Video yükleniyor...

Video Yüklenemedi

Ana Sayfaya Dön

جیو نیوز کا جھوٹ بینقاب 🚨 پاکستان کی بکاؤ میڈیا جو ہمیشہ پیپلزپارٹی کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے کے لیے استعمال ہوتی رہتی ہیں. اور ہمیشہ پاکستانی اشرافیہ اور شریفوں کی رکھیل طور پر کام سرانجام دیتی ہے. اس کی چھوٹی مثال جیو نیوز کا جھوٹ پر مبنی یہ دعوا...

16,557 görüntüleme • 2 ay önce •via X (Twitter)

0 Yorum

Yorum bulunmuyor

Orijinal gönderinin yorumları burada görünecek

Benzer Videolar

شور مچاتےبارشی ندی نالوں میں پانی کو روک کر زیر زمین پانی کو ری چارج کرنے اور زرخیر مٹی کی تہہ بچھانے کا سادہ ترین طریقہ اس تصویر میں دکھایا گیا ہے۔ برسات ختم ہونے پر ندی کے اندر ہی چارہ، فصل اور درخت لگائے جاسکتے ہیں۔ (فوٹو کریڈٹ۔DEEVA ڈیوا کوہ سلیمان ) سنہ 2015 میں لاہور میں انجینیئرز نے قذافی اسٹیڈیم کے اطراف میں ایک نہایت دلچسپ تجربہ کیا۔ انہوں نے اپنی ریسرچ سے ایک ایسا ماحول دوست حل دیا کہ جس پر عمل کرنے سے ایک بڑے فلائی اوور بنانے سے بھی کم لاگت میں پورے شہر لاہور کی سڑکوں کو مون سون کی بارشوں میں تالاب بننے سے بچایا جا سکتا تھا۔ یاد رہے کہ لاہور میں پینے کا سارا پانی زیرِزمین ایکوائفر سے آتا ہے جس کا ری چارج دریائے راوی سے ہوتا تھا جوکہ انڈیا کی طرف سے راوی پر سنہ 2000 میں تھہین ڈیم بنانے سے 85فی صد کم ہو گیا تھا اور اب اس سال شاہ پور کنڈی بیراج کی تعمیر کے بعد تقریباً صفر ہو گیا ہے۔ دوسری طرف لاہور کے زیرِزمین پینے کے قابل پانی کی سطح 6سو سے 8 سو فٹ تک گرچکی ہے اور 12 فٹ انتہائی حد ہے جس کے بعد زیرِزمین پانی موجود نہیں۔ زیرِزمین پانی کی سطح ہر سال 3 فُٹ کے لحاظ سے گر رہی ہے۔ اس ریسرچ کے لئے انجینیئرز نےشہر لاہور کی سڑکوں پر 43 ایسی نشیبی جگہوں کی نشاندہی کی جو مون سون میں بارش کے بعد تالاب کی شکل اختیار کر لیتی تھیں۔ان کا اندازہ تھا کہ سڑکوں پرصرف ان 43 مقامات پر ہی 1000 ایکڑ فٹ حجم کا پانی کھڑا ہوجاتا ہے جس کا بہت سا حصہ پانی چوس کنویں بنا کر زیرزمین اتارا جاسکتا ہے۔ اپنی اندازے کی سچائی جانچنے کے لئے انجینیئرز نے قذافی اسٹیڈیم کے ساتھ والی نشیبی سڑکوں پر دو پانی چوس کنویں بنائے۔ ہر ایک کنواں6x9x8 فُٹ کا تھا جس کی سطح پر انہوں نے 2 فُٹ موٹے پتھر اور ایک ایک فٹ بجری اور ریت کی تہہ جما دی جس کے نیچے ایک فٹ گولائی والا سوراخ دار پائپ زیرزمین پانی تک پہنچا دیا۔ حیرت انگیز طور پر پہلی ہی بارش میں سڑک پر کھڑا ہونے والا ایک لاکھ لٹر پانی صرف تین گھنٹوں میں کنووں نے چوس لیا تھا اور بارش میں ہر دفعہ بند رہنے والی سڑک پر تھوڑی دیر بعد ہی ٹریفک رواں دواں تھا۔ مذید تسلی کے لئے انجینیئرز نے سڑک پر اکٹھا ہونے والے بارشی پانی اور کنوؤں میں فلٹر ہو کر جانے والے پانی کی کوالٹی کے مختلف ٹیسٹ مستند لیبارٹریوں سے کرائے تو پتہ چلا کہ کنوؤں نے فلٹر کے عمل میں بارشی پانی سے آلودگی بھی صاف کردی تھی اور زیرِ زمین جانے والا پانی انتہائی صاف ستھراتھا۔سب اہم بات یہ تھی کہ ایک ہی بارش کے ریچارج نے زیرزمین پانی کی سطح 3.5 فٹ بلند کر دی تھی۔ یہ فوائد صرف 15 لاکھ کی لاگت سے بنے دو کنوؤں سے حاصل ہو گئے تھے۔اگر اس حساب سے پورے لاہور میں بھی پانی چوس کنویں بنا دئیے جاتے تو ان کی مجموعی لاگت صرف ایک بڑا فلائی اوور بنانےسے کم ہوتی۔ انجینیئرز نے تخمینہ لگایا کہ 1800 اسکوائر کلومیٹر سے زیادہ رقبے پر پھیلے لاہور شہرسے مون سون میں پڑنے والی بارشوں سے ایک کروڑ سے زائد لاہور یوں کے لئے پورے سال کا پینے کاپانی اور ہر قسم کے صنعتی استعمال کا پانی زیرزمین ذخیرہ کروایا جاسکتا ہے ۔ اس سے شہر کی سڑکیں برسات میں تالاب یا جوہڑ نہیں بنیں گی نہ ہی بارشوں میں سڑکوں پر ٹریفک پھنسے گا اور سڑکوں کی مرمت یا تعمیر نو پر اضافی خرچ بھی بچے گا۔ لاہور کا زیرِ زمین پانی جو کبھی 15 گہرائی پر مل جاتا تھا آج کل 150 فٹ سے نیچے جا چکاہے۔ پرانے شہر میں تو یہ 600 فٹ گہرائی پر بھی مشکل سے ملتا ہے۔ زیر زمین پانی کی سطح ہر سال تین فٹ کے حساب نیچےگرتی جارہی ہے کیونکہ شہر کے دو ہزار ٹیوب ویلوں سے روزانہ 3500 ایکڑ فٹ پانی زمین سے کھینچ لیا جاتا ہے۔ لاہور کو اپنے زمینی پانی کی سطح بحال رکھنے کے لئے سالانہ ایک لاکھ ایکڑ فٹ سے زیادہ حجم کے پانی کے خسارے کا سامنا ہے جب کہ انجینیئرز کا تخمینہ ہے کہ ہر سال صرف مون سون کے موسم میں لاہور شہر سےبارش کا پانی اس سے دُگنا حجم میں زیرزمین ایکوائفر میں واپس بھیجا جاسکتاہے۔ لاہور میں زیرِ زمین پانی کوریچارج کرنے کے لئے جدید طرز کا”،چھپڑ ُ”سسٹم بحال کرنا ہوگا جس نے ماضی میں صدیوں تک اس شہر کے زیر زمین پانی کو میٹھا اور پانی کی سطح کو برقرار رکھا۔چھپڑ کی طرز پر لاہور شہر کے پارکوں اور کھلی جگہوں پر کثیر تعداد میں ڈونگی گروانڈ ز کا قیام عمل میں لایا جائے جن کے اطراف میں ریچارج کنویں بنے ہوں۔ سکولوں کالجوں یونیورسٹیوں دفاتر فیکٹریوں الغرض تمام کھلی جگہوں پر ریچارج کنویں بنا کر ری سائیکل پانی سے زیر زمین پانی کو مون سون کے دوران ہی پورے سال کے استعمال کے لئے ریچارج کیا جائے ۔اس کام کو پھر تمام چھوٹے بڑے شہروں تک پہنچانا ہوگا۔

