Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

جیسے ہی امام خا منائی کاجسد خاکی سامنے ایا امام خا منائی کا کیمرہ مین زور و قطار رونے لگا۔۔

115,752 просмотров • 1 месяц назад •via X (Twitter)

Комментарии: 0

Нет доступных комментариев

Здесь появятся комментарии из оригинального поста

Похожие видео

مان نے واجد کے گھر جا کر بس اتنا بولا میری بیٹی کی کل شادی ہے۔ اور ہمارے گھر آٹا بھئ نہین ہے ۔ بیٹی کی رخصتی پر دینے کو کھانا یا جلیبی تو بس ایک خواہش ہی رہ جائے گی ۔ واجد کا فون ایا کل رات 10 بجے کے بعد مہر جی عورت دروازے پر کھڑی ہے ۔ مین نے بولا حقدار ہیں ۔ بولا ہان یہ کنفرم ہے 30 سال سے جانتا ہون اس خاندان کو۔ ساتھ والے گاون کے ہین رات کی تاریکی مین آئے ہین تاکہ کسی کو خبر نہ ہو۔ تو اس گھر رات کو ہی واجد کی طرف ہر وقت رکھے ہوئے دو ایکسٹرا خریدے ہوئے جہیزون مین سے ایک واجد جا کر ان کے گھر چھوڑ آیا۔ ماں باپ نے جیسی دعائین دین بس عرش والا قبول فرمائے ۔ ۔۔۔۔۔۔ کھانا چیک کیا خود بہت مزے کا تھا ۔ دوپہر کے چند پل جتنے سکون سے گزرے ۔ شام کو وڈیوز پہنچنے پر کہاں کہاں چرکے لگے سینے مین یہ رب ہی جانتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔۔ کھانا دن کو ان تک پہنچا دیا ٹینٹ لگوا دئیے تھے صبح واجد نے ۔ جا کر ان کے گھر ۔ کسی گھر کے فرد کی تصویر مردوں مین سے بھی بنانا ممکن نہین تھی ۔ ۔۔۔۔۔۔ عزت بچا کر بیٹی کو رخصت کرنا کتنا مشکل ہو چکا ہے ۔ جس نے دروازے پر ا کر صدا لگا دی اس کو خالی لوٹانا ظلم ہوتا ہے ۔ تمام کام احسن طریقہ سے طے پا گئے ۔ ۔ رب کعبہ ہم سب کو ہمت اور عزت عطا فرمائے احسن عمل کی ۔ ۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔۔ میرا دل بیٹھ گیا اس وڈیو کو دیکھنے کے بعد جب دلہن کے کپڑے مجھے نظر آئے ۔ بچی نے دلہن بن کر بھی دلہن والا کچھ نہین پہن رکھا تھا۔ میرا دم گھٹ گیا۔ سانس رک گی۔ واجد کو کال کی پوچھا تو پتا چلا باپ نے منع کیا تھا کے کپڑے نہ بنا سکا ہون نہ مانگ کر پہناون گا۔ ۔ ۔ کبھی کبھی چیخیں مار کر رونے کو دل کرتا ہے ۔ ایسے معاشرے مین ایسے فرشتے سفید پوش افراد بھی موجود ہین ۔ ۔ ۔ جن کی ایسے حالات مین بھی بس نہین ہوتی ۔ #SaqibAllyana

Saqib Allyana

61,294 просмотров • 17 дней назад

مریدکے بنک کے مین گیٹ پر جو کچھ ہوا اس کے زمہ دار ہم سب لوگ ہیں ایک نارمل زندگی گزارنے اور گھر والوں کا پیٹ پالنے والا جوان اس نہج تک کیسے پہنچا کس نے پہنچایا حساب سب کو دینا پڑے گا، کیونکہ اللہ پاک سب دیکھ رہا ہے،عینی شاہدین کے مطابق جب طیب ہاتھ میں ساطور (بڑا چھرا) لے کر بینک کے سامنے پہنچا تو ابتدا میں اس کا رویہ نسبتاً نارمل تھا، مگر جیسے جیسے لوگ جمع ہوتے گئے، اس کا مزاج بگڑتا چلا گیا۔ اس نے بلند آواز میں کہنا شروع کیا کہ کوئی اس کے قریب نہ آئے، ورنہ وہ چھرا مار دے گا۔ لوگوں نے فاصلہ برقرار رکھنے کے بجائے اسے گھیرنے کی کوشش کی۔ بعض افراد نے اس پر پتھر پھینکے، ٹھنڈا پانی ڈالا، لمبے ڈنڈوں سے مارا اور حتیٰ کہ ٹھڈے بھی مارے گئے۔ مشتعل طیب نے اس دوران ساطور سے بینک کے شیشے توڑ دیے، حالانکہ بینک انتظامیہ پہلے ہی اندر سے دروازے بند کر چکی تھی۔ ایک قریبی دکاندار کے مطابق طیب اس وقت قابو میں آیا جب اس کے سر پر ایک بڑا پتھر لگا، جس سے وہ حواس باختہ ہو گیا۔ یہی وہ لمحہ تھا جب صورتحال مزید سنگین رخ اختیار کر گئی۔

The Power Of PTI

111,220 просмотров • 7 месяцев назад

میں کل شادی والے گھر کیوں گیا۔ مجھے پتا چلا بچی کا باپ پریشان ہے ایک زمیندار کی وجہ سے اس نے دو سال پہلے اس کی بیٹی کا رشتہ مانگا تھا جس کو باپ نے انکار کر دیا۔ وجہ وہی 85 سال کا بزرگ 18 سال کی لڑکی سے ہمارے معاشرے میں شادی کرتا ہے تو صرف عیاشی کے لئے کرنا چاہتا ہے ۔ اس نے پیغام بھیجا تھا کے مین دیکھ لونگا شادی کیسے ہوتی ہے۔ پھر شادی ہو بھی گئی اور وہاں چڑیا نے پر نہین مارا۔ ۔۔ اس ملاح باپ کی بڑی بیٹی کے ساتھ ایسا ہی حادثہ ہو چکا ہے دو سال پہلے اس پر الگ سے پوسٹ لکھوں گا کے لوگ کیسے درندے ہین غریب انسان کو بیٹی کی بربادی کے بعد بھی کیسے کیسے لوٹنے کے رستے نکال لیتے ہین۔ مین اس شخص کی زندگی کے بہت سارے پہلو سامنے نہین لا رہا ورنہ معاشرہ اپنے گریبان مین جھانکنے کے قابل نہین رہ جائے گا۔ ۔۔ دوسری وجہ دلہن کے باپ کا کوئی قریبی رشتے دار موجود حیات نہین ہے ۔ تو ہر انسان ایسے موقع پر بار بار ہمت ہارتا ہے۔ میری موجودگی مین دو بار باپ نے منہ پر کپڑا رکھا اس کی آنکھیں نم ہو رہی تھیں بار بار۔ پھر مین وہاں 3 لوگ چھوڑ کر ایا۔ ایک واجد کو جس نے دیگوں کا تمام کام ٹینٹ اور تمام گھر سے باہر کے کام سنبھال رکھے تھے۔ جو وڈیو مین بول رہا ہے۔ دوسرا اختر ماچھی اس کے ذمہ کھانا تقسیم کرنا اور روٹی کم نہ ہو جائے وہ سب انتظام تھا۔ پھر وہاں مین بندا جعفر موجود رہا بچی کی رخصتی تک ۔ تاکہ وہاں وہ دھمکی دینے والا کوئی آئے تو میری غیر موجودگی مین وہ خود اس کو سیدھا کرے اس کے دو بندے سائیڈ پر بیٹھے تھے تیار اگر کوئی آئے تو طبعیت فریش کرنے واسطے موقع پر۔ مین بول کر ایا تھا تھانہ کچہری مین دیکھ لوں گا تم لوگوں نے 17 کلومیٹر دور چنیوٹ روڈ تک بارات کو واپس پہنچا کر آنا ہے چاے جو ہو جائے۔ لوگ برے لوگوں سے برا سلوک رکھتے ہین لیکن مین ان سے پیار اس لئے کرتا ہون کے۔ جہاں یہ کسی کی مشکل مین مدد کرتے ہین اور کسی مئن اتنی ہمت نہین ہوتی۔ ۔۔ تندور دیگیں اور تنبو کناتین صبح 6 بجے بندے چنگچئ 4 تھین جن پر لوڈ کر کے نکلے تھے ۔ رستے کی وجہ سے 9 بجے کے قریب 17 کلومیٹر کا رستہ طے ہوا جگہ جگہ چنگچی پھنسے ۔ ہر جگہ اردگرد موجود علاقے کے لوگ کام آئے۔ ۔۔ ایک چیز کھانے مئن بڑھا دی۔ زردے کی دیگ۔ اس کی وجہ تھی دلہن کےباپ نے مجھ سے صبح سویرے بس اتنا بولا مہر علیانہ میرے جوڑے ہاتھ دیکھ لے کچھ میٹھا بھی کر دو میرا تیرے سوا کوئی نہیں ہے۔ مین مجبور ہر گیا تھا اپنے سارے اصول اس ایک شادی کے لئے توڑ دئیے۔ ۔۔ باپ نے ہمارا دیا سامان اپنے پاس واحد پڑی چیز جو سیلاب مین بچ گئی تھی 6 سال پرانی پیٹی ۔ مین سامان رکھ کر دے دیا۔ ۔۔ کیسا باپ ہے۔ اب بیٹی کے رخصت ہو جانے کے بعد اس بندے کی جھونپڑی میں بس دو چارپائیان چند کھانے پکانے کے برتن 4 چائے والے کپ ایک نلکا پانی والا بچے ہین۔ ۔۔ بارات آنے سے کچھ دیر پہلے شدید اندھیری شروع ہو گئی۔ بارات کے لوگ ویگن مین سے اتر کر ساتھ دھکے لگاتے رہے پھر بھی گھر سے ادھا کلومیٹر دور ویگن والا ڈرائیور جواب دے گیا اس سے آگے گاڑی لے جانا ممکن نہین۔ ۔۔ پھر آندھی اور طوفان شروع ہوا ۔ کھانا کھانے کو جگہ نہ۔ بچئ نکاح ہوتے ہی لڑکی کو ویگن مین بیٹھا دیا گیا۔ دلہا دلہن نے کھانا وہاں بیٹھ کر کھایا۔ تنبو کناتین گر گئیں تیز بارش اور آندھی سے۔ باقی ماندہ لوگ جو جھونپڑی مین بیٹھے تھے خواتین بھی انہوں نے برستی بارش میں وہاں اوپر شاپر اور ٹینٹ اوپر ڈال کر جیسے تیسے بارش والا وقت نکالا۔ کھانا وہیں کھایا۔ ۔۔ 8 بجے بارات رخصت ہوئی ۔ کل اندھی اس قدر تیز تھی کے ہم خود کئی بار واپسی پر موٹر سائیکل سے گرتے گرتے بچے ۔ واجد کا رکشہ کی سیٹیں دور جا گرین ۔ شیشے ٹوٹ گئے ۔ اسکا نقصان آج پورا ہو جائے گا۔ ۔۔ اس شادی نے باقی 153 شادیاں جو آج تک مین کروا چکا ہون سے بلکل الگ احساسات دئیے۔ گھر پہنچ کر دو نفل ادا کئے جب رخصتی ہو گئی مجھے فون ا گیا۔ نصیب رب لکھتا ہے ہم صرف محنت کر سکتے ہین ۔ نتائج کسی انسان کے ہاتھوں میں نہین ہین۔ ۔۔ رخصتی کے وقت سے پہلے دلہن کے پانچ ہزار اس کو پہنچا دئیے اور دلہا کے واجد ہمارے بعد جب بارات آئی تک دے اس نے دلہا کے ہاتھ مین۔ لڑکا بھی ایک مستری کے ساتھ مزدوری کرتا ہے۔ کتنا کماتا ہو گا بس زندگی گزرنی ہے اس بچاروں نے۔ یہ دس ہزار ان کو کم سے کم 15 دن گھر پر رہنے کی ہمت دین گے ساتھ ۔ مزدوری پر جانے تک سہارا رہے گا ان کا۔ روٹی پانی کا۔ ۔۔ کھانا بہت اچھا پکا ہوا تھا۔ اور میٹھا مین کھاتا نہیں مجھے شروع سے پسند نہین آج تک مین نے میٹھا دودھ تک نہین پیا تو وہ دوسرے ساتھیوں۔ مبشر اور خان نے بتایا کے اچھا بنا ہوا ہے۔ ۔۔ دعا مین یاد رکھئیے گا جو ہمت تھی جو اوقات تھی وہ کیا ہے اس بندے کے واسطے #SaqibAllyana

