正在加载视频...

视频加载失败

جیل رولز کے مطابق سزا یافتہ قیدی کو پرائیویٹ اسپتال سے علاج نہیں کروا سکتے، اختیار ولی قانون میں تو سزا یافتہ قیدی کو لندن جانے کا بھی نہیں کہا گیا، 50 روپے کے مچلکے پر بھیج دیا گیا تھا، محمد مالک میڈیکل بورڈ بنے گا بورڈ اگر کہے...

46,730 次观看 • 1 个月前 •via X (Twitter)

4 条评论

Ayoob Anwer Khan 的头像
Ayoob Anwer Khan1 个月前

ابھے بھڑوے مادر چ و د اس نواز کے تلوے چاٹنے سے بہتر تھا اگر تم اللہ پاک سے اپنے گناہوں کی معافی مانگتے تو ہم از کم آخرت سنور جاتا بے غیرت بس کر بس کر اب تو نواز دلا بھی یہ بکواس سنتے سنتے تھے گیا ہوگا

Talha Waqas 的头像
Talha Waqas1 个月前

جتنے ہرامی اس ن میگ میں ہیں کبھی نہی دیکھے ہونگے سالے شکل سے ہی لعنتی ہیں

TahiraK 的头像
TahiraK1 个月前

اس کا لہجہ ہی بدلہ ہوا ہے 😂😂😂

Bhatti rocks 的头像
Bhatti rocks1 个月前

Yai pehla imran khan ko q lai k gae tha shifa hospital injections lagwane pehla q nhi lai k gae kise goverment hospital

相关视频

شاید فیصلہ یہ ہوا ہے کہ عمران خان کو فی الحال وہ کوئی مراعات نہیں ملنی چاہئیں جو سپریم کورٹ کے اس معاملہ پر فیصلے میں سپریم احکامات میں جاری ہوئی تھیں مگر اس سے پہلے کہ ان پر عمل پتا خان صاحب کو دوبارہ اڈیالہ جیل کی قید تنہائی میں دھکیل دیا گیا تھا آج عمران خان کی شفاء اسپتال منتقلی کا معاملہ شدید غیر یقینی صورت حال کا شکار ہوگیا اور یہ کیس آج اچانک سپریم کورٹ سے نکل کر وفاقی آئینی عدالت کے دروازے پر پہنچ گیا ہے اور یہ پیش رفت اُس وقت ہوئی جب سپریم کورٹ میں کیس کی سماعت صرف ایک دن بعد، 16 ستمبر کو طے تھی۔وفاقی آئینی عدالت نے عمران خان کی نجی اسپتال منتقلی سے متعلق سپریم کورٹ کا مکمل ریکارڈ طلب کر لیا ہے، جس میں توہینِ عدالت کی درخواست اور حکومت کی نظرثانی اپیل بھی شامل ہیں۔ چیف جسٹس امین الدین کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سپریم کورٹ کے 18 اگست کے حکم پر بھی سوال اٹھائے ہیں۔ عدالت میں یہ نکتہ سامنے آیا کہ جیل رولز کے تحت قیدی کو سرکاری اسپتال منتقل کیا جا سکتا ہے تو عمران خان کے لیے نجی اسپتال کا حکم کیوں دیا گیا؟اب سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ 16 ستمبر کو سپریم کورٹ میں طے شدہ سماعت ہوگی بھی یا نہیں؟آئینی و قانونی ماہر بیرسٹر اسد رحیم سے اس اہم عدالتی موڑ کی مکمل تشریح سننے کے لیے OMR یوٹیوب لنک پر کلک کریں اور پورا پروگرام دیکھیں۔