Moona Sikander

25,576 görüntüleme • 1 yıl önce

رانا جواد جو اس وقت جیو ٹی وی کے ڈائریکٹر نیوز کے علاوہ انگریزی اخبار دی نیوز کو بھی دیکھتے ہیں،نے پاکستان میں پچھلے 37 سال میں پرنٹ میڈیا سے ٹی وی کے عروج و زوال کو بڑے قریب سے دیکھا ہے۔ رانا جواد کے لاہور سے دی نیشن اخبار سے 37 سال پہلے شروع ہونے والے سفر کی غیرمعمولی کہانی سسپنس اور تھرل سے بھرپور ہے۔ لاہور سے اسلام آباد اور پھر انگریزی اخبار سے ٹی وی سکرین اور وہ اب ڈیجٹل میڈیا تک کا سفر بھی دیکھ رہے ہیں۔ رانا جواد کے کریڈٹ پر بڑی بڑی اسٹوریز ہیں خصوصا 9/11 کے ماسٹر مائنڈ خالد شیخ کی پنڈی سے گرفتاری ایک عالمی خبر تھی۔ 1990 کی دہائی میں رانا جواد کا انگریزی اخبار دی نیوز لاہور کی کرائم رپورٹنگ میں طوطی بولتا تھا۔ وہ روایتی صحافیوں کی طرح خلیفہ نہیں بنے اور وقت کے ساتھ کام نہیں چھوڑا بلکہ انہوں نے اپنی نیوز سینس/قدر وقت کے ساتھ بڑھائی ہے کم نہیں ہونے دی۔ان کی صحافتی ویلیو بڑھی ہے۔ اس لیے وہ 37 سال کی رپورٹنگ کے بعد بھی آج بھی صحافتی فیلڈ میں پورے قد کے ساتھ موجود ہیں اور جیو کے ڈائریکٹر نیوز ہیں۔ ماضی کی بات کریں تو لاہور دی نیوز کا ایک نوجوان چیف رپورٹر جس نے لاہور میں رپورٹنگ کلچر کو ہی بدل کر رکھ دیا۔ وہ کرائم رپورٹنگ کو نئی بلندیوں پر لے گئے، لاہور کی خطرناک گینگز وار کو کور کیا۔ ایک دن تو لاہور کے 54 تھانوں کے ایس ایچ اوز کی ہوش ربا خبر بریک کی جن کا کریمنل بیک گراونڈ تھا۔ پورے لاہور شہر میں ہنگامہ مچ گیا۔ تاہم لاہور کے ایک فی میل کالج کے سکینڈل بریک کرنے پر انہیں برسوں کے بعد regrets بھی ہیں۔اس اسٹوری کو بریک کرنے پر مظاہرے ہوئے، اخبار کے دفتر کا گھیرائو کیا گیا۔ عید شو پر ہم رانا جواد کو نیو ٹی وی کی سکرین پر لائے جو وہ عموما نہیں آتے لیکن میرے اصرار پر مروت میں انکار نہ کرسکے کیونکہ ان کا اسٹار Libra ہے جو دوسروں کو خوش کر کےخوش رہتے ہیں اور میں نے ان کی اس اسٹرلوجی کمزوری کا فائدہ اٹھایا۔ رانا جواد جیسے صحافی کم ہوں گے جس کے پاس خبروں کے لیے بے شمار سرکاری اور غیر سرکاری نیوز زرائع ہیں۔ اگر آپ پرنٹ سے ٹی وی اور اب ڈیجٹل ایج کے فرق اور عروج و زوال کے بارے جاننا چاہتے ہیں تو اس سے بہتر گفتگو نہیں ملے گی جہاں بغیر لگی لپٹی کھل کر میڈیا/سیاست کے ہر موضوع پر گفتگو کی گئی۔ آج رات Neo News پر رات 10.03 پر Rana Jawad Rabeea Nasrullah Malik Fawad Ahmed Aalia Rasheed

Rauf Klasra

39,592 görüntüleme • 4 ay önce