Saqib Allyana

10,548 просмотров • 1 месяц назад

آج پاکستان کی تاریخ میں عدلیہ اور نظامِ انصاف پر عوام کا عدم اعتماد کھل کر سامنے آ چکا ہے، جس کا تسلیم اب خود اعلیٰ حکام بھی کر رہے ہیں. 1400 سالہ اسلامی تاریخ میں پہلی بار عدّت جیسے حساس معاملے اور خواتین کے پوشیدہ امور کو مین سٹریم اور سوشل میڈیا پر تضحیک کا نشانہ بنایا گیا۔ عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو سائفر، توشہ خانہ اور القادر ٹرسٹ جیسے کیسز میں سیاسی انتقام اور ناحق سزاؤں کا نشانہ بنایا گیا، جہاں پیسے سپریم کورٹ سے حکومت کے اکاؤنٹ میں گئے لیکن سزا خان صاحب کو ملی۔ اس پورے عرصے میں مخصوص چہروں اور من پسند وکلاء کے مقدمات تو برق رفتاری سے سنے گئے، لیکن تحریکِ انصاف اور عمران خان کے کیسز میں میرٹ کو پسِ پشت ڈال کر صرف تاریخیں منسوخ کی گئیں اور اپیل سائن کروانے کے لیے بھی مہینوں جیل کے باہر جدوجہد کرنی پڑی۔ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی صاحب کو یہ سمجھنا ہوگا کہ جب 1958ء میں 56 فیصد آبادی والے مشرقی پاکستان کے حقوق سلب کیے گئے اور آئینی معاہدے کو توڑا گیا، تو عدلیہ کی اسی تکنیکی سہولت کاری نے ملک کو تقسیم کی طرف دھکیلا تھا۔ آج پاکستان میں آئین اور قانون کا مذاق اڑاتے ہوئے عمران خان کی بہنوں—نورین نیازی، علیمہ خان، اور ڈاکٹر عظمیٰ خان—کو شدید ترین سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، جہاں باپردہ خواتین کو سڑکوں پر گھسیٹنے، واٹر کینن کا نشانہ بنانے اور بوگس مقدمات میں اشتہاری قرار دینے جیسے شرمناک ہتھکنڈے اپنائے جا رہے ہیں۔ دوسری طرف، آزاد جموں و کشمیر کے عوامی مینڈٹ کو پامال کرتے ہوئے تحریکِ انصاف کی حکومت کو گرایا گیا اور جب وہاں کے غیور عوام آٹا، پانی اور بجلی جیسے اپنے بنیادی حقوق کے لیے سڑکوں پر نکلے، تو وفاق سے فورسز بھیج کر ان پر گولیاں چلائی گئیں۔ نہتے کشمیریوں کو طاقت کے زور پر کچلنے اور انہیں دہشت گرد قرار دینے کی یہ غیر آئینی کوشش دراصل کشمیر پر پاکستان کے تاریخی موقف کو تباہ کرنے اور خود پاکستان کے سینے پر گولی مارنے کے مترادف ہے۔ خالد یوسف چوہدری Khalid Yousaf Chaudry

PTI

20,635 просмотров • 18 дней назад

انسانوں کی خوشیاں کتنی معصوم اور چھوٹی چھوٹی ہوتی ہین۔ دو افراد کی زندگی میں آنے والی تبدیلی پر سب اتنے خوش کے سب جھوم رہے ہین خوش ہین ڈھول کی تھاپ پر کیسے ناچ رہے ہین ۔ کیسے سکون سے کھانا کھا رہے ہین ۔ مسکرا رہے ہین ۔ باتیں کر رہے ہین ۔ ایک بیٹی کیسے پورے گھر مین خوشیاں بانٹ کر خود کیسے اگلے گھر نئی تکلیفیں سمیٹنے چل دیتی ہے ۔ ۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔۔ یہان ان گھروں کی بچیوں کو ہمارے گھروں کی بچیوں سے زیادہ شعور ہوتا ہے ۔ ان سے بات کریں تو ان کے جھکے سر اور چہرے پر رکھے دوپٹے کے پیچھے سے ایسی بات سننے کو ملتی ہے جو بڑے بڑے دانشوروں کا جنازہ نکال دیتی ہے ۔ مہر جی مین جانتی ہون وہاں جا کر مجھے باپ کے گھر سے زیادہ محنت اور تکلیفیں اٹھانا پڑیں گی۔ لیکن مین خوش اس لئے ہون کے میرا باپ اب رات کو بار بار صحن مین اٹھ کر چکر نہین لگائے گا۔ ماں سے چھپ چھپ کر بات کرتے ہوئے میری طرف دیکھ کر یہ نہین بولے گا ۔ نسیم اس دا کی کرنا ہے چھوئیر ( لڑکی ) جوان دروازے تے بیٹھی ہے ۔ یہ ایک فقرہ ساری دنیا کی ذمہ واریوں پر بھاری ہے ۔ میں نے ایسے ماں باپ بھی دیکھے ہین جو میرے پاوں مین بیٹھ گئے سڑک کنارے بات کرتے کرتے ۔ مہر کچھ کر میری دھی نو پرناون ( شادی کروانے ) وچ مدد کر ۔ میں ہر گیا ہان ۔ ( مین ہار گیا ہوں ) بیٹی کیسا رشتہ ہے کے جس کے لئے گھر مین موجود ہر قیمتی چیز ہر باپ ہر ماں بیچ کر بس اس کا گھر بسانا چاہتے ہین۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رب کعبہ کی قسم میں اگر ماں باپ سے ہوئی دو گفتگو یہان آپ لوگون کے سامنے لکھ دوں ان کی وڈیو شئیر کر دوں ۔ آپ میں سے جو بیٹیون کے ماں باپ ہین وہ دھاڑیں مار کر رونے لگین۔ اور جو ضمیر والے جوان لڑکے ہین وہ خواہشات مار دیں ۔ زندہ ضمیر جوان بیٹون کی مائین جھک جانے والی کمر والے ماں باپ سے ایک سوٹ تک نہ مانگیں۔ اپنی بہو کو ایسے ہی لے جائیں ۔ میں نے دلہنوں کو شادی سے 3 تین دن پہلے روتے گڑگڑاتے دیکھا ہے۔ میں نے باپوں کے لہجے سنے ہین۔ مہر میری دھی دی شادی کروا چا ۔ میرے سے اشٹام پر سائن انگوٹھا لگوا لو۔ ساری زندگی روٹی کے علاوہ کچھ نہین لوں گا تمہاری غلامی کرون گا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مین اکیلا یہ درد کیون سمیٹ رہا ہون ۔ میں اب ایک ایسی وڈیو لڑکی کے ماں باپ کی شکلیں دیکھائے بنا جو میرا اصول ہے ۔ ان کی وڈیو اپ کو دیکھاون گا مکمل ۔ آپ کو احساس ہو زندگی کس قدر تلخ ہے ۔ کسی ایک حرف کو کاٹے بنا دیکھاون گا۔ جب کوئی دلہن اپنی شادی سے 2 چار دن پہلے یہ دو کوڑی کا سامان جو ہم دیتے ہیں جس کی جگہ تک ہمارے گھروں میں نہین بن سکتی ۔ اس سامان کو میں نے ماوں کو سینے سے لگا کر روتے دیکھا ہے ۔ مین ایسے باپ دیکھ چکا ہون جو دو بستر دو چارپائی چند چیزوں والی چنگچی دروازے پر آن کھڑی ہونے پر ۔ دھاڑیں مار کر رونے لگتے ہین ۔ کے کیا ایسے بھی کوئی مدد کو پہنچتا ہے ۔ آپ مین سے کتنے لوگ ہین جن کے لئے یہ چند چیزیں ایک رتی برابر بھی اہمیت رکھتی ہین ۔ ہم جن خاندانوں جن گھروں سے ہیں ۔ کیا وقعت ہے ہمارے لئے ایک لاکھ روپے کی ۔ کچھ نہیں ہے ۔ ہم اپنی فیملی کے ساتھ ایک شاپنگ ایک لنچ پر ایک دن میں اپنے ماں باپ کو اور خود اس سے کہیں زیادہ پیسے لگا دیتے ہیں۔ اپنی اولاد کوخوش کرنے واسطے ۔ ۔۔۔۔۔۔۔ اور دوسری جانب یہ ایک لاکھ نہ ہونے کی وجہ سے ان غربا کے گھروں میں ایک ایک گھر مین پانچ پانچ جوان بیٹیان بیٹھی ہین ۔ رنج اس بات کا ہے ۔ایسے درندہ صفت لوگون سے بھی ملنا پڑتا ہے جن کو ایسے غریب گھروں سے بھی سامان چائیے ۔ دس دس سال سے بیٹیان رشتے ہونے کے بعد باپ کی دہلیز پر بیٹھی ہین ۔ اور انسان ہی جانور بن کر اپنی بہن کی بیٹی کوئی اپنے بھائی کی بیٹی ۔تو کوئی اپنی برادری کی لڑکی باپ کے دروازے پر بیٹھائے ہوئے ہے ۔ اور سننے کو ملتا ہے ۔ ہم پہنچ نہین پا رہے مہر علیانہ ہم زندگی لگا چکے ہین دھاڑی کرتے ہین ۔ پر روٹی پوری نہین ہوتی ۔ ہم بیٹی کا فرض کیسے ادا کریں ۔ میں نے سروں مین چاندی اترتی اور اتری ہوئی بیٹیون کی آنکھیں نم دیکھی ہین۔ ایسی پھوپھیان بھائی کے دروازے پر بیٹھی دیکھی ہین ۔ جو بولتی ہین ۔ مہر جی ہمارا وقت تو گزر چکا ہے ۔ خدا کا واسطہ ہے میرے بھائی کی بیٹی کو میری طرح بوڑھا مت ہونے دینا اس کی شادی کروا دو۔ یہ زندگی لکڑی کے مرد چارپائی پر پڑے فالج زدہ اپنے مرد کے ساتھ گزر جاتی ہے ۔ لیکن شادی کے بنا ماں باپ کے گھر جیتے جیتے بیٹی مر جاتی ہے اپنے باپ کا گھر کھانے کو دوڑتا ہے ۔ لوگ برادری ہنستے ہیں ۔ ۔۔۔۔۔۔۔
2:58