Kamran Khan

91,532 次观看 • 12 天前

یہ ارب پتی سردار تھا۔ اربوں روپیہ رائلٹی سوئی گیس کے نام پر یہ حکومت پاکستان سے لیتا تھا۔۔ اس کو پرائیویٹ جہاز دیے جاتے تھے۔۔ مگر اس کے اپنے علاقے میں سوئی گیس نہیں تھی کیونکہ نواب کو یہ پسند نہیں تھا کہ اس کے گھر میں گیس ہو اور سارے گاؤں کے گھروں میں بھی گیس ہو۔۔ اور یہ بات اس کو پروپگینڈا کرنے میں بھی مدد دیتی تھی کہ پاکستان ہمیں لوٹ رہا ہے دیکھیں پورے پاکستان کو سوئی گیس جاتی ہے اور سوئی میں گیس نہیں ہے ‌‌ ۔۔ یہ کمینہ یہ نہیں بتاتا تھا کہ اس نے خود منع کیا ہوا ہے کہ میرے گاؤں کو گیس نہیں دی جائے گی۔ اس نے اپنی ہی قوم کے لاکھوں لوگوں کو مار کر نکال دیا تھا اور ان کی زمینوں پر قبضہ کیا ہوا تھا۔‌ سرفراز بگٹی جو اج وزیراعلی ہے اس کا پورا خاندان بلوچستان سے نکال کر پنجاب میں خوار ہوتا تھا۔ مشرف نے صرف یہ کیا تھا کہ ان دربدر بلوچوں کو واپس لے جا کر ڈیرہ بگٹی میں اباد کر دیا۔‌ اس بات پر ناراض ہو کر اکبر بگٹی نے بغاوت کر دی۔ اور خودکشی کر لی اور ہمارے کئی جوان شہید کر دیے۔‌ اب لوگ اس کو ہیرو بنا کر پیش کرتے ہیں۔ اپ خود بکٹی قبیلے سے پوچھیں کہ یہ کتنا کمینہ اور ح**** تھا۔۔ بلوچستان کو ان سرداروں نے لوٹا ہے اور پتھر کے دور میں رکھتے تھے۔۔ جیسے پیپلز پارٹی اندرون سندھ کو پتھر کے دور میں رکھتی ہے ۔ ان نوابوں اور وڈیروں کا ایک ہی طریقہ واردات ہے۔

اللہ کے بندے۔۔۔

68,230 次观看 • 2 个月前

وزیرِ قانون کو واضح جواب ہے کہ عدالت کے حکم پر عملدرآمد کروائیں۔ اب یہ کہا جا رہا ہے کہ علاج صرف سرکاری ہسپتال میں ہونا چاہیے اور پرائیویٹ ہسپتال میں نہیں ہو سکتا۔ تو پھر لندن میں نواز شریف کا علاج جس ہسپتال میں ہوا، کیا وہ سرکاری ہسپتال تھا؟ ، ان کی مرضی کے ڈاکٹرز نے علاج کیا، کیا وہ سب کچھ اس وقت جائز تھا؟ ہم نہ کوئی ڈیل مانگ رہے ہیں، نہ ڈھیل مانگ رہے ہیں، نہ کسی قسم کا این آر او چاہتے ہیں اور نہ ہی ملک سے بھاگنے والے ہیں،یہ ان کا بنیادی حق ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ عدالت کا حکم جاری ہو چکا ہے۔ آج سپریم کورٹ نے عمران خان صاحب کو شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کی ہدایت کی ہے۔ جو فیصلہ آپ کے حق میں آئے، وہ آپ کو درست لگتا ہے، لیکن جو فیصلہ انصاف پر مبنی ہو اور آپ کے خلاف ہو، اسے ماننے سے انکار کر دیا جائے—یہ طرزِ عمل قابلِ قبول نہیں۔ میں معزز عدلیہ سے مؤدبانہ گزارش کرتا ہوں کہ اپنے فیصلے پر فوری اور مکمل عملدرآمد یقینی بنائیں۔ اگر متعلقہ حکام عدالتی حکم پر عملدرآمد نہیں کرتے تو عدالت اپنے احکامات کی خلاف ورزی کا نوٹس لے اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی کرے۔ یہ کوئی سیاسی معاملہ نہیں، یہ ایک انسان کی صحت اور زندگی کا معاملہ ہے۔ عمران خان صاحب کو عدالتی حکم کے مطابق فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور انہیں وہ طبی سہولیات فراہم کی جائیں جن کا عدالت نے حکم دیا ہے۔

