہوں میرے پیچھے کچھ لوگ ہیں ان کے ایک سوچ ہے ان کے تحفظات ہیں میں ان کے نمائندگی کر رہا ہوں اگر میں کہتا ہوں کہ پاکستان میں مغربی تہذیب کو فروغ دیا جا رہا ہے اور ہماری اسلامی اور مشرقی تہذیب جو ہے اس کا خاتمہ کیا جا رہا ہے اس کے بدلے میں گالی دینے کی بجائے مجھ سے پوچھا جائے مجھ سے بات کی جائے سیاستدان کا کام یہی ہوتا ہے اگر میں نے آپ کے اوپر کوئی اعتراض کیا ہے یا آپ کے ساتھ میں کوئی ایک تحفظات کا اظہار کیا ہے تو اپ کا فرض بنتا ہے کہ آپ یہ بات کہے کہ فضل الرحمان یہ بات آپ کیوں کر رہے ہیں مجھے تاکہ جب میں آپ کے ساتھ اپنی بات رکھوں تو آپ یا مجھے مطمئن کر سکیں اس بات پر کہ میں میرے ایجنڈا نہیں ہے یا یہ کہ یہ میرا ایجنڈا ہے اور آپ کے مفاد کے لیے ہے کچھ تو کرنا پڑے گا نا جی تو یہ چیزیں جو ہیں ان کو سیاسی طور پر ہم لے رہے ہیں اور آج جب ان کے لوگ آئے ہیں اگر یہ لوگ 12 سال پہلے بھی اتے تب بھی میرے یہی ایٹیٹیوڈ ہوتا اور اگر آج آئے ہیں تب بھی میرا وہی ایٹیٹیوڈ ہے

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

17,018 görüntüleme • 2 yıl önce