Sensitive content

انسانوں کی خوشیاں کتنی معصوم اور چھوٹی چھوٹی ہوتی ہین۔ دو افراد کی زندگی میں آنے والی تبدیلی پر سب اتنے خوش کے سب جھوم رہے ہین خوش ہین ڈھول کی تھاپ پر کیسے ناچ رہے ہین ۔ کیسے سکون سے کھانا کھا رہے ہین ۔ مسکرا رہے ہین ۔ باتیں کر رہے ہین ۔ ایک بیٹی کیسے پورے گھر مین خوشیاں بانٹ کر خود کیسے اگلے گھر نئی تکلیفیں سمیٹنے چل دیتی ہے ۔ ۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔۔ یہان ان گھروں کی بچیوں کو ہمارے گھروں کی بچیوں سے زیادہ شعور ہوتا ہے ۔ ان سے بات کریں تو ان کے جھکے سر اور چہرے پر رکھے دوپٹے کے پیچھے سے ایسی بات سننے کو ملتی ہے جو بڑے بڑے دانشوروں کا جنازہ نکال دیتی ہے ۔ مہر جی مین جانتی ہون وہاں جا کر مجھے باپ کے گھر سے زیادہ محنت اور تکلیفیں اٹھانا پڑیں گی۔ لیکن مین خوش اس لئے ہون کے میرا باپ اب رات کو بار بار صحن مین اٹھ کر چکر نہین لگائے گا۔ ماں سے چھپ چھپ کر بات کرتے ہوئے میری طرف دیکھ کر یہ نہین بولے گا ۔ نسیم اس دا کی کرنا ہے چھوئیر ( لڑکی ) جوان دروازے تے بیٹھی ہے ۔ یہ ایک فقرہ ساری دنیا کی ذمہ واریوں پر بھاری ہے ۔ میں نے ایسے ماں باپ بھی دیکھے ہین جو میرے پاوں مین بیٹھ گئے سڑک کنارے بات کرتے کرتے ۔ مہر کچھ کر میری دھی نو پرناون ( شادی کروانے ) وچ مدد کر ۔ میں ہر گیا ہان ۔ ( مین ہار گیا ہوں ) بیٹی کیسا رشتہ ہے کے جس کے لئے گھر مین موجود ہر قیمتی چیز ہر باپ ہر ماں بیچ کر بس اس کا گھر بسانا چاہتے ہین۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رب کعبہ کی قسم میں اگر ماں باپ سے ہوئی دو گفتگو یہان آپ لوگون کے سامنے لکھ دوں ان کی وڈیو شئیر کر دوں ۔ آپ میں سے جو بیٹیون کے ماں باپ ہین وہ دھاڑیں مار کر رونے لگین۔ اور جو ضمیر والے جوان لڑکے ہین وہ خواہشات مار دیں ۔ زندہ ضمیر جوان بیٹون کی مائین جھک جانے والی کمر والے ماں باپ سے ایک سوٹ تک نہ مانگیں۔ اپنی بہو کو ایسے ہی لے جائیں ۔ میں نے دلہنوں کو شادی سے 3 تین دن پہلے روتے گڑگڑاتے دیکھا ہے۔ میں نے باپوں کے لہجے سنے ہین۔ مہر میری دھی دی شادی کروا چا ۔ میرے سے اشٹام پر سائن انگوٹھا لگوا لو۔ ساری زندگی روٹی کے علاوہ کچھ نہین لوں گا تمہاری غلامی کرون گا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مین اکیلا یہ درد کیون سمیٹ رہا ہون ۔ میں اب ایک ایسی وڈیو لڑکی کے ماں باپ کی شکلیں دیکھائے بنا جو میرا اصول ہے ۔ ان کی وڈیو اپ کو دیکھاون گا مکمل ۔ آپ کو احساس ہو زندگی کس قدر تلخ ہے ۔ کسی ایک حرف کو کاٹے بنا دیکھاون گا۔ جب کوئی دلہن اپنی شادی سے 2 چار دن پہلے یہ دو کوڑی کا سامان جو ہم دیتے ہیں جس کی جگہ تک ہمارے گھروں میں نہین بن سکتی ۔ اس سامان کو میں نے ماوں کو سینے سے لگا کر روتے دیکھا ہے ۔ مین ایسے باپ دیکھ چکا ہون جو دو بستر دو چارپائی چند چیزوں والی چنگچی دروازے پر آن کھڑی ہونے پر ۔ دھاڑیں مار کر رونے لگتے ہین ۔ کے کیا ایسے بھی کوئی مدد کو پہنچتا ہے ۔ آپ مین سے کتنے لوگ ہین جن کے لئے یہ چند چیزیں ایک رتی برابر بھی اہمیت رکھتی ہین ۔ ہم جن خاندانوں جن گھروں سے ہیں ۔ کیا وقعت ہے ہمارے لئے ایک لاکھ روپے کی ۔ کچھ نہیں ہے ۔ ہم اپنی فیملی کے ساتھ ایک شاپنگ ایک لنچ پر ایک دن میں اپنے ماں باپ کو اور خود اس سے کہیں زیادہ پیسے لگا دیتے ہیں۔ اپنی اولاد کوخوش کرنے واسطے ۔ ۔۔۔۔۔۔۔ اور دوسری جانب یہ ایک لاکھ نہ ہونے کی وجہ سے ان غربا کے گھروں میں ایک ایک گھر مین پانچ پانچ جوان بیٹیان بیٹھی ہین ۔ رنج اس بات کا ہے ۔ایسے درندہ صفت لوگون سے بھی ملنا پڑتا ہے جن کو ایسے غریب گھروں سے بھی سامان چائیے ۔ دس دس سال سے بیٹیان رشتے ہونے کے بعد باپ کی دہلیز پر بیٹھی ہین ۔ اور انسان ہی جانور بن کر اپنی بہن کی بیٹی کوئی اپنے بھائی کی بیٹی ۔تو کوئی اپنی برادری کی لڑکی باپ کے دروازے پر بیٹھائے ہوئے ہے ۔ اور سننے کو ملتا ہے ۔ ہم پہنچ نہین پا رہے مہر علیانہ ہم زندگی لگا چکے ہین دھاڑی کرتے ہین ۔ پر روٹی پوری نہین ہوتی ۔ ہم بیٹی کا فرض کیسے ادا کریں ۔ میں نے سروں مین چاندی اترتی اور اتری ہوئی بیٹیون کی آنکھیں نم دیکھی ہین۔ ایسی پھوپھیان بھائی کے دروازے پر بیٹھی دیکھی ہین ۔ جو بولتی ہین ۔ مہر جی ہمارا وقت تو گزر چکا ہے ۔ خدا کا واسطہ ہے میرے بھائی کی بیٹی کو میری طرح بوڑھا مت ہونے دینا اس کی شادی کروا دو۔ یہ زندگی لکڑی کے مرد چارپائی پر پڑے فالج زدہ اپنے مرد کے ساتھ گزر جاتی ہے ۔ لیکن شادی کے بنا ماں باپ کے گھر جیتے جیتے بیٹی مر جاتی ہے اپنے باپ کا گھر کھانے کو دوڑتا ہے ۔ لوگ برادری ہنستے ہیں ۔ ۔۔۔۔۔۔۔

Saqib Allyana

86,228 просмотров • 1 месяц назад

محاصرہ مِرے غنیم نے مجھکو پیام بھیجا ہے کہ حلقہ زن ہیں مِرے گرد لشکری اُسکے فصیل شہر کے ہر برج، ہر مینارے پر کماں بدست ستادہ ہیں عسکری اُسکے وہ برقِ لہر بجھا دی گئی ہے جسکی تپش وجودِ خاک میں آتش فشاں جگاتی تھی بچھا دیا گیا بارود اسکے پانی میں وہ جوئے آب جو میری گلی کو آتی تھی سبھی دریدہ دہن اب بدن دریدہ ہوئے سپرد ِدار و رسن سارے سر کشیدہ ہوئے تمام صوفی و سالک، سبھی شیوخ و امام امید ِلطف پہ ایوان ِکجکلاہ میں ہیں معززین ِعدالت حلف اٹھانے کو مثال سائلِ مبرم نشستہ راہ میں ہیں تم اہلِ حرف کے پندار کے ثنا گر تھے وہ آسمان ِہنر کے نجوم سامنے ہیں بس اس قدر تھا کہ دربار سے بلاوا تھا گداگرانِ سخن کے ہجوم سامنے ہیں قلندرانِ وفا کی اساس تو دیکھو تمھارے ساتھ ہے کون؟‌آس پاس تو دیکھو تو شرط یہ ہے جو جاں کی امان چاہتے ہو تو اپنے لوح و قلم قتل گاہ میں رکھ دو وگرنہ اب کہ نشانہ کمان داروں کا بس ایک تم ہو، تو غیرت کو راہ میں رکھ دو یہ شرط نامہ جو دیکھا، تو ایلچی سے کہا اسے خبر نہیں تاریخ کیا سکھاتی ہے کہ رات جب کسی خورشید کو شہید کرے تو صبح اک نیا سورج تراش لاتی ہے تو یہ جواب ہے میرا مِرے عدو کے لیے کہ مجھکو حرصِ کرم ہے نہ خوفِ خمیازہ اسے ہے سطوتِ شمشیر پہ گھمنڈ بہت اسے شکوہِ قلم کا نہیں ہے اندازہ مِرا قلم نہیں کردار اس محافظ کا جو اپنے شہر کو محصور کر کے ناز کرے مِرا قلم نہیں کاسہ کسی سبک سر کا جو غاصبوں کو قصیدوں سے سرفراز کرے مِرا قلم نہیں اوزار اس نقب زن کا جو اپنے گھر کی ہی چھت میں شگاف ڈالتا ہے مِرا قلم نہیں اس دزدِنیم شب کا رفیق جو بے چراغ گھروں پر کمند اچھالتا ہے مِرا قلم نہیں تسبیح اس مبلغ کی جو بندگی کا بھی ہر دم حساب رکھتا ہے مِرا قلم نہیں میزان ایسے عادل کی جو اپنے چہرے پہ دوہرا نقاب رکھتا ہے مِرا قلم تو امانت ہے میرے لوگوں کی مِرا قلم تو عدالت مِرے ضمیر کی ہے اسی لیے تو جو لکھا تپاکِ جاں سے لکھا جبھی تو لوچ کماں کا، زبان تیر کی ہے میں کٹ گروں یا سلامت رہوں، یقیں ہے مجھے کہ یہ حصارِ ستم کوئی تو گرائے گا تمام عمر کی ایذا نصیبیوں کی قسم مِرے قلم کا سفر رائیگاں نہ جائے گا #احمد_فراز

Asad Ali Toor

30,467 просмотров • 1 год назад

تاریخ کرداروں کو زندہ رکھتی ہے ۔ صفین میں جنگ زوروں پر تھی اس دوران نماز کا اول وقت ہوا تو امیر المومنین علی علیہ السلام نے نماز کی تیاری کی تو ابن عباس بولے ! مولا ! اس گھمسان کی جنگ کے وقت بھی نماز ؟ فرمایا ہم اسی نماز کی خاطر ہی تو جنگ کررہے ہیں ۔ کربلا میں جنگ اپنے عروج پر ہے حملہ اولی میں اصحاب کی بڑی تعداد جنگ مغلوبہ میں شھید ہوچکی ہے۔ اس دوران زوال کا وقت قریب ہوا تو امام سید الشھداء علیہ السلام کے صحابی ابو ثمامہ صائدی نے خواہش ظاہر کی کہ زندگی کی آخری نماز مولا کی امامت میں پڑھی جائے امام علیہ السلام نے اپنے اس تھجد گزار صحابی کو دعائے خیر دی۔ اور فرمایا اللہ تمہیں اپنی یاد کرنے والوں اور نماز گزاروں میں قرار دے۔ آج پھر یہی کردار فرزند زھرا حضرت آیت اللہ العظمی سید علی حسینی خامنہ ائ زندہ کررہے ہیں. آپ کے قریبی ساتھی راہ خدا میں شھید کئے جاچکے ہیں مگر آپ نے نماز جمعہ کا اہتمام کیا ہے حالانکہ خطرات چاروں طرف منہ کھولے بیٹھے ہیں مگر یہ فرزند امیر المومنین ۔ع۔ ہیں جو اپنے جد کی سیرت کا احیاء کررہے ہیں ۔ تاریخ مرتی نہیں ہے مگر مختلف اشخاص اور کرداروں میں ہر دور میں اس کی تکرار ہوتی رہتی ہے ۔ فرق صرف یہ ہے کہ کل بنو امیہ اور ابن مرجانہ کی فوجیں سامنے تھیں آج یہود و نصاری اور کفر کی طاقتیں سامنے ہیں اور اج ان کا مقابلہ وقت کے اس عبد صالح سے ہے جس نے اللہ کی وحدانیت کا صمیم قلب سے اقرار کیا ہے اور اس عہد کو نبھا رہے ہیں جو اللہ نے صالحین کے ذمے لگائی ہے ۔ نضر بن مالک سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے حسین بن علی بن ابی طالب (علیہ السلام) سے کہا: اے ابو عبداللہ، مجھے خدا تعالیٰ کے اس قول کے بارے میں بتائیے جس میں اللہ فرماتا ہے ۔ هَٰذَانِ خَصْمَانِ اخْتَصَمُوا فِي رَبِّهِمْ ( الحج آیت 19 ) : یہ دو مخالف ہیں اپنے رب کے بارے میں جھگڑا کرتے تھے۔ تو آپ نے فرمایا۔ اس سے ہم اور بنو امیہ مراد ہیں جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے بارے میں جھگڑا کیا، ہم نے کہا: اللہ نے سچ کہا، اور انہوں نے کہا : معاذاللہ تعالیٰ نے جھوٹ بولا ۔ بس یہی ہمارا اور ان کا جھگڑا ہے۔ لھذا ہم اور وہ قیامت کے دن بھی ایک دوسرے کے مخالف ہوں گے۔ بحوالہ بحار الانوار ۔۔۔۔ ارشاد القلوب۔۔ اللھوف فی قتلی الطفوف ۔۔ 4 اکتوبر بروز جمعہ 2024 ء ۔۔۔۔