Naeem Haider Panjutha

40,946 次观看 • 1 个月前

ہم جس حال میں خیبر پختونخوا میں حکومت کر رہے ہیں، کوئی ہمیں حکومت کرنے کے لیے چھوڑ بھی نہیں رہا . صوبے کے چیف منسٹر کو اپنے لیڈر سے ملاقات نہیں کرنے دیا جا رہا۔ جیل مینوئل کے مطابق کسی بھی قیدی سے ملاقات کو نہیں روکا جا سکتا۔ جیل مینوئل کے مطابق کسی بھی قیدی سے ملاقات کی جا سکتی ہے۔ عمران خان اس ملک کے وزیر اعظم رہے ہیں اور ایک منتخب چیف منسٹر اس سے ملاقات نہیں کر سکتا۔ کیا پاکستان کسی ضابطے اور اصول پر چلتا ہے نہیں، یہ صرف ڈھنڈے سے چلتا ہے۔ ظلم اور ڈھنڈے کا یہ نظام ہمیں کسی صورت منظور نہیں ہے۔ اس ملک میں اگر ہم نے رہنا ہے تو قانون اور آئین کے تحت رہنا ہے۔ یہ جو ظلم ہو رہا ہے، یہ صرف عمران خان کے ساتھ نہیں ہو رہا، عوام کے ساتھ ہو رہا ہے۔ عوام سے ان کے ووٹ کا حق چھینا گیا، یہ فیصلہ عوام نے نہیں کرنا ہے کہ ہم نے کس کو ووٹ دینا ہے۔ ووٹ ڈالنے والے سے ووٹ گننے والا اہم ہے۔ اگر کسی ممبر عوامی نمائندے کو معلوم ہو کہ اس کے ووٹ کی کوئی اہمیت نہیں، تو کیا وہ آپ کی بات مانے گا۔ عوام کے پاس ووٹ کا حق ہے تو آپ کا نمائندہ آپ کی قدر کرتا ہے۔ ابھی جو ہری پور ضمنی انتخابات میں ہوا ہے، ووٹ کسی اور کو پڑا اور رکن کوئی بن گیا۔ فارم 45 کے مطابق سب کچھ ٹھیک ہے، لیکن کمپیوٹر پر بیٹھا آدمی اپنی مرضی کا ڈیٹا فیڈ کر رہا ہے۔ کس قسم کی عدالت، کس قسم کی الیکشن کمیشن، عدالتوں کو انتظامیہ کے ماتحت کیا گیا ۔

Asad Qaiser

16,009 次观看 • 8 个月前

"مسلم لیگ نون کی حکومت تھی جب 1992 میں ایک قانون پاس کیا گیا کہ جتنا مرضی ڈالر لے جائیں، آپ کو کوئی نہیں پوچھے گا۔ اس کے بعد ڈالر باہر جانا شروع ہو گیا، اور یہ دھندہ 26 سال تک چلتا رہا۔ نون لیگ یہ دعویٰ کرتی ہے کہ انہوں نے لوڈشیڈنگ ختم کی، حقیقت میں یہ تباہی بھی پیپلز پارٹی اور پی ایم ایل این کی پالیسیوں کی وجہ سے ہے۔ آئی پی پیز کو ان دونوں پارٹیوں نے مسلط کیا۔ اور یہ جو سولہ مہینے کی بات کرتے ہیں، وہی سولہ مہینے جنہوں نے عوام کو مشکلات میں ڈال دیا۔ لوگ روٹی کے لیے ترس گئے۔ عمران خان کے 3.5 سال میں سے 2.5 سال تو کووڈ کا دور تھا، اور دنیا نے تسلیم کیا کہ پاکستان نے بہترین حکمت عملی اپنائی۔ اس وقت کوئی بھوکا نہیں مر رہا تھا، پاکستان کو بہتر انداز میں چلایا گیا۔ 50 سال کسی نے ڈیم کا نام نہیں لیا، یہ عمران خان تھا جس نے ڈیم شروع کروایا۔ یہ عمران خان تھا جس نے ہر آدمی کو صحت کارڈ کے ذریعے دس لاکھ روپے کی سہولت دی۔ اقوام متحدہ میں جو اس نے تقریریں کیں، ان پر مسلمانوں کو فخر ہوا، وہ عرب دنیا کا ہیرو بن گیا۔ اور یہاں اسے روکنے کی کوشش کی جا رہی ہے، لیکن وہ مسلسل ہیرو بن رہا ہے۔ اس کی مقبولیت بڑھتی جا رہی ہے۔ نوجوانوں کے دلوں کو نہیں بدلا جا سکتا۔" ⁧#پاکستان_مانگے_کپتان⁩