Syed M Mehdi

55,745 просмотров • 1 год назад

لاکھوں لوگوں نے یہ ویڈیو دیکھی، مگر پس منظر اب بھی بہت سوں کی نگاہ سے اوجھل ہے۔ 3 اگست 2009 کو میکسیکو کے شہر مونتری میں فیسٹا اِن ہوٹل کے باہر ایک نوجوان لڑکی، گبریلا ریکو خیمنیز، بے چین اور مضطرب حالت میں چیختی چلاتی دکھائی دیتی ہے۔ کیمرہ چل رہا ہوتا ہے اور وہ بلند آواز میں الزام عائد کرتی ہے کہ بااثر اور طاقتور حلقے بچوں کے ساتھ ہولناک جرائم میں ملوث ہیں۔ کچھ ہی دیر گزرتی ہے کہ پولیس موقع پر پہنچتی ہے، اسے حراست میں لے لیتی ہے، اور پھر وہ لڑکی منظرنامے سے یوں غائب ہو جاتی ہے جیسے کبھی موجود ہی نہ تھی۔بعد ازاں سوشل میڈیا پر اس واقعے کی ایک اور کہانی گردش کرنے لگتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ گبریلا ایک نجی، اشرافیہ کی محفل میں موجود تھی جہاں انتہائی بااثر شخصیات شریک تھیں، اور جو کچھ اس نے دیکھا، وہی زبان پر لے آئی۔ یہی سچ بولنا اس کی خاموشی کی قیمت بن گیا۔ وقت کے ساتھ ساتھ اس واقعے کو ایپسٹین فائلز اور عالمی اشرافیہ کے مبینہ نیٹ ورک سے جوڑا جانے لگا۔ اب دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ امریکی محکمہ انصاف کی حالیہ فائلوں کے ایک نئے بیچ میں ایسے شواہد سامنے آئے ہیں جو گبریلا کے الزامات کی تائید کرتے ہیں، اور بعض نام نہاد عالمی رہنماؤں، حتیٰ کہ سابق امریکی صدر بش تک پر انگلیاں اٹھائی جا رہی ہیں، بلکہ کہا یہ جا رہا ہے کہ معاملہ اس سے بھی زیادہ سنگین ہے۔یہاں سوال یہ نہیں کہ الزامات کتنے سنسنی خیز ہیں، بلکہ یہ ہے کہ ان پر سنجیدہ، شفاف اور قانونی پیش رفت کیوں نظر نہیں آتی۔ مغرب، جو خود کو انسانی حقوق اور انصاف کا علمبردار کہتا ہے، ایسے معاملات میں بار بار ایک دوغلے چہرے کے ساتھ سامنے آتا ہے۔اور شاید سب سے اہم بات یہ ہے کہ جو کچھ سامنے لایا جا رہا ہے، وہ خود بھی مکمل تصویر نہیں۔ یہ مواد کسی باقاعدہ قانونی کارروائی کے لیے نہیں، بلکہ زیادہ تر دباؤ ڈالنے اور بلیک میلنگ کے ہتھیار کے طور پر ریلیز کیا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ اگر مقصد واقعی انصاف ہوتا تو کہانیاں نہیں، مقدمات بنتے؛ ویڈیوز نہیں، فیصلے سنائے جاتے۔

بانکے میاں

30,407 просмотров • 6 месяцев назад

عمران خان صاحب، اپ کا اج انتہائی مشکور ہوں کہ اپ کو احساس ہوا اور اپ نے مان لیا کہ ہمارے معاشرے میں اخلاقیات بلکل ختم ہو چکے ہیں۔ معزرت سے، لیکن اج اس معاشرے میں جتنا بھی اخلاقیات کا فقدان ہے، اس میں سب سے بڑا کردار اپ کا ہے۔ اپ کی حقیقی ازادی کی تربیت نے اپ کے پیروکاروں کو ایسے ازاد کر دیا کہ شرم، حیا، تہذیب، تمیز سب کچھ مٹی میں مل گئے۔ گالم گلوچ، بہتان تراشی، کردار کشی، جھوٹ، جس کے منہ پر جو ایا سامنے والے کو کہہ ڈالا اور کوئی افسوس نہیں۔ بلکہ فخر سے کہتے ہیں کہ ایسا کرنے کی ہمیں خان صاحب نے تربیت دی۔ نوجوانوں کے ذہن اپ نے نفرت سے بھر دیے ہیں۔ وہ کسی رشتے کے اخلاقی طور پر پابند نہیں رہے۔ اپنوں سے الجھ پڑے ہیں، ریاست سے الجھ پڑے ہیں، صرف اپ کی سیاست کی خاطر۔ اپ کی اپنی پارٹی میں بھی کچھ ایسا ہی معیار تھا اپ کے قریب ہونے کے لئے اور اپ کا دل جیتنے کے لئے۔ جو جتنا منہ پھٹ اور بد تمیزی اور بداخلاقی کا مظاہرہ کرتا تھا، جو اوروں کو بےعزت کرنے، ان کی تذلیل کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا اور خود بھی اپنی عزت کی پرواہ نہیں کرتا تھا، وہ ہی اپ کو سب سے قبول ہوتا تھا، اپ کا فیوریٹ ہوتا تھا۔ وہ ہی اپ کے تھنک ٹینک اور کچن کیبینٹ کا حصہ ہوتا تھا۔ اسی کو ہی عہدوں اور منصبوں سے نوازا جاتا تھا۔ کیا ریاست مدینہ طرظ کی ریاست کی بنیاد ایسے کردار رکھ سکتے تھے؟ اپ نے سب سے زیادہ ظلم ان نوجوانوں کے والدین سے کیا جو اپ کے عشق میں ہر حد پار کرنے کو تیار ہوۓ۔ یہ وہ ہیں جو اج اپنے ماں باپ کو بھی نہیں بخشتے اور ان کے کسی کام کے نہ رہے۔ گالم گلوچ اور جھگڑے کے سوا کوئی فن ان کے پاس نہ رہا۔ پڑھائی لکھائی کے باوجود بھی جہالت کا شکار ہوۓ۔ حقیقی ازادی کی اس جدوجہد میں ازادی اور بےحیائی کے درمیان فرق کرنا انہیں نہیں اتا۔ بدتمیزی کو ازادی اظہار راۓ تصور کرتے ہیں اور اس کو ہر طریقہ سے جائز قرار دیتے ہیں۔ انسانیت، شریعت، اخلاقیات، ائین اور قانون کسی چیز کے پابند نہ رہے۔ اپنا شعور کھو بیٹھے۔ اپ کی اواز کے سوا کچھ اور سنائی نہیں دیتی انہیں اور وہی کرتے ہیں جو اپ ان سے کرنے کو کہتے ہیں۔ جو اپ میں دیکھتے ہیں وہی کرتے ہیں، اور کچھ نظر نہیں اتا انہیں۔ اپنے سوچنے سمجھنے کی تمام تر صلاحیت کھو بیٹھے ہیں۔ اج جو جیلوں میں بند ہیں، اپ نے تو ان سے لاتعلقی کا اظہار کر دیا لیکن ان کے مستقبل تباہ و برباد ہو گئے۔ جن خاندانوں کے یہ سہارا تھے وہ اب ساری عمر ہاتھ ملتے رہیں گے اور اپ کو بددعائیں دیں گے۔ ضلہ شاہ جیسے دیوانے اپنی جانیں کھو گئے اپ کی اس تحریک انتشار میں اور اپ ان کے گھر تک پوچھنے کے لئے نہ گئے۔ پاکستان کی ایک پوری نسل کی تباہی کے ذمہدار ہیں اپ۔ اپ نے ایسا سبق دیا کہ پوری قوم اپنا کردار کھو بیٹھی۔ کسی اور کی اولاد ہیں، اس لئے اپ نے پرواہ نہیں کی۔ سیرت النبی (ﷺ) کے بارے میں پڑھنے کی سب سے پہلے اپ کو ضرورت ہے۔ اللہ کے نبی (ﷺ) اخلاقیات کے بارے میں کیا درس دیتے ہیں، اپ (ﷺ) اس پر کتنا زور دیتے تھے، اپ کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ پھر قوم سے معافی مانگ کر اپنی زبان سے ان نوجوانوں کو اس کا درس دیں تو شائد وہ سدھر جائیں ورنہ اس نقصان کا ازالہ القادر ٹرسٹ تو کیا، کوئی بھی نہیں کر سکتا!

Dr. Hisham Inam Marwat

135,142 просмотров • 3 лет назад

سعودی عرب میں شدید بارشوں کے باعث جب شہداء احد کی قبروں میں پانی آجانے کے بعد مرمت کے لئیے قبر کشائی کی گئی تو حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا سمیت دیگر صحابہ کرام / شہداء کے جسد مبارک 1400 سال بعد بھی اسی طرح تھے جیسے انہیں ابھی دفنایا گیا ہو. یہ معجزہ آپ اس وڈیو کلپ میں دیکھ سکتے ہیں............... پچھلے دنوں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں شدید بارشوں کے باعث وادی احد میں جہاں غزوہ احد کے شہداء مدفون ہیں وہاں بہت زیادہ پانی جمع ہو جانے کی وجہ سے ہمارے پیارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا حضرت حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ کی قبر سمیت غزوہ احد کے دیگر شہداء کرام (صحابہ کرام) کی قبروں میں پانی آجانے کے باعث ان کی مرمت کے لئیے کھولا گیا تو تمام شہداء /صحابہ کرام کے جسد خاکی اسی طرح تھے جیسے انہیں ابھی ابھی دفنایا گیا ہو. عینی شاہدین کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا حضرت حمزہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کے جسم مبارک سے جب کپڑے کو ہٹایا گیا تو ان کے جسد مبارک کو پہچاننے میں اس لئیے دقت نہیں ہوئی کہ اسلامی تاریخ و احادیث مبارکہ کی روشنی میں کفار نے غزوہ بدر کی شکست کا بدلہ لینے کے لئیے آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ کی شہادت کے بعد ان کے اعضاء (ناک، کان) کاٹے تھے اور آپ کا پیٹ بھی چاک کیا تھا. عینی شاہدین کے مطابق جس جگہ پر ان کے پیٹ کا زخم تھا وہاں ان کا ہاتھ رکھا ہوا تھا. جب جسد مبارک کو اٹھایا گیا تو پیٹ کے زخم پر رکھے ان کے ہاتھ کے ہلنے سے وہاں سے تازہ خون بہنے لگا اور فضا ایک خوبصورت خوشبو( مشک) سے معطر ہوگئی....... سبحان اللہ ٬ سبحان اللہ، ہمارے دین کی سچائی کے ثبوت میں یہ تازہ ترین معجزہ ہے کہ آج 1400 سال گزرنے کے بعد بھی شہداء کے جسد مبارکہ بالکل ایسے ہی ہیں جیسے انہیں ابھی ابھی دفن کیا گیا ہو. احادیث مبارکہ سے معلوم ہونے والی یہ بات لوگوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لی کہ زمین پر اللہ پاک نے شہداء کے اجسام کو مٹی کر دینا حرام کر دیا ہے. لہزا شہداء کے اجسام کو زمین کھا نہیں سکتی اور وہ قیامت تک اسی حالت میں رہیں گے جیسا کہ انہیں دفن کیا گیا تھا. یاد رہے کہ شہداء احد کی یہ قبر کشائی مدینہ منورہ کے سیدالمفتی اور دیگر علما کرام کی نگرانی میں ہوئی جنہوں نے قبروں کی مناسب مرمت کے بعد اپنی نگرانی میں انہیں واپس اپنی اپنی قبروں میں دفنا دیا. سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العَظيم۔

Tariq Zaman Malik

97,426 просмотров • 1 год назад

قتل کیے جانے والے مفتی منیر شاکر کی ایک حالیہ انٹرویو کا اردو ترجمہ۔ "بنوں اور اکوڑہ میں دھماکے پر مولوی طبقے کی خاموشی سوالیہ نشان بالکل نہیں ہے, کیونکہ یہ تو سرکار کی بی ٹیم ہے۔ جب سرکار روس میں جنگ چاہ رہی تھی تو ہر مسجد سے جہاد کی آوازیں گونجتی تھیں۔ جہاں سرکار جنگ کو جہاد نہیں کہتی تو ملا کی بولتی بند ہو جاتی ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ اگر یہ ملا لوگ حق بات کرتے تو یہ دھماکے سرے سے نہ ہوتے۔ میں مذمت کرنے کی اس روایت کے خلاف ہوں کیونکہ اس سے کچھ نہیں ہوتا۔ یہ ملا اپنی بیغرتی اور خاموشی پر نشانہ بنتے رہیں گے۔ ان کا کوئی نظم و ضبط کوئی اتحاد نہیں ہے۔ یہ قرآن میں جو ہے اس کو فالو ہی نہیں کرتے۔ یہ وہ جانور ہیں جو ایک دوسرے کو کھا جانے کو تیار بیٹھے رہتے ہیں۔ یہ کبھی دیوبند، کبھی بریلوی تو کبھی پنجپیر پر لڑتے جھگڑتے ہیں، ان کے نام پر یہ اپنے مسلمان بھائیوں کو کافر کہتے ہیں، اور انہیں قتل کرتے ہیں۔ یہ شافعی، حنفی ، حنبلی کیا لگتے ہیں تمہارے؟ جب تم یہاں مردار ہو جاتے ہو تو دیوبند، بریل، امام مالک، امام حنفی، شافعی، اور دیگر آتے ہیں تمہارے جنازے پر؟ بلکہ یہی تمہارے قام قبیلے کے لوگ آتے ہیں۔ لہذا ان ہی کو اپنا بھائی بنا لو، ان کو اسلام سکھاو۔ مجھے ہر دھماکے اور ہر عالم پر کیے گئے حملے پر افسوس ہوتا ہے کہ آخر پشتون ہی کیوں قتل ہوتے ہیں۔ یہ دہشتگرد صرف میرے صوبے ہی کیوں آتے ہیں۔ اگر تم کہتے ہو کہ افغانستان سے آتے ہیں تو وہاں پڑوس میں انڈیا و دیگر ممالک کیوں نہیں جاتے۔ یہ کبھی پنجاب بھی نہیں جاتے۔ اول بات تو یہ کہ دہشتگرد تم صرف اس کو کہتے ہو جس سے "تمہیں" خطرہ ہو۔ اگر میرے جیسوں کو خطرہ لاحق ہو تو وہ دہشتگرد نہیں سمجھے جاتے۔ مجھے موبائل پر قتل کی دھمکیاں ملتی رہی ہیں۔ میں نے سی ٹی ڈی، اور اپنے علاقے کے تھانے میں درخواست دی ہے۔ خود سرکار، ایم آئی نے مجھے بتایا ہے کہ آپ کی جان کو خطرہ ہے، لیکن پھر بھی مجھے سیکیورٹی نہیں دے رہے۔ جہاں جاتا ہوں پولیس تنگ کرتی ہے۔ کہتی ہے کس کی اجازت پر اسلحہ لے کر آئے ہو۔ میں جس سے اجازت لیتا ہوں وہ اجازت دیتا نہیں ہے! ان کو جس سے خطرہ ہے اس کو یہ دہشتگرد کہتے ہیں اور مجھے جس سے خطرہ ہے یہ مجھے اس کے سامنے غیر مسلح کرتے ہیں۔ دراصل دہشتگرد تو وہ ہے جس سے سب کو خطرہ ہو، عوام کو خطرہ ہو۔ میں کہتا ہوں کہ پاکستان تباہ ہو رہا ہے اس کے لیے کچھ کرو۔ " #munirshakir