PTI

70,105 次观看 • 1 年前

سوال: اچھا مولانا صاحب ملک کے بہتر مفاد میں آپ عمران خان سے بھی مل سکتے ہیں ان کو شامل ہونے کی دعوت دے سکتے ہیں؟ جواب: دیکھیے ہر چیز باوقار انداز سے ہو اس میں کوئی شک نہیں کہ دس بارہ سال ہم ایک دوسرے کے بڑے مد مقابل رہے ہیں اور ہمارے بڑے تحفظات ہیں اور ان کو اگر دور کیا جاتا ہے تو ہم سیاسی لوگ ہیں مذاکرات سے بھی انکار نہیں کریں گے اور مذاکرات کے لیے اگر ماحول بنتا ہے تو اس کی بھی حوصلہ افزائی کریں گے ہم کوئی مستقل جھگڑے اور جنگ اور تلخیاں اس کو باقی رکھنا نہ ملک کے مفاد میں سمجھتے ہیں نہ ہمارے سوسائٹی کے مفاد میں ہے۔ سوال: آپ کی طرف سے ویلکم ہے عمران خان کے لیے۔۔ تو یہ ذرا واضح کیجیے گا اگر آپ کو ضرورت پڑتی ہے یا۔۔۔۔ جواب: میرے پاس ان کے دو وفود آئے ہیں اس کے باوجود ان کے لوگ جو ہیں وہ مجھے مسلسل مل رہے ہیں چاہے آف دی ریکارڈ مل رہے ہیں یا میڈیا کے سامنے بھی مل رہے ہیں تو ملتے ہیں اور یہی گفتگو چل رہی ہے کہ آپس کے جو تحفظات ہیں کس طرح ان کو دور کرنے کے لیے ماحول بنایا جائے۔ سوال: مولانا صاحب ابھی آپ نے فرمایا کہ 10 12 سال کی تلخیاں تھی اب آپ سیاسی طور پر کہہ رہے ہیں کہ سیاسی لوگ دروازے کھلے رکھتے ہیں تو جو سب سے زیادہ پچھلے سات آٹھ سالوں میں آپ کی طرف سے الزام کہ یہ یہودی لابی ہے تو یہ سیاسی تلخیاں ختم ہوں گی تو آپ ان کو یہودی لابی سے مسلمان لابی میں کیسے دیکھیں گے؟ جواب: یہ بات ذہن میں رکھے اگر ہم نے برصغیر کی سیاست میں کسی کو انگریز کا ایجنٹ کہا ہے یا ہم نے عالمی سطح پر کسی کو امریکہ کا ایجنٹ کہا ہے تو یہ عنوان ہے یہ گالی نہیں ہے مطلب یہ ہے کہ جو عالمی سطح پر ایک ورلڈ وائڈ جو ایکنامک نیٹ ورک ہے اور اس کے اوپر جو جیوش کی ایک بالادستی ہے جب میں دیکھوں گا کہ میرے ملک کو بھی اس نیٹ ورک کے اندر ڈالا جا رہا ہے اور یہاں پر میں سود کے خاتمے کی بات کرتا ہوں اور میں مکمل طور پر عالمی سطح پر سودی نظام کے اندر جا رہا ہوں ان کی معیشت کے اصولوں کے مطابق چلوں گا تو اس سے میرا اختلاف ہوگا اب اس اختلاف کا عنوان اگر یہ ہے کہ یہودی ایجنٹ تو اس کو گالی کیوں کہا گیا اس کو سنجیدگی سے لینا چاہیے تھا مجھ سے پوچھنا چاہیے تھا کہ آپ یہ بات کیوں کہہ رہے ہیں اگر میں کہتا ہوں کہ قادیانیوں کو دوبارہ مسلم سٹیٹس پاکستان میں دینا یہ میرے تحفظات ہیں بجائے اس کے کہ آپ مجھے اس کے بدلے میں گالیاں دیں آپ مجھے مطمئن کریں میں پاکستان کا شہری ہوں میرے پیچھے کچھ لوگ ہیں ان کے ایک سوچ ہے ان کے تحفظات ہیں میں ان کے نمائندگی کر رہا ہوں اگر میں کہتا ہوں کہ پاکستان میں مغربی تہذیب کو فروغ دیا جا رہا ہے اور ہماری اسلامی اور مشرقی تہذیب جو ہے اس کا خاتمہ کیا جا رہا ہے اس کے بدلے میں گالی دینے کی بجائے مجھ سے پوچھا جائے مجھ سے بات کی جائے سیاستدان کا کام یہی ہوتا ہے اگر میں نے آپ کے اوپر کوئی اعتراض کیا ہے یا آپ کے ساتھ میں کوئی ایک تحفظات کا اظہار کیا ہے تو اپ کا فرض بنتا ہے کہ آپ یہ بات کہے کہ فضل الرحمان یہ بات آپ کیوں کر رہے ہیں مجھے تاکہ جب میں آپ کے ساتھ اپنی بات رکھوں تو آپ یا مجھے مطمئن کر سکیں اس بات پر کہ میں میرے ایجنڈا نہیں ہے یا یہ کہ یہ میرا ایجنڈا ہے اور آپ کے مفاد کے لیے ہے کچھ تو کرنا پڑے گا نا جی تو یہ چیزیں جو ہیں ان کو سیاسی طور پر ہم لے رہے ہیں اور آج جب ان کے لوگ آئے ہیں اگر یہ لوگ 12 سال پہلے بھی اتے تب بھی میرے یہی ایٹیٹیوڈ ہوتا اور اگر آج آئے ہیں تب بھی میرا وہی ایٹیٹیوڈ ہے

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

17,018 次观看 • 2 年前