Aneela Khalid

33,447 просмотров • 1 год назад

"غیر سیاسی لوگ " (ایک ہی ہویے واوڈا اور ڈی جی آئی ایس پی آر' نہ کوئی پروفیشنل رہا ' نہ کوئی باتمیز اورغیرجانبدار) نواز شریف کی ایک بات کا میں قائل ہوگیا ہوں کہ وہ وہ بدلہ ضرور لیتے ہیں اور دل سے بات باہر نہیں نکالتے - ماضی میں فوج نے ان کے ساتھ جو کیا اس کا انہوں نے ایسا بدلہ لیا ہے کہ اس کی مثال نہی ملتی - یعنی اپنا بدلہ پورا کرنے کیلئے وہ فوج جیسے ادارے کو اس سطح پر لے آیے ہیں کہ یہ فرق ہی ختم کرڈالا ہے کہ سامنے بیٹھا پریس کانفرنس میں چیخنے والا کوئی لیفٹیننٹ جرنل ہے یا پھر کوئی لیگی ایم این اے طلال چوہدری ؛ اعظمی بخاری ' رانا ثنا الله یا عطاتارڑ ہے - منہ سرخ کرتا کوئی یونیفارم افسر ہے یا پھر منہ سے تھوک اڑاتا کوئی فیصل واوڈا ' یہ اندازہ لگانا مشکل ہورہا تھا - پنجاب پولیس کو پرائیویٹ گارڈز اور فوج کو پنجاب پولیس کی سطح پر لاکر برحال نواز شریف نے اپنا انتقام لے لیا ہے - آج پوری پریس کانفرنس میں جو الفاظ سنے ان کو سن کر کم سے کم یہ بیانیہ تو زائل ہوا کہ یہ بہت پروفیشنل اور ڈسپلن لوگ اور ادارہ ہوتا ہے - "ہمیں سیاست سے دور رکھیں " اور پھر یہ کہ کر پوری پریس کانفرنس ایک سیاسی جلسے کی طرح کرڈالی جس میں ایک سابق وزیر اعظم کو ٹارگٹ کیا گیا جس کو آٹھ سو دن سے قید میں ڈالا ہوا ہے ' جس کے ٹرائل بھی جیل میں بند دیواروں کے پیچھے ہوتے ہیں ' جس کا نام میڈیا میں بین ہے - جس کی ملاقاتیں خاندان سے بند ہیں - جس کی پارٹی کے ٹکڑے کیے جاچکے ہیں' جس کی بیوی بھی قید ہے ؛ جس کا بھانجا بھی قید ہے ' اس کے بعد بھی وہ شخص ان کے حواسوں پر ایسا سوار ہے کہ سارا ڈسپلن سارا پروفیشنلزم آج دریا برد ہوتا نظر آیا - اس پوری پریس کانفرنس میں ایک بات پر میں آئی ایس پی آر کا مشکور ہوں کہ آج وہ خود سامنے آکر اسی لہجے میں بولے جس لہجے میں پہلے کسی فیصل واوڈا ' کسی حسن ایوب کسی محسن نقوی کسی گورنر کامران ٹیسوری کو بولنے کیلئے بھیجتے تھے - پوری پریس کانفرنس میں بس ایک بات سچ تھی اور وہ یہ تھی کہ "آپ کچھ لوگوں کو ہر وقت بیوقوف بنا سکتے ہیں پر آپ ہر ہر وقت سب لوگوں کو بیوقوف نہیں بناسکتے " اس کے علاوہ جو جو باتیں کی وہ حقائق کے لحاظ سے جھوٹ ' غلط اور دروغ گوئی تھی - اس کا پوسٹمارٹم یہاں کیے دیتے ہیں - 1-وہ ذہنی مریض ہے : کانفرنس میں کہا گیا کہ عمران خان ذہنی مریض ہیں اور سکیورٹی تھریٹ بن چکے ہیں - اس سے پہلے آرمی نے کبھی عمران خان کیلئے "ذہنی مریض" کا لفظ استعمال نہی کیا - منشیات کا بلاواسطہ الزام لگاتے رہے پر مینٹل ہیلتھ کا کبھی نہی کہا - چونکہ اپنے پچھلے ٹویٹ میں عمران خان نے آرمی چیف کو ذہنی مریض کہا تھا سو اب دو دن میں جوابا عمران خان کو ذہنی مریض کہنا ثابت کرتا ہے کہ یہ "جواب در جواب" ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ورنہ ایسا پہلے بھی کہا جاتا - خود جیل انتظامیہ کے ایک سال پہلے کیے گیے سروے اور چیک اپ کے مطابق عمران خان بالکل نارمل حواس اور ذہنیت کے حامل ہیں لہذا یہ بات بس "تم خود ہوگے ' یا " جو کہتا ہے ووہی ہوتا ہے " سے زیادہ کچھ بھی نہی ہے - 2. وہ سکیورٹی تھریٹ ہے : دوسری بات کہ عمران خان سکیورٹی رسک ہیں - اس کا تیا پانچہ تو خود منصور علی خان کے سوال نے کردیا کہ اس ملک کی تاریخ رہی ہے کہ ہر سویلین لیڈر کو اس وقت تھریٹ کہا جاتا ہے جب وہ سویلین بالادستی اور حقیقی جمہوریت کی بات کرتا ہے - محترمہ فاطمہ جناح اس لسٹ میں سب سے اوپر ہیں - ذولفقار علی بھٹو کو بھی ضیاء نے سکیورٹی تھریٹ کہا تھا - باچا خان - لیاقت علی خان اور حسین شہید سہروردی بھی اسی لسٹ میں شامل ہیں - بینظیر بھٹو بھی اس لسٹ میں رہ چکی ہیں - تو آج اگر عمران خان کو سکیورٹی رسک کہا جارہا ہے تو یہ ان کیلئے طرہ امتیاز اور ایک میڈل کے مترادف ہے - ہم سویلین کو خاکی جیبوں پر لٹکتے گولڈ والے میڈل تو ملتے نہی تو یہی سویلین لیڈرز کا میڈل ہوتا ہے کہ ان کو "غدار " اور "تھریٹ " کہا جائے - مجھے لگتا ہے کہ عمران خان کو "سکیورٹی تھریٹ " کہ کر آئی ایس پی آر نے ان کو وہ اعزاز دیا ہے جو فاطمہ جناح کو جرنل ایوب نے دیا تھا اور یوں ان کی عزت میں اضافہ کیا ہے - 3. مجیب ارحمن کا فالووور ہے : اس پریس کانفرنس میں یہ بھی کہا گیا کہ عمران خان نے مجیب ارحمن جسے غدار کو ایڈیل بنایا ہوا ہے اور وہ اس سے متاثر ہے - یہ بات بھی حقائق کی رو سے غلط ہے - خود حکومت پاکستان نے 1968میں مجیب پر غداری کا جو "اگرتلہ سازش" کیس بنایا تھا وہ خود 1969میں واپس لے لیا تھا - پوری حمود ارحمن کمیشن رپورٹ پڑھ لیں کہیں مجیب ارحمن کو "غدار " نہیں قرار دیا گیا - 1974 میں خود پاکستان نے مجیب ارحمن کو لاہور مدعو کیا تھا اور سٹیٹ گیسٹ کا درجہ دیا تھا ' تو اس بات کا ثبوت کہ وہ "غدار " تھا کہا ہے ؟ مجیب ارحمن کو اکثریت نے ووٹ دیا تھا پر آج کی طرح اس وقت بھی 82 سیٹوں والوں کو 160 سیٹوں پر ترجیح دی گئی تھی کیوں کہ وہ قبول تھے اورمجبیب قبول نہیں تھا ' سو غدار قرار پایا - اگر مجیب غدار ہی تھا تو پھر پاکستان کے آرمی چیف مشرف نے بنگلادیش سے معافی کیوں مانگی تھی ؟ ڈی جی ای ایس پی آر صاحب کو لگتا ہے کہ آج بھی پاکستانی قوم بس مطالعہ پاکستان پڑھتی ہے جہاں مجیب غدار ' اور جرنل یحییٰ وفادار تھا - محترم ! اس قوم نے حمود ارحمن رپورٹ پڑھ رکھی ہے - اس وقت کے ڈی جی آئی ایس پی ار برگیڈئر سالک کی "میں دے ڈھاکہ ڈوبتا دیکھا " کو بھی پڑھ رکھا ہے ' سو یہ غداری والا چورن اب بس پرائمری جماعت کو پڑھائیں - عمران خان کا موقف مجیب سے اس لئے ملتا ہے کہ کیوں کہ مجیب کی طرح عمران خان کی 180 سیٹوں کے مقابلے میں سترہ سیٹوں والوں کو حکومت دے کر عمران خان کو جیل میں ڈال دیا گیا - آج کی پریس کانفرنس میں مجیب ارحمن کو غدار اور عمران خان کو اس کا حمایتی قرار دے کر خود ای ایس پی آر نے مان لیا ہے کہ آج بھی جرنل یحیی ہی حکومت کر رہا ہے کیوں کہ اس کا بھی مجیب کے بارے میں یہی موقف تھا - 4. عوام اور افواج یک جان دو قالب ؟ . اس پریس کانفرنس میں کہا گیا کہ کسی کا باپ بھی عوام اور افواج میں خلیج نہیں پیدا کرسکتا - یہ بات درست ہے - عوام اور افواج کا رشتہ اس قدر مظبوط تھا کہ کوئی سیاستدان یا کوئی باہر کی طاقت اس کو کمزور نہیں کرسکتی تھی - اس کو اگر کوئی کمزور کرسکتا تھا وہ فوج خود تھی ' جو اس نے کردیا - عوام کا مینڈیٹ غصب کیا ' آواز اٹھانے والوں کو غائب کیا ' صحافیوں کو جلاوطن کیا - سویلین کا ملٹری ٹرائل کیا ' عوامی ججوں کو معزول کیا ' من چاہی ترمیمیں کروا کر اپنے لوگوں کو لامتناہی طاقت اور مدت دی - جب یہ سب کیا تو نتیجہ کیا نکلنا تھا ؟ وہ تعلق جو جذبات ؛ احساس اور اخلاص کی بنیاد پر قائم تھا اس کو ظلم ' فسطائیت اور ایسی سیاسی پریس کانفرنسوں نے ختم کرڈالا - جو کسی کا باپ بھی نہیں کرسکتا تھا ' وہ خود آپ نے کردیا ' تو اب غصہ کیسا - اب آپ مرے کالج سیالکوٹ کا وزٹ کریں یا لمز یونیورسٹی کا چکر لگائیں ' ہر پریس کانفرنس میں جب آپ کو یہ بتانا پڑتا ہے کہ "کسی کا باپ بھی تعلق کمزور نہیں کرسکتا " تو وہ دراصل اس نفرت اور بیزاری کا اعتراف ہوتا ہے جو آپ ان کالجوں میں دیکھ کر آتے ہیں یا کالج کے گیٹ سے نکلنے کے ساتھ ہی محسوس کرتے ہیں کیوں کہ محبت ایک ایسی چیز ہے جو کسی سے زبردستی نہی کروائی جاسکتی - 5 :اپنے بچے باہر کیوں ؟ اس کانفرنس میں کہا گیا کہ "اپنے بیٹے تو خان نے باہر رکھے ہیں ' فوج میں کیوں نہیں بھیجتا " واقعی - عمران خان کو اپنے دونوں بیٹے فوج میں بھرتی کروانے چاہیے جیسے مریم نواز کا بیٹا کیپٹن جنید صفدر پی ایم اے کاکول میں ہے - جیسے میجر حسین نواز سیاچن میں تعینات ہے - جیسے کرنل حسن نواز بلوچستان میں کمیشن آفیسر ہے - جیسے لانس نائیک بلاول بھٹو وانا میں ڈیوٹی پر ہے - جیسے مشرف کے بچے عائلہ مشرف اور بلال مشرف افغان بارڈر پر تعینات ہیں ؟ کہاں ہیں باجوہ صاحب کے بچے ؟ خود آرمی چیف کے بچے - یہ اب کہاں ہیں ؟ جب جب سیاسی بیانیہ بنانا ہوتا ہے یہ بارڈر پر شہید ہونے والے اپنے سپاہیوں کو ڈھال بنالیتے ہیں - یاد رکھیں - ہر خون سرخ ہوتا ہے - اس دھرتی کے ہر بیٹے کا خون مقدم ہے - سرحد پر دشمن کے ہاتھ شہید ہونے والے لانس نائیک کا بھی اور کینیا میں اپنوں کے ہاتھوں مارے جانے والے ارشد شریف Arshad Sharif کا بھی --خوارج کے ہاتھوں شہید ہونے والے سپاہی اور ایف سی اہلکار کا بھی اور وزیر آباد میں کسی وزیر اعظم کو ٹارگٹ کرنے والی گولی سے مرنے والے تین بچوں کے باپ معظم اور پولیس تشدد سے مرنے والے ظلے شاہ کا بھی - تحریک طالبان کے ہاتھوں شہید ہونے والے کیپٹن کا بھی اور 26 نومبر کو اپنوں کی ہی گولیوں سے شہید ہونے والے انیس ستی کا بھی - مجھے ڈیوٹی کے دوران شہادت کو سیاسی طور پر کیش کرنے والوں کی منطق کی آج تک سمجھ نہی آئی - اگر کرونا کے مریضوں کا خیال کرتے ہویے کرونا سے مرنے والے ڈاکٹر یہ کہنے لگ جائیں کہ ہم ڈیوٹی کے دوران جان دیتے ہیں سو ہمیں ریاست مانو ' تو کیا آپ ان کا یہ مطالبہ مان لیں گے ؟ اگر جواب ہان ہے تو پھر بارڈر پر ہر شہادت کے بدلے ہم بھی آپ کو ریاست مان لینگے- 6 . آئین اجازت نہی دیتا : : پریس کانفرنس میں کہا گیا کہ کونسا آئین اجازت دیتا ہے کہ ایک سزا یافتہ شخص سے سیاسی ملاقاتیں کی جائیں اور وہ پھر ریاست کے خلاف بیان دے - ڈی جی صاحب کے منہ سے لفظ "آئین " سن کر مجھے ایسا لگا کہ میں نے سنی لیون کے منہ سے لفظ "حجاب " سن لیا ہو - زرداری کے منہ سے ایمانداری " سن لیا ہو - شرابی کے منہ سے "زم زم " سن لیا ہو - جس آئین کو چار دفعہ ان کے ادارے نے توڑ پھوڑ کر اپنے کینٹ کا بٹلر بنایا ہوا ' اس میں اتنی ترمیمیں کی ہوں کہ یہ نہ پتا چلے کہ اصل والا آئین تھا کونسا ' جس کو توڑ توڑ کر اس میں صدارتی ریفرنڈمز کے پنکچرز لگاے ہوں ' جس آئین کا ذکر بس آئین کی کتاب میں ہو ' نہ وہ الیکشن کی تاریخ میں نظر آے ' نہ عدالتوں کی نظیر میں دکھائی دے ' نہ پارلیمنٹ کی تشکیل میں محسوس ہو ' نہ عوام کی تقدیر میں فنکنشنل ہو ' نہ وہ اپنے ججوں کو ہراساں ہونے سے بچاے ' نہ وہ اپنے صحافیوں کو جلاوطن ہونے سے روک پاے - اس آئین کا حوالہ سن کر آج اچھا لگا - کوئی تو ڈی جی صاحب کو بتاتا کہ یہ ووہی آئین ہے جس کو ابھی ابھی آپ نے ایک ربڑ سٹیمپ پارلیمنٹ کی مدد سے مسخ کیا ہے - جس کے تحت ایک سزا یافتہ اشتہاری مجرم لندن سے پریس کانفرنس کرتا تھا ' اس کی پوری پارٹی اس سے سیاسی مشورے لینے ایون فیلڈ جاتی تھی - وہ براہ راست تقریر میں اس وقت کے آرمی چیف کو تڑیا بھی لگاتا تھا - وہ جب پاکستان آیا تھا تو اشتہاری ہوتے ہویے بھی اس ملک کی ہائی کورٹ اس کو خود لینے اور اس کو آزاد کرنے ائر پورٹ پر بھی گئی تھی - آئین کا نام نہ لیا کریں ' آئین اتنا کمزور ہو چکا ہے کہ اب آپ کے نام لینے سے ہی ٹوٹ جاتا ہے - 7 . نو مئی ریاست پر حملہ : پریس کانفرنس میں کہا گیا کہ عمران خان نے اسی جی ایچ کیو پر حملہ کروایا جہاں آج آپ سب صحافی بیٹھے ہیں - لیکن کسی صحافی نے ان کو یہ نہی بتایا کہ اس نو مئی کی صبح بھی کچھ ہوا تھا جب یہاں سے دس پندرہ میل دور اسلام آباد ہائی کورٹ کے احاطے میں موجود سابق وزیراعظم جو خود عدالت میں پیش ہونے آیا تھا ' اس کو شیشے توڑ کر رینجرز نے گھسیٹا اور ہتک آمیز انداز میں بکتر بند گاڑی میں ڈالا - وہ حملہ آئین اور عدالت پر حملہ تھا - وہ حملہ کس نے کیا ؟ نو مئی اب اس بھینس کی طرح ہو چکی ہے کہ جس کو گوالا ٹیکے لگا لگا کر دودھ دوہنا چاہتا ہے پر اب بھینس سوکھ گئی ہے اور گوالےکو سواے گوبر کے اور کچھ نہی دے سکتی - 8 . عمران خان بھارت کے سامنے کشکول لے جاتا : اس پریس کانفرنس کا سب سے مضحکہ خیز لمحہ وہ تھا جب یہ کہا گیا کہ اس دفعہ سات مئی کو جب بھارت سے جنگ ہوئی ' اگر عمران خان ہوتا تو وہ کشکول لے کر بھارت سے صلح اور بات چیت کی بھیک مانگتا - یہ بات حقیقت سے اتنی ہی دور تھی جتنی پاکستانی اسٹبلشمنٹ آئین سے اور ڈی جی ای ایس پی ار پروفیشنلزم سے دور ہیں - اگر کوئی غیرت مند صحافی وہاں بیٹھا ہوتا تو ڈی جی صاحب کو یاد دلاتا کہ فروری 2019 میں جب بھارت سے لڑائی ہوئی تھی تب وزیر اعظم عمران خان نے کیا کہا تھا " ہم جواب دینے کا سوچیں گے نہی ' ہم جواب دیں گے " - اور جو جواب دیا تھا وہ دنیا نے دیکھا تھا - اس کو بتایا جاتا کہ جو جہاز گرے تھے اور جو پائلٹ پکڑے گیے تھے وہ کس کے دور میں ہوا تھا - اس کے برعکس کون "شریف " سا کشکول لے کر بھارت کے بیانیے کو بڑآھوا دیتا رہا اس کیلئے ان کو یاد دلانا چاہیے تھا کہ کس نے ممبئی حملوں کے بعد یہ کہا تھا کہ پاکستان اس میں ملوث تھا اور کس کے بیان کو بھارت گواہی کے طور پر انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس میں لے کر گیا تھا - یہ بہت بنیادی اور کامن سینس کی بات ہے کہ جب فورا جنگ ہورہی ہوتی تو جنگی جواب ہی ہوتا ہے ' لیکن جنگ سیٹل ہونے کے بعد آپ نے ٹیبل ٹاک اور مذاکرات کا راستہ ہی ڈھونڈنا ہوتا ہے ' اگر ایسا نہیں ہوتا ہے تو پھر کس منہ سے پاکستان نے ٹرمپ کے غزہ جنگ بندی معاہدے کی حمایت کی ہے ؟ جنگ جاری رکھنے کی رٹ کیوں نہں لگائی ؟ یہ اتنی بنیادی بات ہے کہ اگر کسی انسان کی تعلیم ایف سے زیادہ ہو تو اس کو یہ بات بخوبی سمجھ آجاے- 9 . پروفیشنل زبان : اس پریس کانفرنس میں کی خبر پختنخوہ کے چیف منسٹر کے سکیورٹی فورسز پر اس الزام کو کہ وہ وہاں کے لوگوں کے بارے میں ہتک آمیز زبان استعمال کرتے ہیں خود ڈی جی آئی ایس پی آر نے صحافیوں اور کیمروں کے سامنے صحیح ثابت کردیا یہ کہ کر "جو بھونکتا ہے اس کو بھونکنے دو " - آپ نے یہ محض ایک شخص کو "بھونکنے والا " نہیں کہا بلکہ چار کروڑ لوگوں کے انتخاب کیلئے یہ لفظ استعمال کیا ہے جو آپ کے پروفیشنل ' ڈسپلن اور جمہوی ہونے کی تاریک نشانی ہے - 10. این ڈی یو میں جانے والوں کو میر جعفر کیوں کہا ؟ پریس کانفرنس میں اس بات پر بہت غصہ کیا گیا کہ تحریک انصاف کے جو لوگ این ڈی یو کی تقریب میں گیے ان کو کیوں میر جعفر کہا ؟ - این ڈی یو جانے پر آج جن پر غصہ کیا جارہا ہے وہ تحریک انصاف کے لوگ ہیں ' جو غصہ کر رہا ہے وہ تحریک انصاف کا چیئر مین ہے تو پهر آج یہ ہمدردی کیوں ؟ حیرت کی بات ہے - تحریک انصاف کے ان ممبرز سے اتنی ہمدردی ؟ یہی ادارے تحریک انصاف کے لوگوں کو بات بات پر غدار ' انڈیا کا یار اور اغیار کا ہتھیار کہتے رہے - کتنے نامعلوم افراد کے ذریے ایف ای آر کروائی گیں کہ فلاں تحریک انصاف کے ممبر نے ریاست مخالف بات کی ہے ' فلاں پر کیس ڈال دیا ' فلا کو گرفتار کرلی جب ایک ادارہ ایک باقاعدہ فریق بن جائیگا ' ایک سیاسی پارٹی بن جائیگا ' اور ذاتی انتقام کیلئے کسی مقبول لیڈر کو جیل میں رکھے گا ' اس کے خلاف ایسی دھمکی آمیز پریس کانفرنس کریگا ' یہ پارٹی کے چیئر مین کا نام لینا ہی میڈیا پر بند کروا دیگا تو پهر اس پارٹی کے چیئر مین کو پورا استحقاق ہے کہ وہ اپنے لوگوں پر غصہ کرے کہ وہ کیوں کسی ایسی تقریب میں گیے جو ایک مخالف فریق کی ہے جو اس وقت فسطائیت کا استعارہ بنا ہوا ہے ؟ پارٹی اس کی ' لوگ اسکے ' یہاں بیگانی شادی میں عبدللہ کیوں اتنا دیوانہ ہوا پهر رہا ہے ؟ 11. تم ہو کون ؟ Who Are You پریس کانفرنس میں عمران خان کے بارے میں یہ بھی کہا گیا کہ " تم ہو کون ؟ کیا چاہتے ہو ؟ بہت حیرت کی بات ہے - یعنی ایک ایکزیکٹیو کے ماتحت کابینہ کے ایک ادارے وزارت دفاع کے سیکریٹری کے ماتحت کام کرنے والی گریڈ اکیس بائیس کے افسر کو یہ نہی پتا کہ جس کی وہ بات کر رہا ہے وہ اس ملک کا سابق وزیر اعظم ہے اور اسی ایکزیکٹیو کا سابق چیف ایکزیکٹو ہے جس کے یہ تنخواہ دار ہیں - لیکن سوال تو وہاں بیٹھے صحافیوں کو یہ کرنا چاہیے تھا کہ وہ تو عوام کا منتخب نمائندہ ہے ' آپ کون ہیں ؟ آپ کو کس نے اختیار دیا ہے ایسی سیاسی کانفرنس کرنے کا ؟ آپ کو کس نے اختیار دیا ہے ڈنڈے کے زور پر آئین بدلنے کا ؟ یہ وہ سوال ہیں جو اپنے اندر ہی جواب رکھتے ہیں بس پوچھنے کیلئے صحافتی حمیت اور فریڈم آف ایکسپریشن چاہیے جو پاکستان میں مقید ہے یہ تھی پریس کانفرنس - نہایت پروفیشنل - ڈسپلن - مہذب اور غیر سیاسی - اس میں سیاست نہی تھی پر عمران خان تھا - اس میں کہی کسی پارٹی کیلئے جانبداری نہیں تھی بس تحریک انصاف کو تھوڑی سی تڑیاں تھی ' چیف منسٹر کی پی کیلئے تھوڑی بدلفاظی تھی - یہ سب کہ کر آئی ایس پی ار نے بہت عاجزی اور پروفیشنل طریقے سے سب سے درخواست کی کہ "ہم غیر سیاسی لوگ ہیں - پلیز - ہمیں سیاست سے دور رکھیں " - شکریہ ----------------------------------------------------- Moeed Pirzada Imran Afzal Raja Maryam Riaz Wattoo Ryan Grim Javeria Siddique

Dr Waqas Nawaz

45,959 просмотров • 8 месяцев назад

امانت کی ادائیگی خاتون نے اسپتال میں ایک بچی کو جنم دیا، مگر نہ جانے کن مجبوریوں یا حالات کے باعث وہ اسے وہیں چھوڑ کر خاموشی سے نکل گئی۔ معصوم بچی کی صحت بھی خاصی ناگفتہ بہ تھی۔ چند روز تک اسپتال کا عملہ اس کی دیکھ بھال کرتا رہا۔ ڈاکٹر اس کا علاج کرتے اور ہر آنے والے دن یہ امید کی جاتی کہ شاید آج اس کے گھر والے آ جائیں گے۔ مگر دن ہفتوں میں، ہفتے مہینوں میں بدل گئے اور پھر پورے نو ماہ گزر گئے۔ اس ننھی جان کو لینے کوئی نہ آیا۔ یہ واقعہ سن 2001ء میں سعودی عرب کے جنوبی صوبۂ عسیر کے ضلع سراة عبیدہ میں واقع المستشفی العام یعنی جنرل اسپتال کا ہے۔ اس وقت اسپتال کے داخلی شعبے اور نرسنگ کے سربراہ سلطان القحطانی تھے۔ ان کی ذمہ داریوں میں ایسے نومولود بچوں کی دیکھ بھال بھی شامل تھی، جو مختلف وجوہات کی بنا پر اپنے خاندانوں سے محروم رہ جاتے تھے۔ ابتدا میں سلطان القحطانی بھی اسپتال کے دوسرے ملازمین کی طرح اس بچی کی نگہداشت کرتے رہے، لیکن آہستہ آہستہ اس معصوم چہرے نے ان کے دل میں گھر کر لیا۔ وہ روز اپنی ڈیوٹی کے اوقات سے پہلے اسپتال پہنچ جاتے، صرف اس لیے کہ کچھ دیر اس بچی کے ساتھ کھیل سکیں۔ اسے گود میں اٹھاتے، اس کے چہرے پر مسکراہٹ بکھیرنے کی کوشش کرتے اور کبھی اسپتال کے صحن میں لے جاتے۔ حیرت انگیز بات یہ تھی کہ ان کی گود میں آتے ہی بچی کا چہرہ کھل اٹھتا، مگر جیسے ہی اسے دوبارہ نرسری میں چھوڑا جاتا، وہ پھر بے چین اور اداس ہو جاتی۔ نو ماہ گزرنے کے بعد سلطان القحطانی نے محسوس کیا کہ مستقل تنہائی اس ننھی جان کی نفسیاتی کیفیت پر اثر انداز ہو رہی ہے۔ وہ اسے چند گھنٹوں کے لیے اپنے گھر لے جانے لگے۔ گھر میں پہنچتے ہی بچی کا رویہ یکسر بدل جاتا، وہ پرسکون ہو جاتی، کھیلتی، مسکراتی اور گویا اسے اپنا کھویا ہوا گھر مل گیا ہو۔ لیکن اسپتال واپس آتے ہی وہ پھر خاموش اور مضطرب ہو جاتی۔ یہ دیکھ کر سلطان القحطانی سوچنے پر مجبور ہوئے۔ انہوں نے متعلقہ حکام سے تمام قانونی مراحل مکمل کیے اور اس بچی کی کفالت اپنے ذمہ لے لی۔ اس کا نام سمیرہ رکھا اور اسے اپنے گھر لے آئے۔ سلطان القحطانی کی اہلیہ اور ان کے بچوں نے بھی اسے اسی محبت سے گلے لگایا، جیسے خاندان کے دوسرے بچوں کو۔ رضاعت کا شرعی پروسیس مکمل کرکے اسے اپنا لیا گیا۔ گھر میں کبھی اس کے ساتھ کوئی امتیاز نہیں برتا گیا، نہ اسے یہ احساس ہونے دیا گیا کہ وہ اس خاندان میں پیدا نہیں ہوئی۔ سلطان القحطانی کے بقول ان کی اہلیہ نے سمیرہ کی پرورش میں وہی محبت، شفقت اور قربانی دی جو ایک حقیقی ماں اپنی اولاد کے لیے دیتی ہے۔ برس گزرتے گئے۔ وہی بے سہارا بچی محبت بھرے ماحول میں پروان چڑھی، اسکول کی تعلیم مکمل کی، پھر اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور کنگ خالد یونیورسٹی سے گریجویشن کی ڈگری حاصل کی۔ جس بچی کے لیے کبھی اسپتال کی نرسری ہی پوری دنیا تھی، اب وہ ایک دن یونیورسٹی کے اسٹیج پر ڈگری وصول کر رہی تھی۔ تقریب میں جب سمیرہ کا نام پکارا گیا اور وہ اسٹیج پر پہنچی تو سلطان القحطانی اپنی کیفیت پر قابو نہ رکھ سکے۔ انہوں نے بیٹی کو سینے سے لگا لیا اور زار و قطار رونے لگے۔ یہ منظر دیکھ کر تقریب میں موجود بہت سے لوگوں کی آنکھیں بھی نم ہوگئیں، جبکہ اس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی اور لاکھوں افراد نے اسے باپ کی محبت کی لازوال مثال قرار دیا۔ بعد میں "صباح العربية" پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سلطان القحطانی نے اپنے آنسوؤں کی وجہ بیان کی۔ انہوں نے کہا: "میری خوشی کو الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ میں صرف یہ سوچ کر رو پڑا کہ اگر اللہ تعالیٰ نے اسے ہمارے نصیب میں نہ لکھا ہوتا تو آج شاید وہ اپنی گریجویشن کے دن بالکل تنہا کھڑی ہوتی، اس کی خوشی میں شریک ہونے والا کوئی نہ ہوتا۔ الحمدللہ، اللہ نے ہمیں اس کے ساتھ کھڑا ہونے کی سعادت عطا فرمائی۔" انہوں نے مزید کہا: "سمیرہ نے گزشتہ دو دہائیوں سے ہمارے گھر کو خوشیوں، سکون اور اطمینان سے بھر رکھا ہے۔ وہ میرے لیے اپنی دوسری اولاد ہی کی طرح ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے ہماری زندگی میں ایک رحمت بنا کر بھیجا۔" سمیرہ بھی اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکی۔ اس نے کہا کہ اسے کبھی یہ احساس نہیں ہونے دیا گیا کہ وہ اس خاندان کا حصہ نہیں ہے۔ سلطان القحطانی اس کے لیے صرف ایک کفیل نہیں بلکہ حقیقی باپ ہیں، جنہوں نے اسے محبت، تعلیم، عزت اور ایک مکمل خاندان عطا کیا۔ یہ واقعہ سعودی عرب میں انسانیت کی ایک روشن مثال بن گیا۔ گریجویشن کی تقریب کے بعد ضلع سراة عبیدہ کے گورنر مسفر بن حامد الوادعی نے سلطان القحطانی، ان کی اہلیہ اور سمیرہ کو اپنے دفتر مدعو کیا اور ان کی سرکاری سطح پر عزت افزائی کی۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ یہ صرف ایک خاندان کی کہانی نہیں بلکہ پورے معاشرے کے لیے ایک مثالی انسانی داستان ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ

Saeed Ullah Khan

44,758 просмотров • 15 дней назад

موبائل فون کا دور ہوا ختم..!! جس طرح موبائل فون نے انسانی زندگی میں انقلاب برپا کیا اور کئی اہم چیزیں جیسے کہ ٹیلی فون، ریڈیو، ٹی وی ،اخبار ،کیلکولیٹر سمیت کئی اہم چیزیں ختم کردیں، ہیومین کمپنی نے "AI PIN" متعارف کروائی ہے جو شاید کچھ مہینوں میں موبائل فون کی چھٹی کرا دے گی ہیومین کی AI PIN ڈیوائس کیسے کام کرتی ہے ان ویڈیوز میں دیکھیں،پھر تعارف کرواتا ہوں :- خاتون ایک پھل اٹھا کر اسے ڈیوائس کے سامنے کرتی ہے اور پوچھتی ہے "کیا میں اسے کھا سکتی ہوں؟ " اے آئی نے خود ہی فروٹ کی شناخت کی کہ یہ کونسا پھل ہے اور جواب دیا ہاں آپ اسے کھا سکتی ہیں ڈریگن فروٹ میں شوگر کم ہے. اسی ویڈیو میں خاتون ڈیوائس کو کہتی ہے تصویر لو اور ڈیوائس بچے کی تصویر لے لیتی ہے، اس سے آگے ایک خاتون ڈیوائس کو میوزک پلے کرنے کا کہتی ہے ڈیوائس میں لگا پروجیکٹر اس کے ہاتھ پہ پلئیر ڈسپلے شو کر دیتا ہے. اے آئی پن بذات خود ایک مربع آلہ ہے جو مقناطیسی طور پر آپ کے کپڑوں یا دیگر سطحوں پر کلپ کردیا جاتا ہے،ہیومین کمپنی یہ ڈیوائس دو "بیٹری بوسٹرز" کے ساتھ فراہم کررہی ہے،AI PIN میں Qualcomm Snapdragon پروسیسر نصب ہے۔ اے آئی پن اپنے اردگرد کے ماحول کو ٹریک کرنے اور ریکارڈ کرنے کے لیے کیمرہ، گہرائی اور موشن سینسرز کا استعمال کرے گی۔ اس میں ایک بلٹ ان اسپیکر ہے، جسے ہیومین "پرسنک اسپیکر" کہتے ہیں اور بلوٹوتھ ہیڈ فون سے منسلک ہو سکتا ہے۔ ہیومن پن کے ساتھ بات چیت کرنے کے نئے طریقے لے کر آیا ہے, بنیادی طور پر یہ آواز پر مبنی ڈیوائس ہے لیکن اس میں سبز لیزر پروجیکٹر بھی ہے جو آپ کے ہاتھ پر یا کسی بھی سرفیس پر معلومات پیش کر سکتا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ آپ اشیاء کو کیمرے کے ذریعے ریکارڈ کرسکتے ہیں۔ اے آئی پن آپ کے اشاروں پر چلے گا۔ ڈیوائس پر ٹچ پیڈ موجود ہے۔ اے آئی پن میں موجود "ٹرسٹ لائٹ" اس وقت چمکتی ہے جب ریکارڈنگ شروع ہوجائے۔ ہیومن کمپنی 15 نومبر سے آرڈر لینا شروع کرے گی اور ایک لاکھ 97 ہزار پاکستانی روپے میں یہ ڈیوائس آپکو مل سکے گا، کمپنی آپ کو پن، ایک چارجر اور وہ دو بیٹری بوسٹر ملتے ہیں۔ ہیومن کمپنی آپ کو اپنی برانڈڈ وائرلیس سروس پر ایک فون نمبر اور سیل ڈیٹا بھی فراہم کرے گی۔ جو T-Mobile کے نیٹ ورک پر چلتی ہے۔ تصاویر اور ویڈیوز کے لیے کلاؤڈ اسٹوریج، فوٹیج بنانے، چلانے اور سوشل میڈیا پر شئیر کرنے کے لئے اب بے شمار AI ماڈیولز دستیاب ہوں گے۔ پن کے آپریٹنگ سسٹم کو Cosmos کہا جاتا ہے، جو آپ کو بے شمار ایپس ڈاؤن کرنے سے نجات دلا دے گا، Humane کا cosmos ایک زیادہ ہموار نظام ہے جو آپ کی ضرورت کے مطابق مختلف AIs اور دیگر ٹولز کو کال کر سکتا ہے۔ یہ دراصل ChatGPT کے پلگ ان سسٹم کی طرح ہے، جس کے ذریعے آپ اپنے چیٹ بوٹ کے تجربے میں نئی خصوصیات یا ڈیٹا منسلک کر سکتے ہیں۔ اے آئی پن ایسے پیغامات لکھ سکتا ہے جو آپ کی ذاتی تحریر کی طرح لگتے ہیں۔ اے آئی آپ کے لیے آپ کے ای میل ان باکس کا خلاصہ کرے گا۔ یہ مختلف زبانوں کا ترجمہ بھی کر سکتا ہے۔ آپ کیا کھائیں اور کیا نہ کھائیں یہ اے آئی پن آپ کو بتائے گا۔ غذائیت سے متعلق معلومات فراہم کرنے کے لیے خوراک کی شناخت اور فوڈ چارٹ بنا کر دے سکتا ہے۔ ٹائیڈل میوزک اسٹریمنگ کے لیے سپورٹ موجود ہے، جس میں "AI DJ" شامل ہے جو آپ کی موجودہ ہسٹری کی بنیاد پر آپ کے لیے موسیقی چنتا ہے۔
0:44

Sensitive content

موبائل فون کا دور ہوا ختم..!! جس طرح موبائل فون نے انسانی زندگی میں انقلاب برپا کیا اور کئی اہم چیزیں جیسے کہ ٹیلی فون، ریڈیو، ٹی وی ،اخبار ،کیلکولیٹر سمیت کئی اہم چیزیں ختم کردیں، ہیومین کمپنی نے "AI PIN" متعارف کروائی ہے جو شاید کچھ مہینوں میں موبائل فون کی چھٹی کرا دے گی ہیومین کی AI PIN ڈیوائس کیسے کام کرتی ہے ان ویڈیوز میں دیکھیں،پھر تعارف کرواتا ہوں :- خاتون ایک پھل اٹھا کر اسے ڈیوائس کے سامنے کرتی ہے اور پوچھتی ہے "کیا میں اسے کھا سکتی ہوں؟ " اے آئی نے خود ہی فروٹ کی شناخت کی کہ یہ کونسا پھل ہے اور جواب دیا ہاں آپ اسے کھا سکتی ہیں ڈریگن فروٹ میں شوگر کم ہے. اسی ویڈیو میں خاتون ڈیوائس کو کہتی ہے تصویر لو اور ڈیوائس بچے کی تصویر لے لیتی ہے، اس سے آگے ایک خاتون ڈیوائس کو میوزک پلے کرنے کا کہتی ہے ڈیوائس میں لگا پروجیکٹر اس کے ہاتھ پہ پلئیر ڈسپلے شو کر دیتا ہے. اے آئی پن بذات خود ایک مربع آلہ ہے جو مقناطیسی طور پر آپ کے کپڑوں یا دیگر سطحوں پر کلپ کردیا جاتا ہے،ہیومین کمپنی یہ ڈیوائس دو "بیٹری بوسٹرز" کے ساتھ فراہم کررہی ہے،AI PIN میں Qualcomm Snapdragon پروسیسر نصب ہے۔ اے آئی پن اپنے اردگرد کے ماحول کو ٹریک کرنے اور ریکارڈ کرنے کے لیے کیمرہ، گہرائی اور موشن سینسرز کا استعمال کرے گی۔ اس میں ایک بلٹ ان اسپیکر ہے، جسے ہیومین "پرسنک اسپیکر" کہتے ہیں اور بلوٹوتھ ہیڈ فون سے منسلک ہو سکتا ہے۔ ہیومن پن کے ساتھ بات چیت کرنے کے نئے طریقے لے کر آیا ہے, بنیادی طور پر یہ آواز پر مبنی ڈیوائس ہے لیکن اس میں سبز لیزر پروجیکٹر بھی ہے جو آپ کے ہاتھ پر یا کسی بھی سرفیس پر معلومات پیش کر سکتا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ آپ اشیاء کو کیمرے کے ذریعے ریکارڈ کرسکتے ہیں۔ اے آئی پن آپ کے اشاروں پر چلے گا۔ ڈیوائس پر ٹچ پیڈ موجود ہے۔ اے آئی پن میں موجود "ٹرسٹ لائٹ" اس وقت چمکتی ہے جب ریکارڈنگ شروع ہوجائے۔ ہیومن کمپنی 15 نومبر سے آرڈر لینا شروع کرے گی اور ایک لاکھ 97 ہزار پاکستانی روپے میں یہ ڈیوائس آپکو مل سکے گا، کمپنی آپ کو پن، ایک چارجر اور وہ دو بیٹری بوسٹر ملتے ہیں۔ ہیومن کمپنی آپ کو اپنی برانڈڈ وائرلیس سروس پر ایک فون نمبر اور سیل ڈیٹا بھی فراہم کرے گی۔ جو T-Mobile کے نیٹ ورک پر چلتی ہے۔ تصاویر اور ویڈیوز کے لیے کلاؤڈ اسٹوریج، فوٹیج بنانے، چلانے اور سوشل میڈیا پر شئیر کرنے کے لئے اب بے شمار AI ماڈیولز دستیاب ہوں گے۔ پن کے آپریٹنگ سسٹم کو Cosmos کہا جاتا ہے، جو آپ کو بے شمار ایپس ڈاؤن کرنے سے نجات دلا دے گا، Humane کا cosmos ایک زیادہ ہموار نظام ہے جو آپ کی ضرورت کے مطابق مختلف AIs اور دیگر ٹولز کو کال کر سکتا ہے۔ یہ دراصل ChatGPT کے پلگ ان سسٹم کی طرح ہے، جس کے ذریعے آپ اپنے چیٹ بوٹ کے تجربے میں نئی خصوصیات یا ڈیٹا منسلک کر سکتے ہیں۔ اے آئی پن ایسے پیغامات لکھ سکتا ہے جو آپ کی ذاتی تحریر کی طرح لگتے ہیں۔ اے آئی آپ کے لیے آپ کے ای میل ان باکس کا خلاصہ کرے گا۔ یہ مختلف زبانوں کا ترجمہ بھی کر سکتا ہے۔ آپ کیا کھائیں اور کیا نہ کھائیں یہ اے آئی پن آپ کو بتائے گا۔ غذائیت سے متعلق معلومات فراہم کرنے کے لیے خوراک کی شناخت اور فوڈ چارٹ بنا کر دے سکتا ہے۔ ٹائیڈل میوزک اسٹریمنگ کے لیے سپورٹ موجود ہے، جس میں "AI DJ" شامل ہے جو آپ کی موجودہ ہسٹری کی بنیاد پر آپ کے لیے موسیقی چنتا ہے۔

Syed Kamran Naqvi

436,734 просмотров • 2 лет назад

پھولوں کے شہر دمشق(جسے اسد رجیم نے راکھ کا ڈھیر بنایا)کی مسجد اموی کے مینارے سے قال اللہ وقال الرسول کی صدائیں۔۔۔۔ ایک خواب تھا جسے تعبیر ملی،الحمدللہ شام کی موجودہ حکومت جس طرح سے بغاوت کو کچل رہی لائق تحسین اور اسلامی دیگر ریاستوں کے لئیے قابل تقلید ہے 40 سال ایران نے یہاں گزارے ہیں اور بقول ایک دوست "جنہیں آپ نے اجاڑا اسے بستے بھی وقت لگتا" ایرانی پراکسی نے جو مظالم یہاں کی عوام پر ڈھائے ہیں اس پر مکمل ایک ڈاکومنٹری بناونگا ان شاءاللہ یہاں نا بجلی ہے نا پانی، لوگ غریب ہیں لیکن لبنان سے لیکر اردن تک کی سرحدوں پر قافلوں کے قافلےوٹنے کے لئیے کھڑے ہیں، نوجوان شہزادوں کو دیکھ کر مائیں پیشانیوں کے بوسے لے رہیں،ارض شام پر پہنچنے والے سجدوں میں گر کر گریہ کررہے، کوئ اس تربت کو آنکھوں سے لگا رہا تو کوئ اپنی مٹی کو چوم رہا۔۔۔۔۔ کل زیرز مین انسانی مذبح خانہ صیدنایہ جیل دیکھی، انسانی خون کی بو اور قیدیوں کی بوٹیاں اب تک موجود ہے، اہل شام پر بشار اور ایران نے جو مظالم ڈھائے انہیں معافی نہیں بنتی تھی،لیکن محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے ماننے والوں کے سامنے فتح مکہ ماڈل تھا، اور سیرت سے یہی سبق ملتا کہ عام معافی دی جائے۔۔۔۔ مگر وہ شریر ہی کیا جو شرارت سے باز آئے!!! شہریوں کی آڑ میں چھپے سلیپر سیلز نے اپنے آقا کی ایماء پر دوبارہ شرارتیں شروع کیں،حشد الشعبی تا زینبیون یہاں چار دہائیوں سے ہر سیاہ و سفید کے مالک بنے بیٹھے تھے، منشیات کے دھندے سے لیکر اغواء برائے تاوان اور کرائے کے قاتلوں کے روپ میں ایرانی فنڈڈ بدمست ہاتھی یہ بھول بیٹھے کہ اس بار پوری دنیا پر انکی اصلیت ظاہر ہوچکی ہے، ایرانی سپاہ قدس نے یہاں جو جو کارستانیاں کیں ہیں انہیں دیکھ کر روح کانپ اٹھتی۔۔۔ بشار الاسد اور ایران نے جو شام چھوڑا ہے یہاں نا بجلی ہے نا پانی، ہر محکمے میں کرپشن اور بدانتظامی،جبکہ دوسری طرف چالیس سالہ ایرانی رجیم کے خاتمے نے انہیں باولا کردیا ہے شام دوبارہ سے پیروں پر کھڑا ہوگا ان شاءاللہ اس وقت سب سے بڑا مسئلہ معیشت اور سیکیورٹی ہے یہی وجہ ہیکہ احمد الشرع اور انکے ہمنواؤں کو اہل شام نے دل سے مرحبا کہا جبکہ باغیوں کیخلاف جابجا خود شامی عوام نکل کر لتر پولا کررہے۔۔۔ باقی لاذقیہ میں جو ہورہا اس پر مفصل لکھونگا ان شاءاللہ تب تک مسجد اموی کی زیارت کیجئیے اور آنکھیں ٹھنڈی کریں!!!!! آفتاب نذیر

Aftab Nazir

20,013 просмотров • 1 год назад